’’یہ صدی حضرتِ واصف ؒ کی صدی لگتی ہے‘‘ - ڈاکٹراظہر وحید

کسے معلوم تھا‘ آج سے ٹھیک سے ۹۱ برس قبل‘ ۱۵جنوری ۱۹۲۹ء میں خوشاب شہر کے محلہ کنڈان میں آنکھ کھولنے والا ’’بچہ‘‘ بڑوں بڑوں کی بصیرت کی آنکھ کھولنے کا سبب بنے گا۔ مضامین ِ واصفؒ میں ایک مضمون کا عنوان ہے ’’بچہ‘‘۔ اس مضمون میں تمثیلی پیرائے میں جس بچے کی بات کی گئی ہے ‘ معلوم ہوتا ہے‘ وہ خود مصنف کی بابت ہے۔ کنڈان اعوان قبیلے کی ایک شاخ ہے، تاریخی طور پر یہ ثابت ہے کہ اعوان حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی غیر فاطمی اولاد ہیں، گویا آپؒ حسبی و نسبی دونوں طریق پر علوی مشرب پر ہیں۔ گو آپؒ چشتی قادری بزرگ ہیں لیکن آپؒ پر قلندری رنگ غالب رہا، یعنی آپؒ براہِ راست صاحبِ نہج البلاغہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے فیض یاب ہیں۔

"نوائے راز" میں آپؒ کا روحانی تعارف یوں رقم ہے


"میرا نام واصفِ باصفا، میرا پیر سیّدِ مرتضیٰؑ
میرا وِرد احمدِ مجتبیٰؐ، میں سدا بہار کی بات ہوں"

یہ سدا بہار کی بات ہے، ہر دور کی بات ہے ، سج اور حق کی بات ہے، اس لیے ازل سے ابد تک ہر دور پر محیط ہے:


"واصفؔ مجھے ازل سے ملی منزلِ ابد
ہر دَور پہ محیط ہوں ، جس زاویے میں ہوں"

چند برس قبل ایک سمینار میں معروف شاعر جان کاشمیری نے کہا تھا


؎ واصفی فکر سے ہر سوچ سجی لگتی ہے
یہ صدی حضرت ِ واصفؒ کی صدی لگتی ہے

واصف علی واصفؒ کی شخصیت ہمہ جہت ہے۔جہاں اہل ِ روحانیت آپ ؒ کو قلندرِ دَوراں اور قطب ِ ارشاد کی حیثیت سے پہچانتے ہیں‘ وہاں اہل ِ فکر وفن کے نزدیک آپؒ ایک صاحب ِ طرز ادیب، قادر الکلام شاعر، صوفی دانشور اور مفکرِ ملت ہیں۔ جو لوگ روحانیت کو فرع اور عقل کو اصل جانتے ہیں‘ وہ بھی آپ ؒ کو ایک مفکر اور دانشور کے طور پر ضرور جانتے ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے اہل ِفکر ودانش آپ کو مصلحِ پاکستان کہتے ہیں۔ فکرِ واصفؒ میں ہمہ گیریت ہے۔ ہر مکتبہ ٔ فکر کا آدمی آپؒ کے اقوال پڑھتا اور اور اُن سے نصیحت کا عطر کشید کرتا ہے۔

درسِ نظامی کی ٹوپی سر پر رکھنے والا طالبعلم ہو یا سینئر کیمبرج میں پڑھنے والا جین جیکٹ میں ملبوس نوجوان ‘ فکرِ واصف ؒ ہر دو کی فکر کو متوجہ کرتا ہے۔ آپ ؒ نے پاکستان ، اسلام اور رُوحانیت کا ایک ایسا فکری سنگم پیدا کیا ہے کہ اس ملک میں اَب لادینیت کا وجود نہیں رہنے کا‘ اور دین کے نام پر ملک کا نام بدنام کرنے والے عناصر بھی اب یہاں ہیں پنپے کے!! اسلام ، پاکستان اور روحانیت کایہ فکری ثلاثہ لافانی ہے۔فی زمانہ اہل پاکستان کو ایک فکری پلیٹ فارم پر متحد کرنے کیلئے فکر ِ واصفؒ سے بڑھ کوئی نسخہ میسر نہیں۔ فکرِ واصف ؒ ہر خاص و عام کیلئے اخلاقی تربیت کا سامان بھی ہے، روحانیت کے طالب کیلیے رُوحانی بالیدگی کا زینہ بھی‘ اور جملہ اہل ِ وطن کیلئے حب الوطنی کا ایک سنگیت بھی!! آپ ؒ کی روحانیت قابل ِ تحریر ہے اور آپ ؒ کی تحریر ایک تحیر آمیز روحانیت ہے۔ آپؒ کی گفتگو کردار ساز ہے ‘ اور آپ ؒ کی تصانیف مصنف ساز! دیکھتے ہی دیکھتے بہت سے نوجوان فکرِ واصف کے زیرِ اثر لکھنے کی طرف راغب ہوئے ہیں اور ان کے اسلوب اور فکر میں فیضان ِ واصف ؒ کا سریان واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔

اقوال ِ واصفؒ کا اسلوب نہج البلاغہ کی یاد دلاتا ہے۔ دانشوروں کے ساتھ آپ ؒ کی سوال و جواب کی نشستوں میں ’’سلونی سلونی‘‘ کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ سرِ راہ آپ ؒ کا ایک جملہ کسی کی زندگی کارُخ بدل دیتا ہے۔آپؒ کا ہر فقرہ فکری انتشار کو شانتی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔واصف ؒخیال جس علم کی طرف راہنمائی کرتا ہے‘ تعلیم اُس کا نورانی قاعدہ ہے۔بے علم کو تعلیم سے آراستہ کرنا اور تعلیم یافتہ کو بدعلمی سے بچانا فکرِ واصفؒ کا خاصہ ہے۔

آپ ؒ کے نزدیک پاکستانیت ایک نَو دریافت شدہ رُوحانی سلسلہ ہے، ایک مضمون ’’صاحب ِ حال‘‘ میں لکھتے ہیں
’’جس طرح ہمارے ہاں طریقت کے سلاسل ہیں۔ چشتی ٗ قادری ٗ نقشبندی ٗ سہروردی وغیرہ اور ہر سلسلہ کا کوئی بانی ہے ٗ اسی طرح قائداعظمؒ سے ایک نئی طریقت کا آغاز ہوتا ہے اور وہ طریقت ہے ’’پاکستانی۔‘‘ اس طریقت میں تمام سلاسل اور تمام فرقے شامل ہیں۔ ہر ’’پاکستانی‘‘ پاکستان سے محبت کو ایمان کا حصہ سمجھتا ہے۔ ہمارے لئے ہمارا وطن خاک حرم سے کم نہیں۔ اقبال ؒنے مسلمانوں کو وحدت افکار عطا کی ٗ قائداعظمؒ نے وحدت کردار‘‘

ایک مستحکم پاکستان کیلئے ہمیں ایک ایسے فکری سرمائے کی ضرورت ہے جو دانش کی سطح پر بھی ذہنوں کو یکجا کرسکے اور رُوحانی سطح پر بھی دلوں کو موہ کر وحدت کی مالا بنا دے۔ علامہ اقبال ؒ نے پاکستان کا خیال پیش کیا، قائد اعظمؒ کے جہد مسلسل نے اِس خیال کو تعبیر آشنا کیا، اب ہم تعمیر اور استحکام کی منزلوں کی جانب گامزن ہیں۔ حضرت واصف علی واصفؒ نے پاکستان کی رُوحانی سطح پر تشریح کی ہے‘ اَرباب بست و کشاد پر لازم ہے کہ وہ آپؒ کے کام اور کلام کو یکجا کریں ‘ شامل ِ نصاب کریں ‘ تاکہ خدائے یکتا کو ماننے والے یکجا ہو سکیں… اور خواب اور تعبیر کے بعد تعمیر کامرحلہ طے ہو۔

حضرت واصف علی واصف ؒ نے تصورِ پاکستان میں روحانی اور فکری رنگ بھر دیے ہیں۔ آپؒ اُن صاحبانِ فکرو فن کے سرخیل اور امام ہیں جنہوں نے اپنے قلم اور کلام سے استحکام ِ پاکستان کیلئے شبانہ روز جدوجہد کی ‘ فکری انتشار کو اتحاد میں ڈھالنے کی سعی کی‘ اور وحدت ِملّی کیلیے فکر سازی کی۔ خوش قسمتی سے ہمارے پاس فکرِ واصف ؒکی صورت میں ایک ایسا طرزِ فکر موجود ہے‘ جو اسلوب میں جدید ہے اور تاثیر میں قدیم‘ اور جس کے اندر روح ِ دِین نفخ شدہ ہے۔ فی زمانہ فکرِ واصف ؒسب مکاتب ِ فکر کیلیے بیک وقت قابل ِ قبول ہے۔ کسی بھی دینی اور سیاسی مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والا نوجوان ہو ‘ اَقوال ِ واصف ؒ سے یکساں متاثر ہوتا ہے!! یہ اہل ِ فکرکا ایک مسلسل مشاہدہ ہے کہ جس نوجوان کی رغبت واصفی فکر کی طرف ہوجاتی ہے ‘ وہ اپنی گروہی اور مسلکی عصبیتوں سے باہر نکل آتاہے۔ فرقہ واریت کی گمراہی کے اِس دَور میں فکرِ ِواصف ؒ قوم کیلئے ایک آسمانی تحفے سے کم نہیں۔ تعلیمات ِ واصف ؒ ہمیں برداشت‘ رواداری ‘ تحمل اور دوسروں کو فراخ دلی سے معاف کرنے اور معافی مانگنے کا اسلوب سکھاتی ہیں… اور ہمارے قلب و نظر میں دینی ‘ اخلاقی اور رُوحانی قدروں کی قدر دانی کاذوق پیدا کرتی ہیں۔

نظم کا پیرایہ ہو یا نثر کا پیرا‘ وطن کا دَرد اور اِس دَرد کا درماں بیان کرنا کلام ِ واصف ؒ کا وہ وصف ہے ‘ جو آپ ؒ کے ’’مصلح ِ پاکستان‘‘ ہونے کا مظہر ہے۔ پاکستان اور پاکستان سے محبت کا درس آپؒ کی طریقت کا نشانِ اِمتیاز ہے۔ آپ ؒ کی رُوحانی ذمہ داریوں میں سب سے اہم ذمہ داری استحکام ِ پاکستان کیلئے اہل ِفکر و دانش میں شعور کی بیداری ہے۔ درحقیقت ایک عظیم رُوحانی انقلاب کیلئے آپ ؒ کی تحریریں میدانِ فکرو عمل تیار کر چکی ہیں۔ واصفؒ کا بیان ‘وقت کا بیانیہ ہے۔

قوم میں شعورِوحدت پیداکرنے کیلئے حضرت ِواصف ؒ لائحہِ عمل دے رہے ہیں:
’’قوم میں وَحدت کا شعور پیدا کرنے کے لیے ہر سکول میں سندھی، پشتو اور پنجابی زبانیں لازمی کر دی جائیں۔ انگریزی سکولوںاور دِینی مدرسوں کا نصاب یکساں کر دیا جائے۔ ورنہ وہی کچھ ہوتا رہے گا ‘جو ہو رہا ہے‘‘۔

موجودہ دَور میں اندرونی اور بیرونی نامساعد حالات میں اضطراب ہمارا ایک اجتماعی رویہ بن کر سامنے آیا ہے۔ اس رویے کو بعض لوگ ڈیپریشن اور بعض فرسٹریشن کا نام دیتے ہیں۔ کسی کمزوری کوممکنہ طاقت کی شکل دینا صرف صاحبانِ تصرف ہی کا کام ہوتا ہے۔ اضطراب کی اِس تنگنائے کو قلزم ِ وحدت سے ہمکنار کرنے کا سبق دیتے ہوئے آپ ؒ فرماتے ہیں:
’’اضطراب ایک قوت ہے۔ تشخص کا ایک مقام ہے۔ پہچان کا ایک زاویہ ہے، شخصیت کا ایک پہلو ہے ۔ مضطرب قومیں اپنے لیے نئے سورج تراش لینے میں اکثر کامیاب ہوتی ہیں‘‘

اِس گھٹا ٹوپ صورت ِحال میں ایک روشن مستقبل کی نویددینا اہل ِ سخن نہیں بلکہ اہل ِ مشاہدہ کی قدرت ہوا کرتی ہے۔ فرماتے ہیں:
’’حال کے بدحال ہونے کے باوجود مستقبل کے خوش حال ہونے کی اُمید ترک نہیں کرنی چاہیے‘‘
’’اِنتظار ترک نہ کیا جائے … رحمت ہوگی… اُمّید کا چراغ جلے گا‘‘
اِس قوم کو دنیا کی عظیم قوم بنانے کیلیے آپ ؒ اخلاقیات کا نصاب مرتب کر رہے ہیں ۔فرماتے ہیں:
’’ہم ایک عظیم قوم بن سکتے ہیں ‘اگر ہم معاف کرنا اور معافی مانگنا شروع کردیں‘‘
’’وحدت ِ عمل اور وحدتِ کردار… یہی اور صرف یہی ہمارے لیے راہِ نجات ہے‘‘

’’اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں… اپنے اعمال اور اپنے مال میں سب کو شریک کریں… دوسروں کی عزت کریں تا کہ ہماری عزت محفوظ ہو !!‘‘

آزادی ایک مسلسل نگہبانی چاہتی ہے۔ جو قومیں خود پر نگہبان نہ ہوسکیں ‘ اُن پر دوسری قوموں کو نگہبان کر دیا جاتا ہے۔ آزاد ہوجانے کے بعد آزادی کیسے برقرار رکھی جا سکتی ہے… اِس پر فرماتے ہیں:

’’ آزادی کی صرف ایک ہی قیمت ہے… مستقل اور مسلسل بیداری! غلام قومیں سوتی ہیںاور آزاد قومیں بیدار رہتی ہیں‘‘
اپنی نظم ، نثر اور گفتگو سے قوم کو بیداری کا سبق دینے والا یہ درویش ۱۸جنوری ۱۹۹۳ء کو ابدی آرام پانے کیلئے میانی صاحب جا سویا۔ درویش کا سونا جاگنا برابر ہوتا ہے۔ آپ ؒ کا مزار مرجع ِ خلائق بن گیا اور آپ ؒ ہی کا کہا ہوا یہ فقرہ یاد دلاتا ہے کہ ہم لوگ زندگی کوقبرستان بنائے بیٹھے ہیں اور درویش اپنی قبروں پر میلہ لگا لیتاہے۔ عجب بیداری کی زندگی ہے‘ حّی وقیوم کی معیت میں ہمہ حال بیداری!! فی الواقع نفس کی غلامی سے آزاد ی حاصل کرنے کا صلہ ہمیشہ کی بیداری ہے۔ ظاہر ہے ‘ موت کا ذائقہ تو صرف نفس کے حصے میں آتا ہے۔

Comments

ڈاکٹر اظہر وحید

ڈاکٹر اظہر وحید

ڈاکٹر اظہر وحید ایک صوفی دانشور، کالم نگار، مصنف اور نعت گو شاعر ہیں۔ حضرت واصف علی واصفؒ کے مرید اور قلمی جانشین ہیں۔ سہ ماہی جریدے "واصفؒ خیال" کے بانی و مدیر ہیں۔ عصرِ حاضر کے فکری الجھاؤ میں سلجھاؤ کی تدبیر ان کے فکر و ہنر کا خاصا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */