معرکہ (6) - ریحان اصغر سید کی شاہکار کہانی

پہلی قسط
دوسری قسط
تیسری قسط
چوتھی قسط
پانچویں قسط

علی اکبر اپنی موٹر بائک پر ایس ایس پی مظفر کمال کے سرکاری بنگلے پر پہنچا تو بوندا باندی شروع ہو چکی تھی۔
انھوں نے فون کر کے آپ کی آمد کی اطلاع دے دی تھی۔۔۔آپ تشریف رکھیں وہ کچھ دیر تک تشریف لے آئیں‌گے۔
ملازم نے اسے ڈرائنگ روم میں بٹھایا۔

پندرہ بیس منٹ بعد مظفر کمال صاحب بھی تشریف لے آئے۔ وہ دراز قامت اور قدرے بھاری جسم کے آدمی تھے۔ کشادہ پیشانی، ذہین آنکھیں اور گھنی مونچھیں۔۔۔ ان کے چہرے کے نمایاں وصف تھے۔ انھوں نے گرم جوشی سے علی سے ہاتھ ملایا۔۔۔

میں نے آپ کی بہت تعریف سنی ہے علی صاحب۔۔ماشاء اللہ کئی لاعلاج مریضوں کو آپ کے ہاتھ سے شفا ملی ہے۔

شفا فرمانے والی ذات اللہ کی ہے۔ میرا کام تو صرف خلوص نیت سے اپنا کام کرنا ہے۔

علی نے عاجزی سے کہا۔

تشریف رکھیں میں آپ کو اپنے بیٹے خرم کے آج تک ہونے والے علاج اور اس کے نتیجے میں ہوئی پیشرفت کے بارے میں تفصیل سے بتاتا ہوں۔
ایس پی صاحب نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

چائے پیتے ہوئے مظفر صاحب اسے خرم کی معذوری اور بے بسی کے بارے میں بتاتے رہے۔۔محتاج اور محدود زندگی نے اسے مایوس اور چڑچڑا کر دیا تھا۔

اللہ تعالی کسی بھی شخص پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔ انسان کا کام اپنی حد میں رہ کر کوشش کرتے رہنا اور مایوسی سے بچنا ہے۔ اگر خرم صاحب کے مقدر میں ایک تندرست زندگی لکھی ہے تو انھیں صحت مل کر رہے گی ان شاء اللہ۔۔۔چلیں خرم بھاٸی کے پاس چلتے ہیں۔

علی نے متانت سے کہا۔

خرم اپنے باپ کی طرح لمبے قد کا خوبرو نوجوان تھا لیکن معذوری نے اس کے چہرے کی تازگی چھین لی تھی۔ اس کے باوجود اس نے مسکرا کر علی سے ہاتھ ملایا۔۔ علی نے ایکسرے اور رپورٹس دیکھیں۔۔چوٹ نے ریڑھ کی ہڈی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ نچھلے دھڑ کا حرام مغز سے رابطہ منقطع ہوچکا ہے۔ علی نے مظفر صاحب کی مدد سے خرم کو الٹا لٹایا اور ہاتھ سے ٹٹول کر ریڑھ کی ہڈی کا معاینہ کرنے لگا۔۔بظاہر صورتحال مایوس کن تھی۔ علی نے مظفر صاحب کو دیکھا جو آنکھوں میں امید کی جوت جگائے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔علی نے گہری سانس لی اور دوبارہ خرم کی پشت پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں موندھ لیں۔۔

اسے ڈاکٹر حسنین نظر آیا۔
میں اس کا معاینہ کرتا ہوں۔۔۔

اس نے علی سے کہا۔۔پھر وہ علی کی پشت کو ٹٹول کو دیکھتا رہا۔۔ علی کے دیکھتے ہی دیکھتے اس نے اپنی ِکٹ میں سے ایک بڑا بلیڈ نکال کر بڑے ماہرانہ انداز میں خرم کی پشت پر ایک بڑا کَٹ لگایا اور کھال ہٹا کر ہڈی کا باریک بینی جاٸزہ لینے لگا۔۔۔

یہ دیکھیں۔۔۔! یہاں سے وینز ٹوٹ گئی ہیں اور ہڈی ادھر سے فریکچر ہے۔۔
اس نے علی کو متاثرہ جگہ دکھائی۔۔۔
کیا آپ اسے جوڑ سکتے ہیں۔۔؟

علی نے بے تابی سے پوچھا۔
ہاں لیکن مجھے ڈاکڑ زوہیب اور ڈاکٹر باقر کی مدد چاہیے ہو گی۔

وہ کون ہیں۔۔۔؟
وہ حضرت سلطان کبیر کی خدمت میں ہیں۔
حسنین نے علی کے مرشد کا نام لیا۔۔

اور آپریشن کے بعد مجھے آٹھ روز، دن میں دو دفعہ زخم کی صفاٸی اور پٹی بھی بدلنی پڑے گی۔۔

حسنین نے اپنے خون آلودہ داستانے اتار کر دوسرے پہنے۔۔۔اس سے پہلے علی کوٸی جواب دیتا کسی نے اس کا کندھا زور سے ہلایا۔۔علی کو مجبوراً آنکھیں کھولنی پڑیں۔۔اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔۔مظفر صاحب اسے تشویش بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔

آپ ٹھیک ہیں۔۔۔؟

انھوں نے علی سے پوچھا۔۔

دراصل آپ کافی دیر سے آنکھیں بند کیے چپ چاپ کھڑے تھے۔۔
جی میں ٹھیک ہوں۔۔

مجھے خرم بھائی کو اپنے ساتھ لے کر جانا ہوگا۔۔
کہاں۔۔۔؟

اپنے گھر۔۔۔۔!
میں سمجھا نہیں۔۔۔

میرے پیر و مرشد سلطان کبیر طبیب حازق ہیں۔ ایک تو وہ بھی خرم کو دیکھ کر اپنی ماہرانہ رائے دے لیں گے۔۔۔ اور دوسرا جو علاج معالجہ میں کرنا چاہتا ہوں، اس کے لیے خرم صاحب کا میرے پاس ہونا ضروری ہے۔ میں چونکہ گھر میں بیٹھ کر ہی اپنا کام کرتا ہوں اس لیے مجھے بہت سہولت ہوجائے گی۔۔

مظفر صاحب نے مشورہ طلب نظروں سے خرم کو دیکھا۔۔ خرم کے چہرے پررضا مندی کے تاثرات تھے۔ ایس پی صاحب نے اثبات میں سر ہلا کر خرم کو لے جانے کی منظوری دے دی۔

علی نے دوبارہ آنکھیں موند لیں۔۔ڈاکٹر حسنین منتظر نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
ٹھیک ہے آپ زخم وقتی طور پر سی دیں۔۔۔
علی نے اسے کہا۔

آپریشن کے لیے اسے دوبارہ کھولنا پڑے گا۔۔۔اس لیے میں اسے زپ ٹانکے لگا دیتا ہوں۔۔
حسنین نے جیکٹ کی زپ کی طرح کی ایک زپ زخم پر چپکا کر اسے بند کردیا۔
علی نے آنکھیں کھول کر خرم کے کپڑے درست کر کے اسے سیدھا لٹایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ثقلین ایک تاریک غار میں چلتا ہوا جا رہا تھا جس کی دیواروں پر شیطان چمگادڑوں کی شکل میں الٹے لٹکے ہوئے تھے۔۔ کہیں کہیں غار کے کناروں کی تہہ میں چٹانیں لاوے سے کھولتی محسوس ہوتیں جن کی وجہ سے ہلکی زرد روشنی غار میں دکھائی دینے لگتی تھی۔ ثقلین اپنی اصلی شکل میں لوٹ آیا تھا۔ حفظ ماتقدم کے طور پر اس نے جو اپنا حلیہ اور نام بدلا تھا۔ یہ احتیاط اس کے بہت کام آئی تھی۔ ورنہ وہ اس وقت جیل میں ہوتا۔۔پولیس نے اس کی توقع سے بھی زیادہ تیزی سے مسلکی منافرت کے پیچھے چھپی چال کو نہ صرف ٹریس کرلیا تھا بلکہ وہ حامد خان کی شخصیت اور اس کے آفس تک بھی پہنچ گئے تھے۔۔لیکن ابھی تک وہ حامد خان اور ثقلین کی شناحت کی درمیانی کڑی کو تلاش کرنے سے قاصر رہے تھے۔ اس کی پشت پناہی کے بغیر فرقہ پرستی کی جنگ کچھ سرد تو ہوئی تھی لیکن اس نے جتنی نفرت فرقوں کے مابین بھر دی تھی، حالات مکمل نارمل ہونے کے لیے شاید ایک عشرہ درکار تھا۔

اس نے ”امید“ کے سربراہ کو گردن سے دبوچ رکھا تھا۔ اب اس تنظیم کی تباہی یقینی تھی دیگر دو بڑی فلاحی تنظیموں کے اکاونٹس کی مس ہینڈلنگ اور لاپرواٸی کے بھی،(لڑکیوں کی بدولت) اس کے پاس ایسے ثبوت لگے تھے کہ جن کی بنیاد پر انھیں بدنام کرنے کے علاوہ لوگوں کے دلوں میں شکوک شبہات پیدا کیے جا سکتے تھے۔۔چونکہ وہ تینوں لڑکیوں سے حامد خان کے نام سے رابطے میں تھا اس لیے اس نے ان سے بھی تعلق ختم کردیا تھا۔ ویسے بھی اس کا کام نکل چکا تھا اس لیے اب اسے ان سے کوئی سروکار نہیں تھا۔

چند سیڑھیاں چڑھ کے ثقلین ایک بہت وسیع و عریض چبوترے پر پہنچا۔ یہاں زرد آگ کے ستون تھے جن میں سے رہ رہ کر نیلی لپٹیں نکلتی تھیں۔ سیاہ ریشمی گاٶن میں ملبوس عفریش بڑے کروفر سے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ تخت کے پیچھے چٹانی دیوار پر ابلیس کا بہت بڑا مجسمہ بنایا گیا تھا۔ ثقلین نے عفرش کے پیروں میں جا کر بے اختیار سجدے میں گرگیا۔۔۔ کافی دیر گزرنے کے بعد عفرش اس کی طرف متوجہ ہوا اور اسے سجدے سے سر اٹھانے کی اجازت مرحت فرمائی۔ ثقلین کا خیال تھا کہ عفرش اس کی اب تک کی کارکردگی پر اسے شاباش دے گا لیکن عفرش کا رویہ کافی سرد تھا۔

پولیس تمھاری تلاش میں ہے۔
اس نے جتایا۔۔۔

نہیں میرے آقا، وہ حامد خان کو تلاش کر رہے ہیں جو میرا ایک بہروپ تھا۔میں نے اپنے پیچھے کوئی ثبوت نہیں چھوڑا۔
ہممم۔۔۔سلطان کبیر کو جانتے ہو؟
بندہ اپنی لاعلمی پر نادم ہے میرے آقا۔

وہ ایک سنکی بڈھا ہے جو ہر وقت پاگلوں کی طرح ویرانوں میں اپنے رب کو پکارتا پھرتا ہے یا جڑی بوٹیوں کی تلاش میں رہتا ہے۔۔

عفرش نے نفرت سے کہا۔

اس نے پہلے بھی میرے لوگوں پر حملہ کیا تھا تو میں نے اسے بوڑھا سانپ سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا، مجھے اس کا سر تب ہی کچل دینا چاہیے تھا۔
عفرش پھنکارا۔۔۔

اب اس کی جرات اتنی بڑھی ہے کہ اس نے میرے چیلوں پر حملہ کرکے انھیں قتل کر دیا ہے اور اپنے قیدی چھڑالیے ہیں۔ لیکن مجھے سب سے زیادہ افسوس اپنے وفادار کتے جحیم کے قیدی بننے کا ہے۔

سانپ کا سر کچل دیا جائے گا میرے آقا۔۔۔۔!
ثقلین نے بہت اعتماد سے کہا۔

تمھیں نہ صرف اس خبیث بڈھے کو مارنا ہے بلکہ اس کے قبضے میں موجود پانچ ڈاکٹروں کا بھی خاتمہ کرنا ہوگا۔۔۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جحیم کو میرے پاس واپس لے کر آٶ۔۔
عفرش نے رعونت سے حکم دیا۔۔۔

ایسا ہی ہوگا میرے آقا۔۔
ڈاکٹروں کو قتل کرنے اور جحیم کو چھڑانے کے لیے ہاویہ تمھاری مدد کرے گی۔۔

عفرش کے تالی بجانے پر ایک خوفناک صورت کی نیم برہنہ عورت کسی کونے سے نمودار ہو کر عفرش کے سامنے سجدہ ریز ہوگئی۔۔

یہ میری بہت خاص کنیز ہے جو میں تمھارے ساتھ بھیج رہا ہوں۔ اگر تم اس مہم سے کامیاب لوٹے تو میں اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تمھیں سونپ دوں گا۔۔
بلاشبہ میرے آقا بہت دیالو ہیں۔۔

ثقلین نے مسرت کا اظہار کیا اور مڑ کر اشتیاق بھری نظروں سے ہاویہ کو دیکھا۔

ثقلین بیٹا، مسلکی منافرت والی آگ میں کافی ہاتھ تاپ لیے ہیں ہم نے۔۔۔اب کوٸی نیا محاذ چھیڑو۔۔۔کچھ بڑا اور الگ۔۔۔جو تباہی مچادے۔ ہر طرف بھوک، افلاس ناچتی نظر آئے اور انسانیت سسکتی بلکتی دکھائی دے۔۔ہر کوئی خدا سے برگشتہ اور ناراض ہو۔۔۔ہر زبان پر شکوہ ،دشنام ہو۔ مفلسی ایسی ہو کہ ایک ایک روٹی کی خاطر عورتوں کی عزت نیلام ہو جائے۔ اور ایک بوری گندم کے لیے بچے بِک جائیں۔۔

عفرش نے آگے کی طرف جھک کر ثقلین سے فرمائش کی۔

آپ بے فکر رہیں آقا۔۔۔میرے پاس ایسا منصوبہ ہے کہ یہ پورا خطہ ہی آگ کی لپیٹ میں آنے والا ہے۔۔اس منصوبے میں خطیر رقم تو خرچ ہوگی۔۔لیکن ایک دفعہ ہم اسے عملی جامہ پہنانے میں کامیاب رہے تو پھر ہماری کامیابی یقینی ہے۔
ثقلین نے ادب سے کہا۔

ثقلین۔۔۔ثقلین۔۔۔۔میرے پیارے بچے۔۔ثق لین۔۔۔میرے پاس تمھیں دینے کے لیے بے پناہ وسائل ہیں۔۔میں تمھیں منہ مانگے دام دوں گا۔۔۔لیکن یہ بھی یاد رہے کہ میرے پاس ناکام لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔۔۔اگر تم ناکام ہوئے تو میں تمھیں عبرت کا نشان بنادوں گا میرے بیٹے۔۔۔کیا تم میری بات سمجھ رہے ہو نا؟

ثقلین بے اختیار سجدے میں گرگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فہیم صاحب نے جلدی سے ایک لاکھ کا چیک لکھ کر اس پر سائن کیے۔۔
سوری گائز۔۔۔میں ذرا جلدی میں ہوں تم لوگ چائے پی کر جانا۔

انھوں نےاپنا سیل فون، بیگ اور کار کی چابی اٹھاتے ہوئے افراتفری میں کہا اور جواب کا انتظار کیے بغیر آفس سے نکل گئے۔ آفس سے پارکنگ تک چند قدم کا فاصلہ فہیم صاحب نے بھاگتے ہوئے طے کیا۔ فہیم صاحب مسلسل صائمہ کو کال کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
فون اٹھاٶ یار۔۔۔۔

کار سٹارٹ کرتے ہوئے وہ بری طرح جھنجھلائے۔۔

گاڑی سڑک پر آتے ہی انھوں نے گھر کا لینڈ لائن نمبر ملایا۔۔بچے سکول تھے، انھوں نے دعا کی کہ ملازمہ فون کی گھنٹی کی آواز سن لے۔۔یہ شاید قبولیت کی گھڑی تھی۔

ہیلو۔۔
جی۔۔صاحب جی۔۔۔؟
پروین۔۔بیگم صاحبہ کہاں ہیں؟

جی وہ تو قندیل بی بی کو لے کر بلال صاحب کے گھر گئی ہوئی ہیں۔۔۔

کب۔۔۔کتنی دیر ہو چکی ہے؟

پتہ نہیں جی۔۔پندرہ بیس منٹ ہوگئے ہوں گے مجھے کوئی صیح اندازہ نہیں ہے۔۔۔خیریت ہے نا صاحب جی؟ آپ اتنے گھبرائے ہوئے کیوں ہیں؟
کچھ نہیں تم اپنا کام کرو۔

فون کاٹ کر فہیم صاحب نے پھر گھڑی دیکھی۔ وہ جتنی بھی جلدی کرتے انھیں بلال کے گھر تک پہنچنے کے لیے کم سے کم پندرہ منٹ مزید درکار تھے۔۔

اے تمام جہانوں کے رب، میرے بچی کی جان اور عزت کی حفاظت کرنا۔۔

انھوں نے بے اختیار اسے پکارا جو ہمیشہ مصبیت میں ہی یاد آتا ہے۔ فہیم صاحب محتاط ڈرائیور تھے لیکن آج کے دن نہیں۔۔انھوں نے دو سگنل توڑے۔ ایک جگہ سے ون وے کی خلاف ورزی کی اور سپیڈ لمٹ کو مسلسل پامال کیا۔۔ایک زور دار بریک کے ساتھ ٹائر چرچرائے اور کار بلال عزیز کے گھر، کے مرکزی دروازے کے سامنے رک گئی۔ فہیم صاحب کار سے نکلے اور ڈور بیل پر ہاتھ رکھ کر اٹھانا بھول گئے۔۔ایک منٹ بعد ایک نوعمر ملازمہ لڑکی بھاگتی ہوئی آئی اور اس نے دروازہ کھولا۔
وہ اسے اپنے شیطانی کمرے میں لے گیا ہے۔۔جلدی کریں ورنہ وہ اسے برباد کر دے گا۔

لڑکی نے اس کے چہرے پر نظر پڑتے ہی پھولی ہوئی سانس کے ساتھ کہا۔ وہ بھاگتی ہوئی آئی تھی۔ اس نے بلال کے کسی بھی حال میں دروازہ نہ کھولنے کے حکم کے باوجود سی سی ٹی وی کیمروں کی سکرین میں قندیل کے باپ کو دیکھ کر دروازہ کھول دیا تھا۔
میری بیوی کہاں ہے؟

فہیم صاحب نے لان میں بھاگ کر اندر جاتے ہوئے کہا۔۔
وہ ڈرائنگ روم میں بے ہوش پڑی ہیں۔۔۔انھیں جوس میں بے ہوشی کی دوا پلائی گئی ہے۔

مجھے اس کمرے میں لے جاٶ۔۔۔پلیز۔۔۔میں تمھارا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا۔
ملازمہ اس بھول بھلیاں نما گھر میں ان کی راہنمائی نہ کرتی تو وہ لائبریری کے خفیہ دروازے سے گزر کر اتنی آسانی سے بلال کے کمرہ خاص تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔

قندیل کے دماغ پر غنودگی سی طاری تھی۔ جوس میں موجود خواب آور دوا اپنا اثر دکھا رہی تھی۔ اس کے باوجود اس نے شطرنج کی بساط جیسے فرش والے کمرے کو دلچسپی سے دیکھا۔ ایک دیوار کے ساتھ ترتیب سے بیٹھی ہوئی گڑیاں کو اس نے حیرت سے دیکھا۔ ان میں سے ایک ہوبہو اپنی شکل کی گڑیا دیکھ کر وہ ہکا بکا رہ گئی۔ پہلی نظر میں وہ اسے بلکل اصلی لڑکیاں لگی تھیں۔ بوڑھے بلال نے اسے کاٶچ پر لٹادیا۔ قندیل کو اس کے جسم سی عجیب ناگوار سی بو آ رہی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ اس کے اوپر سے ہٹ جائے، لیکن وہ بڑے اطمینان سے کاوچ پر پڑے اس کے بے ترتیب جسم کا جائزہ لے رہا تھا۔ قندیل نے شل ہاتھوں سے بمشکل اپنا لباس درست کیا۔۔

گھبرانا نہیں گڑیا۔۔۔ میں ابھی ایک ایسا عمل کروں گا جس سے تم نیند کی وادی میں اتر جاٶں گی۔۔۔اسی دوران ہی میں اس بلا کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تمھارے سر سے اتار دوں گا۔۔ قندیل نے خود سے دور جاتی بلال کی آواز سنی۔۔اب اس کے لیے مزید اپنی پلکوں کا بوجھ اٹھانا ممکن نہیں تھا۔ اس کی آنکھیں بند ہوئیں تو دوبارہ نہ کھل سکیں۔ بلال نے اپنا کوٹ اتار کر ہینگر سے لٹکایا اور لکڑی کی الماری کے ایک خانے میں سے اپنے لیے بیئر کا ایک ٹِن پیک نکال کر اسے کھولا۔ اس کے چہرے پر اس کی مخصوص شیطانی مسکراہٹ تھی۔ وہ آستین فولڈ کرتا ہوا قندیل کے قریب آیا اور اس کے جسم پر ہاتھ پھیرنے لگا۔۔

آہ قندیل۔۔۔تم نے مجھے کتنا تڑپایا ہے۔۔۔۔لیکن دیکھ لو۔۔۔میں نے تمھیں پا ہی لیا۔!

وہ قندیل کی شرٹ کے بٹنوں کی طرف ہاتھ لے جاتے ہوئے بڑبڑایا۔۔۔

اسی لمحے کمرے کے دروازے پر زوردار دستک ہوئی۔۔۔بلال کے منہ سے بے اختیار گالی نکلی۔۔
دروازہ کھولیں صاحب۔۔۔۔

اس کی ملازمہ کی گھبرائی ہوئی آواز سنائی دی۔
دفع ہو جاٶ یہاں سے۔۔خبردار جو اب دروازہ بجایا تو۔۔۔تمھیں جان سے مار دوں گا۔۔۔کتیا کہیں کی۔۔
بلال غصے سے دھاڑا۔۔۔

گھر میں آگ لگ گئی ہے صاحب۔۔۔سب کچھ جل رہا ہے۔۔خدا کے لیے جلدی دروازہ کھولیں۔۔

ملازمہ کی بات اور لحجے کی گھبراہٹ بلال کا نشہ ہرن کرنے کے لیے کافی تھی۔ اس نے دوڑ کر دروازہ کھولا تو اسے فہیم کا غضب ناک چہرہ دکھائی دیا۔۔اس نے کوئی بات کیے بغیر بلال کے چہرے پر مکوں کی برسات کر دی۔۔بلال الٹ کر گرا۔۔فہیم بھاگتا ہوا قندیل کے پاس پہنچا۔۔

میرے بیٹے میری جان۔۔تم ٹھیک ہو۔۔انھوں نے اسے اٹھا کر گلے سے لگا لیا۔۔قندیل نے بمشکل آنکھیں کھول کر باپ کا پریشان چہرہ دیکھا جسے دیکھ کر اس کی ساری پریشانی دور ہو گئی۔۔
میں ٹھیک ہوں بابا۔۔۔آپ پریشان نہ ہوں۔۔

اس نے کمزور لہجے میں کہا۔۔فہیم نے اس کے سر پر بوسہ دیا اور بلال کی طرف آیا جو اسے گالیاں دیتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ فہیم صاحب نے اس کی پسلیوں میں ٹھوکر مار کر اسے پھر گرا دیا۔۔
خبیث بڈھے۔۔۔تمھیں شرم نہیں آتی۔۔۔؟

صاحب جی۔۔۔یہ بہت بڑا درندہ ہے۔۔اس نے میرے سمیت بہت سی لڑکیوں کی زندگی برباد کی ہے۔۔آپ جتنا جلد ممکن ہو اس شیطانی گھر سے نکل جائیں۔۔
ملازمہ نے قندیل کو سہارا دے کر کھڑا کیا۔۔فہیم صاحب کو اچانک صائمہ کا خیال آیا تو وہ چین ہو گئے۔
میری بیوی کہاں ہے۔۔۔؟

انھوں نے پوچھا۔
وہ ڈرائنگ روم میں ہیں۔۔آئیں میں آپ کو ان کے پاس لے کر چلتی ہوں۔۔
ان کے کمرے سے نکلتے ہی بلال نے اٹھ کر کمرے کو لاک لگا لیا اور دروازے سے لگ کر ہانپنے لگا۔

تھوڑی سی کوشش کے بعد فہیم صاحب صائمہ کو ہوش میں لانے میں کامیاب ہو گئے اور اسے ساری صورتحال بتائی۔۔صائمہ سر تھام کر بیٹھ گئی۔۔فہیم صاحب چاہتے تھے کہ بلال کے خلاف تھانے میں رپورٹ درج کروائی جائے تا کہ پولیس اسے گرفتار کر لے۔۔۔لیکن صائمہ نے انھیں سمجھایا کہ آپ جذباتی ہو رہے ہیں۔ قانونی چارہ جوئی سے ہمیں بدنامی اور مزید پریشانی کے کچھ نہیں ملے گا۔۔۔تھوڑی سی بحث کے بعد فہیم صاحب نے صائمہ کی بات مان لی۔۔اور وہ اپنی فیملی کو لیکر بلال کے منحوس گھر سے نکل آئے۔۔۔لیکن وہ اپنے ساتھ نوعمر ملازمہ کو لانا نہیں بھولے تھے۔۔ان کا ارادہ تھا کہ اسے وہ خود اس کے والدین کے حوالے کریں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انصر زیدی خودکشی کی نیت سے دریا کی طرف جا رہے تھے۔ یہ ان کی ”امید“ کو بچانے کی آخری امید تھی۔ کار کی رفتار سست تھی لیکن ذہن میں چلنے والے خیالات کے گھوڑے سرپٹ بھاگ رہے تھے۔ اسی بے خیالی میں انھوں نے سڑک کے کنارے سفید کپڑوں اور سفید عمامے میں ملبوس بزرگ کو دیکھا جو شاید ِلفٹ کے لیے ہاتھ سے رکنے کا اشارہ کر رہے تھے۔ روڈ پر اور بھی بہت سی کاریں تھیں لیکن بزرگ کی ساری توجہ انھی کی جانب تھی۔ زیدی صاحب نے پہلے بغیر رکے نکل جانے کا سوچا لیکن یہ انکے مزاج کے خلاف تھا۔ انھوں نے باٸیں جانب کا انڈیکٹر لگایا اور کار بزرگ کے قریب جا کر رک گٸی۔ سفید داڑھی اور بڑی بڑی آنکھوں والے بزرگ بغیر کوٸی بات کیے دروازہ کھول کر کار میں بیٹھ گے۔ انکے چہرے کے جلال اور بارعب شخصیت نے زیدی صاحب کو اتنا متاثر کیا کہ وہ بغیر پوچھے انکے کار میں بیٹھنے پر اعتراض بھی نہ کر سکے۔۔
جی فرماٸیے۔۔کہاں جانا ہے آپ کو۔۔۔؟

کچھ انتظار کے بعد زیدی صاحب نے بزرگ سے پوچھا۔
اگر تو آپ کا ارادہ ابھی بھی دریا میں چھلانگ لگانے کا ہے تو مجھے بھی دریا تک ساتھ لے چلیں۔۔
بزرگ نے سنجیدگی سے کہا۔

زیدی صاحب سن ہو کر رہ گٸے۔۔انھوں نے کار کے اندر پھیلی سڑیٹ لاٸٹیس کی روشنی میں دوبارہ بزرگ کا چہرہ دیکھا۔
میں سمجھا نہیں جناب؟
ہمارے رب نے انسان پر کوٸی مشکل ایسی نہیں اتاری جس کو حل کرنے کے لیے بندے کو اپنی جان لینی پڑے۔۔متبادل راستے ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ انسان ارادہ کر لے تو کون سا مسٸلہ ہے جو حل نہیں ہو سکتا۔۔۔؟

بزرگ نے اتنے یقین سے کہا کے زیدی صاحب کے دل نے اس یقین کی مثبت لہروں کو محسوس کیا۔
وہ میری ”امید“ کو برباد کرنا چاہتا ہے۔۔زیدی صاحب نے کار روک کے انھیں دیکھا۔
جن کی امیدیں رب سے ہوتی ہیں کوٸی انھیں برباد نہیں کر سکتا۔۔اللہ کے ہاں دل کا خلوص دیکھا جاتا ہے نیکی کا حجم نہیں۔۔۔۔

آپ کون ہیں؟
زیدی صاحب نے انکے ہاتھ تھام لیے۔۔
میں خدا کا ایک عاجز بندہ ہوں۔
آپ یہ سب کیسے جانتے ہیں۔۔۔؟

زیدی صاحب حیران تھے۔
زمین و آسمان کی کوٸی شے ایسی نہیں ہے جو میرے رب کے علم سے باہر ہے۔ وہ علیم بذات الصدور ہے۔۔وہ جس کو چاہتا ہے جتنا چاہتا ہے اپنے فضل سے علم عطا فرماتا ہے۔۔۔

اگر تم راستے سے ہٹ گٸے تو اسکا کام آسان ہو جاٸے گا اسکا مقصد پیسہ کمانا نہیں لوگوں کی فلاح بہبود کا راستہ روکنا ہے۔۔تمھیں اسے ناکام بنانا ہو گا بیٹا۔۔
لیکن کیسے؟

یاد رکھنا میرے بیٹے، عزت اور ذلت میرے رب کے ہاتھ میں ہے۔ جسے وہ عزت عطا کرے وہی عزت والا ہے جس کو وہ ذلیل کر دے کوٸی اسے عزت نہیں دے سکتا۔ ہم اپنے رب سے ہی مدد اور نصرت کے طلبگار ہیں۔۔ایک مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ شیطان کے شر سے گھبرا کر موت کی آرزو کرے۔
سلطان کے لحجے میں اتنی حلاوت اور مٹھاس تھی کہ زیدی صاحب کا بے چین دل سکون سے بھر گیا۔ انھوں نے گہری سانس لیکر آنکھیں موند لیں اور اپنا سر سیٹ کی پشت سے ٹکا دیا۔۔

جاری ہے

Comments

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید فکشن اور طنز و مزاح لکھنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کم مگر اچھا اور معیاری لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */