مسالک کا مشترکہ ورثہ- اوریا مقبول جان

لبنان، شام، عراق، بحرین اور یمن کے بعد پاکستان وہ ملک ہے جہاںمسلکی اختلاف کی آگ کو بھڑکانے اور منظم کشت و خون کروانے کے لئے ایک منصوبہ بندی سے سازش کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس سازش کے پیچھے کون کون سی طاقتیں ہیں، اگر اس بحث میں نکل گئے تو سازش کا سرا مل سکے گا اور نہ آپس کے اختلافات ختم ہو سکیں گے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پورے خطے اور خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں موجودہ جنگ خالصتاً علاقائی بالادستی، سیاسی اقتدار، وسائل پر قبضے اور عالمی قوتوں کے مفادات سے الجھی ہوئی ہے، مگر ایک غیر محسوس طریقے سے ان ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کو کبھی مقامات مقدسہ کے تحفظ اور کبھی محترم شخصیات کی حرمت و احترام کی حفاظت جیسے نعروں میں الجھا کر امت کا خون بہایا جارہا ہے۔ گذشتہ چند مہینوں سے پاکستان میں مسلکی اختلاف کی آگ کو دھیرے دھیرے سلگایا جارہا تھا۔ وہ دلآزاری والی گفتگو، جو دونوں جانب کے علماء و ذاکرین صرف داد و تحسین کے ڈونگرے وصول کرنے کے لئے مدتوں سے کرتے چلے آئے تھے اور جو صرف ان کی اپنی محافل و مجالس تک محدود رہتی تھی،اسے پہلے ایک منصوبے کے تحت سوشل میڈیا کے ذریعے عام کیا گیا، چلیں یہاں تک تو معاملہ سنبھل سکتا تھا، کہ ایسا بھی کئی برسوں سے ہوتا چلاآرہا ہے، لیکن پھر ایک اور بھیڑ چال چل نکلی کہ اپنے مخالف کو پولیس اور عدالتوں میں گھسیٹا جائے۔ یہ ایک بہت ہی خطرناک عمل تھا، کیونکہ روزانہ پیشیاں، کورٹ کچہریاں اور وہاں رہنمائوں کی آمدورفت، اس آگ کو ہوا دینے کے لئے کافی تھی۔

یہ معاملہ دونوں طرف سے ایک خاص مقصد کے تحت کیا گیا، لیکن محض سادہ لوحی اور فراست کی کمی کی وجہ سے بات اس قدر خطرناک حد تک آگے بڑھ گئی کہ پورے ملک میں ریلیوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ اضافہ ہمارے میڈیا کے اس بے احتیاط ’’براہِ راست‘‘ نشر کرنے کے رجحان نے کیا۔ دنیا بھر کے ممالک میں تمام ٹیلی ویژن چینل جو براہِ راست نشریات دکھاتے ہیں، وہ دراصل براہِ راست نہیں ہوتیں بلکہ انہیں تکنیکی زبان میں ’’براہِ راست کی طرح ریکارڈ کیا ہوا‘‘ (Recorded As Live)کہتے ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ براہِ راست نشریات میں چند منٹ کا وقفہ رکھا جاتا ہے، تاکہ اگر کوئی ایسی بات ہو گئی ہو، جس سے فساد بھڑک اٹھنے کا خطرہ ہو تو اسے حذف کر دیا جائے۔ لیکن ہمارے میڈیا کی بداحتیاطی نے اس آگ کو پورے ملک میں پھیلادیا اور ماحول دن بدن تلخ ہوتا چلا گیا۔ ایسے میں دونوں جانب کے بڑے علماء نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور اپنے ان واعظین سے مکمل برأت کا اعلان کیا، جنہوں نے ایک دوسرے کی محترم شخصیات پر کیچڑ اچھالنے اور مسلمانوں میں نفرت کی آگ بھڑکانے کا کردار ادا کیا تھا۔ جہاں کراچی میں نکلنے والی مفتی منیب الرحمن اور مولانا تقی عثمانی کی ریلیاں پر امن رہیں، وہیں علامہ جواد نقوی اور شیخ محسن نجفی جیسے علماء کا کردار انتہائی قابل تعریف اور شاندار رہا۔ شیخ محسن نجفی نے تو ان حکومتی کرداروں کی جانب اشارہ بھی کیا جو اس کھیل میں شریک تھے اور آگ کو براہِ راست بھڑکانے کے ذمہ دار تھے۔ آج سے تقریباً پینتیس سال قبل جب پاکستان میں شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دے کر قتل و غارت شروع ہوئی تھی تو لگتا تھا کہ یہ سلسلہ اس ملک کی بقا و سالمیت کو لے ڈوبے گا، لیکن اللہ کا فضل و کرم یہ ہوا کہ دونوں جانب قتل و غارت کرنے والے علیحدہ علیحدہ گروہوں اور تنظیموں میں منظم ہو گئے۔

دونوں جانب کے یہ شدت پسند گروہ اپنے ہی مسالک کے بزرگوں کو بزدلی اور امن پسندی کا طعنہ دیتے رہے۔ ایسے میں اہل خیر افراد عموماً ایک مشورہ اور تجویز دیا کرتے تھے اور آج اس تجویز کی ایک بار شدت سے ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ تجویز یہ تھی کہ اگر کوئی شیعہ ان فسادات کی وجہ سے جان سے جائے تو سنی علماء لوگوں کو اس کا جنازہ پڑھنے کے لئے جوق در جوق روانہ کریں اور اگر کوئی سنی کسی فساد کا نشانہ بنے تو شیعہ حضرات اس کا ویسے ہی شوق سے جنازہ پڑھیں جیسے کسی مجلس میں شریک ہو رہے ہیں توایسا کرنے سے فساد کی جڑ کٹ جائے گی۔ یہ دراصل امت میں صحابہ کرامؓ اور تابعین کا رویہ اور طرز عمل رہا ہے۔ اس ضمن میں ایک اہم واقعہ یوں ہے کہ سانحہ کربلا اور سیدنا امام حسینؓ کی شہادت کے بعد امت میں ایک افسردگی، ملال و رنج بحیثیت مجموعی موجودتھا۔ امت دونظریاتی گروہوں میں بظاہر تقسیم تو ہو گئی تھی لیکن مساجد علیحدہ تھیں اور نہ ہی علمی مراکز۔ یزید کی نامزدگی کے خلاف کھڑے ہونے والوں میں عبداللہ ابن زبیر نمایاں تھے جو مدینہ سے مکہ آگئے تھے اور وہاں مسلسل اموی حکومت کے خلاف کوششوں میں مصروف تھے۔ شہادت حسینؓ کے بعد انہوں نے جنگ کا باقاعدہ آغاز کیا اور شام کے علاوہ حجاز و مصر و عراق سب میں ان کی حکومت قائم ہوگئی۔ انکے دور میں کوفہ کے حاکم ایک صحابیٔ رسولؐ حضرت عبداللہؓ بن یزید خطمی تھے۔ کوفہ میں ان دنوں ایک مشہور تابعی حضرت حارث بن عبد اللہؓ بھی رہائش پذیر تھے، جنہیں عرفِ عام میں حارث اعور کہا جاتا تھا جو شیعہ تھے، مگر آپ کو انکے علم و فضل کی وجہ سے انتہائی احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ابن قتیبہ نے شیعہ علماء میں سب سے پہلے انہی کا نام لکھا ہے۔ ان کے نظریات کی وجہ سے ابنِ حبان نے انہیں غالی شیعہ کہا ہے۔ لیکن تمام محدثین اس بات پر متفق ہیں کہ وہ میراث کے معاملات میں بہت ماہر اور فقہیہ تھے۔ محمد ابن سیرین نے تو یہاں تک کہا ہے کہ عبداللہ ابن مسعودؓ کے جن پانچ ساتھیوں سے وہ ملے ہیں، ان میں حارث سب سے زیادہ عالم، نیک اور صالح تھے۔ اسماء الرجال کی کتاب میزان الاعتدال میں تو امام ذہبی نے لکھا ہے کہ امام شعبی ان کے نظریات سے اختلاف تو رکھتے تھے، مگر حدیثِ رسولؐ کے معاملے میں ان کو سچا مانتے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ سنن ترمذی، نسائی،ابن ماجہ اور ابو داؤد میں ایک ایسے شیعہ عالم اور تابعی کی احادیث موجود ہیں جو اپنے نظریات میں بہت واضح تھا اور تقیہ بھی نہیں کرتا۔ حارث بن عبد اللہ نے وصیت کی کہ جب وہ انتقال کر جائیں تو ان کی نماز جنازہ کوفہ کے حاکم، عبداللہ ابن زبیر کے ساتھی اور صحابی رسولؐ حضرت عبداللہ بن یزید خطمی پڑھائیں۔ ایسا ہی ہوا اور امتِ مسلمہ نے اپنے ابتدائی ایام میں اس ایسے مسلکی اتحاد کا روح پرور نظارہ دیکھا کہ ایک صحابی رسولؐ نے ایک ایسے تابعی جو دوسرے نظریات رکھتا تھا، کی نماز جنازہ پڑھائی، اس کی تعریف میں گفتگو کی اور دعا فرمائی۔ میں آج اس لمحے کو چشم تصور میں لاتا ہوں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں کہ اس جنازے میں کسی کو ہاتھ باندھنے اور کھولنے کا اختلاف یاد رہا ہوگا اور نہ ہی پانچ اور چار تکبیروں کا فرق۔ سب اللہ کی توحید اور سید الانبیاء ﷺ کی رسالت پر ایک صف میں کھڑے تھے۔ سیدنا امام حسینؓ کی شخصیت اس امت کا مشترکہ ورثہ ہے اور چودہ سو سال سے امت ان سے بلا شرکت غیرے محبت کرتی ہے۔ لیکن ایک اور مشترکہ انتظار بھی ہے اور وہ ہے آخر الزماں اور دورِ فتن میں سیدنا امام مہدیؑ کی خلافت یا امامت کا۔ ایک ایسا دور جس میں امت ایک پرچم تلے متحد ہوگی اور مقابل میں صرف باطل قوتیں ہوں گی۔ بقول سید الانبیاء ﷺ امت دو خیموں میں تقسیم ہو جائے گی، ایک میںمکمل اسلام اور دوسرے میں مکمل کفر اورنفاق ( مفہوم حدیث)۔ کیا یہ امت اس آنے والے دور کے لئے خود کو متحد رکھ رہی ہے۔ ہم آج ایک دوسرے کی مجالس علمی میں تو اکٹھے نہیں ہوتے، کاش ہم ایک دوسرے کے جنازے پر ہی متحد جائیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */