آغا جی - ارشاد احمد عارف

معروف صحافی محمد رفیق ڈوگر نے اپنی آپ بیتی ’’ڈوگر نامہ‘‘ میں ماضی کی بعض اہم سیاسی و صحافتی شخصیات کی جو تصویر کشی کی ہے وہ نام بڑے اور درشن چھوٹے یا اونچی دکان پھیکے پکوان کی عمدہ مثال ہے۔ لیکن سبھی ایسے نہ تھے‘ ہو بھی نہیں سکتے۔ آغا شورش کاشمیری کے بارے میں مثبت اور منفی بہت کچھ لکھا گیا‘ رفیق ڈوگر صاحب نے بھی دونوں پہلوئوں پر روشنی ڈالی مگر دو واقعات ایسے بیان کیے جو نوجوان صحافیوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔ دلیری ‘ کشادہ ظرفی‘ اور بے نیازی کا وصف ایک صحافی کو دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔ رفیق ڈوگر لکھتے ہیں: ’’بھٹو شاہی کے خلاف جنگ لڑنے والے پریس میں کراچی کا اخبار جسارت بہت آگے تھا‘ چٹان ہفت روزہ تھا‘ جسارت روزنامہ۔آغا جی کے جنگ و جدل کی خبریں روز شائع ہوتی تھیں جسارت کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ بہت بھاری تھا جسارت کی انتظامیہ نے مالی تعاون اور قرض حسنہ کی اپیل کی‘ لاہور میں جسارت کی نمائندگی مجھے کرنا ہوتی تھی میں نے کہا ’’جو بھی مدد کرنا چاہے چیک دے یا ڈرافٹ دے نقدی کسی سے وصول نہیں ہو گی‘‘میرے ذریعے جن لوگوں نے جسارت کی مدد کے لئے چیک بھجوائے تھے ان میں سب سے بڑا ڈرافٹ آغا جی نے بھجوایا تھا ‘دوسرے نمبر پر ایم انور بار ایٹ لاء تھے ‘آغا جی نے وہ ڈرافٹ اپنے دفتر کے کارکن صلاح الدین کی طرف سے تیار کروایا تھا۔ ایک دفعہ آغا جی نے بھوک ہڑتال کر دی۔ میں ہر روز ان کی خیریت معلوم کرنے جاتا تھا اور رات کو ان کے بارے میں اخبار کو خبر بھیجا کرتا تھا۔ ایک دن گیا تو آغا جی سامنے رجسٹر رکھ کر باتیں بنا اور سنا رہے تھے۔

’’میں بھٹو کے بارے میں ناول لکھ رہا ہوں تم دیکھنا اس کی کیسی تصویر بناتا ہوں‘‘ ’’آج مجھے بھوک ہڑتال کئے انیس روز ہو گئے ہیں اور وہ…ڈاک ایڈیشن میں خبر چھاپ دیتا ہے اور لوکل ایڈیشن سے اتار دیتا ہے کیونکہ گورنر نے لوکل ایڈیشن دیکھنا ہوتا ہے۔‘‘ ایک روز میں اور مجیب الرحمن شامی اکٹھے گئے‘آغا جی نے باتیں شروع کر دیں‘ لوگوں کی بے حسی کی اخبار والوں اور سیاست دانوں کے رویہ کی۔ میں نے کہا ’’آغا جی آپ کیوں اپنے آپ کو ہلاک کرنے جا رہے ہیں جب کسی پر کوئی اثر ہی نہیں ہو رہا پھر اسلام میں بھوک ہڑتال کی اجازت بھی تو نہیں یہ تو گاندھی کا طریقہ تھا‘‘ آغا جی طیش میں آ گئے’’کون کہتا ہے بھوک ہڑتال اسلام میں جائز نہیں ہے یہ سب…مولویوں کا پراپیگنڈہ ہے‘‘ اس خالی جگہ پر ایک نادر ترکیب تھی۔ ایک دفعہ میں نے آغا جی کو نزول شعر کی حالت میں بھی دیکھا ’’آغا جی کاپیاں تیار ہیں‘‘ کاپی انچارج نے خبر دی’’آپ کی نظم ابھی نہیں آئی‘‘ آغا جی نے کاغذ پکڑا ایک شعر لکھ کر میری طرف بڑھا دیا’’کیسا ہے؟‘‘دوسرا شعر لکھا اور پڑھ کر سنایا دس پندرہ منٹوں میں سولہ شعروں کی نظم لکھ کر سنائی اور کاتب کو بھجوا دی؛ آغا شورش کاشمیری اس شعری صحافت کی آخری کڑی تھے جو مولانا ظفر علی خان کے نام کے ساتھ گونجتی رہی تھی؛ مولانا کے بعد پھر کوئی ظفر علی خان پیدا نہیں ہوا ۔آغا شورش کے بعد کوئی ان سا بھی نہیں آئے گا۔ جالب کا بات کرنے کا اپنا خاص انداز تھا ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے سر اور تال کا ساتھ دینے کی کوشش کر رہے ہوں’’شورش نے میری عزت بچا لی؛‘‘ انہوں نے ’’لی‘‘ کو کھینچتے ہوئے بتایا ’’ابھی اس شہر میں رہا جا سکتا ہے’’ پھر انہوں نے کہانی بیان کی’’پولیس والے نے لکشمی چوک میں جالب کی بے عزتی کی‘ کسی نے اسے نہیں روکا‘شورش میرا نظریاتی مخالف ہے‘ تم جانتے ہو‘ میں اس کے خلاف ہوں‘ اسے معلوم ہوا تو اسی طرح آ گیا جیسے بیٹھا تھا‘ اس نے تانگے والے کے چھانٹے سے پولیس والے کی پٹائی کی ۔

کہنے لگا ’’تمہیں معلوم ہے یہ کون ہے؟اس کا نام جالب ہے۔’’پھر وہ تھانے میں جا کر بیٹھ گیا دھرنا دے کر کہنے لگا’’جس شہر میں پولیس والا جالب کی بے عزتی کرے وہ رہنے کے قابل نہیں رہا اس لئے مجھے جیل بھیج دو‘‘پولیس والے منتیں کرتے رہے مگر شورش نہیں اٹھا۔ وہاں سے‘علامہ احسان الٰہی ظہیر کو معلوم ہوا کہ شورش تھانے میں دھرنا مارے بیٹھا ہے وہ بھی آ کر پاس بیٹھ گیا مظفر علی شمسی کو معلوم ہوا تو وہ بھی آ گیا‘ ایس پی منتیں کر رہا ہے‘ گورنر کا ٹیلیفون آ رہا ہے مگر شورش صاحب اٹھ نہیں رہے کہ ’’جس شہر میں جالب کی بے عزتی ہو میں وہاں نہیں رہوں گا‘‘ بات بھٹو تک پہنچی تو بھٹو نے ٹیلیفون کیا‘ تب اٹھا تھا شورش تھانے سے ‘ ابھی اس شہر میں کچھ لوگ باقی ہیں ابھی اس شہر میں رہا جا سکتا ہے۔‘‘جالب کی لکشمی چوک میں پولیس والے سے کسی بات پر لڑائی ہو گئی تھی۔ حبیب جالب کی آپ بیتی’’جالب نامہ‘‘ میں بہت سے اصلی اور نقلی واقعات شامل ہیں لیکن یہ واقعہ اس میں شامل نہیں۔ ایسے بہت سے واقعات اس کتاب میں شامل نہیں جو ذوالفقار علی بھٹو کی ذات‘ سیاست اور حکمرانی سے تعلق رکھتے ہیں کیونکہ آخری عمر میں جالب سچ بول کر پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت کو ناراض کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا تھا۔ ’’یہ فتح محمد ملک صاحب ہیں بہت بڑے نقاد اور محقق‘‘ سنگ میل والے چودھری نیاز نے اپنے مہمان سے تعارف کرایا۔ ’’جی میں ملک صاحب کو حنیف رامے کے دور سے جانتا ہوں‘‘ ملک صاحب نے بتایا’’میرے استاد برق صاحب کی ایک کتاب آغا شورش کاشمیری نے شائع کرنے کو لی مگر کئی سال شائع نہ کی۔ برق صاحب نے مجھے بھیجا کہ کتاب کا مسودہ لے آئو آغا جی نے کتابت شدہ کتاب واپس کر دی مگر کتابت کے پیسے نہیں لئے۔ میں نے بہت کوشش کی وہ نہ مانے ‘دوران گفتگو انہوں نے میرا حدود اربع پوچھا ۔میں نے اپنے گائوں کا نام بتایا تو کہنے لگے۔

’’وہاں ایک ہمارے پیر بھائی احراری ہوتے ہیں فلاں نام ہے ان کا کیا حال ہے؟‘‘میں نے بتایا کہ وہ خیریت سے ہیں اور میرے والد ہیں۔ آغا جی بہت خوش ہوئے۔ اس وقت سے ان سے ایک تعلق تھا۔ جب اخبار نویسوں کے لئے پرمٹوں کا بزنس شروع ہوا تو مجھے معلوم ہوا کہ آغا جی بازار سے پرمٹ خریدتے پھر رہے ہیں ۔میں نے رامے صاحب سے بات کی انہوں نے کہا آغا جی کے پاس جائو اور درخواست لکھوا لائو۔ میں ان کے نام پر پرمٹ جاری کر دیتا ہوں۔ میں آغا جی کے پاس گیا اور عرض کیا آپ درخواست لکھ دیں برائے اجرائے پرمٹ انہوں نے انکار کر دیا۔ واپس آ کر میں نے رامے صاحب کو بتایا تو انہوں نے کہا تم خود آغا صاحب کے لئے پرمٹ کی درخواست لکھ دو۔ میں نے درخواست لکھی‘ رامے صاحب نے پرمٹ جاری کر دیا۔ میں پرمٹ لے کر آغا جی کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے چائے پلائی اور پرمٹ رکھ لیامجھے خوشی ہوئی اگلی صبح میں دفتر میں بیٹھا تھا کہ آغا جی کا آدمی آ گیا گاڑی کے پرمٹ کے ساتھ ایک چٹ تھی آغا جی نے لکھا تھا۔’’آپ سے تعلق کی وجہ سے میں کل خاموش رہا اور پرمٹ رکھ لیا تھا واپس بھیج رہا ہوں‘اس حکومت سے کوئی رعایت لینامیرا ضمیر نہیں مانتا‘‘

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */