معرکہ (7) - ریحان اصغر سید کی شاہکار کہانی

پہلی قسط
دوسری قسط
تیسری قسط
چوتھی قسط
پانچویں قسط
چھٹی قسط

بلال عزیز کی ناک اور ایک آنکھ سوجی ہوئی تھی۔ باقی چہرے پر بھی چوٹوں کے نشان تھے۔ فہیم صاحب جاتے ہوٸے اس کی ملازمہ کو بھی لے گئے تھے۔ بلال کا غیض و غضب سے برا حال تھا۔

تمھارا تو میں وہ حشر کروں گا کہ دنیا دیکھے گی۔

بلال نے خود ناشتہ بناتے ہوئے دانت پیسے۔ ناشتہ بنا کر اس نے ڈائننگ ٹیبل پر رکھا۔ کھانے کی میز پر بلال کی چھ گڑیاں بھی بیٹھی ہوئی تھیں۔ یہ ساری کی ساری گڑیاں دنیا کی سب سے بڑی سیکس ڈول بنانے والی کمپنی سے آرڈر پر بنوائی گئی تھیں۔ ان کی شکل و صورت اور جسمانی ساخت ہوبہو اصلی انسانوں جیسی تھی۔ بلال کے پاس ہر گڑیا کے درجنوں برانڈڈ کپڑے اور جوتے تھے۔ وہ موسم کی مناسبت سے ان کے کپڑے بدلتا۔ ان کے بالوں میں کنگھی اور چہرے پر میک اپ کرتا۔ ہاتھوں کی انگلیوں پر نیل پالش، گلے میں سونے کی چینز ہاتھوں میں چوڑیاں اور کڑے، پاٶں میں پازیب پہناتا۔۔۔وہ ان سے یوں بات کرتا جیسا وہ زندہ انسان ہوں۔۔۔ ان چھ گڑیاں میں سے ایک گڑیا قندیل کی شکل کی بھی تھی۔ یہ کچھ دن پہلے ہی آرڈر پر بن کر آٸی تھی۔ بلال نے سب گڑیاٶں کے سامنے ایک ایک بوائل انڈا اور کافی کا ادھا ادھا مگ رکھا سوائے قندیل کی ہم شکل گڑیا کے۔۔۔

اسے آج ناشتہ نہیں ملے گا۔۔بہت بدتمیز ہے یہ۔۔رات کو بھی اس نے مجھے بہت تنگ کیا ہے۔

بلال نے گویا قندیل کو سزا دی۔

اپنے آگے ناشتہ رکھ کے بلال نے سب گڑیاٶں کو ناشتہ شروع کرنے کا اشارہ کیا، پھر اپنی بریڈ اٹھا کر اس پر مکھن لگانے لگا۔۔۔جانے اس کے دل میں اچانک کیا آیا اس نے مکھن کا جار اٹھا کر قندیل گڑیا کے منہ پر دے مارا۔۔۔ اس کے ساتھ ہی وہ گالیاں بکتے ہوئے کھڑا ہوا اور گڑیا پر ٹوٹ پڑا۔۔۔ اس نے اس کے بال پکڑ کر ملائم ربڑ کے چہرے پر چانٹے اور مکے مارے۔ بال نوچے کپڑے پھاڑ کر پھینک دئیے اور فرش پر گرا کر تب تک ٹھڈے مارے۔۔۔جب تک وہ خود ہانپ کر گر نہ گیا۔ بلال دمے کا مریض تھا۔ اس نے اپنی اکھڑی اور بے قابو سانسوں کو inhaler کے ذریعے قابو کیا۔
چلو ناشتہ ختم۔۔۔

بلال نے گویا حکم دیا۔۔ اور گڑیاں کو ڈائننگ ٹیبل پر ہی چھوڑ کر خود اپنے خفیہ کمرے کی جانب چلا۔ اس کے دل میں انتقام کی آگ جل رہی تھی۔ وہ قندیل اور فہیم صاحب کو جلد سے جلد سزا دینا چاہتا تھا۔ بلال نے اپنے کپڑے اتار کر پھینکے اور الماری میں سے اپنا سیاہ ریشمی چوغا نکال کر پہنا۔ اب بلال مختلف رنگوں کی موم بتیاں نکال رہا تھا۔ اس دفعہ اس نے کالی، نارنجی، زرد اور جامنی موم بتیاں نکال کر فرش پر ٹائلوں‌سے بنائی گئی شطرنج کی بساط پر پڑے مختلف ہیت کے مجسموں کے سروں پر لگانی شروع کیں۔ وہ ساتھ ساتھ ان کو جلاتا بھی جا رہا تھا۔ سب موم بتیاں روشن ہونے پر اس نے کمرے کی سرخ مدہم روشنی والے بلب روشن بند کردئیے اور وائلن لیکر ایک پیادے کے خانے میں کھڑا ہوگیا اور وائلن پر ایک المیہ دھن بجانی شروع کردی۔۔۔

دھن کی آواز آہستہ آہستہ بلند ہو رہی تھی۔ ہر کچھ دیر بعد بلال شطرنج کی بساط پر اپنی جگہ بدل لیتا۔۔فضا میں آندھی کا شور بلند ہو رہا تھا۔ تیز ہوا سے کھڑکیاں اور دروازے بج رہے تھے۔ موم بتیوں کی لو پھڑپھڑا کر بجھنا شروع ہو گئی تھیں۔ وائلن کی آواز طوفان کے شور میں دبتی جا رہی تھی۔ بلال نے بادشاہ کو ٹھوکر مار کر گرایا تو آخری موم بتی بھی بج گئی اور ایک لمحے کے لیے کمرے میں گھپ اندھیرا چھا گیا۔ اسی وقت تیز غیر انسانی چیخوں کے ساتھ آتش دان روشن ہوگیا اور آگ میں سے پانچ گڑیاں برآمد ہونا شروع ہوئیں۔ یہ وہی گڑیاں تھیں جنھیں بلال ڈائننگ ٹیبل پر چھوڑ آیا تھا۔ ان سب کے خوبصورت چہرے اب کریہہ ہو چکے تھے۔ وہ بے لباس قندیل گڑیا کو بالوں سے پکڑ کر کھینچ کر لا رہیں تھیں۔ انھوں نے قندیل کو بلال کے قدموں میں پھینکا۔۔۔

اسی طرح۔۔۔اسی طرح قندیل کو میرے قدموں میں لا کر پھینکو۔۔۔تاکہ میں اس کا یہی حشر کر سکوں جو میں نے اس کا کیا ہے۔
بلال نے قندیل گڑیا کو ٹھوکر ماری۔

گڑیاں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور اثبات میں سر ہلانے لگیں۔۔وہ دراصل گڑیاں نہیں تھیں، ایک غیر انسانی مخلوق تھی جو گڑیاں کے روپ میں آٸی تھی۔

ایسا ہی ہو گا ہمارے آقا ایسا ہی ہو گا۔۔
وہ سب اپنی غیر انسانی آوازوں میں کھلکھلاٸیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات ادھی سے زیادہ بیت چکی تھی۔ قندیل کی آنکھ اچانک کھل گئی۔ بیڈروم میں ہلکے نیلے رنگ کا نائٹ بلب روشن تھا۔ قندیل نے چہرے سے کمبل ہٹا کر مناہل کی طرف دیکھا وہ اپنے بیڈ پر گہری نیند سو رہی تھی۔ قندیل نے ایک جمائی لی اور بستر پر پیر نیچے لٹکا کر بیٹھ گئی۔۔باتھ روم جانے کے لیے اس نے اپنے سیلپر پہنے اور اٹیچ باتھ روم کی طرف بڑھی۔ اس نے لائٹ جلائی اور باتھ روم کو لاک کیا ہی تھا کہ اس کی موندھی ہوئی آنکھوں نے خود کو دیکھا۔۔۔اس نے بمشکل منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی چیخ کو روکا۔قندیل کی ہم شکل لڑکی کی لاش باتھ روم کی چھت کے ساتھ رسی سی نیچے لٹک رہی تھی۔ وہ بے لباس تھی اور اس کی آنکھیں اور زبان ابل کر باہر آ رہی تھیں۔ گھبراہٹ سے قندیل سے لاک نہیں کھل رہا تھا۔ خوف سے اس کے منہ سے عجیب سی آوازیں نکل رہی تھیں تب ہی اس نے باتھ روم کی کھڑکی سے ایک اور نوعمر لڑکی کو اندر داخل ہوتے دیکھا۔۔۔ اس کی شکل خوفناک تھی اور وہ قندیل کو غضب ناک نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ قندیل کے لیے اب اپنی چیخوں پر قابو پانا ناممکن ہوگیا تھا۔ ایک اور لڑکی چھت پھاڑ کر باتھ روم میں آ گئی تھی۔ اس کے ہاتھ میں رسی کا پھندہ تھا۔ پہلے والی لڑکی نے قندیل کے ہاتھ قابو کیے دوسری نے اس کے گلے میں پھندہ ڈال کر اسے مخالف سمتوں سے کھینچنا شروع کر دیا۔ خوف سے پہلے ہی قندیل کا دل بند ہو رہا تھا اب تو اسے سانس بھی نہیں آ رہی تھی۔

اس کی چیخیں سن کر مناہل بیدار ہو چکی تھی اور اب دروازہ بجاتے ہوئے اس سے پوچھ رہی تھی کہ کیا ہوا ہے وہ چیخ کیوں رہی ہے۔دونوں لڑکیوں کی چیخوں کا شور اتنا زیادہ تھا کہ فہیم صاحب بھی بیدار ہو کر ادھر پہنچ گئے تھے۔ انھوں نے دروازے کے ساتھ چمٹی مناہل کو ہٹایا اور کندھے کی ٹکر کے ساتھ باتھ روم کا دروازہ توڑنے کی کوشش کرنے لگے تیسری ٹکر میں لاک کا سلنڈر ٹوٹ گیا اور دروازہ کھل گیا۔۔ قندیل اڑھی ترچھی فرش پر گری ہوئی تھی۔ وہ بے ہوش ہو چکی تھی۔ فہیم صاحب نے اسے اٹھا کر اس کے بستر پر ڈالا۔۔
تم تو چپ کرٶ۔۔۔!
انھوں نے صائمہ کو ڈانٹا جو مسلسل روئے جا رہی تھی۔

ہائے میری معصوم بچی۔۔۔۔خدا اس شیطان کو غارت کرے جو میری بچی کی جان کا دشمن بن گیا ہے۔۔
صائمہ کو اور رونا آ رہا تھا۔ فہیم صاحب ہونٹ بھینچے قندیل کےvital signs چیک کر رہے تھے۔۔۔

پریشانی کی بات نہیں ہے قندیل ڈر کی وجہ سے بے ہوش ہو گئی ہے۔۔۔ابھی ہوش میں آ جائے گی۔۔۔
انھوں نے صائمہ کو تسلی دی۔

پریشانی کی بات نہیں ہے۔۔۔؟ صائمہ نے آنسو بھری آنکھوں سے حیران ہو کر فہیم کو دیکھا۔۔
میری پھول سی بچی زندگی اور موت کی کشمکش میں جھول رہی ہے آپ کہہ رہے ہیں پریشان نہ ہوں۔۔؟
تو کیا پریشان ہونے سے مسئلہ ہوجائے گا؟

فہیم صاحب نے چڑ کر پوچھا۔ صاٸمہ چپ چاپ آنسو بہاتی رہی۔

اور یہ تو ہونا ہی تھا جب ہم اس شیطان کے گھر سے آئے تھے ہمیں تب سے ہی یہ پتہ تھا کہ اب ایسا ہو گا۔۔بلکہ مجھے تو اب شک ہو رہا ہے کہ قندیل کے پیچھے شیطانی چیزیں لگانے والا ہی بلال عزیز ہے۔

اب کیا ہو گا فہیم۔۔۔کیا ہم اپنی بچی کو لے کر کہیں دور چلے جائیں جہاں یہ شیطانی طاقتیں نہ پہنچ سکیں۔
فہیم صاحب نے عینک اتار کر آنکھیں ملیں۔۔۔

اللہ پر بھروسہ رکھو۔۔۔ان شاء اللہ آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔

قندیل بے ہوشی میں بھی ڈر رہی تھی۔۔ باقی دونوں بچے بھی خوفزدہ دکھائی دے رہے تھے۔ فہیم صاحب تینوں کو اپنے بیڈروم میں لے آئے اور دروازہ لاک کر دیا۔۔۔چہرے پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارنے سے قندیل ہوش میں تو آ گئی لیکن آنکھیں کھولتے ہی اس نے دوبارہ چیخنا شروع کر دیا تھا۔ فہیم صاحب اور صائمہ نے اسے بڑی مشکل سے پرسکون کیا۔ کچھ دیر کی کوشش سے وہ اسے سلانے میں کامیاب رہے۔۔فہیم صاحب اور صاٸمہ نے قندیل کو اپنے درمیان لٹایا ہوا تھا۔۔نیند میں بھی اس نے دونوں ہاتھوں سے ماں باپ کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔۔نیم دراز فہیم صاحب کب سو گٸے انھیں پتا ہی نہیں چلا۔۔پھر ان کی آنکھ دروازے پر ہونے والی ایک نرم سی دستک سے کھلی۔۔۔کوٸی بڑی نفاست سے انگلی سے دروازے کو بجا رہا تھا۔ فہیم صاحب نے حیرت سے دروازے کی طرف دیکھا۔ ان کی ساری فیملی اس بیڈ روم میں موجود تھی۔ ملازمہ کام ختم کر کے رات کو گھر چلی جاتی تھی۔۔۔ تو پھر دروازے کے باہر کون تھا؟ انھوں نے وال کلاک پر وقت دیکھا تو رات کے تین بجے تھے۔ ان کا ہاتھ ابھی تک ہوئی ہوئی قندیل کے ہاتھ میں تھا۔ انھوں نے نرمی سے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور دبے قدموں چلتے ہوئے دروازے کے قریب آئے۔۔ انھوں نے جھک کر دیکھا تو انھیں دروازے کے نیچے والی درز سے دروازے کے باہر گیلری میں کھڑے دو ننگے پیر نظر آئے۔۔برف کی طرح سفید اور چھوٹے چھوٹے پیر انھیں بلکل قندیل کے لگے۔۔

بابا دروازہ کھولیں پلیز جلدی کریں۔۔

بلاشبہ یہ قندیل کی آواز تھی۔ فہیم صاحب نے گھبرا کر دروازہ کھول دیا اس لمحے وہ یہ بھی بھول گئے کہ قندیل تو ان کے بیڈ پر سوئی ہوئی ہے۔۔ دروازے کے باہر ایک اور قندیل کھڑی تھی۔ اس نے کپڑے بھی وہی پہن رکھے تھے۔۔وہ فہیم صاحب کو دیکھ کر بھاگی۔ فہیم صاحب اسے آوازیں دیتے اس کے پیچھے لپکے۔ وہ سیڑھیوں کی طرف جا رہی تھی۔ فہیم صاحب بھی سڑھیاں چڑھتے اسے رکنے کے لیے کہے جا رہے تھے۔ روف ٹاپ پر جا کر قندیل چھت کی منڈیر پر چڑھ کر کھڑی ہوگئی۔ فہیم صاحب کا خون خشک ہو گیا۔۔

قندیل رک جاٶ۔۔خدا کے لیے رک جاٶ۔۔۔تم گر جاٶ گی۔۔۔پلیز نیچے اترو۔۔

وہ ڈرتے ڈرتے اس کے قریب جا رہے تھے۔ انھیں خدشہ تھا کہ وہ نیچے چھلانگ نہ لگا دے۔۔ قندیل کے چہرے پر ایک عجیب شرارتی مسکراہٹ تھی۔ اس نے فہیم صاحب کی طرف دیکھا اور نیچے چھلانگ لگا دی۔ فہیم صاحب نے اتنے زور سے قندیل کا نام پکارا کہ ان کی آواز ہر طرف گونجتی محسوس ہوئی۔۔انھوں نے منڈیر سے جھک کر دیکھا تو قندیل صحن کے فرش پر اوندھے منہ گری ہوئی تھی اور اس کے سر کے گرد خون کا ایک چھوٹا سا تالاب جمع ہونا شروع ہو گیا تھا۔
او میرے خدا۔۔۔
صدمے سے فہیم صاحب نے اپنے بال نوچ لیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سلطان کبیر اور زیدی صاحب علی اکبر کے گھر میں موجود تھے۔ وہ قالین بچھے فرش پر دیوار سے ٹیک لگاٸے بیٹھے تھے۔ایس ایس پی صاحب کا بیٹا خرم ان کے سامنے ایک تختے پر الٹا لیٹا ہوا تھا۔ سلطان کبیر کی آنکھیں بند تھیں۔ علی نے بھی اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ اسے دو ڈاکٹر دکھائی دیے جو خرم کی کمر کا معاینہ کر رہے تھے۔ ڈاکٹر حسنین اجازت طلب نظروں سے علی کی جانب دیکھ رہا تھا۔ علی کے اشارے پر وہ بھی ان میں شامل ہو گیا۔ ڈاکٹر حسنین نے خرم کی کمر پر سے اپنی لگائی گئی زپ اتار کر دونوں ڈاکٹروں کو متاثرہ جگہ دکھائی۔۔وہ کچھ دیر آپس میں مشورہ کرتے رہے پھر سلطان کبیر کے سفید داڑھی والے ڈاکٹر باقر نے اپنے بیگ میں سے ایک ڈرپ نکال کر اس کی سوئی خرم کے بازو میں لگائی۔۔دوسرے ڈاکٹر آپریشن کا سامان تختے کے پاس پڑی ٹیبل پر رکھ رہے تھے۔۔کافی دیر تک تینوں ڈاکٹر خرم کی کمر پر جھکے آپریشن کرتے رہے۔۔ پھر ڈاکٹر حسنین نے زخم پر ٹانکے لگا کر انھیں سی دیا۔ ڈاکٹر باقر نے سلطان کبیر کے کان میں کچھ کہا۔۔ جس کے جواب میں سلطان کبیر نے اثبات میں سر ہلا کر آنکھیں کھول دیں۔۔ان کی تقلید میں علی اکبر نے بھی آنکھیں کھول کر انھیں دیکھا۔۔ان دونوں کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔۔سلطان کبیر صاحب کے چہرے پر تھکاوٹ کے آثار تھے۔ کچھ دور خاموش بیٹھے زیدی صاحب کے چہرے پر قدرے تعجب اور بیزاری کے تاثرات تھے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ کافی دیر سے آنکھیں بند کیے یہ دونوں صاحبان کیا کر رہے ہیں۔

الحمدللہ آپریشن کامیاب رہا ہے۔۔۔ جلد ہی خرم صاحب مکمل طور پر صحت یاب ہو جائیں گے ان شاء اللہ۔ آپ زخم کی صفاٸی اور پٹی کی تبدیلی میں کوٸی کوتاہی نہ برتیے گا۔۔

سلطان کبیر نے مسکراتے ہوئے علی اکبر سے کہا۔
جی ان شاء اللہ۔۔۔کوٸی کوتاہی نہیں ہو گی۔۔

علی نے ادب سے سرجھکا کر کہا۔ اسی لمحے ڈوربیل بجی۔ علی اٹھ کر دروازے کی جانب چلا گیا۔ کچھ لمحے بعد وہ لوٹا تو اس کے ساتھ ایس پی مظفر کمال صاحب بھی تھے۔ مظفر صاحب آج گھریلو کپڑوں میں کافی ترو و تازہ دکھائی دے رہے تھے۔ انھوں نے کمرے میں موجود سلطان کبیر اور زیدی صاحب سے ہاتھ ملایا۔

زیدی صاحب کو یہاں بیٹھے دیکھ کر وہ کافی حیران ہوئے. انھوں نے سلطان کبیر کو بھی غور سے دیکھا۔
یہ میرے پیر و مرشد جناب سلطان کبیر ہیں۔ جن کا میں نے آپ سے ذکر کیا تھا۔۔۔زیدی صاحب کو تو آپ جانتے ہی ہوں گے۔۔؟

جی۔۔زیدی صاحب کو کون نہیں جانتا۔۔ملک کا بچہ بچہ قوم کے لیے ان کی خدمات کا معترف اور مقروض ہے۔
مظفر صاحب مسکرائے.

اب کیسی طبعیت ہے خرم کی۔۔۔؟
مظفر صاحب نے علی سے پوچھا۔۔علی نے نظریں اٹھا کر سلطان کبیر کو دیکھا اور خاموش رہا۔
” ہم نے اپنا کام کر دیا ہے مظفر صاحب۔۔۔۔اب معاملہ رب کی رحمت کے سپرد ہے۔ مجھے امید ہے انشإاللہ خرم کی صحت کے معاملے میں بہتری ہوگی۔۔

سلطان صاحب نے شفیق لہجے میں کہا۔

خرم میرا اکلوتا بیٹا ہے جناب۔۔۔میں بہت امید سے یہاں آیا ہوں۔

مظفر صاحب کے چہرے کو دیکھ کر لگتا تھا کہ انھیں سلطان کے جواب سے مکمل تشفی نہیں ہوئی۔

انسان کو اپنی امید، ہمیشہ اپنے رب سے منسلک کرنی چاہیے۔ کچھ معاملات میں انسان کا اختیار بہت کم ہے۔۔اس کے ذمے صرف کوشش کرنا اور اپنے خالق کے سامنے التجا رکھنا ہے۔۔ہم دونوں کام کر رہے ہیں۔۔جب معاملہ بادشاہوں کے بادشاہ کے دربار کا ہے تو امید ہے وہ ہمیں خالی ہاتھ نہیں لوٹائے گا۔۔۔

کیا آپ یہی رہتے ہیں اسی شہر میں۔۔۔مطلب، میں نے کبھی آپ کو دیکھا نہیں، کچھ سنا نہیں آپ کے بارے میں۔۔۔آپ جیسی ہستی کا زیادہ دیر غیر نمایاں رہنا بظاہر مشکل نظر آتا ہے۔۔
مظفر صاحب نے مسکرا کر کہا۔ سلطان کبیر سنجیدہ ہو گئے۔

ہر کوئی اپنی تفویض کردہ ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہے۔۔آپ کو مسلمانوں کے بیچ میں نفرت کے بیج بونے والے اور فساد کی سازش کرنے والے کی تلاش ہے۔ ہمیں اسے اکسانے والے اور وسائل مہیا کرنے والے کی۔۔۔

مظفر صاحب کچھ دیر بول نہ سکے۔۔یہ بات بہت کم لوگ جانتے تھے کہ وہ مذہبی منافرت کی سازش تیار کرنے والے مجرموں کو تلاش کرنے والی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔

”اس کا مطلب ہے ہم دونوں ایک ہی منزل کے مسافر ہیں؟

ہاں۔۔لیکن راستے جدا جدا ہیں۔ آپ کا کام میں نہیں کر سکتا اور نہ ہی میرا کام آپ کر سکتے ہیں۔
کیا زیدی صاحب بھی اسی سلسلے میں یہاں موجود ہیں؟

مظفر صاحب نے سوال پوچھا۔بلاشبہ وہ ذہین پولیس آفیسر تھے۔

” جی ہاں۔۔۔دشمن ہر جگہ وار کر رہا ہے۔۔ہمیں ان تک پہنچنا ہوگا ورنہ وہ ناقابل تلافی نقصان پہنچاسکتے ہیں۔

سلطان کبیر نے سنجیدگی سے کہا۔ اسی اثنا میں مظفر صاحب کے فون کی بیل بجی۔۔وہ کچھ دیر ہوں ہاں کرتے رہے۔
”کیا فہیم صاحب اس بوڑھے جانور کے خلاف کیس کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟

انھوں نے پوچھا پھر کچھ دیر دوسری طرف کی بات سنتے رہے۔۔۔
پھر تو مسئلہ ہو جاٸے گا۔۔۔
اچھا تو کیا وہ ملازمہ بچی ابھی بھی تمھارے پاس ہے۔۔۔۔؟

دیکھ لو بعد میں مدعی مکر نہ جائیں۔۔۔کیوں کہ بچی کے والدین یقیناً کمزور اور غریب لوگ ہوں گے۔ لالچ کی ترغیب یا جان کے خوف سے انھیں منحرف ہوتے دیر نہیں لگے گی۔۔۔چلو تم لوگ اس طرح کرو مجھ سے آفس میں ملو کل۔۔۔۔کچھ کرتے ہیں۔۔
مظفر صاحب نے کال بند کرتے ہوئے کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ جگہ برف پوش پہاڑوں کی غاروں میں واقع تھی۔
عفرش کے چیلہِ خاص جحیم کو یہی قید کیا گیا تھا۔ یہاں جیحم جیسے اور بھی کٸی اسیر موجود تھے۔ ان سب کو زنجیروں سے باندھ کر برفیلے پانی کے حوضوں میں رکھا گیا تھا جس کی وجہ سے ان کے جسم برف بن گئے تھے اور وہ بھاگنے سے قاصر تھے۔۔جحیم کی زبان سردی کی وجہ سے اکڑ گئی تھی لیکن ابھی بھی خوب چلتی تھی۔ درویش اس جگہ کو بہت محفوظ تصور کرتے تھے۔ اس لیے حفاظت اور نگرانی کے لیے یہاں صرف دو سفید پوشوں کی ڈیوٹی تھی۔ وہ بھی زیادہ تر غار کے دہانے کی جانب رہتے تھے۔۔۔

منجمد پانی میں گردن تک ڈوبے جحیم کے سر پر برف کی پھوار گری تو اسنے بمشکل سر اٹھا کر غار کی چھت کی طرف دیکھا۔۔

”ابے یار۔۔۔پہلے کیا کم سردی ہے جو اب چھت بھی لیک ہونے لگی ہے۔۔۔۔۔مینٹس ٹیم پلیز۔۔۔۔۔۔۔؟
اس نے اپنے مخصوص انداز میں ہانک لگائی۔ اگلے لمحے وہ چونکا اسنے دوبارہ سر اٹھا کر دیکھا۔۔ غار کی چھت سے برف بلاسبب نہیں گر رہی تھی۔ یقیناً اوپر سے کوئی اس میں چھید کر رہا تھا۔۔
او اچھا۔۔تو یہ بات ہے۔۔
وہ مسکرایا۔

کچھ دیر میں ہی چھت میں چھید اتنا بڑا ہوگیا کہ اسے اس میں سے کسی کی کالی ٹانگیں نظر آئیں۔۔۔
ابے یار۔۔۔ہم سب کالے کیوں ہیں۔۔۔؟

اس نے منہ بنا کر خود سے پوچھا۔۔غار کی چھت میں چھید کرنے والی ہاویہ تھی۔ اس کے ساتھ نصف درجن جلے ہوئے چہروں والے سیاہ پوش بھی تھے۔ جن کے ہاتھوں میں تیر کمان جیسی رائفلز تھیں۔

گڈ ایوننگ دوستو، کیا avatar کا پارٹ ٹو آ گیا ہے؟
وہ کیا ہے۔۔۔؟
ہاویہ نے بھونیں اچکائی۔

وہ ہالی ووڈ کی بہت مشہور مووی ہے کیا تم فلمیں نہیں دیکھتی۔۔۔۔؟ جب میں اس منحوس جگہ پر قید ہوا تو اس کا سیکوئل آنے والا تھا۔
بکواس نہیں کرو۔۔۔!
ہاویہ نے اسے ڈانٹا۔۔۔

تم جاٶ۔۔۔اور درویشوں کا خاتمہ کر دو، پھر ہم بغیر کوٸی وقت ضائع کیے باقی قیدیوں کو بھی لے کر واپس جائیں گے۔۔

(جاری ہے)

Comments

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید فکشن اور طنز و مزاح لکھنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کم مگر اچھا اور معیاری لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */