کائنات کی تسخیر اور ہم مسلمان - مجاہد خٹک

یہ ایک حقیقت ہے کہ سماجی علوم کی طرح سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی مغرب کی حکمرانی ہے۔ اگرچہ پہلے روس اور پھر چین نے ان شعبوں میں بہت ترقی کی ہے مگر اپنے مخصوص سیاسی نظام کے باعث سماجی علوم کو وہ بھی نظر انداز کر رہے ہیں جس کی روس قیمت ادا کر چکا ہے اور چین شاید جلد ہی ادا کرے گا۔

مسلمان تو ان دو ممالک سے بھی کئی دہائیاں پیچھے ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ وہ نظریاتی دیواریں ہیں جو دینی علوم میں مہارت رکھنے والوں نے استوار کر رکھی ہیں اور جن پر لکھ دیا گیا ہے کہ انہیں عبور کرنے والوں پر کفر کا فتویٰ لگا کر مار دیا جائے گا۔

ان میں سے ایک بڑی دیوار نظریہ ارتقا کو تسلیم نہ کرنا ہے۔ آج بیالوجی، جینیٹکس اور نفسیات جیسے علوم کا براہ راست تعلق نظریہ ارتقا سے ہے۔ آپ ان علوم میں جوں ہی ایک مخصوص سطح سے آگے جائیں گے تو نظریہ ارتقا کسی نہ کسی صورت میں سامنے آ کر کھڑا ہو جائے گا۔

جینز کا مطالعہ تو خیر ابتدائی سطح پر ہی اس نظریے سے جڑا ہے۔ لیکن بیالوجی کی تمام ذیلی شاخیں ابتدائی درجے سے اوپر اٹھتے ہی نظریہ ارتقا سے ہم کنار ہو جاتی ہیں۔ اس نظریے کو تسلیم کیے بغیر بڑے سائنسی ترقی کرنا ممکن ہی نہیں رہتا۔

دنیا اس وقت انسانی دماغ کو کمپیوٹر سے جوڑنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور ایک تسلسل سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اس شعبے میں ارتقا کی رفتار میں ہر گزرتی دہائی میں حیرت انگیز اضافہ ہو رہا ہے اور غالب امکان ہے کہ موجودہ صدی کے دوران کم از کم ابتدائی سطح کے سپر ہیومن پیدا ہونا شروع ہو جائیں گے۔ انسانی دماغ کی گتھیاں اس وقت تک نہیں سجھائی جا سکتیں جب تک نظریہ ارتقا کو تسلیم نہ کیا جائے کیونکہ یہ حیرت انگیز مشین اپنی تشکیل کے لیے طویل ارتقائی عمل سے گزری ہے۔

وبائی امراض کی ویکسین تیار کرنے میں وائرس کے اس ارتقائی عمل کو سمجھنا ضروری ہے جس کے ذریعے وہ جانوروں سے نکل کر انسانی خلیوں کو شکار کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے۔ اس کی یہ خوفناک چھلانگ ان جینیاتی تبدیلیوں کی مرہون منت ہے جہاں نظریہ ارتقا کی حکمرانی ہے۔

عمر سے تعلق رکھنے والا کلاک بھی جینز میں ہی چھپا بیٹھا ہے۔ سائنسدان اس کے قریب پہنچ چکے ہیں اور وہ وقت زیادہ دور نہیں جب انسان اپنے اندر موجود فنا کی اس مشین کو فتح کر لے گا اور اس میں اپنی مرضی کا سافٹ ویئر ڈال کر انسانی عمر کو کئی سو سال تک بڑھالے گا۔ اس شعبے میں بھی نظریہ ارتقا کارفرما ہے۔

نفسیات کی طرف آتے ہیں تو ارتقائی نفسیات کی بنیاد ہی نظریہ ارتقا ہے۔ یہ اپنے شعبے کی جدید ترین شکل ہے جس میں انسان بہت آگے بڑھ چکا ہے اور نفسیاتی امراض سے لے کر سماجی مسائل کو حل کرنے کی طرف گامزن ہے۔

اور ایک ہم ہیں کہ منہ بسورے، سر نیہواڑے کسی ضدی بچے کی طرح میں نہ مانوں کی گردان میں مصروف ہیں۔ کلیسا نے بھی یہیں رویہ اپنایا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مغرب نے مذہب کو ہی ایک طرف رکھ دیا۔ ہماری نوجوان نسل میں جو لادینیت پھیل رہی ہے، اس کی وجہ یہی احمقانہ ضد ہے جس پر اصرار جاری رہا تو یہ جو چند ہزار یا چند لاکھ لوگ مذہب سے رخ پھیرنے کی جانب راغب ہیں، یہ کروڑوں میں ہو جائیں گے اور مذہبی طبقہ اپنی ہی جنم بھومی میں اقلیت بن کر رہ جائے گا۔

کوکا کولا اور مکہ کولا کے درمیان مقابلہ یاد کریں۔ ایک معمولی سے فارمولے کے معاملے میں بھی مسلمانوں کی "ایجاد" شکست کھا گئی حالانکہ اسے جذبہ ایمانی کا دیدہ زیب لباس بھی میسر تھا۔ ویکسین کی تیاری، خلا کا سفر، مصنوعی ذہانت اور نہ جانے کون کون سے شعبے ہیں جہاں ہم مغرب سے کوسوں دور رہ گئے ہیں۔

سماجی علوم کی بات کریں تو ہمارے جدید ترین دینی مفکروں اور مغرب میں موجود مختلف سماجی علوم کے ماہرین میں بھی ایسا ہی فرق ہے۔ ہماری فکر مکہ کولا کی طرح ہے جو مغرب کی کوکا کولا کی بھونڈی نقل کے سوا کچھ نہیں جس کی عمر چند برس یا زیادہ سے زیادہ چند دہائیوں سے زیادہ نہیں ہے۔

اپنی آنکھیں کھول کر اردگرد نظر دوڑائیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ مسلمان معاشروں کا سیاسی، معاشی اور معاشرتی ڈھانچہ ہو یا موسیقی، ادب اور فن تعمیر ہو۔۔ یہ تمام مکہ کولا کی طرح مغرب کی نقالی پر مبنی ہیں۔ اس لیے ان تمام شعبوں کی حالت ابتر ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */