بچوں کی ابتدائی تعلیم، ہزاروں کے اخراجات بچائیں - منزہ صدیقی

ایک طویل عرصہ، بلکہ درست انداز میں کہوں تو ہوش سنبھالنے سے لے کر آج تک، جس چیز سے سب سے زیادہ واسطہ اور تعلق رہا ہے، وہ سکول، تعلیم اور پڑھنا پڑھانا ہے۔ والد محترم کا سکول، کالجز کا وسیع نیٹ ورک رہا، جس کا مشاہدہ رہا۔ خود پڑھائی سے غیر معمولی رغبت اور دلچسپی رہی۔ یونیورسٹی میں پڑھانے کا تجربہ، اپنی بچیوں کے تعلیمی مراحل میں مستقل ساتھ رہنا۔ اور اب اسلام آباد میں آفٹر سکول پروگرام اور مونیٹسوری سکول چلانے کا تجربہ۔

آفٹر سکول پروگرام میں ٹری ہاؤس، فروبلز، روٹس، بیکن، سٹی، دی ماؤنٹ سینائی، iiui سکولز، دار ارقم، اسلام آباد ماڈل کالجز، بحریہ، فضائیہ اور اس کے علاوہ سیکٹرز کے مقامی سکولوں کے بچے، بچیوں کو پڑھانے کا موقع ملا۔ میری دلچسپی رہی کہ ان کے سلیبس، طریقہ تعلیم کو سمجھوں کہ آخر پلے گروپ کے بچے سے 25000 روپے ماہانہ فیس وصول کرنے والا اور 500روپے والے سکول میں کیا فرق ہے۔ بچے میں آخر کون سی ایسی صلاحیت پروان چڑھائی جاتی ہے جو والدین دن اور رات کا سکون تج کر، ان کی فیس ادا کرتے ہیں۔

یہی سوچ کر ارادہ کیا کہ اپنے تجربے کی بنیاد پر مختصر انداز میں والدین کو بتاسکوں کہ بچے کے تعلیمی سفر میں، سکول منتخب کرنے سے لے کر، بچے کو سکول بھیجنے کی صحیح عمر، ان کو ابتدائی مراحل گھر پر کرانے کا طریقہ کار بتاسکوں۔ خواہش اور دعا ہو گی کہ اس سےنہ صرف آپ کے ابتدائی تعلیمی اخراجات بچیں، بلکہ آپ کا بچہ زیادہ پراعتماد ہوکر سکول جانے کے قابل ہوسکے۔ اس کے بعد میٹرک اور او لیول وغیرہ کے مراحل پر بات کرنے کا ارادہ ہے۔ والدین کو روتے بلکتے، فیسوں کے انبار تلے دبتے دیکھا ہے، اس لیے یہ خواہش مزید پیدا ہوئی ہے۔ وہ والدین بھی سامنے ہیں جو بچے کو انگریزی کا ایک فقرہ سکھانے کے لیے بلامبالغہ لاکھوں خرچنے کو تیار ہیں۔

بتاتی چلوں کہ الحمدللہ، میرا تعلیمی سفر اور اپنی بچیوں کے تعلیمی تجربات کامیاب رہے ہیں۔
٭٭٭
اللہ نے آپ کو اولاد کی نعمت سے نوازا ہے۔ الحمدللہ!
اس کی بہترین تعلیم و تربیت کرنا آپ کا فرض ہے، اور اس ننھی جان کا حق۔

اس نیک کام کے لیے، بچے کے بڑے ہونے کا انتظار مت کیجیے، بلکہ یوں سمجھیے کہ آپ اسے سکول میں داخل کراچکے ہیں۔ آپ اپنے بچے میں جو خوبیاں دیکھنا چاہتے ہیں، ان کے لیے آج ہی سے محنت شروع کردیں۔
ہمارا فوکس چونکہ تھوڑے سے بڑے، یعنی سکول جانے کی ممکنہ عمر کے بچے ہیں، لہٰذا ان کو سامنے رکھتے ہوئے بات کرتے ہیں۔

اونچے طبقے کے سکول، ڈے کئیر، پری پلے گروپ سے آغاز کرتے ہیں۔
ڈے کئیر سے مراد ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد، آپ ان کے حوالے کردیں۔ ننھے منوں کی باقاعدہ حاضری لگتی ہے۔ عمر کے حساب سے فیڈر پینے، کھانا کھانے وغیرہ کا حساب رکھا جاتا ہے۔ ماں اور باپ دونوں کسی اچھی جاب پر ہوتے ہیں اور مطمئن بھی کہ بچے پر بہت اچھا خرچ کررہے ہیں۔

پری پلے گروپ کا آغاز عموما دو سے اڑھائی سال کی عمر میں ہوتا ہے، جہاں انہیں پلے گروپ کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔

بڑے شہروں میں اس کلاس کا رواج پہلے کی نسبت عام ہورہا ہے۔ بالکل کسی پراڈکٹ کی مانند، اسے بھی ضرورت کے طور پر متعارف کروایا جارہا ہے۔ اونچے طبقے کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ بچہ پری پلے میں ہو۔ مائیں فخر سے بتاتی ہیں کہ میرا بچہ تو پری پلے سے سکول جاتا ہے، آپ نے لیٹ ایڈمیشن کروایا کیا؟ تین سال کے بچے کا لیٹ ایڈمیشن؟

پاکستان میں پلے گروپ کلاس کا رواج عام ہوچکا ہے۔ جہاں تین سال کے بچے کو داخلہ دیا جاتا ہے، چار سال کا بچہ اس کلاس کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا اور ”اوور ایج“ کہلاتا ہے۔ چار سال کی عمر سے نرسری کلاس کا آغاز ہوجاتا ہے۔
٭
دو سے چار سال کے بچوں کے لیے، عمر کے حساب سے کچھ بنیادی مہارتیں ہیں، جن کا علم آپ کو ہونا چاہیے۔ اگر آپ گھر میں یہ کام کرواسکتے ہیں تو یقین جانیے کہ آپ کو چار سال سے پہلے، بچے کو سکول بھیجنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔

پلے گروپ میں ہر سکول، بچے کو درج ذیل کام سکھاتا ہے، خواہ وہ تیس ہزار روپے وصول کرے یا تین ہزار۔ سہولتوں کا فرق ہوگا۔ فرنگی لہجے میں انگریزی بولنے والی، اُردو لہجے میں انگریزی بولنے والی، صرف اردو بولنے والی ٹیچرز کا فرق ہوگا۔ اطمینان رکھیں کہ اس سے آپ کے بچے کی مہارتوں پر فرق نہیں پڑنے والا۔ بنیادی کام جو آپ کے بچے کو آنے چاہئیں:

تعوذ یعنی اعوذ باللہ۔
تسمیہ یعنی بسم اللہ۔
سورۃ الاخلاص۔
سورۃ الکوثر۔

سونے، جاگنے، کھانا کھانے سے پہلے، بعد کی دعائیں۔ (مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے)

1.پنسل درست انداز میں پکڑنا۔
2.بنیادی رنگوں کی پہچان۔
3.اپنے جسم کے چند اعضا کے نام۔
4.نقطے ملا کر لکھنا یعنی ٹریسنگ۔

5.ٹریسنگ جتنی اچھی کرنی آئے گی، مستقبل میں لکھائی اتنی اچھی ہونے کے امکانات ہیں۔
6.رنگ بھرنا۔
7.قینچی چلانا (گول والی، اور یہ کام اپنی نگرانی میں ہو) یہ بچے کے ہاتھ کے لیے مفید مشق ہے۔
8.زبانی گنتی جہاں تک ہوسکے، ٹریسنگ پر کم از کم بیس اور زیادہ سے زیادہ پچاس تک۔
9.ا ب پ، زبانی جہاں تک ممکن ہو، ٹریسنگ پر کم از کم آ سے ژ تک اور زیادہ سے زیادہ مکمل۔
10۔ abc زبانی مکمل اور ٹریسنگ پر کم از کم n تک، زیادہ سے زیادہ مکمل۔

11. پھلوں، سبزیوں کے نام زبانی۔
12. جانوروں کے نام۔

آپ اپنے شوق اور ضرورت کے تحت اس میں کمی بیشی کرسکتے ہیں۔ پاکستان میں کوئی بھی معیاری سکول اسی کے لگ بھگ سلیبس پڑھاتا ہے۔

یو ٹیوب پر بے شمار ویڈیوز موجود ہیں، جو زبانی کام کے لیے مفید ہیں۔
گنتی کے لیے
Numeracy work sheets for playgroup
انگلش کے لیے
Alphabet work sheets for playgroup
اور اردو کے لیے
Urdu alphabet playgroup
یا اردو حروف تہجی ورک شیٹ لکھ کر سرچ کرلیں۔ یہ ورک شیٹ نمونے کے طور پر ایسی ہوں گی۔ تصویر دیکھ لیں۔


اس کام کے لیے آپ گھر کا ایک کونا یا کمرہ مخصوص کرلیں۔ انہی چیزوں کے بنے بنائے چارٹ بازار میں بآسانی دستیاب ہیں، وہ اس جگہ لگائیں جہاں بچے کازیادہ تر وقت گزرتا ہے۔ اگر چاہیں تو خود بنالیں۔

بچہ ماں سے سیکھے تو اس سے بڑھ کر کوئی تحفہ نہیں۔ بچے کی نفسیاتی، جسمانی، روحانی، ہر طرح کی صحت کے لیے یہ مفید ہے۔

اگلی قسط میں سکول کے انتخاب، پاکستان میں سکولوں کی اقسام پر بات ہو گی۔ ان شاءاللہ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */