درندگی، ہم اس مقام تک کیوں‌ پہنچے؟ - خنساء سعید

عمیق نظری اور محققانہ گہرائی سے دیکھا جائے اور تاریخ کے اوراق کا ثبوت لیا جائے تو جو چیز سب سے پہلے نظر آتی ہے اور جو فطرت انسانی میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ جس نے انسان کو فرشتوں سے ممیز اور ممتاز کیا، وہ علم ہے۔ بنی نوع انسان نے علم کی راہنمائی اور یک جائی سے تسخیر کائنات کاکام کیا۔ رموز ِ فطرت کی نقاب کشائی کی اور قریہ قریہ گاؤں گاؤں یہاں وہاں علم ہی علم بکھر گیا۔ جس کی روشنی ونور سے درو دیوار عالم جگمگا اُٹھے۔ جہل کونوں و گھدروں میں جا چھپا۔ مگر جیسے ہی انسان علم اور عمل سے دور ہوتا گیا وہ اخلاقی بحران کا شکا ر ہوگیا۔ انسان اخلاقی پسماندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گرا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ انسان جس کو اشرف المخلوقات کہا گیا آج علم و عمل سے خالی وہ ایک درندہ بن گیا۔ تہذیب و تمدن سے کوسوں دور جہالت کا باسی یہ انسان اخلاقی انحطاط کا شکار اس طرح ہوا کہ وہ منافقت کرنے لگا۔ جھوٹ، وعدہ خلافی، خیانت، بدیانتی، چوربازاری، نا انصافی، دھوکہ دہی، تیزاب گردی، دہشت گردی، غنڈہ گردی، بے ادبی، بد کاری، عورتوں پر ظلم و ستم، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، عورتوں کا ریپ یہ سب آج کہ ناکام انسان کی خوبیاں ہیں۔

پاکستان کے اندر بہت ساری سماجی برائیاں ہیں جن کو بیان کرنا بہت مشکل ہے، مگر کچھ برائیاں ایسی ہیں جنہوں نے سماج کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے اور وہ ہیں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی۔ اس طرح کی اخلاقی پسماندگی کو لکھتے ہوئے بہت کراہت محسوس ہو تی ہے مگر بد قسمتی سے ہم ایسی ہی اخلاقی پسماندگی کا شکار ہیں۔ کیا سماجی شکست و ریخت اس انتہا کو پہنچ چکی ہے کہ معصوم کلیوں اور کھلتے پھولوں کو بے دردی سے مسل دیا جائے؟ کیا ہم ایک قوم کی حیثیت سے اپنے بچوں کی خفاظت بھی نہیں کرسکتے؟کیا ہمارے سفلی جذبات کلی طور پر بے قابو ہو چکے ہیں؟

ہم تو حیوانوں سے بھی بد تر ہو چکے ہیں کیوں کہ آج تک کسی حیوان نے اپنی نوع یا کسی دوسری نسل کے بچے کے ساتھ وہ شرمناک حرکت نہیں کی جس کی چیختی چنگھاڑتی سرخیوں سے ہر روز ہماری ہیڈ لائنز اور ہمارے اخبارات آراستہ ہوتے ہیں۔ چھوٹے معصوم بچے تو بہت چھوٹے ہوتے ہیں وہ اپنا دفاع نہیں کرسکتے۔ اپنے آپ کو درندوں سے نہیں بچا سکتے اور آسانی سے درندوں کی ہوس کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر روز 12 بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔ زیادتی کا شکار ہونے والے 76 فیصد بچوں کا تعلق دیہی علاقوں سے ہوتا ہے اور 64 فیصد شہری علاقوں سے ہے۔ پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں سے ہر سال ایک بہت بڑی تعداد میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیس رپورٹ کیے جا رہے ہیں جو کہ صرف رپورٹ ہی کیے جاتے ہیں اُن کا سدِ باب کچھ بھی نہیں کیا جاتا۔ کچھ دیر کے لیے ایسے مجرموں کو قید کر لیا جاتا ہے اور پھر وہ آزاد ہو جاتے ہیں اور پہلے سے بھی زیادہ طاقتور مجرم بن جاتے ہیں۔ ہمارا انصاف کا کمزور ترین نظام ماں با پ کو کہتا ہے کہ اپنے بچوں کی خفاظت خود کریں اور اُن کو اپنے گھروں میں محفوظ رکھیں مگر اس سماجی برائی کو نہ تو ہماری حکومتیں ختم کر تی ہیں اور نہ ہی مجرموں کو کوئی عبرت ناک سزائیں دی جاتی ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ طاقتور درندے گھروں میں گھس کر سر عام بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں۔ تمام تر اخلاقیات سے عاری ان لوگوں کے ہاتھوں عورتوں، بچوں اور بعض اوقات تو بزرگوں کی عزت بھی مخفوظ نہیں ہے۔ یہ ہوس کے پجاری، وحشی، بھیڑئیے اور درندے ہیں یہ پاک اور پاکیزہ مردوں کے نام پر دھبہ ہیں۔

ہمارا بیمار معاشرہ اخلاقی انحطاط کی پستیوں میں گرا اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ ہم لوگ بحیثیت قوم بے ضمیر اور احساس سے عاری ہوچکے ہیں۔ جدید دور سائنس کا دور ہے اور اس میں رہنے والا انسان مشینوں کو استعمال کر کر کے خود بھی ایک مشین بن چکا ہے۔ اس مشین نما انسان کے اندر کسی کے لیے کوئی ہمدردی کا جذبہ موجود نہیں ہے۔ کسی انسان کا درد اس کا اپنا درد نہیں لگتا۔ ہر طرف ایک نفسا نفسی کا عالم ہے۔ ہر ایک کو صرف اپنی جان اپنے مال کی فکر ہے۔
ہماری خود غرضی کی انتہا یہ ہے کہ کرونا کی وبا میں ہم نے مجبور اور لاچار لوگوں کی تھوڑی سی مدد بھی محض ایک سلفی لینے کی خاطر کی، اور سوشل میڈیا پر مجبوروں کو ایک تماشا بنا کر رکھ دیا۔ اس سے زیادہ بڑا اخلاقی فقدان اور کیا ہو گا ؟ ہم علم و عمل سے فارغ لوگ صرف زبانی لن ترانیوں میں کھوئے ہوئے ہیں۔ ہم پدرم سلطان بود کہتےکہتے غفلت کی گہری نیند سوگئے ہیں۔ قوموں کی تاریخ پر نظر رکھنے والے عظیم مفکر ابن ِ خلدون اپنی شہرہ آفاق کتا ب "مقدمہ " میں لکھتے ہیں۔ "دنیا میں عروج اور ترقی حاصل کرنے والی قوم ہمیشہ اچھے اخلاق کی مالک ہوتی ہے جب کہ برے اخلاق کی حامل قوم زوال پذیر ہو جاتی ہے۔ "

ہم ایک تنگ نظر روایتی معاشرے میں رہنے والے لوگ ہیں۔ ہم سماجی برائیوں یا برُے اعمال کی اصلاح کرنے کی بجائے جو جیسا ہے ویسے ہی جینے دو کے اصول پر کا ر بند ہیں۔ ہم بے ایمانی اس لیے کرتے ہیں کیوں کہ ایمان دار کی اس معاشرے میں کوئی جگہ ہی نہیں ہے۔ ہم جھوٹ صرف اس لیے بولتے ہیں کیوں کہ اس معاشرے میں ہر کام صرف جھوٹ بولنے سے سر انجام پاتا ہے۔ ہم نا جائز طریقوں سے پیسہ صرف اس لیے کما رہے ہیں کیوں غریب کی اس معاشرے میں عزت تو دور کی بات یہاں اُسے جینےکا حق بھی نہیں ہے۔ ہم رشوت صرف اس لیے دیتے اور لیتے ہیں کیوں کہ اس کے بغیر کوئی کام ممکن ہی نہیں ہے۔ ہر برائی کا جواز تلاش کرنا ہمارے ایمان کا مضبوط ترین حصہ بن چکا ہے۔ ہم برائی کو اس لیے نہیں چھوڑتے کہ یہ گناہ ہم برائی کو صرف اس لیے اپنائے ہوئے ہیں کہ معاشرے کے بہت سے دوسرے لوگ بھی انھیں برائیوں کو اپنائے ہوئے ہیں۔

افسوس کہ آج کے مسلمان مذہب سے دور ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی تہذیب اور اپنی ثقافت کو بھی بھول چکے ہیں۔ بے راہ روی کا شکار ہوچکے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج کے مسلمانوں میں اخلاقی انحطاط سرایت کر چکا ہے دنیا میں اخلاق کا درس دینے والی یہ مہذب قوم آخر کیوں اتنی غیر مہذب ہوگئی؟

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ صحت مند رہے تو ہمیں مذہب کے قریب رہنا ہوگا۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس بات کو بہت گہرائی میں جا کر سمجھنا ہو گا۔ ہمارے نبی آخرلزماں نے حسن ِ اخلاق کے بارے میں کیا کیا تعلیمات دیں اُن تمام تر تعلیمات کا مطالعہ کرنا ہو گا۔ ہمیں اپنے اصول و ضوابط، اخلاق و روابط، اقدار و پندار میں میانہ روی کا اپنانا ہوگا۔ ہمیں اپنے ملکی و ملی اطوار و طریق میں ایسی تبدیلی لانا ہو گی جو ہمیں اپنے آپ سے قریب کر دے۔ جب ہم اپنے آپ کو پا لیں گے تو قومی تشخص اُبھرے گا۔ احساس ذمہ داری پیدا ہو گی۔ ہم حقوق و فرائض کو جان لیں گے۔ اس صورت میں اخوت و بھائی چارے، احساس و مروت، خلوص، وفا، ایثار و قربانی، جان نثاری و جانفشانی، لگن و شوق، غمگساری اور بلند کرداری کے پھول کھل اُٹھیں گے۔ جس میں تمام خرابیاں اور خامیاں حس و خاشاک کی مانند بہہ جائیں گی۔ ہر طرف امن اور چین ہو گا۔ ایک روشن مستقبل کی مالک قوم پروان چڑھتے اور اوج ِ ثریا تک پہنچتے ملک کی مالک ہو گی۔ جو اسلام کا علم ہاتھ میں لے کر دکھی انسانیت کے زخموں پر پھاہا رکھے گی.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */