جرم، ریاست اور معاشرہ- خورشید ندیم

جرم کی سنگینی نے اضطراب پیدا کیا اور اضطراب نے خلطِ مبحث۔ ہمارے ہاں ہر بحث کا انجام یہی ہوتا ہے۔
پہلا فرق جو نظر انداز ہوا، وہ سماج اور ریاست کا ہے۔ یہ میڈیا کا مسئلہ ہے۔ دوسرا فرق جس سے صرفِ نظر کیا گیا وہ زنا اور محاربہ کا ہے۔ یہ علما کا مسئلہ ہے۔ تیسرا فرق جو پسِ پشت ڈالا گیا، یہ سماج اوراقتدار کی کشمکش کا فرق ہے۔ یہ سیاست دانوں کا مسئلہ ہے۔ چوتھا فرق جو ہمیشہ رہے گا یہ مذہبی اور لبرل سوچ کا ہے۔ یہ اصلاً تصوراتِ اخلاق کا فرق ہے۔
جرم کا تعلق نظامِ اقدار سے ہے اور قانون سے بھی۔ اقدارکا تعلق اخلاقی شعور سے ہے۔ جرم کے باب میں اجتماعی شعور جتنا پختہ ہوگا، جرم کے امکانات اتنے ہی کم ہوں گے۔ اجتماعی شعور سماج کے معاشی اور سماجی حالات کی پیداوار ہے۔ ایک معاشرہ اپنی معاشی اور سماجی ذمہ داریوں کے بارے میں جتنا حساس ہوگا، اس میں جرم اتنا ہی کم ہوگا۔
نظامِ اقدار کی حفاظت سماجی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ ان میں خاندان، معبد اور مکتب کا کرادر بنیادی ہے جوصدیوں سے انسان کے نظامِ اقدار کی تشکیل اور حفاظت کررہے ہیں۔ دورِ جدید نے ان اداروں میں میڈیا کو بھی شامل کردیا ہے۔ ریپ جیسے واقعات کی کثرت یہ بتاتی ہے کہ سماجی ادارے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کررہے۔ کہیں اخلاقی شعور پیدا ہی نہیں کیاجا رہا۔ نہ خاندان میں نہ مکتب میں نہ مسجد میں۔

کتنے والدین ہیں جنہیں اپنے بچوں کے اخلاقی مستقبل کا احساس ہے؟ سب کو بچوں کے معاشی مستقبل کی فکر ہے۔ مذہب کی تعلیم دی جاتی ہے لیکن یہ تعلیم اس بنیادی تصور سے خالی ہے کہ مذہب کا اصل وظیفہ اخلاقی وجود کی تطہیر ہے۔ مذہب اور اخلاق کا رشتہ کب کاختم ہو چکا۔ والدین اور مولوی صاحب اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ 'بچے نے قرآن ختم کر لیا‘۔ کوئی یہ نہیں جانتا کہ قرآن اس لیے نازل نہیں ہوا کہ اس کا 'ختم‘ کیا جائے۔ یہ تو انسانوں کی ہدایت کے لیے اترا ہے۔
یہ تصور قائم کرنے میں گھر اور مسجد‘ دونوں شریک ہیں یعنی والدین اور مولوی صاحب۔ قصور کی زینب بیٹی کا قاتل آپ کو یاد ہے؟ وہ مساجد میں نعتیں پڑھتا تھا۔ اب اس نے نعت پڑھنا تو سیکھ لیا، مناسب‘ لیکن اسے کسی نے یہ نہیں بتایاکہ انسانی جان اور عزت کی کیا اہمیت ہے؟ مذہب اور اخلاق کا تعلق جب منقطع ہوتا ہے تو مذہب اپنے جوہر سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس طرح انسان کا اخلاقی وجود تحلیل ہو جاتا ہے۔
اس بات کا حضرت مسیحؑ نے اس خوبی سے بیان کیا ہے کہ کوئی نبی ہی کر سکتا ہے۔ یہود کے پاس شریعت موجود تھی لیکن اس کا انسانی اخلاقیات سے تعلق ختم ہو گیا تھا۔ حضرت عیسیٰؑ اسی کو بحال کرنے آئے تھے۔ کوئی اس کی تفصیل جاننا چاہے تو انجیل (عہد نامہ جدید) میں حضرت مسیحؑ کے خطبات پڑھ لے۔ انجیل کا موضوع ہی یہ ہے کہ مذہب چند رسوم کی ادائیگی کا نام نہیں، تہذیبِ نفس کا پیغام ہے۔

مکتب یا جدید تعلیمی اداروں کا حال ہمارے سامنے ہے۔ ان کا المیہ وہی ہے جو اقبال نے بیان کیا: نہ زندگی‘ نہ محبت‘ نہ معرفت‘ نہ نگاہ۔ یہ ادارے ہر سال ڈگری برداروں کی ایک پوری کھیپ معاشرے کے حوالے کر دیتے ہیں جو صرف سماجی فساد میں اضافہ کر سکتی ہے۔ ان کے پاس کوئی اخلاقی شعور ہوتا ہے نہ زندگی گزارنے کی مہارت (Life skills)۔ نتیجے کے اعتبار سے ایک ان پڑھ اور پڑھا لکھا، دونوں ایک جگہ کھڑے ہوتے ہیں۔ دونوں یکساں معاشرے کے لیے بوجھ ہوتے ہیں۔
یہاں سے ریاست کا کام شروع ہوتا ہے۔ ریاست کے پاس تعلیمی اداروں سے فارغ ہونے والوں کے لئے روزگار اور ان کی صلاحیتوں کے استعمال کیلئے ایک جامع لائحہ عمل ہونا چاہیے۔ حکومتوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں خالی الدماغ ہیں۔ ان کے پاس کوئی منصوبہ نہیں۔ اس حکومت نے تو نااہلی کا ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے جسے شاید کبھی نہ توڑا جا سکے۔
حکومت یہ بنیادی بات ہی سمجھ نہیں سکی کہ اس کا پہلا کام لوگوں کے جان و مال اور عزت کا تحفظ ہے۔ اس کے لیے عوام کے اضطراب کو ختم کرنا ضروری ہے جو معاشی بھی ہے اور سماجی بھی۔ یہ معاشی سرگرمی کا تقاضا کرتا ہے اور یہ تقاضا سرمایے سے لڑ کر حاصل نہیں کیاجا سکتا۔ آج بیروزگاری میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اب تعلیم وتربیت کاجو حال ہے میں بیان کر چکا۔ یوں سماجی ادارے اور حکومت جیسے ریاستی ادارے جب اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتے تو حادثے جنم لیتے ہیں۔

علما میں اب تک یہ خیال ہے کہ زنا بالجبر، زنا ہی کی کوئی صورت ہے حالانکہ یہ دو مختلف جرائم ہیں۔ اس فرق کو نظر انداز کرنے سے پیچیدگی پیدا ہوتی ہے۔ زنا بالجبر محاربہ یعنی فساد فی الارض ہے۔ اس کیلئے شہادت کا نصاب وہ نہیں ہو سکتا جو زنا کا ہے۔ زنا کے بارے میں روایتی علما کا کہنا ہے کہ اس کے ثبوت کیلئے چار مسلمان مرد گواہوں کی عینی شہادت ضروری ہے۔
اس نصاب کا بارے میں بھی اہلِ علم کا ایک گروہ کہتا ہے کہ قرآن مجید نے یہ 'فحاشی‘ کے جرم کے لیے نصاب مقرر کیا ہے، محض زنا کے لیے نہیں، لیکن اِس وقت یہ میرا موضوع نہیں۔ کہنا یہ ہے کہ زنا بالجبر فساد ہے۔ قرآن مجید نے فساد کی شدید سزا بتائی ہے۔ یہ تقتیل یعنی عبرتناک طریقے سے قتل ہے یا تصلیب یعنی سولی دینا ہے۔ اعضا کو مخالف سمت سے کاٹنا ہے یا جلاوطنی ہے۔ جرم کی سنگینی کے پیشِ نظر عدالت کوئی بھی سزا دے سکتی ہے۔
اب آئیے تیسرے فرق کی طرف۔ حکومت اور اہلِ سیاست بدقسمتی سے ایسے سنگین معاملات کو بھی اقتدار کی حریفانہ کشمکش کی نذر کر دیتے ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت حزبِ اختلاف کو شریکِ مشاورت کرتی اور پارلیمان کی سطح پر مشترکہ موقف سامنے آتا یا حزبِ اختلاف پارلیمان میں کوئی ٹھوس لائحہ عمل تجویز کرتی۔ دونوں نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی۔ یوں اقتدار کی سیاست اور سماج کی سلامتی جیسے معاملات میں فرق ختم ہو گیا۔

اسی طرح مذہبی اور لبرل سوچ کا فرق بھی واضح ہے۔ اہلِ مذہب سخت سزاؤں کے حق میں ہیں اور لبرل موت کی سزا کے مخالف ہیں۔ پہلی سوچ میں یہ خرابی ہے کہ یہ سزا کے نفاذ کو جرم کے خاتمے کا واحد ذریعہ سمجھتی ہے‘ دوسری میں یہ خرابی ہے کہ یہ انسانی حقوق کے اس تصور سے مستعار ہے جس نے مغرب میں جنم لیا اور جس میں سخت سزا کو ردکر دیا گیا۔ واقعہ یہ ہے کہ جرم نہ سماج کی شعوری تربیت کے بغیر محض سزا سے ختم ہو سکتا ہے اور نہ ہی سخت سزاؤں کے ختم کرنے سے۔ سزا کا تعلق صرف مجرم سے نہیں، معاشرے سے بھی ہوتا ہے۔ اس کا ایک مقصد عبرت بھی ہے تاکہ کوئی اسے دُھرانے سے پہلے سو بار سوچے۔ یہ مقصد سخت سزا ہی سے پورا ہو سکتا ہے۔
جرائم سے نجات کے لیے سب کو اپنا کام کرنا ہے۔ سماجی اداروں کو نظامِ اقدار کی حفاظت کرنی ہے۔ ریاست کی ذمہ داری عوام کے جان ومال اور عزت وآبرو کی حفاظت ہے۔ اسے معاشرے کو قانون کی حفاظتی چادرفراہم کرنا ہے تاکہ عام آدمی کے لیے قانون تحفظ اور مجرم کے لیے خوف کی علامت بن جائے۔
علما کو بھی دیکھنا ہے کہ جب ڈی این اے ٹیسٹ ایک یقینی شہادت ہے تو حدود کے جرائم میں اس کو یکسر مسترد کرنا اسلام کے تصورِ جرم و سزا کی درست تفہیم نہیں ہو گی۔ اسی طرح زنا بالجبر، زنا کی کوئی صورت نہیں، ایک الگ جرم ہے۔ اہلِ مذہب اور لبرل طبقات کو بھی عمومی معاشرتی تناظر میں رائے قائم کرنی چاہیے۔ ہر معاملے میں ایک دوسرے کی مخالفت نہ مذہب کا تقاضا ہے نہ لبرل ازم کا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */