پیار محبت عزت و آبرو- افسانچہ نگار ببرک کارمل جمالی کے قلم سے

اس کا نام ریحان تھا۔۔۔۔ وہ بلوچ عظیم جنگجو چاکر اعظم کا بیٹا تھا۔۔۔۔۔۔ چاکر رند اور گوہرام لاشاری کی جنگ تیس سالوں تک جاری رہی تھی۔۔۔۔۔ ان تیس سالوں میں دونوں بلوچ قبائل نے ایک دوسرے کے تیس ہزار سے زائد نوجوانوں کے سر قلم کردیئے تھے۔۔۔۔۔اس وقت چاکر رند کے بیٹے ریحان کو ایک لڑکی نازو سے محبت ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔۔وہ ایک دوسرے کی محبت میں جان دینے کو تیار رہتے تھے۔۔۔۔۔ ریحان سے نازو وعدہ کرتی ہے کہ جس دن تمھارے موت کی خبر مجھے ملے گی، اس دن میں اپنی جان دے دو گی۔

دو بلوچ سر پھرے نوجوان جنگ سے واپسی پہ پیاسے نازو کے گدان پہ جاتے ہیں۔۔۔۔۔ وہ نازو کے باپ سے پانی کی درخواست کرتے ہیں۔۔۔۔ تو نازو کے اندھے والد لاشار اور رند کی جنگ کا پوچھتے ہیں۔۔۔۔۔۔بابا جنگ ہمارے نوجوانوں کو کھا گئی ہے۔۔۔۔۔ بڑے بڑے جنگجو شہید ہوچکے ہیں۔۔۔۔ اسی سالہ جنگ نے گنداواہ اور سیوی کے تیس ہزار نوجوانوں کو ہندوستانی تلواروں سے سر قلم کردیا ہے۔۔۔۔۔کل کےجنگ میں چاکر رند کے بیٹے ریحان بھی گھوڑے سے گر کر ہلاک ہو گئے ہیں۔۔۔۔۔

یہ سنتے ہی نازو آبدیدہ ہو جاتی ہیں اور اپنی سانسیں روک کر اپنی جان دیتی ہیں۔۔۔۔ نازو کا اندھا بابا نازو نازو کہہ کر چلا رہا تھا۔۔۔۔ مگر نازو کی سانسیں رک چکی تھیں۔۔۔۔۔ وہ اس دنیا میں نہ تھی۔۔۔۔۔۔ریحان کی محبت نے اس کو مار دی۔

وہی دو سر پھرے نوجوان جاکر ریحان کو نازو کے موت کی اطلاع دیتے ہیں۔۔۔نازو گدان میں کام کرتے کرتے اچانک انتقال کرگئی۔۔۔۔ریحان گھر میں جاکر ایک کمبل میں خود کو بند کرکے اپنی سانسیں روک لیتا ہے۔۔۔۔ چاکر اعظم بیٹے کی لاش دیکھ کر تڑپتا ہے۔۔۔۔دل برداشتہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔ وہ اپنے بیٹے کی جدائی برداشت نہیں کر سکتا ہے۔۔۔۔۔وہ دونوں سر پھرے نوجوانوں کا سر قلم کر دیتا ہے۔۔۔۔۔۔اور سیوی کو الوداع کرکے پنجاب کا رخ کرتا ہے۔۔۔۔۔ جہاں پر وہ باقی ماندہ زندگی گزارتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */