ہجرت مدینہ ، سید ناصدیق اکبر ؓ کاعظیم الشان کردار - پروفیسر جمیل چودھری

اس سے پہلے میں نے3۔مضامین سیرت سیدناعمرفاروقؓ سے متعلق لکھے۔یہ مضامین بہت پسند کئے گئے۔بہت سے دوستوں نے اس کامطالعہ کیا۔انکی Sharingبھی کافی ہوئی۔اب میں سیدناصدیق اکبرؓ سے متعلق کچھ تحریریں پیش کرنے جارہاہوں۔ایسے ہی تیسرے خلیفہ صادق سیدنا عثمان غنیؓ کاذکر ہوگااور آخرمیں سید نا علی ابن طالب پرگفتگو کریں گے۔میری کوشش ہوگی کہ خلفائے راشدین کی شخصیت اور ان کے دور خلافت کے مثبت پہلوؤں پربات ہو۔اﷲ تعالیٰ ان سے راضی ہونے کا پہلے ہی اعلان کرچکا ہے۔سیدناصدیق اکبرؓ کے حالات وواقعات میں ہجرت مدینہ کاواقعہ سب سے اہم ہے۔

انکے خاندان کاکردار بھی بہت اہم ہے۔ہم پہلے مضمون میں اسی واقعہ سے شروع کررہے ہیں۔صحیح بخاری میں حضرت عائشہؓ کی روایت کے مطابق سفرہجرت کی تفصیلات اس طرح ہیں:حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:"دوپہر کے وقت ہم حضرت ابوبکرؓ کے گھربیٹھے ہوئے تھے،کسی نے حضرت ابوبکرؓ کوخبر دی کہ نبی اکرمﷺ چہرہ مبارک کوڈھانپے ہوئے تشریف لارہے ہیں،حالانکہ اس وقت آپﷺ کی آمد آپ کے معمول کے خلاف تھی۔حضرت ابوبکرعرض کرنے لگے کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں،اﷲ کی قسم!اس وقت آپ ضرور کسی اہم کام ہی سے تشریف لارہے ہیں۔آپﷺ تشریف لائے،اجازت طلب کی اورگھر میں داخل ہونے کے بعد فرمایا:"آپ کے پاس جولوگ موجود ہیں انہیں باہربھیج دیں۔"حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا:"اے اﷲ کے رسول!یہ تو آپ کے اپنے ہی ہیں"آپ ﷺ نے فرمایا:"مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔"حضرت ابوبکرؓ نے پوچھا:"اﷲ کے رسول!کیا آپ مجھے شرف صحبت مرحمت فرمائیں گے؟"آپ نے اثبات میں جواب دیا۔حضرت ابوبکرؓ نے کہا:"آپ ان دونوں اونٹنیوں میں سے کسی ایک کاانتخاب فرمالیجئے۔"نبی اکرمﷺ نے فرمایا:"میں قیمتاً لیناہی پسند کروں گا۔

"حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ پھر ہم نے جلدی جلدی تیاری کی۔ایک تھیلی میں آپ دونوں کے لئے کھاناتیار کردیا۔تھیلی کو باندھنے کے لئے حضرت اسماء ؓ نے اپنا کمربند چاک کیا،اسی مناسبت سے ان کانام"ذات النطاقین" پڑگیا۔اس کے بعد رسول اکرمﷺ اورحضرت ابوبکرؓ نے غارثور میں تین راتیں چھپ کرگزاریں۔آپ دونوں کے پاس حضرت عبداﷲ بن ابوبکر رات بسرکرتے تھے۔وہ ایک ذہین ،معاملہ فہم اورکڑیل نوجوان تھے۔سحری کے وقت وہ غارثور سے واپس چلے آتے اورقریش مکہ کے مابین صبح یوں موجود ہوتے جیسے رات انھی میں گزاری ہے۔جو بھی نبی اکرمﷺ کے خلاف سازش کاجال بنتا،عبداﷲ اس کی خبر رات کے اندھیرے میں نبی اکرمﷺ کوپہنچا دیتے۔رسول اﷲﷺ کو دودھ فراہم کرنے کے لئے حضرت ابوبکرؓ کاغلام عامربن فہیرہؓ بکریوں کاریوڑ لے کررات کے اندھیرے میں غار کی طرف جانکلتا۔آپ دونوں،بکریوں کے دودھ پر ہی گزراوقات کرتے۔عامر بن فہیرہ رات کی تاریکی ہی میں بکریاں واپس مکہ لے جاتاتھا۔

غارمیں بسرکی جانے والی تینوں راتوں میں اس کایہی معمول رہا۔رسول اکرمﷺ اورحضرت ابوبکرؓ نے بنودیل قبیلے کے ایک ماہر آدمی سے راستے کی راہنمائی کے لئے اجرت پر معاملہ طے کیا اورتین راتوں کے بعد غارثور پر پہنچنے کاوعدہ لیا۔وہ مقررہ وقت پر آ پہنچا۔اس نے نبی اکرمﷺ ،حضرت ابوبکر اورعامربن فہیرہ کو ساتھ لے کر رخت سفرباندھا،سفر کے لئے اس نے ساحلی رستہ منتخب کیا۔رسول اکرمﷺ کے مکہ سے چلے جانے کا علم حضرت علی بن ابی طالب،حضرت ابوبکرؓ اوران کے اہل خانہ کے سواکسی کو نہ تھا۔دونوں حضرات سید ناابوبکرصدیقؓ کے گھر کے پچھلے دروازے سے نکلے تاکہ قریش آگاہی پاکرآپ کے سفر ہجرت میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔نبی اکرمﷺ نے مکہ سے رخصت ہوتے وقت دعافرمائی۔پھرچلتے چلتے آپ نے مکہ مکرمہ کے بازار میں اپنی اونٹنی تھوڑی دیر کے لئے روک لی اورفرمایا۔"اے سرزمین مکہ! اس کی قسم! توروئے زمین سے بہتر اور اﷲ تعالیٰ کو انتہائی محبوب سرزمین ہے،اگرمجھے تیرے ہاں سے نکلنے پرمجبورنہ کیاجاتا تومیں کبھی نہ نکلتا۔"جب نبی اکرمﷺ اورحضرت ابوبکرؓ مکہ سے روانہ ہوئے توکفار آپ کاپیچھا کرتے ہوئے غارثور تک جاپہنچے۔

غارکے دہانے پرجب انہوں نے مکڑی کاجالا دیکھا تو کہنے لگے کہ اگروہ اس میں داخل ہوئے ہوتے تو یہاں مکڑی کاجالا نہ ہوتا۔درحقیقت یہ مکڑی اﷲ تعالیٰ کے لشکروں میں سے تھی جن کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایاہے۔"تیرے رب کے لشکروں کو صرف وہی جانتا ہے۔"تمام تر اسباب ووسائل اختیار کرنے کے باوجود رسول اکرمﷺ کاکامل اعتماد صرف اﷲ تعالیٰ ہی نصرت وتائید پرتھا،اس لئے آپ کی زبان مبارک پریہ الفاظ جاری رہے۔"اورکہیے!اے میرے رب!داخل کر مجھے سچا داخل کرنا اور نکال مجھے سچا نکالنا اورمجھے خاص اپنے پاس سے مددگار قوت عطافرما۔"اس آیت میں اﷲ رب العزت نے اپنے نبی مکرمﷺ کودعاسکھلائی ہے تاکہ آپ کی امت بھی اﷲ رب العزت کے سامنے دست سوال دراز کرناسیکھے۔اس عظیم دعا کالب لباب یہ ہے کہ آپ کاتمام سفر صدق وخلوص اورخیروبرکت کا مظہر رہے۔صدق وصفا کو اس مقام پر خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ مشرکین نے آپ پر عرصہ حیات تنگ کرکے اﷲ تعالیٰ کی جانب جھوٹ منسوب کرنے پر آمادہ کرنے کی سعی لاحاصل کی تھی۔راست بازی کی بے شمار برکات ہیں۔

اس سے ثبات واستقرار ،امن واطمینان اورخلوص حاصل ہوتا ہے اورآیت:"اورمجھے خاص اپنے پاس سے مددگارقوت عطافرما۔"میں اس بات کی دعاکی گئی ہے کہ اسے اﷲ!مجھے ایسی قوت اورطاقت عطافرما جس کے ذریعے سے میں زمین کے طاغوتوں اورمشرکین پرغالب آسکوں۔اور مِن لّدُنکَ کے الفاظ میں براہ راست اﷲ تعالیٰ کے قرب اوراس کی نصرت وحمایت کے حصول کی تمنا کااظہار ہے۔دعوتی تحریک کے حاملین نصرت وغلبہ کے حصول کے لئے صرف اﷲ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں اورانہیں صرف اﷲ رب العزت ہی کی قوت پر انحصار کرناہوتا ہے۔کسی دینوی حاکم یا جاہ وحشمت کے مالک کسی شخص سے نصرت وحمایت طلب کرنا ان کے شایان شان نہیں ہوتا۔دنیا کے سلاطین اورحکمران بھی دعوت کے حامی اوراس کے لشکر میں شمولیت اخیتار کرکے فلاح وکامرانی سے ہمکنار ہوسکتے ہیں۔البتہ یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ دعوت کی کامیابی حکمرانوں کی نصرت وتائید کی مرہون منت نہیں ہوتی بلکہ اس کی کامیابی کادرومدار اﷲتعالیٰ کے فضل وکرم پرہے۔وہ خالق کائنات دنیاکی تمام بڑی طاقتوں سے کہیں بڑی طاقت ہے۔

اﷲکی مدد

جب مشرکین نے غار کااحاطہ کرلیاتو رسول اکرمﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کواﷲتعالیٰ کی معیت کااحساس دلاکردلاسا دیا۔حضرت ابوبکرؓ کوخدشہ لاحق ہواکہ اگر ان میں سے کسی نے اپنے پاؤں کی جانب نگاہ دوڑائی تووہ ہمیں دیکھ لے گا۔رسول اکرمﷺ نے فرمایا:"اے ابوبکرؓ!ایسے دو آدمیوں کے بارے میں تمہارا کیاخیال ہے جن کاتیسرا ساتھی اﷲتعالیٰ ہو؟۔"اسی سلسلے میں اﷲتعالیٰ کاارشاد ہے:"اگرتم اس نبی کی مدد نہیں کروگے توتحقیق اﷲ نے اسکی اس وقت مدد کی تھی جب کافروں نے اس کو مکہ سے نکال دیاتھا،وہ دومیں دوسراتھا،جبکہ وہ دونوں غارثور میں تھے،جب وہ نبی اپنے ساتھی ابوبکر سے کہہ رہاتھا غم نہ کرو یقینا اﷲہمارے ساتھ ہے،پھر اﷲنے اس پر اپنی سکینت نازل کی اورایسے لشکروں سے اس کی مدد کی جنہیں تم نے نہیں دیکھا اوراس نے کافروں کی بات کوپست کردیا اوربات تو اﷲ ہی کی بلند ہے۔اوراﷲ بہت زبردست ہے،خوب حکمت والاہے۔"غارثور میں تین راتیں قیام کرنے کے بعد نبی اکرمﷺ اورحضرت ابوبکرصدیقؓ سفر کاآغاز کرنے کے لئے غار سے نکلے۔مشرکین آپ کے بارے میں کچھ معلوم کرنے سے مایوس ہوچکے تھے اور ان کی سرگرمیاں ٹھنڈی پڑ چکی تھیں۔

عبداﷲ بن اریقط نامی جس مشرک آدمی کواجرت پرسفر کاراہبر مقرر کیاگیا تھاوہ تین راتوں کے بعد مقررہ وقت پراونٹنیاں لے کرغارثور پہنچ گیا۔آپﷺ کی نقل وحرکت کومخفی رکھنے کے لئے اس نے ایسے راستے کاانتخاب کیاجوکسی کے تصور میں بھی نہ آسکتاتھا۔قریش مکہ نے مکہ مکرمہ کے اطراف واکناف میں یہ اعلان کردیاکہ جوشخص محمدﷺ کوزندہ یامردہ حالت میں لے آئے اسے سواونٹ انعام ملے گا۔قبائل عرب میں جب یہ بات عام ہوگئی تو سراقہ بن مالک کے دل میں اس انعام کے حصول کالالچ پیداہوا۔سراقہ نے اس کے حصول کے لئے سعی لاحاصل کی لیکن یہ کرشمہ قدرت تھا کہ جوشخص آپ کادشمن بن کرآپ کی گرفتاری یاقتل کے درپے تھا،اسے اﷲ تعالیٰ نے شمع رسالت کافدائی بناکراسک کی کایاہی پلٹ دی۔

مدینہ کے مسلمانوں کوجب نبی اکرمﷺ کے مکہ سے روانہ ہونے کی خبر ملی تو وہ روزانہ آپ کے استقبال کے لئے مدینہ سے باہر چلے آتے اورجب دوپہر کے وقت گرمی شدت اختیار کرلیتی تو واپس گھروں کی راہ لیتے۔ایک دن طویل انتظار کے بعد جب وہ لوٹے تو ایک یہودی اپنے کسی کام کی غرض سے ایک بڑے ٹیلے پرچڑھا۔اس نے دور سے نبی اکرمﷺ اور آپ کے ساتھیوں کوسفید لباس میں آتے ہوئے دیکھا تو بلند آواز سے پکارنے لگا:"اے قوم عرب!تمہیں اپنے جس سردار کاانتظار تھاوہ آرہا ہے۔"مسلمانوں نے آپﷺ کے دفاع کے لئے اسلحہ تھاما اوراستقبال کے لئے لپکے۔وہ مدینہ کے باہر ہی آپﷺ سے آملے۔انہیں ساتھ لے کرآپﷺ نے مدینہ کی دائیں جانب رخ کیاعمروبن عوف کے محلہ میں پڑاؤ کیا۔یہ ماہ ربیع الاول ،پیر کے دن کاواقعہ ہے۔حضرت ابوبکرؓ لوگوں سے ملاقات کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے جبکہ رسول اکرمﷺ خاموشی سے بیٹھ گئے۔انصار میں سے جس نے نبی اکرمﷺ کی پہلے زیارت نہیں کی تھی،حضرت ابوبکرؓ کے کھڑے ہونے کی وجہ سے انہی کے لئے عقیدتیں نچھاور کرتارہا حتیٰ کہ جب نبی کریم ﷺ پر سورج کی روشنی پڑی اور حضرت ابوبکرؓ نے اپنی چادر سے آپﷺ پرسایہ کردیا،تب ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپﷺ اﷲ کے رسول ہیں۔

رسول اکرمﷺ کی مدینہ آمد پر مسلمانوں کو انتہائی مسرت نصیب ہوئی۔انہوں نے اس مبارک دن کے موقع پر اپنے بہترین لباس زیب تن کئے،گویا یوم عید ہو۔درحقیقت یوم سعید ،یوم عید سے بڑھ کرتھا کیونکہ اس مبارک دن میں اسلام مکہ مکرمہ کی تنگ گھاٹی سے مدینہ منورہ جیسے وسیع دعوتی میدان میں اس طرح داخل ہوا کہ رفتہ رفتہ اطراف عالم اس کی خوشبو سے معطر ہوگئے۔اہل مدینہ رسول معظم کی آمد پر ایسے عظیم شرف وفضل سے ہمکنار ہوئے جوروئے زمین پر کسی اور کے حصے میں نہ آیا۔انہیں منبع نوروہدایت،مہاجر صحابہ کرام کے استقبال اورنصرت اسلام کی سعادت حاصل ہوئی۔اسی خوبی کی بنا پر مدینہ طیبہ اسلامی نظام کامرکز قرار پایا۔اہل مدینہ نے جس گرمجوشی سے آپ کااستقبال کیا،تاریخ عالم اس کی مثال پیش کرنے سے عاجز ہے۔نبی اکرمﷺ نے حضرت ابوایوب انصاریؓ کے گھرپڑاؤ کیا،جبکہ حضرت ابوبکرؓ حضرت خارجہ بن زید انصاریؓ کے ہاں ٹھہرے۔بعدازاں انتھک محنتوں،آزمائشوں اورچیلنجوں کے مرحلے کاآغاز ہوا۔

مملکت اسلامیہ کے شاندار اورروشن مستقبل کے لئے رسول اﷲﷺ نے ان صبر آزما مراحل کوانتہائی جانفشانی مگر خوش اسلوبی کے ساتھ طے کرلیا۔اسلامی تحریک نے تقوی،ایمان اورعدل واحسان پر مبنی ایک ایسی تہذیب کی بنیاد رکھی جس نے اس وقت کی عالمی طاقتوں روم اور فارس کو مسخر کرلیا۔اسلامی دعوت کے آغاز سے لے کر رسول اکرم ﷺ کی رحلت تک سید نا ابوبکر صدیقؓ آپ کے ہمنوارہے اورمنبع نبوت اورشمع رسالت سے حکمت وایمان ،اعتماد ویقین اورتقوی واخلاص کے لحاظ سے خوب سیراب ہوئے۔نبی اکرمﷺ کی صحبت نے آپ میں سچائی دراست بازی،محبت وعقیدت،عزم وثبات اوربلند ہمتی ومعاملہ فہمی جیسی صفات پیداکیں۔رسول اکرمﷺ کی وفات کے بعد آپ نے سقیفہ بنی ساعدہ کے معاملے میں،لشکراسامہ کوروانہ کرنے کے موقع پراورمرتدین کے خلاف محاذ آرائی کے سلسلے میں بڑے صبرواستقلال کامظاہرہ کیا۔ان تمام حساس معاملات میں آپ نے تعمیروترقی،اصلاح ودرستگی اور اتفاق ویگانگت کے جذبے کوفروغ دیا۔

واقعہ ہجرت پرغوروفکر سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ابتداء سے کس قدر دقیق منصوبہ بندی اورمحتاط تدابیر اختیار فرمائیں۔کسی بھی کام کاآغازکرنے سے پہلے مناسب حکمت عملی وضع کرنا نبی اکرمﷺ کی سنت بلکہ آپ کا حکم ہے۔بلاسوچے سمجھے کسی معاملے میں کود پڑنا عاقبت نااندیشی ہے۔ایسی صورت میں انسان یقینا خطرات سے کھیلتا ہے۔چنانچہ ہجرت کے اس عظیم عمل کو کامیابی سے ہمکنا رکرنے کے لئے آپﷺ نے منظم منصوبہ بندی کی۔اگرچہ آپ کو اس معاملے میں مشکلات سے بھی دوچار ہوناپڑا۔درحقیقت کسی عظیم مقصد کے حصول میں مشکلات ضرور حائل ہوتی ہیں۔آپ ﷺ نے ہجرت کے تمام مراحل کابنظر غائر جائزہ لے کر اپنے منصوبے کاآغاز کیاتھا۔آپ کی حکمت عملی سے متعلق چند احتیاطی تدابیر مندرجہ ذیل ہیں۔

نبی اکرمﷺ کے ساتھ ہجرت مدینہ

٭دوپہر کے وقت شدید گرمی کے عالم میں حضرت ابوبکرصدیقؓ کے گھر آپﷺ کی آمد،جبکہ اس وقت تشریف آوری آپ کامعمول نہیں تھا۔اورایسے وقت میں لوگوں کی آمدورفت بھی نہیں ہوتی تھی،یہ طرزعمل آپ نے اپنے مشن کوخفیہ رکھنے کے لئے اختیار فرمایاتھا۔

٭حضرت ابوبکرؓ کے گھر آتے ہوئے اپنی شخصیت کومخفی رکھنے کے لئے آپ کااپنے سراورچہرے کوڈھانپ لینابھی احتیاطی تدبیرتھی کیونکہ ایسی حالت میں انسان کی شناخت کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔

٭آپﷺ ن سید ناابوبکرؓ سے گفتگو کرنے سے پہلے انہیں اپنے اہل وعیال کوباہربھیجنے کاحکم دیا،علاوہ ازیں آپ نے اپنے تفصیلی منصوبے اورراہ سفرکاتعین کرنے کے بجائے مختصر گفتگو فرمائی۔یہ امور بھی آپ کی احتیاطی تدابیر میں سے ہیں۔

٭رات کے اندھیرے میں حضرت ابوبکرصدیقؓ کے گھر کے پچھلے دروازے سے نکلنا۔اپنے سفرکوپوشیدہ رکھنے کے لئے آپ کی یہ تدبیر بھی نہایت موثر تھی۔

٭سفرہجرت کے لئے غیر معروف راستہ اختیار کرکے اور جنگل کے راستوں اورصحراؤں کی بھول بھلیوں سے شناسائی رکھنے والے ماہرراہبر کی مدد لے کر آپ نے انتہائی احتیاط کامظاہرہ کیا۔یہ راہبر اگرچہ مشرک تھا لیکن نہایت بااعتماد اورعمدہ اخلاق کامالک تھا۔آپﷺ کایہ عمل اس بات کی دلیل ہے کہ پ کوجہاں سے بھی مطلوبہ مہارت اورعمدہ کارکردگی مل جاتی تھی آپ اس مہارت سے فائدہ اٹھانے کومعیوب نہیں سمجھتے تھے۔عبدالکریم زید انؓ غیر مسلم سے استعانت کے معاملے پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں۔"شریعت کا قاعدہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی مصلحت کے عمومی امورومسائل میں غیر مسلم سے مدد نہ لی جائے لیکن اس قاعدے سے یہ چیز مستثنیٰ ہے کہ چند معینہ شروط کے ساتھ غیر مسلم سے مدد لینے کا جواز ہے۔"وہ شروط مندرجہ ذیل ہیں۔

٭اس استعانت کے نتیجے میں حاصل ہونے والی مصلحت یقینی ہویا اس کے حصول کی امید واثق ہو۔

٭اس سے اسلامی دعوت پرمضر اثرات مرتب نہ ہوتے ہوں۔

٭جس سے مدد لی جارہی ہواس کاقابل اعتماد ہونا یقینی ہو۔

٭یہ استعانت مسلمان افراد کے دلوں میں شکوک وشبہات کوجنم نہ دے۔

٭اس استعانت کے جواز کے لئے ایسی حقیقی ضرورت وحاجت کاہونا بھی ضروری ہے جواس اسلامی قاعدہ وقانون میں استثناپیداکرکے اس استعانت کاجواز فراہم کرے۔اگر مذکورہ بالاتمام شروط نہ پائی جائیں توغیرمسلم سے مدد لیناجائز نہیں۔ہجرت کے موقع پرسیدناابوبکرؓ کے خانوادے کاکردار۔حضرت ابوبکرصدیقؓ نے اپنی اولاد کواسلام کی دعوت دی تھی اوروہ اس عظیم اور مہتم بالشان کام میں اﷲ تعالیٰ کے فضل وکرم سے کامیابی سے ہمکنار ہوئے تھے۔آپ نے خدمت اسلام اورہجرت رسولﷺ کوکامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے اپنے خاندان کومختلف ذمہ داریاں سونپنے کااہتمام کیا،چنانچہ آپ نے ہجرت مبارکہ کوعملی شکل دینے کے لئے اپنی اولاد کے درمیان مختلف اہم اور عظیم الشان ذمہ داریاں تقسیم کیں۔ہجرت کے بابرکت سفرمیں آپ کی اولاد کی کارکردگی مندرجہ ذیل ہے:

عبداﷲ بن ابوبکرؓ کاکردار۔

عبداﷲؓ نے دشمن کی پوشیدہ سرگرمیوں کی جاسوسی کے لئے ایک سچے فرض شناس مخبر کافریضہ سرانجام دیا۔بلاشبہ عبداﷲؓ کی تربیت دین سے گہرے لگاؤ ،روشن بصیرت،کامل ذہانت اوربیدار مغزی سے دین اسلام کی نصرت کی ترغیب وتاکید کے زیراثر کی گئی تھی۔یہ امراس بات کی دلیل ہے کہ حضرت ابوبکرصدیقؓ نے اپنے بیٹے عبداﷲ کی تربیت کااتنا موثر اہتمام کیاتھا کہ اس میں انہوں نے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔حضرت عبداﷲؓ کوان کے والد محترم نے ہجرت کے موقع پرجوذمہ داری سونپی اوران کے لئے جوکردار معین کیا اسے انہوں نے بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیا۔آپ کفارمکہ کی مجالس میں گھوم پھر کران کے سارے دن کی سازشیں سنتے رہتے تھے اور رات کوغارمیں نبی اکرمﷺ اوراپنے والد ابوبکرؓ کے سامنے پوری رپورٹ پیش کردیتے تھے۔آپ نے یہ ذمہ داری اس قدر عمدہ مہارت اورخفیہ انداز سے سرانجام دی کہ اہل مکہ میں کسی کو بھی آپ پرکوئی شک نہیں گزرا۔آپ غارثور کے دہانے پرپہرے دار کی حیثیت سے رات بسر کرتے اور جب صبح ہونے کے قریب ہوتی تو اس قدر خفیہ انداز سے واپس مکہ پہنچ جاتے تھے کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی۔

حضرت عائشہ اوراسماءؓ کاکردار

ہجرت نبوی کے موقع پر حضرت عائشہ اوراسماءؓ کاعظیم کردارسامنے آتا ہے اور یہ عظیم کردار صحیح اورعمدہ تربیت کے فوائد واضح کرتا ہے۔انہوں نے ہجرت کی رات نبی اکرمﷺ اوراپنے والد کے لئے کھاناتیار کیا۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ہم نے رسول اﷲﷺ اوراپنے والد محترم کورخصت کرنے کے لئے جلدی جلدی تیارکیا اورتوشہ دان میں ان کے لئے کھانارکھ دیا۔حضرت اسماءؓ نے اپنے کمر بندکوکاٹ کر اس سے توشہ دان کادہانہ باندھا۔اسی وجہ سے انہیں"ذات النطاقین"کہاجانے لگا۔

مسلمانوں کے رازخفیہ رکھنے میں اسماءؓ کاکردار

ہجرت کے موقع پرحضرت اسماء ؓ نے دین شناس،معاملہ فہم،اسلامی تحریک کے رازوں کی محافظ دختر اسلام ہونے کاثبوت دیا اور رازداری برقرار رکھنے کے نتیجے میں پیش آنے والی ایذاؤں کااستقامت سے مقابلہ کیا۔یوں انہوں نے ایک عظیم مسلمان خاتون کاکردار پیش کیا۔حضرت اسماءؓ اپنے بارے میں بیان فرماتی ہیں۔"جب رسول اﷲﷺ اورابوبکرؓ سفرہجرت کے لئے روانہ ہوگئے توقریش کاایک گروہ،جس میں ابوجہل پیش پیش تھا ،آیا۔وہ لوگو ہمارے گھر کے دروازے پرکھڑے ہوگئے ۔میں ان کے پاس پہنچی توابوجہل نے پوچھا:"اے بن ابوبکر!تیراباپ کہاں ہے؟"میں نے کہا:"اﷲ کی قسم مجھے نہیں معلوم کہ میراباپ کہاں ہے؟"اس بدبخت ،بدقماش اوربے حیا نے اپنا ہاتھ اٹھایا اورمیرے رخسار پر اس قدر زورسے تھپڑ ماراکہ میرے کان کی بالی گرگئی،پھر وہ لوگ وہاں سے واپس چلے گئے۔یہ ناقابل فراموش کردار حضرت اسماءؓ کی طرف سے مسلمان خواتین کے لئے ایک نہایت اہم سبق ہے جو انہیں نسل درنسل اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے راز کس طرح مخفی رکھیں اور طاقتور،ظالم اورسرکش دشمن کاسامنا کتنی ثابت قدمی ،متانت وروقارسے کریں۔

گھرمیں امن وسکون قائم کرنے کے لئے حضرت اسماءؓ کاکردار

جب حضرت ابوبکرؓ رسول اکرمﷺ کی معیت میں ہجرت کے لئے نکلے توآپ نے اپنی ساری رقم جوپانچ یاچھ ہزار درہم کے لگ بھگ تھی،ساتھ لے لی اور گھرمیں کوئی سرمایہ نہیں چھوڑا۔آپ کے والد گرامی ابوقحافہ آپ کی خبرگیری اوراپنی اولاد کے سلسلے میں حصول اطمینان کے لئے اپنے بیٹے کے گھر تشریف لائے۔ابوقحافہ،جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اورنابیناتھے،فرمانے لگے:"اﷲ کی قسم! میراخیال ہے کہ ابوبکر مال اپنے ساتھ لے گیاہے اور تمہیں مصیبت میں مبتلاکرگیاہے۔"حضرت اسماءؓ نے فرمایا:اباجان! ایساہرگز نہیں ہے۔چنانچہ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے وہ خود فرماتی ہیں:"ہمارے داداجان ابوقحافہ ہمارے ہاں تشریف لائے۔وہ نابینا تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ وہ ابوبکرؓ ہمارے لئے بہت سا مال چھوڑ گئے ہیں اورمیں نے کچھ پتھر لے کرگھر کے اس طاقچے میں رکھ دیے جس میں میرے والد محترم اپنامال رکھاکرتے تھے اوران پر کپڑا ڈال دیا،پھرمیں نے ان کاہاتھ تھام کرکہا:داداجان!اس مال پرہاتھ رکھیے۔"انہوں نے اس پرہاتھ رکھا اورکہنے لگے:کوئی بات نہیں،انہوںنے یہ بہت اچھا کیا ہے کہ وہ تمہاری گزراوقات کے لئے خوب مال چھوڑ گئے ہیں۔حضرت اسماء فرماتی ہیں:"اﷲ کی قسم!ابوبکرؓ ہمارے لئے کچھ بھی چھوڑکر نہیں گئے تھے۔میں نے یہ سب کچھ محض اپنے بوڑھے داداجان کواطمیان دلانے کے لئے کیاتھا۔

"حضرت اسماء ؓ نے حکمت ودانائی سے اپنے والد کی پردہ پوشی اوراپنے نابینا داداکی تسکین قلب کی۔بلاشبہ حضرت ابوبکرصدیقؓ اپنی اولاد کے لئے اﷲ تعالیٰ پرپختہ ایمان کی ایسی عظیم دولت چھوڑ گئے تھے جسے پہاڑ متزلزل کرسکتے تھے نہ آندھیاں ہلاسکتی تھیں،یعنی ایساایمان جومال کی قلت یاکثرت سے متاثرنہیں ہوتا۔انہوں نے اپنی اولاد کولامحدود یقین اوراعتماد کاورثہ دیا۔اور ان کے دلوں میں ایسی جرات وبے باکی کابیج بویا جو ہمیشہ نہایت عالی قدرامور سے وابستہ ہوتی ہے اور کبھی کسی گھٹیا معاملے کی طرف مائل نہیں ہوتی۔حضرت ابوبکرؓ نے اس طرزعمل سے ایک مسلم گھرانے کی ایسی مثال قائم کی ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔حضرت اسماءؓ نے اپنے اس عظیم کردار سے مسلمان خواتین کے لئے ایسی مثال پیش کی ہے جسکی پیروی کرنے کی آج اشدضرورت ہے۔حضرت اسماءؓ کسی تنگی اورمشقت کاشکوہ زبان پرلائے بغیر اپنی بہنوں کے ساتھ اسی طرح مکہ مکرمہ میں سکونت پذیر رہیں۔حتی کہ نبی اکرمﷺ ن زید بن حارثہ اوراپنے غلام ابورافعؓ کودواونٹ اورپانچ سودرہم دے کر مکہ مکرمہ بھیجا تاکہ وہ آپ کی بیٹیوں فاطمہ اورام کلثوم،بیوی سودہ بنت زمعہ،اسامہ بن زید اوران کی والدہ ام ایمن برکہ کو لیتے آئیں۔ان کے ساتھ عبداﷲ بن ابوبکرؓ بھی حضرت ابوبکرؓ کے خاندان کولے کر نکل کھڑے ہوئے اور انہی کے ہمراہ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔

سیدناعامربن فہیرہؓ کاکردار

عموماً لوگ غلاموں کوکوئی اہمیت نہیں دیتے بلکہ ان کے معاملات سے تغافل برتتے ہیں۔لیکن اﷲ سے تعلق رکھنے والے داعیان کرام ایسا نہیں کرتے۔وہ جسے بھی ملتے ہیں اسے شمع ہدایت سے فیض یاب کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں،چنانچہ حضرت ابوبکرؓ نے بھی اپنے غلام عامر بن فہیرہ ؓ کی ایسی عمدہ تعلیم وتربیت کی کہ وہ اسلام پرنثار ہونے کے لئے تیار ہوگئے۔حضرت ابوبکرؓ نے سفرہجرت کے دوران عامربن فہیرہؓ کی انتہائی اہم ذمہ داری لگائی تھی۔وہ مکہ مکرمہ کے دیگر چرواہوں کے ساتھ دن بھربکریاں چراتے اوراس دوران آپ کی نگاہیں کسی جانب مائل نہ ہوتیں۔جب شام ہوتی تو وہ حضرت ابوبکرؓ کی بکریاں لے کرنبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے اور وہ دونوں ان کادودھ دوہتے اورذبح کرتے،پھرعامرؓ حضرت عبداﷲ بن ابوبکرؓ کے کام کی تکمیل اس طرح کرتے کہ جب عبداﷲؓ رسول اﷲﷺ اورابوبکرؓ کے پاس سے رخصت ہوکرصبح سویرے مکہ مکرمہ کی طرف لوٹتے توعامر ؓ ان کے نقش پاکومٹانے کے لئے اسی راستے سے بکریاں لے کرواپس چلے جاتے۔

آپ کایہ عمل ہجرت نبوی کی کامیابی کے لئے دانش مندی کاعمدہ مظاہرتھا۔حضرت ابوبکرصدیقؓ کی سیرت مبارکہ سے یہ عظیم سبق ملتاہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ دنیا کے مشرق ومغرب سے اپنے پاس آنے والے خادموں کاخیال رکھیں،ان کے ساتھ انسانی سلوک روارکھیں اورانہیں اسلام کی تعلیم سے روشناس کرائیں۔اس طرح شاید اﷲ تعالیٰ انہیں بھی ان لوگوں کے گروہ میں شامل کردے جودین حق کے علمبردار ہیں۔ہجرت نبوی کے موقع پرسیدناابوبکرصدیقؓ کااپنے خاندان کونبی اکرمﷺ کی خدمت میں نہایت منظم انداز سے مامور کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے نہایت لطیف انداز سے معاملات ہجرت کی تدبیر کی۔بڑے پر حکمت اسلوب کے ساتھ ہجرت کے احوال میں مصلحت اندیشی کاثبوت دیا۔ہرذمہ داری کے لئے ایسے شخص کاانتخاب کیاجواس کے لئے سب سے موزوں تھا۔تمام رخنوں اورشگافوں کوآپ نے بند کردیا۔سفر ہجرت کی تمام ترضروریات کونہایت عمدگی سے پوراکیا اور اس میں بس اتنے ہی افراد کو ذمہ داری سونپی جتنے افراد کی ضرورت تھی۔

ضرورت سے زیادہ کسی شخص کوساتھ نہیں رکھا۔بلاشبہ رسول اﷲﷺ نے ہجرت کے لئے تمام حسب استطاعت معقول اسباب اوراذرائع بڑے بھرپور انداز سے اختیار کئے۔مزید برآں اﷲ کی رحمت اورمدد بھی آپ کے شامل حال رہی۔کوئی بھی کام ہواسے انجام دینے کے لئے مطلوبہ اسباب ووسائل اختیار کرنانہایت ضروری بلکہ واجب ہے۔لیکن اس سے ہمیشہ حسب منشاء نتائج کے حصول کی یقینی توقع رکھنا ٹھیک نہیں۔کیونکہ نتائج کاتعلق اﷲتعالیٰ کے حکم اورمشیت سے ہے۔اسی بنا پر اﷲتعالیٰ پرتوکل بھی لازم ٹھہرا ۔کیونکہ توکل ہی کے ذریعے سے اسباب اختیار کرنے کا فرض تکمیل کوپہنچتا ہے۔بلاشبہ نبی اکرمﷺ تمام اسباب ووسائل اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اﷲتعالیٰ سے مدد کی دعا بھی کرتے رہے تاکہ آپ کی محنت اور کوشش ثمر آورثابت ہو،چنانچہ اسی بنا پر اﷲتعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبولیت سے نوازا اورآپ کوعظیم الشان کامیابی عطافرمائی۔

سیدناابوبکرؓ کی عمدہ تیاری اورخوشی کے جذبات

سید ناابوبکرصدیقؓ کی ہجرت کی تیاری میں نبوی تربیت کااثر جھلکتا ہے۔چنانچہ ابوبکرؓ نے جب مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کاارادہ کیاتو رسول اﷲؓ نے آپ سے فرمایا:"جلدی نہ کرو،شاید اﷲ تعالیٰ تمہارے لئے کوئی ہمسفر بنادے۔"آپﷺ کے اس فرمان کے بعدسیدناابوبکرؓ نے ہجرت کی تیاری اوراس کے متعلق سوچ بچار کرناشروع کردیا۔آپ نے سفرہجرت کی تیاری کے لئے دوسواریاں خریدیں اورانہیں اپنے گھر ہی میں رکھ کرچارا ڈالتے رہے۔صحیح بخاری کی روایت میں ہے۔"ابوبکرؓ نے اپنے ہاں موجوددونوں سواریوں کوچارماہ تک ببول درخت کے پتوں کاچارا کھلایا۔"بلاشبہ آپ نے اپنی بصیرت کی بدولت اس بات کاادراک کرلیاتھا کہ ہجرت کامرحلہ انتہائی مشکل ہوگا اوراچانک پیش آئے گا،اسی لئے آپ نے ہجرت کے وسائل پہلے ہی مہیاکرلئے۔ضروری اخراجات جمع کرلئے اور اپنے خاندان کونبی اکرمﷺ کی خدمت پرمامور کردیا۔جب نبی اکرمﷺ نے آکراطلاع دی کہ اﷲتعالیٰ نے آپﷺ کو ہجرت کے لئے نکلنے کی اجازت مرحمت فرمادی ہے تو آپ خوشی کے مارے آبدیدہ ہوگئے۔

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں۔"اﷲ کی قسم!جب میں نے حضرت ابوبکرؓ کوہجرت کے دن روتے ہوئے دیکھا تو اس وقت مجھے پہلی مرتبہ اس بات کا ادراک ہوا کہ کوئی خوشی کی بدولت بھی روسکتاہے۔"بلاشبہ خوشی کی انتہا یہ ہے کہ خوشی آنسوؤں میں ڈھل جائے۔کسی شاعر نے اسی بارے میں کہا ہے۔"محبوب کی جانب سے خط آیا کہ وہ عنقریب مجھ سے ملاقات کرے گا تو میری آنکھیں بھیگ گئیں۔مجھ پر اس قدر خوشی غالب ہوئی کہ میری آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔اے آنکھ!آنسوبہانا توتیری عادت بن چکی ہے،خوشی ہویاغم تورونا شروع کردیتی ہے۔"سیدناابوبکرصدیقؓ جانتے تھے کہ اس صحبت کامفہوم یہ ہے کہ عنقریب وہ رسول مکرمﷺ کے چند دن کے لئے ضروررفیق سفربنیں گے اور عنقریب انہیں اپنے قائد اور محبوب نبیﷺ پراپنی جان نثار کرنے کا بھرپور موقع ملے گا۔اس کائنات میں اس سے بڑھ کر اورکون سی کامیابی ہوسکتی ہے کہ اس مدت میں تمام اہل زمین اورتمام صحابہ میں سے صرف اکیلے صدیقؓ سیدکائناتﷺ کے رفیق اورساتھی تھے۔

نبی اکرمﷺ کے ساتھ ہجرت مدینہ

اﷲ تعالیٰ کے لئے محبت کی حقیقت اس وقت ظاہر ہوئی جب غار میں حضرت ابوبکرؓ کویہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں مشرکین ہم دونوں کودیکھ نہ لیں۔آپ نے اس موقع پرایسی عمدہ مثال قائم کی ہے جس پر دعوتی میدان کے ہرسچے سپاہی کو ایسے موقع پر قائم ہونا چاہئے جس وقت اس کاقائد خطرات میں گھر چکاہو اوراس کی زندگی پر خوف کے سائے منڈلا رہے ہوں۔اس موقع پر حضرت ابوبکرؓ نے اپنی جان کی قطعاً پروا نہیںکی۔اگر آپ کو اپنی موت کاڈرہوتا تو آپ کبھی اس پرخطر ہجرت میں رسول ا ﷲﷺ کے رفیق سفرنہ بنتے،حالانکہ آپ کومعلوم تھا کہ اگرمشرکین نے انہیں رسول اﷲﷺ کی معیت میں گرفتار کرلیاتو ان کی کم سے کم سزاقتل ہے۔اس موقع پرسیدناابوبکرؓ کو صرف اس بات کاڈر تھاکہ کہیں اگررسول اﷲﷺ مشرکین کے ہاتھ لگ گئے تو آپ کی زندگی کاکیابنے گا اوراسلام کامستقبل کیاہوگا۔نبی کریمﷺ کی معیت میں دوران ہجرت سیدناابوبکرصدیقؓ کی رسول اﷲﷺ کے بارے میں اطمینان طلب اعلیٰ(چھٹی) حس کئی مواقع پرسامنے آتی ہے۔

ان مواقع میں سے ایک موقع وہ ہے جب آپ سے ایک پوچھنے والے نے پوچھا:"یہ آپ کے آگے آگے چلنے والا آدمی کون ہے؟"تو آپ نے جواب دیا:"یہ میرے رہبرہیں جومجھے راستے کی رہنمائی کرتے ہیں۔"سائل نے اس جواب سے یہ سمجھا کہ ان کی مراد عام رستہ ہے جبکہ صدیق اکبرؓ کامقصد اورمراد نیکی اور بھلائی کاراستہ تھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ جھوٹ اورحرج سے بچاؤ کے لئے ذومعنی کااستعمال بخوبی جانتے تھے۔آپ کاسائل کو یہ جواب دینا درحقیقت ذومعنی تھا،نیز اس جواب کے ذریعے آپ نے رسول اﷲﷺ سے حاصل کردہ امن پسندانہ تربیت کاعملی مظاہرہ کیا۔چونکہ ہجرت کامعاملہ بڑامخفی اورانتہائی رازدارانہ تھا،اسی لئے آپ ن ذومعنی لفظ استعمال کیااور رسول اﷲﷺ نے بھی آپ کے اس جواب کوتسلیم کیا۔

ہجرت کے ابتدائی ایام اورابوبکرؓ کی علالت

بلدامین مکہ مکرمہ سے نبی کریمﷺ اورآپ کے صحابہ کرامؓ کی ہجرت ایک عظیم قربانی تھی،جس کی تعبیر نبی کریمﷺ نے اپنے الفاظ میں یوں فرمائی:"اے مکہ مکرمہ!اﷲکی قسم! تواﷲتعالیٰ کی تمام روئے زمین سے بہتر ہے اور اﷲتعالیٰ کو اس کی تمام زمین سے سب سے بڑھ کرمحبوب ہے۔اگرمجھے تیرے ہاں سے نکلنے پرمجبور نہ کیاجاتا تومیں یہاں سے کبھی نہ نکلتا۔"حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں۔"جب رسول اﷲﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں بخارکی سخت وباپھیلی ہوئی تھی اوراس کی وادی سے بدبودار پانی بہتا تھا ،اس وجہ سے صحابہ کرامؓ بیماری اورآزمائش سے دوچار ہوئے،جبکہ اﷲتعالیٰ نے اپنے نبی کو اس وباء سے محفوظ رکھا۔"ام المومنین مزید فرماتی ہیں۔"حضرت ابوبکر،عامر بن فہیرہ اوربلالؓ ایک ہی گھر میں مقیم تھے،چنانچہ انہیں بھی بخار نے آلیا۔میں نے نبی کریمﷺ سے ان کی عیادت کے لئے اجازت طلب کی تو آپ نے اجازت مرحمت فرمادی۔میں عیادت کی غرض سے ان کے پاس چلی گئی۔یہ ہم پر پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے کاواقعہ ہے۔اﷲہی بہترجانتا ہے کہ انہیں کس قدرشدید بخار تھا۔میںحضرت ابوبکرؓ کے قریب ہوئی اورکہا:اباجان!آپ اپنے آپ کو کیسامحسوس کرتے ہیں؟

"انہوں نے فرمایا:"ہرآدمی کو اپنے گھروالوں میں صبح کاسلام کیا جاتا ہے ،حالانکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے۔"فرماتی ہیں کہ میں نے کہا:"اﷲ کی قسم!میرے والدکو معلوم ہی نہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں"پھر میں حضرت عامر بن فہیرہ ؓ کے قریب ہوئی اور پوچھا:"اے عامر!تم اپنے آپ کو کیسامحسوس کرتے ہو؟"انہوں نے جواب دیا:"بلاشبہ میں نے موت کاذائقہ چکھنے سے پہلے ہی موت پالی ہے۔یقینا بزدل کی موت اوپرسے آتی ہے،وہ لڑتے ہوئے بہادری کی موت نہیں مرتا۔ہرآدمی اپنی طاقت کے مطابق بچاؤ کی کوشش کرتا ہے،جیسے بیل اپنے سینگوں کے ذریعے اپنے جسم کوبچاتا ہے۔"فرماتی ہیں کہ میں نے کہا:"اﷲ کی قسم!عامرکوکچھ پتہ نہیں کہ وہ کیاکہہ رہے ہیں۔"سیدہ عائشہؓ مزید فرماتی ہیں کہ سیدنابلالؓ کوجب بخار سے افاقہ ہوتاتو وہ گھر کے آنگن میں لیٹ جاتے،پھر بآواز بلند یہ اشعار پڑھتے:"اے کاش!کیاکبھی میں اس وادی میں رات بسر کرسکوں گاجہاں میرے اردگرد جلیل نامی خوبصورت اورخوشبودار جڑی بوٹیاں ہوں۔کیا میں کسی دن مجنہ کے کنویں پرجاسکوں گااورکیا"شامہ"اور"طفیل" نامی پہاڑ مجھے نظر آئیں گے؟

"فرماتی ہیں کہ میں نے نبیﷺ کواس صورت حال سے آگاہ کیاتو آپ نے یہ دعافرمائی:"اے اﷲ!ہمارے لئے مدینہ منورہ کوبھی اسی طرح محبوب بنادے جس طرح ہمیں مکہ مکرمہ سے محبت ہے بلکہ مکہ مکرمہ سے بھی زیادہ(مدینہ کی محبت پیدافرما)اسے بیماری سے پاک فرما دے،اس کے "صاع"اور"مد"کے پیمانوں میں ہمارے لئے برکت فرما اوراس کابخارحجفہ منتقل کردے۔"اﷲتعالیٰ نے اپنے نبی کی دعا کوشرف قبولیت سے نوازا اورمسلمانوں کواس دعا کے بعد اس بخار سے شفامل گئی اور مدینہ منورہ کرۂ ارض کے مختلف علاقوں سے آنے والے مسلمانوں کے وفود اورمہاجرین کے لئے ایک عمدہ اورممتاز وطن کی حیثیت اختیار کرگیا۔رسول اﷲﷺ نے مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کرنے کے بعد دولت اسلامیہ کی بنیادوں کومضبوط ومستحکم کرناشروع کیا۔آپ نے انصارومہاجرین کے مابین رشتہ اخوت قائم کیا،پھر مسجد نبوی تعمیر کی اوریہود کے ساتھ حتمی معاہدہ کیا۔

اس کے ساتھ ہی چھوٹے چھوتے فوجی دستوں کے ذریعےدشمن سے جھڑپوں کاآغاز ہوگیا۔آپﷺ نے اس جدید معاشرے کی اقتصادی،تعلیمی،معاشرتی اورتربیتی ترقی کااہتمام کیا۔حضرت ابوبکرؓ رسول اﷲﷺ کے مخلص اورحقیقی وزیر کی حیثیت اختیار کرگئے اورہرقسم کے حالات میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ساتھ رہے۔آپ کسی خاص موقع یاکسی رزم گاہ سے پیچھے رہے نہ کبھی آپ نے اسلام کے فروغ کے لئے اپنے مشورے ،رائے اورمال میں بخل سے کام لیا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */