ریپ کے متعلق حدود آرڈی نینسز کی دفعات - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

گلگت-بلتستان کے دورے کی وجہ سے فیس بک سے دوری رہی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ موٹروے پر ریپ کے واقعے کے تناظر میں بعض لوگوں نے حسبِ دستور اسلامی قانون پر تنقید کا سلسلہ شروع کیا اور اس کےلیے حسبِ سابق پاکستان میں رائج حدود آرڈی نینسز کے خلاف پروپیگنڈا کو سچ باور کرانے کا کام کیا۔ دو سال قبل اس موضوع پر انتہائی تفصیل سے بحث کرکے اس سارے پروپیگنڈا کی حقیقت میں واضح کرچکا ہوں۔ اس وقت صرف چند مختصر نکات پیشِ خدمت ہیں:

1- حدود آرڈی نینسز کے نام سے پاکستان میں جو قوانین 1979ء میں رائج کیے گئے، ان میں دو کو خصوصی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے: ایک جرمِ زنا کے متعلق آرڈی نینس اور دوسرا جرمِ قذف کے متعلق آرڈی نینس۔

جنرل مشرف کے دور میں 2006ء میں جب جیو ٹی وی نے ایک پوری پروپیگنڈا مہم شروع کی، جس میں بعض نامی گرامی دانش وروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اس مہم کا فوکس بھی انھی دو آرڈی نینسز پر تھا۔ چنانچہ ایک بھرپور مہم کے بعد " تحفظِ حقوقِ نسواں" کے نام سے ایک قانون منظور کرکے ان دو آرڈی نینسز کی بہت سی دفعات منسوخ کی گئیں، یا ان میں ترمیم کی گئی، جبکہ سرقہ و حرابہ اور شراب نوشی کے متعلق آرڈی نینسز کو نہیں چھیڑا گیا اور وہ جوں کے توں رائج رہے۔ 2006ء کے بعد سے ریپ کے موضوع پر جرم زنا آرڈی نینس یا جرمِ قذف آرڈی نینس کا اطلاق ہی نہیں ہوتا۔ اس لیے جو لوگ آج بھی اسلامی قانون، یا ان حدود آرڈی نینسز، کو نشانہ بنارہے ہیں، وہ محض خود کو روشن خیال ثابت کرنا چاہتے ہیں، یا دل کا بغض انھیں مجبور کررہا ہے، یا وہ جہل مرکب کا شکار ہیں۔ ان تین کے سوا کوئی چوتھی وجہ میری سمجھ میں نہیں آتی۔ اگر ان کے نزدیک کوئی چوتھی وجہ ہے تو واضح کرکے عند اللہ ماجور اور عند الناس مشکور ہوں۔

2- جہاں تک 2006ء سے قبل زنا اور قذف کے متعلق حدود آرڈی نینسز کی دفعات کے اطلاق کا تعلق ہے، ان کے متعلق چونکہ بہت زیادہ پروپیگنڈا کیا گیا ہے، اس لیے لوگوں نے کئی جھوٹی باتوں کو سچ مان لیا ہے۔ ایسی تین جھوٹی باتیں یہاں مختصراً ذکر کی جاتی ہیں:

الف- "ریپ کی شکار خاتون سے مطالبہ کیا جاتا تھا کہ وہ چار گواہ پیش کرے۔"

حدود آرڈی نینسز کی بنا پر خواتین کے ساتھ ہونے والے ظلم کا سبب انگریزوں کا دیا گیا پولیس کا نظام، انگریزوں کا دیا گیا عدالتی نظام اور انگریزوں کی دی گئی دو استثناءات (نیک نیتی اور مفادِ عامہ) ہیں۔ تبرا کرنا ہے تو انگریزوں پر کیجیے، یا ان کے گماشتوں پر کیجیے۔

زنا بالجبر کے متعلق جرمِ زنا آرڈی نینس کی دفعات پر مجھے یہ اعتراض تھا کہ زنا بالجبر کے جرم پر زنا کا نہیں بلکہ سیاسہ کے اصولوں کا اطلاق ہوتا تھا، لیکن جہاں تک اس مخصوص جھوٹ کا تعلق ہے، یہ محض جھوٹ ہے اور کوئی بھی شخص اس آرڈی نینس کا متن نکال کر دیکھ سکتا ہے کہ اس نے زنا بالجبر کو دو قسموں میں تقسیم کیا تھا: مستوجبِ حد اور مستوجبِ تعزیر۔ اگر مطلوبہ معیار پر چار گواہ ہوتے، تو ریپ کے مجرم کو حد کی سزا دی جاتی، ورنہ قرائن، میڈیکل رپورٹ اور واقعاتی شہادتوں کی بنا پر جرم ثابت ہوتا تو اسے تعزیری سزا دی جاتی ، جو سزاے موت بھی ہوسکتی تھی۔ چنانچہ یہ مطالبہ پنجاب پولیس کی جانب سے کیا جاتا رہا ہو، تو الگ بات ہے، ورنہ حدود آرڈی نینسز کی رو سے یہ ہرگز ضروری نہیں تھا۔
-----

ب- "اگر ریپ کی شکار خاتون چار گواہ نہ لاتی، تو اسے زنا کی اقراری مجرمہ بھی مانا جاتا اور اسے قذف کی سزا بھی دی جاتی۔"

یہ بھی محض جھوٹ ہے۔ پہلے قذف کی بات لے لیجیے۔ قذف آرڈی نینس میں قذف کی تعریف یہ کی گئی تھی کہ قذف سے مراد زنا کا الزام ہے اور ساتھ میں تصریح کی گئی تھی کہ زنا کی تعریف وہی ہے جو جرمِ زنا آرڈی نینس میں ہے۔ دوسری جانب جرمِ زنا آرڈی نینس میں زنا اور زنا بالجبر کو دو الگ جرائم قرار دے کر ان کی الگ الگ تعریف دی گئی تھی۔ چنانچہ زنا بالجبر کے الزام کو قانون کی رو سے قذف نہیں کہا جاسکتا تھا اور اس کی تصریح وفاقی شرعی عدالت نے بھی اپنے فیصلے میں کی۔

جہاں زنا بالجبر کی شکایت کو زنا کا اقرار ماننے کی بات ہے، یہ عمل بھی پنجاب پولیس کی جانب سے کیا جاتا رہا لیکن وفاقی شرعی عدالت نے واضح کیا کہ یہ قانون کی غلط تعبیر ہے اور اس نے زبردستی اس کا راستہ روکا۔ نیز زنا کے اقرار کے متعلق جرمِ زنا آرڈی نینس میں بہت کڑی شرائط تھیں جن کے پورا کیے بغیر اقرار تسلیم ہی نہیں کیا جاسکتا تھا۔

-----
ج- "ریپ کا جرم ثابت ہوجاتا اور مجرم غیرمحصن ہوتا تو اسے محض سو کوڑے مارے جاتے۔"

اتنا صریح جھوٹ اتنی بار بولا گیا ہے (یاد کیجیے: غامدی صاحب کے دامادِ عزیز کا لکھا گیا ڈراما)، کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی اس غلط فہمی کا شکار ہوگئے ہیں، حالانکہ کوئی بھی شخص ذرا سی محنت کرکے جرمِ زنا آرڈی نینس کا متن نکال کر دیکھ سکتا ہے کہ زنا بالجبر کا جرم ثابت ہونے کی صورت میں اگر مجرم کے غیرمحصن ہوتا تو اسے سو کوڑے مارنے کے علاوہ تعزیری سزا بھی دی جاسکتی تھی جو سزائے موت بھی ہوسکتی تھی! واضح رہے کہ یہ سزائے موت اس صورت میں بھی دی جاسکتی تھی اگر جرم چار گواہوں کے بجاے قرائن اور واقعاتی شہادتوں سے ثابت ہوتا۔ پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟!

----------
3- اب جب یہ معلوم ہوا کہ یہ تینوں باتیں محض پروپیگنڈا تھیں، تو سوال یہ ہے کہ کیا جرمِ زنا آرڈی نینس یا جرمِ قذف آرڈی نینس کے غلط اطلاق کے ذریعے خواتین پر ظلم نہیں ہوتا تھا؟ اگر ہوتا تھا ، تو اس کا سبب کیا تھا؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ان قوانین کے غلط اطلاق سے خواتین پر ظلم یقیناً ہوتا تھا اور جو کوئی اس ظلم کا انکاری ہو، وہ محض خوش عقیدگی کا شکار ہے۔ اس ظلم کے تین بڑے اسباب تھے جن میں دو کا تعلق حدود آرڈی نینسز سے نہیں تھا۔ پہلے انھی دو اسباب پر نظر ڈال لیجیے:

الف- اولین سبب پولیس، بالخصوص پنجاب پولیس کا ظالمانہ کردار تھا اور اس ظالمانہ کردار کی جڑیں انگریزوں کے دور سے رائج پولیس کے نظام میں ہیں۔ یہ نظام ظلم اور استحصال کےلیے بنایا گیا ہے، نہ کہ مجرم کو پکڑنے اور مظلوم کو بچانے کےلیے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ڈیڑھ سو سال بعد بھی ہم اس نظام سے چمٹے ہوئے ہیں لیکن کسی دانشور کے دامادِ عزیز کو اس پر ڈراما لکھنے کی توفیق نہیں ہوتی۔

ب- دوسرا بڑا سبب وہ عدالتی نظام ہے جو انگریزوں نے یہاں رائج کیا ہے۔ اس عدالتی نظام میں مظلوم کو شکایت کنندہ فرض کرکے اسی پر یہ ذمہ داری ڈالی جاتی ہے کہ وہ پہلے خود کو مظلوم ثابت کرے اور پھر ملزم کے خلاف ثبوت و شواہد لے آئے اور اس دوران میں وہ پہلے پولیس کی تفتیش اور پھر عدالت میں وکیل جرح بھی برداشت کرے، جبکہ عدالت محض خاموش تماشائی بن کر دیکھتی رہے گی۔ جب تک انگریزوں کا رائج کیا گیا یہ ظالمانہ عدالتی نظام جڑ سے نہیں اکھاڑا جائے گا، کسی مظلوم کی دادرسی کا صرف خواب ہی دیکھا جاسکتا ہے لیکن سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ "عورت فاؤنڈیشن" کےلیے حدود قوانین کے خلاف کتاب لکھنے والے نام نہاد مذہبی دانشور اس عدالتی نظام کے خلاف ایک جملہ بھی لکھ سکیں۔

اب آئیے اس سبب کی طرف جو حدود آرڈی نینسز کے متن میں موجود تھا۔

وہ سبب یہ ہے کہ جرمِ قذف آرڈی نینس کی رو سے اگر کسی پر زنا کا الزام لگایا جاتا اور وہ بعد میں ثابت نہ کرپاتا ، تب بھی وہ قذف کی سزا سے بچ جاتا ، اگر وہ دو میں سے کوئی ایک عذر پیش کرتا:
ایک یہ کہ میں نے الزام "نیک نیتی "سے لگایا تھا، میں اس خاتون کو بدنام نہیں کرنا چاہتا تھا بلکہ قانون کی عمل داری یقینی بنانا چاہتا تھا؛ اور
دوسرا یہ کہ میں نے الزام "مفادِ عامہ" کی خاطر لگایا تھا کیونکہ عوام الناس کا حق ہے کہ معلومات تک ان کی رسائی ہو۔
پہلے عذر کی بنا پر پولیس والے غلط ایف آئی آر کاٹ کر اور جھوٹا مقدمہ دائر کرکے بھی بچ جاتے ؛ اور دوسرے عذر کی بنا پر اخبارات والے "رنگ رلیاں مناتے ہوئے پکڑے گئے" کی خبر لگا کر بھی صاف نکل جاتے۔

ان دونوں میں کوئی عذر بھی اسلامی قانون نہیں مانتا۔ سوال یہ ہے کہ پھر جرمِ قذف آرڈی نینس میں یہ عذر کہاں سے آگئے ؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ عذر انگریزی قانون نے ازالۂ حیثیتِ عرفی (defamation) کے سلسلے میں مانے ہیں۔ اب بھی مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 499 دیکھ لیجیے جہاں defamation کی تعریف سے یہ استثناءات ذکر کی گئی ہیں۔ وہیں سے یہ استثناءات انھی الفاظ کے ساتھ لے کر جرمِ قذف آرڈی نینس میں جوں کی توں نقل کی گئیں۔ اہم بات یہ ہے کہ 2006ء میں "تحفظِ حقوقِ نسواں" کا بل منظور کرتے ہوئے بھی ان استثناءات کو نہیں چھیڑا گیا اور اب بھی اس آرڈی نینس میں یہ استثناءات جوں کی توں موجود ہیں! آخر آقا کے دیے گئے قواعد و ضوابط کو کوئی کیسے چھیڑ سکتا ہے اور ان کے خلاف کسی کا کوئی دامادِ عزیز ڈراما کیسے لکھ سکتا ہے؟
-----

سو باتوں کی ایک بات:
حدود آرڈی نینسز کی بنا پر خواتین کے ساتھ ہونے والے ظلم کا سبب انگریزوں کا دیا گیا پولیس کا نظام، انگریزوں کا دیا گیا عدالتی نظام اور انگریزوں کی دی گئی دو استثناءات (نیک نیتی اور مفادِ عامہ) ہیں۔ تبرا کرنا ہے تو انگریزوں پر کیجیے، یا ان کے گماشتوں پر کیجیے۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */