محبت - واصف علی واصف

جو ذات شکمِ مادر میں بچے کی صورت گری کرتی ہے، وہی ذات خیال اور احساس کی صورت گر بھی ہے - پیدا فرمانے والے نے چہروں کو تاثر دینے والا بنایا اور قلوب کو تاثیر قبول کرنے والا - ہر چہرہ ایک رینج (Rang) میں تاثر رکھتا ہے اور اس کے باہر وہ تاثیر نہیں ہوتی - دائرہ تاثیر صدیوں اور زمانوں پر بھی محیط ہوسکتا ہے - یہ خالق کے اپنے کام ہیں - آنکھوں کی بینائی عطا فرمانے والا نظاروں کو رعنائی عطا فرماتا ہے - وہ خود ہی دل پیدا فرماتا ہے، خود ہی دلبر پیدا فرماتا ہے اور خود ہی دلبری کا خالق ہے، بلکہ وہ خود ہی سرِ دلبراں ہے۔

محبت کوشش یا محنت سے حاصل نہیں ہوتی، یہ عطا ہے، یہ نصیب ہے بلکہ یہ بڑے ہی نصیب کی بات ہے- زمین کے سفر میں اگر کوئی چیز آسمانی ہے تو وہ محبت ہی ہے۔

محبت کی تعریف مشکل ہے - اس پر کتابیں لکھی گئیں، افسانے رقم ہوئے ، شعراء نے محبت کے قصیدے لکھے، مرثیے لکھے، محبت کی کیفیات کا ذکر ہوا، وضاحتیں ہوئیں، لیکن محبت کی جامع تعریف نہ ہو سکی - واقعہ کچھ اور ہے ، روایت کچھ اور- بات صرف اتنی سی ہے کہ ایک چہرہ جب انسان کی نظر میں آتا ہے تو اس کا انداز بدل جاتا ہے - کائنات بدلی بدلی سی لگتی ہے ، بلکہ ظاہر و باطن کا جہان بدل جاتا ہے۔

محبت آسمانوں کی بے کراں وسعتوں کو ایک ہی جست میں طے کر سکتی ہے - محبت قطرے کو قلزم آشنا کر دیتی ہے - محبت زمین پر پاؤں رکھے تو آسمانوں سے آہٹ سنائی دیتی ہے۔

محبت سے آشنا ہونے والا انسان ہر طرف حسن ہی حسن دیکھتا ہے - اس کی زندگی نثر سے نکل کر شعر میں داخل ہو جاتی ہے - اندیشہ ہائے سود و زیاں سے نکل کر انسان جلوہ جاناں میں گم ہو جاتا ہے - اس کی تنہائی میں میلے ہوتے ہیں - وہ ہنستا ہے بے سبب، روتا ہے بے جواز - محبت کی کائنات جلوہ محبوب کے سوا کچھ اور نہیں۔

محبوب کا چہرہ، محب کے لیے کعبہ بن کر رہ جاتا ہے - محبت انسان کو زمان و مکاں کی ظاہری قیود سے آزاد کر دیتی ہے - محبت میں داخل ہونے والا، ہر داستانِ الفت کو کم و بیش اپنا ہی قصہ سمجھتا ہے - وہ اپنے غم کا عکس دوسروں کے افسانوں میں محسوس کرتا ہے - محبت وحدت سے کثرت اور کثرت سے وحدت کا سفر طے کراتی ہے - محبت آسمانوں کی بے کراں وسعتوں کو ایک ہی جست میں طے کر سکتی ہے - محبت قطرے کو قلزم آشنا کر دیتی ہے - محبت زمین پر پاؤں رکھے تو آسمانوں سے آہٹ سنائی دیتی ہے۔

محبت کرنے والے کسی اور مٹی سے بنے ہوتے ہیں - یہ خلوص کے پیکر دنیا میں رہ کر بھی دنیا سے الگ ہوتے ہیں - دراصل محبت زندگی اور کائنات کی انوکھی تشریح ہے - یہ قرآن فطرت کی الگ تفسیر ہے - یہ حیات و مرگ کے مخفی رموز کی جداگانہ آگہی ہے - محبت میں دھڑکنے والے دل کے ساتھ کائنات کی دھڑکنیں ہم آہنگ ہو جاتی ہیں - محب اور محبوب کا تقرب موسموں کو خوشگوار بنا دیتا ہے - محبوب کی جدائی سے بہاریں روٹھ جاتی ہیں - محبوب کا فراق بینائی چهین لیتا ہے اور محبوب کی قمیض کی خوشبو سے بینائی لوٹ آتی ہے - یہ بڑا راز ہے - یہ انوکھا عمل ہے - اس زندگی میں ایک اور زندگی ہے - اس کائنات میں ایک اور کائنات ہے - محبت ہو تو انسان کو اپنے وجود ہی میں کائنات کی وسعتوں اور رنگینیوں سے آشنائی ہوتی ہے - اسے خوشبوؤں سے تعارف نصیب ہوتا ہے - اسے آہٹیں سنائی دیتی ہیں - وہ دھڑکنوں سے آشنا ہوتا ہے - اسے نالہء نیم شب کا مفہوم سمجھ میں آتا ہے - محبت کرنے والا اپنی ہستی کے نئے معنی تلاش کرتا ہے - وہ باطنی سفر پر گامزن ہوتا ہے - زندگی کے تپتے ہوئے ریگزار میں محبت گویا ایک نخلستان سے کم نہیں - محبت کے سامنے ناممکن و محال کچھ نہیں - محبت پھیلے تو پوری کائنات، اور سمٹے تو ایک قطرہِ خوں۔

محبت اشتہائے نفس اور تسکینِ وجود کا نام نہیں۔ اہلِ ہوس کی سائیکی PSYCHE اور ہے اور اہلِ دل کا اندازِ فکر اور۔

درحقیقت محبت، آرزوئے قربِ حسن کا نام ہے - ہم ہمہ وقت جس کے قریب رہنا چاہتے ہیں، وہی محبوب ہے - محبوب ہر حال میں حسین ہوتا ہے کیونکہ حسن تو دیکھنے والے کا اپنا اندازِ نظر ہے - ہم جس ذات کی بقا کے لیے اپنی ذات کی فنا تک بھی گوارا کرتے ہیں، وہی محبوب ہے۔

محب کو محبوب میں کجی یا خامی نظر نہیں آتی ۔ اگر نظر آئے بھی تو محسوس نہیں ہوتی ۔ محسوس ہو بھی تو ناگوار نہیں گزرتی ۔ محبوب کی ہر ادا دلبری ہے ۔ یہاں تک کہ اس کا ستم بھی کرم ہے ۔ اس کی وفا بھی پُرلطف اور جفا بھی پُرکشش ۔ محبوب کی جفا کسی محب کو ترکِ وفا پر مجبور نہیں کرتی۔ دراصل وفا ہوتی ہی بے وفا کے لئے ہے ۔ محبوب کی راہ میں انسان معذوری و مجبوری کا اظہار نہیں کرتا۔ محبوب کی پسند و ناپسند محب کی پسند و ناپسند بن کے رہ جاتی ہے۔ محبت کرنے والے جدائی کے علاوہ کسی اور قیامت کے قائل نہیں ہوتے۔

محبت اشتہائے نفس اور تسکینِ وجود کا نام نہیں۔ اہلِ ہوس کی سائیکی PSYCHE اور ہے اور اہلِ دل کا اندازِ فکر اور۔ محبت دو روحوں کی نہ ختم ہونے والی باہمی پرواز ہے۔

محبت کے لیے کوئی خاص عمر مقرر نہیں ۔ محبت زندگی کے کسی دَور میں بھی ہو سکتی ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک انسان کو پُوری زندگی میں بھی محبت سے آشنا ہونے کا موقع نہ ملے ۔ سوزِ دل پروانہ کسی مگس کے نصیب میں نہیں ہوتا۔
عقیدوں اور نظریات سے محبت نہیں ہو سکتی ۔ محبت انسان سے ہوتی ہے ۔ اگر پیغمبر ﷺ سے محبت نہ ہو ، تو خدا سے محبت یا اسلام سے محبت نہیں ہو سکتی۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا کہ مجاز کیا ہے اور حقیقت کیا ہے؟ دراصل مجاز بذاتِ خود ایک حقیقت ہے اور یہ حقیقت اس وقت تک مجاز کہلاتی ہے ، جب تک رقیب ناگوار ہو ۔ جس محبت میں رقیب قریب اور ہم سفر ہو ، وہ عشقِ حقیقی ہے ۔ اپنا عشق ، اپنا محبوب اپنے تک محدود رکھا جائے تو مجاز ، اور اگر اپنی محبت میں کائنات کو شریک کرنے کی خواہش ہو تو حقیقت ۔ رانجھے کا عشق مجاز ہو سکتا ہے ، لیکن وارث شاہ کا عشق حقیقت ہے ۔ عشق حقیقی ، عشقِ نورِ حقیقت ہے ۔ یہ نور ، عشقِ حقیقی ہے ۔ عشقِ اصحابِ نبی ﷺ عشقِ حقیقی ہے ۔ عشقِ جامیؒ عشقِ حقیقی ہے ۔ اُویس قرنیؒ کا عشق حقیقی ہے ۔ عشقِ رومیؒ عشقِ حقیقی ہے ۔ بلکہ اقبالؒ کا عشق بھی عشقِ حقیقی ہی کہلائے گا ۔اگر قطرہء شبنم واصلِ قلزم ہو اور آنسو بھی سمندر سے واصل ہو ، تو شبنم اور آنسو کا عشق بھی عشقِ قلزم یا عشقِ حقیقی کہلائے گا ۔ پیرِ کامل کا عشق ، عشقِ نبی ﷺ ہی کہلائے گا ۔

مشینوں نے انسان سے محبت چھین لی ہے ۔ آج کے انسان کے پاس وقت نہیں کہ وہ نکلنے اور ڈوبنے والے سورج کا منظر تک بھی دیکھ سکے ۔ وہ چاندنی راتوں کے حُسن سے ناآشنا ہو کر رہ گیا ہے ۔

حضورِ اکرم ﷺ کو نُورِ خدا کہا جاتا ہے اور ولی چونکہ مظہرِ عشقِ نبی ﷺ ہوتا ہے اسے مظہرِ نبی ﷺ یا مظہرِ نُورِ خدا کہا جا سکتا ہے ۔ پیرِ کامل کو عشق میں صورتِ اِلٰہ کہنا جائز ہے ۔ مولانا روم ؒ نے اس کو یوں کہا ہے ۔


ہر کہ پیر و ذات حق را یک ندید
نَے مرید و نَے مرید و نَے مرید

بہر حال عشقِ مجازی کو بہ وسیلہ شیخ کامل ، عشقِ حقیقی بننے میں کوئی دیر نہیں لگتی ۔

ہر انسان کے ساتھ محبت الگ تاثیر رکھتی ہے ۔ جس طرح ہر انسان کا چہرہ الگ ، مزاج الگ ، دل الگ ، پسند و ناپسند الگ ، قسمت نصیب الگ ، اسی طرح ہر انسان کا محبت رویہ الگ ۔ کہیں محبت کے دَم سے تخت حاصل کیے جا رہے ہیں ۔ کہیں تخت چھوڑے جا رہے ہیں ۔ کہیں دولت کمائی جا رہی ہے ۔ کہیں دولت لٹائی جا رہی ہے ۔ محبت کرنے والے کبھی شہروں میں ویرانے پیدا کرتے ہیں ، کبھی ویرانوں میں شہر آباد کر جاتے ہیں ۔ دو انسانوں کی محبت یکساں نہیں ہو سکتی ۔ اس لئے محبت کا بیان مشکل ہے ۔ دراصل محبت ہی وہ آئینہ ہے جس میں انسان اپنی اصلی شکل ، باطنی شکل ، حقیقی شکل دیکھتا ہے ۔ محبت ہی قدرت کا سب سے بڑا کرشمہ ہے ۔ "جس تن لاگے سو تن جانے"۔ محبت ہی کے ذریعے انسان پر زندگی کے معنی منکشف ہوتے ہیں ۔ کائنات کا حُسن اسی آئینے میں نظر آتا ہے ۔

آج کا انسان محبت سے دُور ہوتا جا رہا ہے ۔ آج کا انسان ہر قدم پر ایک دوراہے سے دوچار ہوتا ہے ۔ مشینوں نے انسان سے محبت چھین لی ہے ۔ آج کے انسان کے پاس وقت نہیں کہ وہ نکلنے اور ڈوبنے والے سورج کا منظر تک بھی دیکھ سکے ۔ وہ چاندنی راتوں کے حُسن سے ناآشنا ہو کر رہ گیا ہے ۔ آج کا انسان دُور کے سٹیلائٹ سے پیغام وصول کرنے میں مصروف ہے ۔ وہ قریب سے گزرنے والے چہرے کے پیغام کو وصول نہیں کر سکتا ۔ انسان محبت کی سائنس سمجھنا چاہتا ہے اور یہ ممکن نہیں ۔ زندگی صرف نیوٹن ہی نہیں ، زندگی ملٹن بھی ہے ۔ زندگی صرف حاصل ہی نہیں ، ایثار بھی ہے ۔ ہرن کا گوشت الگ حقیقت ہے ۔ چشمِ آہو الگ مقام ہے ۔ زندگی کارخانوں کی آواز ہی نہیں ، احساس ِ پرواز بھی ہے ۔ زندگی صرف "مَیں" ہی نہیں ، زندگی "وہ" بھی ہے ، "تُو" بھی ہے ۔ زندگی میں صرف مشینیں ہی نہیں ، چہرے بھی ہیں ، متلاشی نگاہیں بھی ۔ زندگی مادہ ہی نہیں ، رُوح بھی ہے ۔ اور سب سے بڑی بات زندگی خود ہی معراجِ محبت بھی ہے۔

(کتاب: دل دریا سمندر، انتخاب: محمد اویس حیدر)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */