یہ دوہرا معیار آخر کیوں؟ - جویریہ سعید

حدود کی سزاؤں پر اعتراض ہوتا ہے۔
ہاتھ کاٹنے پر اعتراض ہوتا ہے۔
سزائے موت پر بھی اعتراض ہوتا ہے۔

1. مگر اعتراض کرنے والے کچھ اور سزائیں تجویز کرتے ہیں۔

مثلا یہ کہ زیادتی کے مجرم کو نامرد بنایا جائے۔
جناب جسم کے ایک حصے کو ناکارہ بنانے کا مطالبہ آپ کو انسانی لگتا ہے۔ مگر چوری کرنے کے جرم پر ہاتھ کاٹ کر اس کو ناکارہ بنانا جو جسم ہی کا ایک اور حصہ ہے، آپ کو غیر انسانی اور وحشیانہ لگتا ہے؟ یہ کس قسم کی دلیل ہے۔
اس کے پیچھے کون سی نفسیات کارفرما ہے؟
ان دونوں جرائم کے نتائج اپنے اپنے اعتبار سے بھیانک ہیں۔ تو پھر آپ کا فیصلہ دونوں معاملات میں مختلف کیوں ہے؟

2. آپ سزائے موت کو غیر انسانی سمجھتے ہیں مگر ایک انسان کو اس کے تمام بنیادی حقوق یعنی آزادی اور اس سے وابستہ تمام دوسرے حقوق سے محروم کرکے کئی برس تک قید میں رکھ کر اس کے جذباتی اور نفسیاتی وجود کو شدید نقصان پہنچانے کو انسانی عمل سمجھتے ہیں؟ جیل کے قیدیوں کو ہزار قسم کی جسمانی و نفسیاتی امراض لاحق ہونے کا رسک زیادہ ہوتا ہے، ان کے سماجی تعلقات تباہ ہوجاتے ہیں، ان کا سماجی امیج برباد ہوتا یے؟ گویا کہ ایک مرتبہ مارنا غیر انسانی ہے اور کئی برس تک ترسا ترسا کر مارنا آپ کے نزدیک انسانیت پر رحم ہے۔

3. اگر ایک ایسے انسان کو جس کا جرم ثابت ہوچکا، سزا کے طور پر بھی مارنا یا یا کسی عضو سے محروم کرنا وحشیانہ اور غیر انسانی ہے تو کئی انسانوں کو قتل کرنا اور زخمی کرنا اس سے کئی گنا زیادہ وحشیانہ اور غیر انسانی ہے۔
لہذا
سب سے پہلے جنگوں پر پابندی عائد کی جائے اور انسان پرست اپنے فوجیوں کو ایسے انسانوں کو قتل کرنے اور زخمی کرنے کے انعام کے طور پر تنخواہیں اور تمغے دینا بند کردیں جن کا جرم ثابت بھی نہیں ہوتا۔

4. انسانیت کے علمبردار ایک ایسے شخص کو سزائے موت دینے کو غیر انسانی اور لایعنی قرار دے رہے ہیں جو قتل، جنسی زیادتی اور فساد فی الارض جیسے گھناؤنے جرائم کا مرتکب ہو۔ مگر وہی انسانیت کے علمبردار مرسی کلنگ کے نام پر ایک ایسی انسان جان کو ختم کرنے کو جائز سمجھتے ہیں جو کسی جرم کا مرتکب نہیں بلکہ کسی درد میں مبتلا ہو۔ اصول ایک ہونا نہیں چاہیے؟ درد کسی اور کا ہو یا اپنا کسی کی جان لینے کی وجہ نہیں بننا چاہیے؟ مگر یہاں آپ کے یہاں تضاد ہے۔

5. آپ اتنی کثیر تعداد میں ان مجرموں کو تو سرکاری خرچے پر برسوں پالنے کو تیار ہیں جنہوں نے قتل، ڈاکہ زنی، جنسی زیادتی اور فساد فی الارض جیسے سماج کو نقصان پہنچانے والے جرائم کیے۔ اور ان تمام برسوں میں ان کے جرائم کا شکار ہونے والا مظلوم بے چاری کئی حوالوں سے مالی اور دوسرے ری سورسز کو ترستا رہے گا جو اسے تو کوئی فراہم نہ کرے گا،بلکہ وہی ریسورسز مجرم کے لیے استعمال ہوتے رہیں گے۔ سوچیے جیلوں پر افرادی قوت، ادارہ جاتی انتظامات اور رقم کے ساتھ ساتھ کیا کیا وسائل لگتے ہیں جبکہ سماج کا مظلوم انہی وسائل کو ترستا رہتا ہے۔

بات یہ ہے کہ یا تو سزا کا تصور ہی ختم کردیجیے۔ یہ ایک قسم کی سزا انسانی اور دوسری قسم کی غیر انسانی۔۔۔ یہ دلیل دل کو نہیں لگتی۔

اسلام کا نظریہ یہ ہے کہ جرم کرنے والے کو سزا ملے، انسان اپنے کیے کے انجام سے ڈرے، مجرم اور معاشرے کو یہ بتایا جائے کہ برے کام کا انجام برا ہوتا ہے اس لیے سزا سے ڈرو، مظلوم کے دکھ کا کچھ مداوا ہو۔
انصاف ملنا بہت بڑی بات ہے۔ اور مجرم کا گھناؤنی حرکت کرکے مزے سے پھرنا مظلوم کی ، سچائی کی، اجتماعی انسانی ضمیر کی توہین ہے۔

سو یا تو ہر قسم کی جسمانی سزا کا تصور ہی ختم کردیجیے، کسی بھی حال میں کسی کو بھی موت نہ دیں۔ نہ زخمی کریں اور صرف وعظ و نصیحت اور فلموں، گانوں،ڈراموں، مظاہروں، نعروں، تقریروں اور گالیوں سے کام چلاتے رہیں جو آپ روشن خیال لوگ اب بھی کررہے ہیں یا پھر سیدھی طرح اسلام کے طریقے کو اپنا کام کرنے دیں۔

Comments

جویریہ سعید

جویریہ سعید

جویریہ سعید کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں. طب اور نفسیات کی تعلیم حاصل کی ہے. ادب، مذہب اور سماجیات دلچسپی کے موضوعات ہیں. لکھنا پڑھنا سیکھنا اور معاشرے کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے رہنا ان کے خصوصی مشاغل ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */