ریپ کے تصور سے جان چھڑانے کی ضرورت ہے - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

موٹر وے پر ہونے والے وحشیانہ واقعے کے بعد اس کے مختلف پہلوؤں پر بحث جاری ہے لیکن جس پہلو کو بالعموم نظرانداز کیا گیا ہے وہ "ریپ" کا قانونی تصور ہے۔ اس تصور کی قانونی تعریف کی رو سے کسی مرد کی جانب سے کسی عورت سے اس کی مرضی کے بغیر حاصل کی جانے والی جنسی لذت، یا اس پر کیے جانے والے جنسی تشدد، یا آبرو ریزی یا عصمت دری کی دوسری صورتوں کو تب تک ریپ نہیں کہا جاسکتا جب تک اس میں sexual intercourse(وطی/دخول) کا عنصر شامل نہ ہو۔

یہ تصور بہت سارے مسائل کا باعث ہے ۔ مثلاً اسی بنا پر ریپ کی شکار خاتون کا ایسا میڈیکل ٹسٹ کرانا ضروری ہوتا ہے جس سے معلوم ہو کہ واقعی اس کے ساتھ sexual intercourseکیا گیا۔ عام طور پر اس کےلیے انتہائی بے ہودہ two-finger test کیا جاتا ہے جو ریپ کی شکار خاتون کےلیے مزید اذیت اور عذاب کا باعث بنتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ جرم کی اس خاص صورت کو ، جس میں مظلوم عورت کے ساتھ وطی بھی کی گئی ہو، الگ سے ذکر کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ کیا جنسی تشدد یا آبرریزی کی دیگر قسمیں جن میں وطی نہ ہوئی ہو، ہلکے جرم ہوتے ہیں؟ اس سوال پر غور کریں تو ایک اور سوال سامنے آتا ہے کہ آخر ریپ کا یہ تصور ہمارے ہاں آیا کہاں سے؟

اس آخری سوال کا جواب یہ ہے کہ 1857ء کی جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعد جب انگریزوں نے برصغیر پر اپنا قانونی نظام زبردستی مسلط کیا تو انھوں نے جرم و سزا کے متعلق اسلامی قانون کو بھی یکسر ختم کرکے اس کی جگہ 1860ء میں "مجموعۂ تعزیراتِ ہند" کے نام سے ایک تفصیلی قانون رائج کیا۔ اس مجموعے کی دفعہ 375 میں پہلی دفعہ ریپ کے جرم کا یہ تصور پیش کیا گیااور دفعہ 376میں اس پر سزا مقرر کی گئی۔ پھر جب اس مجموعے کا اردو ترجمہ کیا گیا تو اس میں ریپ کا ترجمہ "زنا بالجبر" کیا گیا ورنہ اس سے قبل "زنا بالجبر" کی ترکیب مسلمانوں کے ہاں رائج نہیں تھی۔اسی طرح انگریزوں کے اصولِ قانون کی رو سے ایک اور جرم adultery تھا ، یعنی شادی شدہ عورت کے ساتھ زنا، جس کا ترجمہ "زنا بہ زنِ غیر" کیا گیا۔ زنا بالجبر اور زنا بہ زنِ غیر ، دونوں تصورات مسلمانوں کے قانونی نظام کےلیے اجنبی تھے۔ بہرحال، انگریزوں کے جانے کے بعد بھی یہ تصورات اس قانون میں رائج رہیں جسے آزادی کے بعد ہم نے "مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان" کا نام دیا۔ واضح رہے کہ غیرشادی شدہ مرد و عورت کا بغیر نکاح کا جنسی تعلق (fornication)اس قانون کی رو سے جرم نہیں تھا، اگر یہ تعلق باہمی رضامندی سے ہو۔

جب 1979ء میں جرمِ زنا آرڈی نینس لایا گیا ، تو اس کے ذریعے fornication کو زنا کی تعریف میں شامل کرکے کر جرم قرار دیا گیا۔ نیز اس آرڈی نینس کے ذریعے ریپ اور ایڈلٹری کی دفعات مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان سے ختم کی گئیں لیکن ایڈلٹری کو "زنا" کی تعریف کے تحت لایا گیاجبکہ ریپ کو "زنا بالجبر" کا نام دے کر جرمِ زنا آرڈی نینس میں شامل کیا گیا۔ اس زنا بالجبر کے جرم کو مستوجبِ حد اور مستوجبِ تعزیر، دو قسموں میں تقسیم کیا گیا اور اس پر حد اور تعزیر کی سزائیں مقرر کی گئیں۔ واضح رہے کہ زنا بالجبر کی تعریف میں بھی وطی کو لازمی جزو کے طور پر شامل کیا گیا۔

2006ء میں جنرل مشرف نے زنا آرڈی نینس سے زنا بالجبر کے متعلق دفعات ختم کرکے ان کی جگہ مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان میں ایک دفعہ پھر ریپ کی دفعات (375 و 376) شامل کیں لیکن ان میں چند تبدیلیاں کی گئیں۔ ایک اہم تبدیلی یہ کی گئی کہ انگریزوں کے دیے گئے قانون کی رو سے شوہر کی جانب سے بیوی کے زبردستی وطی کو ریپ کی تعریف سے خارج کیا گیا تھا لیکن اب اس استثنا کو ختم کردیا گیا۔ گویا اب پاکستانی قانون کی رو سے شوہر کو بھی ریپ کا مرتکب قرار دیا جاسکتا ہے۔ ایک دفعہ پھر نوٹ کیجیے کہ اس نئے جنم میں بھی ریپ کی تعریف میں وطی کو لازمی جزو کے طور پر شامل کیا گیا۔ گویا اب بھی اصول یہ ہے کہ جب تک وطی ثابت نہ ہو، ریپ ثابت نہیں ہوتا۔

2016ء میں ریپ سے متعلق قانون میں کچھ مزید تبدیلیاں کی گئیں جن پر الگ بحث کی ضرورت ہے۔

2016ء میں دفعات 377-اے اور 377-بی کا اضافہ کیا گیا جن میں جنسی بدسلوکی (sexual abuse) کی بہت سی قسمیں ذکر کرکے ان پر سزائیں مقرر کی گئیں۔ اسی طرح دفعہ 376-اے کا اضافہ کرکے ریپ یا جنسی استحصال کی شکار شخصیت کی شناخت چھپانے یا ظاہر کرنے کے متعلق ضوابط دیے گئے۔

دفعہ 377 میں جنسی بدسلوکی کی درج ذیل قسمیں ذکر کی گئی ہیں:
fondling, stroking, caressing, exhibitionism, voyeurism or any obscene or sexually explicit conduct or simulation of such conduct either independently or in conjunction with other acts

ان سب کاموں میں کسی کام کےلیے وطی کی شرط نہیں ہے۔ نیز یہاں تصریح کی گئی ہے کہ اگر ان افعال کا ارتکاب ایسے شخص کے خلاف کیا جائے جس کی عمر 18 سال سے کم ہو تو چاہے وہ ان افعال پر راضی ہو، انھیں جرم سمجھا جائے گا، یعنی اس کی رضامندی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

نیز جنسی لذت کے حصول کی کئی متشددانہ قسمیں بھی ہوسکتی ہیں جن میں کئی ایک کو پہلے ہی سے جرم قرار دیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنسی جرائم کے متعلق قانونی جزئیات مختلف ابواب اور قوانین میں بکھری پڑی ہیں اور ہم نے بہت پہلے تجویز دی تھی کہ انھیں ایک جامع قانون کے ذریعے اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر فحش لٹریچر کی فروخت یا عوامی مقامات پر فحش افعال کے ارتکاب کو معاشرے کے اخلاقی اقدار کے خلاف جرائم کے عنوان کے تحت ذکر کیا گیا ہے؛ بعض جرائم کو مجرمانہ طاقت (criminal force) یا حملے (assault) کے تحت لایا گیا ہے؛ جنسی تشدد کی بعض صورتوں پر زخم اور قتل سے متعلق دفعات کا اطلاق ہوتا ہے؛ بعض اقسام پر اسقاطِ حمل و جنین کی دفعات لاگو ہوتی ہیں؛ بعض صورتیں اغوا اور بعض ازدواجی تعلق کے خلاف جرائم کے ذیل میں آتی ہیں؛ بعض صورتوں کو "غیر فطری لذت" کا عنوان دیا گیا ہے، جبکہ بعض پر دہشت گردی کے قانون کا اطلاق ہوتا ہے۔

کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ جنسی جرائم کے متعلق ایک مستقل قانون ہو، جس میں یہ سب بکھری ہوئی جزئیات اکٹھی کی جائیں اور مختلف نوعیت اور درجوں کے جرائم پر مناسب سزائیں مقرر کی جائیں؟ اس طرح عدالتیں بھی زیادہ مناسب طریقے سے قانونی اصولوں اور ضوابط کی تعبیر و تشریح کرسکیں گی اور قانون کے بہتر اور مؤثر نفاذ میں مدد ملے گی۔

تاہم اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ انگریزوں سے میراث میں ملا ہوا ریپ کا تصور ہے۔ جتنی جلدی ہم اس فرسودہ تصور سے جان چھڑائیں، اتنا ہی بہتر ہوگا۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */