آپا! میں کیا کروں؟ - نیر تاباں

شادی سے پہلے ایک سال کالج میں بطور لیکچرر پڑھانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں میرے ساتھ ایک اور فریش گریجویٹ بھی تھی، جس سے دوستی ہوگئی۔ رکھ رکھاؤ سے اچھے خاندان کی لگتی تھی۔ شکل و صورت کی بھی اچھی اور پڑھی لکھی تو تھی ہی۔
ہم ان دنوں بھائی کے لیے دلہن کی تلاش میں تھے۔ امی کی اجازت سے ہم نے اس لڑکی سے پوچھا، اگر وہ برا نہ مانے تو ہم اپنے بھائی کا رشتہ اس کے گھر لانا چاہتے ہیں۔ وہ مسکرا دی۔ اس مسکراہٹ کا کرب مجھے کئی سال گزرنے کے بعد بھی یاد ہے۔ کہنے لگی کہ ویسے سو بار آؤ، لیکن رشتہ بیشک نہ لاؤ کیونکہ گھر والے شادی نہیں کریں گے۔ اس کی ایک اور سہیلی کا بھائی اس کے لیے خاموش پسندیدگی رکھتا تھا۔ تین بار رشتہ بھجوایا گیا، تین بار رشتہ ٹھکرا دیا گیا۔ اس لڑکی سے آج بھی میری دوستی ہے۔ وہ آج بھی غیر شادی شدہ ہے۔

وہی نہیں، اس سے بڑی چار پانچ بہنیں بھی، ایک بھائی بھی۔ اپنی ذات برادری سے نہیں نکلنا، بہنوں کی ترتیب آگے پیچھے نہیں کرنی اور یوں پڑھا لکھاکر ایک کے بعد ایک لڑکی کو گھر میں قید کرتے جانا ہے۔

انباکس میں پچھلے دنوں کی گفتگو نے وہ سارے زخم پھر سے کھرچ دیے ہیں۔ لڑکے کے کردار پر بات ہوتی ہے کہ لڑکا سیریس نہیں ہوتا اس لیے رشتہ نہیں بھیجتا۔ لڑکی اس کے گھر والوں کی ناک سے نیچے نہیں اترتی۔ لیکن لڑکی والوں کا کیا رویہ ہے؟ آتے رشتے ذرا ذرا سی بات پر انکار کرنا کفرانِ نعمت نہیں تو کیا ہے؟ وہ دو جماعتیں تعلیم میں پیچھے ہے، وہ ملک ہے اور ہم آرائیں ہیں، وہ الگ گھر میں نہیں رکھ سکتا، اور یہ کہ اس ناہنجار نے جرات کیسے کی کہ آفس میں دیکھ کر سیدھا رشتہ ہی بھیج دیا۔ ہماری بیٹیاں ہمیں بھاری نہیں۔۔۔ بات ختم!

بیٹی یقینا" آپ کو بھاری نہیں۔ بلکہ عین ممکن ہے کہ گھر کی کماؤ پوت ہی وہ ہو (جو انکار کی ایک اور بڑی وجہ ہے!) مسئلہ یہ ہے کہ سب لوگوں کی سوالیہ نظریں تو وہ سہتی ہے۔ آنٹیوں کے سوال کہ "اب تم بھی شادی کر ہی لو، اور کتنا لٹکانا ہے؟" تو بار بار وہ برداشت کرتی ہے۔ ایک کے بعد ایک سہیلی کو دلہن بنے دیکھتے تو اسے اپنے جذبات مارنے پڑتے ہیں۔ سب سہیلیاں اپنے بچوں کی شرارتوں کا ذکر کرتی ہیں اور اس کا بس نہیں چلتا کہ موضوع بدل دے۔ اس کو روز قطرہ قطرہ گھلنا پڑتا ہے۔ اپنی فطری خواہشات کا گلا گھونٹنا پڑتا ہے کیونکہ آپ کو اپنی بیٹی بھاری نہیں۔ کبھی اس کی آنکھوں سے دنیا دیکھیں، یقینا" آنسوؤں سے دھندلا جائے گی۔

یہ ٹاپک آپ سن سن کر اور ہم کہہ کہہ کر تھک چکے کیونکہ ہمارے لیے بس یہ ایک ٹاپک ہے۔ لیکن ایک ذرا اس لڑکی کی تکلیف کا اندازہ لگائیے آپ، جب وہ اذیت سے پوچھتی ہے "مجھے بتائیں آپا! میں کیا کروں؟" کہیے کیا جواب دوں اسے؟

Comments

نیر تاباں

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */