معرکہ (5) - ریحان اصغر سید کی شاہکار کہانی

پہلی قسط
دوسری قسط
تیسری قسط
چوتھی قسط

باس سمجھ چکا تھا کہ ”روشنی والے“ ٹرک کے پچھلے حصے میں قید ڈاکٹرز کو چھڑانے آٸے ہیں۔ ورنہ جو میزائل سڑک پر فائر کیا گیا تھا۔ اسے ٹرک پر مار کر کہانی ہی ختم کردی جاتی۔ اس لیے اس نے نمبر تھری کو قیدی ڈاکٹرز کو قتل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ نمبر تھری ٹرک کی باڈی کے نیچے سے رینگتا ہوا پچھلے حصے کی طرف آیا۔ سارے حملہ آور سامنے اور دائیں بائیں تھے۔ اس نے خاموشی سے پچھلی حصے کا تالہ کھولا۔ اس سے پہلے کہ وہ آہنی دروازے کے پٹ کھولتا، ایک نوجوان ڈاکٹر پھرتی سے اٹھا اور اس نے اندرونی جانب سے دروازے پر ٹانگ ماری۔لوہے کا وزنی دروازہ بڑی رفتار اور طاقت سے نمبر تھری کے چہرے پر لگا۔ نمبر تھری گویا ہوا میں اڑتا ہوا دور جاگرا۔

چلو جلدی نکلو یہاں سے۔

نوجوان باقی ڈاکٹرز سے مخاطب تھا۔۔ان کے ہاتھ ہتھکڑیوں میں بندھے ہوٸے تھے، لیکن پاٶں آزاد تھے۔ وہ ہوا کے لیے بنائے گئے جھالی دار سوراخوں سے ساری صورتحال سے باخبر ہوچکے تھے۔

گرنے سے پہلے نمبر تھری کی گن اس کے ہاتھ سے نکل گئی تھی۔ نوجوان ڈاکٹر نے نیچے چھلانگ لگاتے ہی سب سے پہلے اس کی گن کو ٹھوکر مار کر کھائی میں گرادیا۔ نمبر تھری اٹھ چکا تھا اور اپنے پچکے ہوئے خون آلودہ سر کے باوجود ان کے خاتمے کے لیے پر عزم دکھائی دیتا تھا۔ مغوی ڈاکٹر اب ٹرک کے دوسرے پہلو سے سامنے کی طرف بھاگ رہے تھے۔ سفید پوشوں نے انھیں دیکھ لیا تھا اور ان کے پیچھے بھاگتے نمبر تھری کو بھی۔۔۔اگلے ہی لمحے ایک سفید پوش کے فائر کیے گے میزائل نے نمبر تھری کو دھواں بناکر غائب کردیا۔ جنگ بظاہر ختم ہوچکی تھی۔ چار سیاہ پوش مارے جاچکے تھے۔۔ جب کہ چٹان کی اوٹ میں چھپا ان کا باس ایمونیشن ختم ہوجانے پر خالی گن کو سر کے نیچے تکیہ بنائے آسمان کو گھور رہا تھا۔

مجھے پتا ہے تم پتھر کے پیچھے چھپے ہوئے ہو۔۔۔اپنی گن پھینک کر باہر آ جاٶ۔۔۔تم چاروں طرف سے گھیرے میں ہو۔
سفید پوشوں کے امیر نے بلند آواز سے اسے پکارا۔

جھوٹ مت بولو ایک طرف تو کھائی ہے۔۔۔یہ کل ملا کر تین سمتیں بنتی ہیں۔

چٹان کی اوٹ سے باس کی مضحکہ خیز آواز سنائی دی۔

کیا بکواس کر رہے ہو۔۔؟
امیر نے حیران ہو کر پوچھا۔

بکواس تو تم کررہے ہو۔۔ تمھیں شرم نہیں آتی داڑھی رکھ کے جھوٹ بولتے ہوٸے۔۔۔
باس نے اسی انداز میں جواب دیا۔

اس کے منہ نہ لگیں یہ ایک نمبر کا مسخرہ ہے۔۔اس کو ویسے ہی اڑا دیں۔
ایک ڈاکٹر نے امیر کو مشورہ دیا۔

اگر میں نے اس کو مار دیا تو تم لوگوں کی ہتھکڑیاں کیسے کھلیں گی۔۔۔؟
اس کا کارڈ یقیناً اس جوکر کے پاس ہو گا۔
امیر نے متانت سے سمجھایا۔۔
کیا چاہتے ہو تم؟

امیر نے پوچھا۔۔اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے باقی بچ جانے والے چار ساتھیوں کو باس کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا اشارہ کیا۔ وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ باس کی گن کی گولیاں ختم ہوچکی ہیں۔

کچھ زیادہ نہیں۔۔۔صرف اتنا کہ تم ہمیں ہمارے قیدیوں سمیت جانے دو۔۔
باس نے فرمائش کی۔

ہاں کیوں نہیں۔۔۔چلو باہر نکلو شاباش اور اپنے قیدی لے کر چلے جاٶ۔۔۔

امیر نے اسے پچکارا۔۔۔ وہ جھک کر چلتا ہوا اس کی چٹان کے بالکل نیچے پہنچ گیا تھا۔

باس گن پھینک کر باہر آگیا۔۔۔

ابے یار، پھر میری اتنی مہنگی گاڑی تباہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔ چلو دوستو، پہلے ہی بہت وقت ضائع ہوگیا ہے۔
باس نے بیک وقت ڈاکٹرز اور اپنی ساتھیوں کو بلانے کے لیے ہانک لگائی۔۔۔

آہ۔۔۔لگتا ہے سارے جہنم کے لیے نکل لیے۔۔۔
کوئی جواب نہ پا کے باس بڑبڑایا۔
زیادہ ڈرامے نہ کرو۔۔۔۔ہاشم اسے ہتھکڑی پہناٶ۔۔۔

یار۔۔۔ایک تو تم جھوٹ بہت بولتے ہو۔۔۔باس نے کراہ کر کہا۔۔۔پھر اپنے ہاتھ بغلوں میں دبا کر یوں منہ پھیلا کر کھڑا ہوگیا جیسے کوئی بچہ ناراض ہوجاتا ہے۔۔۔ہاشم نے اسے ہتھکڑی لگائی۔۔امیر نے اس کے چوغے کی جیب میں سے ایک ATM کارڈ کی طرح کا کارڈ برآمد کر کے مغوی ڈاکٹروں کی ہتھکڑیاں کھولی۔۔۔
ہم یہاں سے روانہ ہونے والے ہیں۔
امیر نے سب کو اطلاع دینے کی غرض سے کہا۔

علی اکبر کے مرشد نے آنکھیں کھولیں تو وہ سرخ ہورہی تھیں۔ علی ان کے سامنے ادب سے دو زانو بیٹھا انھیں دیکھ رہا ہے۔
خیریت ہے مرشد۔؟۔مراقبے کے دوران آپ کے چہرے پر بہت سے تغیر رونما ہو رہے تھے۔۔ کبھی پریشانی کبھی افسوس اور کبھی مسرت۔۔۔؟
بزرگ مسکراٸے۔۔۔
ایک اچھی خبر ہے علی اکبر۔۔
ماشاء اللہ.
علی خوش ہو گیا۔

”روشنی والوں“ کے کچھ روحانی ڈاکٹر طاغوتی طاقتوں نے اغوا کر رکھے تھے۔۔ہم کافی عرصے سے انھیں ڈھونڈ رہے تھے، لیکن کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا۔۔ آج وہ انھیں کہیں دوسری جگہ پر منتقل کرنے کے لیے نکلے اور اللہ کے فضل سے ہمارے درویشوں کو اطلاع ہو گئی۔۔۔الحمدللہ وہ تمام ڈاکٹر خیر و عافیت سے بازیاب کروا لیے گئے ہیں۔۔۔

بزرگ نے علی کو تفصیل بتاٸی۔۔
آنکھیں بند کرو علی۔۔

بزرگ نے علی کا ہاتھ پکڑ کر ہدایت کی۔ علی نے آنکھیں بند کر لیں۔۔آنکھ بند ہوتے ہی اسے اپنے مرشد نظر آٸے جن کے ساتھ پانچ لوگ بھی کھڑے تھے جنھوں نے گلے میں سٹیتھوسکوپ ڈال رکھے تھے اور ان کے ہاتھوں میں چمڑے کے بنے بیگ تھے۔ حیرت انگیز طور پر علی خود کو بھی وہاں کھڑا دیکھ رہا تھا۔ بزرگ نے ایک ڈاکٹر سے کچھ کہا تو اس نے ادب سے اپنا سر جھکایا اور چلتا ہوا آ کر علی کے پہلو میں کھڑا ہوگیا۔ یہ وہی نوجوان ڈاکٹر تھا جس نے نمبر تھری کو ناک آوٹ کیا تھا۔
ان کا نام ڈاکٹر حسنین ہے۔ یہ اپنی زندگی میں ہوائی فوج کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔۔یہ آج سے تمھارے ساتھ رہیں گے۔۔تمھاری مدد کریں گے۔

بند آنکھوں کے منظر میں بزرگ نے علی کو بتایا۔۔۔علی کا چہرہ خوشی سے کِھل اٹھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انصر زیدی کے والد شہر کے ایک معروف بزنس مین تھے۔ شریف النفس، ملنسار، ہمدرد اور غریبوں کے کام آنے والے۔ زیدی صاحب کو سوشل ورک اور غریبوں کی مدد کرنے کا جذبہ اپنے والد کی طرف ودیعت ہوا تھا۔ پہلے یہ ان کا شوق تھا پھر رفتہ رفتہ جنون بنتا گیا۔ پینتس سال کی عمر میں پہنچ کے انھوں نے کاروبار سے الگ ہوکر خود کو مکمل طور خدمت خلق کے لیے وقف کردیا۔ پہلے وہ اکیلے ہی چلے تھے منزل کی جانب پھر لوگ ملتے گئے اور قافلہ بنتا گیا۔ آج ان کی فلاحی تنظیم ”امید“ ملک کی پہلی پانچ بڑی ویلفیئر تنظیموں میں شامل تھی۔ ان کے پاس فری ایمبولینس سروس تھی، یتیم خانے تھے۔ فلاحی سکول، ہاسپٹل اور ڈسپنسریاں کا وسیع نیٹ ورک تھا۔۔یہ سب اتنا بڑا سیٹ اپ تھا کہ اس کے لیے ملک بھر میں ہزاروں رضاکاروں کے علاوہ سینکڑوں کل وقتی ملازم بھی کام کرتے تھے۔۔بلا شبہ ”امید“ لاکھوں لوگوں کی چارہ گر اور آخری امید تھی۔

حٌسن کی پری تانیا بھی ”امید“ کے ان سینکڑوں کل وقتی ملازموں میں سے ایک تھی۔ وہ گھنی سیاہ زلفوں اور جادوگر آنکھوں والی لڑکی چند ہفتے پہلے ہی ان کی سیکرٹری کے طور پر اپوائنٹ ہو کر آئی تھی۔ تانیا غریب گھرانے کی لڑکی تھی لیکن قدرت نے اسے حسن، شاٸستگی اور ذہانت بڑی فیاضی سے عطا کی تھی۔وہ خود بھی مائل بہ کرم تھی لیکن یہ بھی سچ تھا کہ اس کی من موہنی صورت زیدی صاحب کے دل میں کھب کر رہ گئی تھی۔ وہ زندگی میں پہلے دفعہ اس نشے سے روشناس ہوئے تھے۔ پرانی شراب کی طرح پکی عمر کا عشق بھی بندے کے ہوش و حواس چھین لیتا ہے۔۔زیدی صاحب نے بھی چند ہی دن میں اپنے دل کے آگے گھٹنے ٹیک دیے تھے۔ وہ کوئی ایسے گرے پڑے نہیں تھے۔۔جوانی کی تو بات ہی الگ تھی لیکن پینتالیس سال کی عمر میں بھی اونچے لمبے، گورے چٹے زیدی صاحب بہت وجہیہ اور باوقار نظر آتے تھے۔ اب ایسا بھی نہیں تھا کہ اتنے سالوں میں کسی حسینہ نے ان کے دل پر دستک نہ دی ہو۔ لیکن زیدی صاحب اپنی تنظیم کو بنانے سنوارنے اور بڑا کرنے میں اتنے مگن تھے کہ انھیں دل کی دلداری کا وقت ہی نہیں ملا۔ اب زندگی نے کچھ فراغت دی تھی تو انکا دل تانیہ کو دیکھ کر بچے کی طرح مچل گیا تھا۔

شام گئے آفس کی تنہائی، محبوب کی رفاقت اور خودسپردگی پر آمادہ قیامت خیز حٌسن۔۔۔جو بھی غضب ڈھاتا کم تھا۔
اس دوران وہ سب ہو گیا جو نہیں ہونا چاہیے تھے۔ زیدی صاحب نیک اور دین دار انسان تھے لیکن آخر انسان تھے۔ شیطان صرف وسوسہ ڈالتا ہے عمل بد انسان خود کرتا ہے۔۔اس کے بعد اگر دل میں خوف خدا اور ایمان کی حرارت ہو تو وہ رب اور ضمیر کے سامنے شرمندہ ہوجاتا ہے۔۔زیدی صاحب بھی ہوئے۔۔۔ انھوں نے خدا سے اپنے گناہ کی معافی مانگی اور تانیہ سے بھی۔۔۔۔لیکن اسے کوئی اعتراض نہیں تھا۔

میں جلد سے جلد تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں تانیہ۔۔ورنہ مجھے خدشہ ہے کہ شیطان ہمیں پھر نہ بہکا دے۔۔۔
لیکن تانیہ کی سو مجبوریاں تھیں۔۔ اسے پہلے اپنے سے بڑی دو بہنوں کی شادی کرنی تھی۔۔ اس کے لیے مناسب رشتوں اور جہیز کا بندوبست کرنا تھا۔۔۔زیدی صاحب گہری سانس لیکر رہ گئے۔۔

جب انسان خود کو اس آزمائش میں ڈال لیتا ہے جو اس کی طاقت سے بڑی ہوتی ہے تو پھر شیطان کا کام آسان ہوجاتا ہے۔۔۔یہاں تو تانیہ بھی شیطان کے ساتھ ملی ہوئی تھی۔ وہ اچھی لڑکی تھی لیکن مالی مجبوریوں نے اسے ثقلین کی کٹھ پتلی بنا دیا تھا۔ شیطان اور تانیہ دونوں نے مل کر دوبارہ زیدی صاحب کو اکسایا اور پھر۔۔۔ یہ اکثر ہونے لگا۔۔۔مسلسل گناہ ایمان اور ضمیر کو کمزور کردیتا ہے۔۔ہر دفعہ احساس ندامت کا قد گھٹتا جاتا ہے اور بندے کا نفس اس کے گناہ کو چھوٹا اور اللہ کی گناہ بخشنے کی سنت کو بڑا کر کے دکھاتا ہے۔۔۔یہی سب زیدی صاحب کے ساتھ بھی ہوا لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چلا۔۔چلنا بھی نہیں تھا۔۔شکاری نے تو جال بچھایا ہی زیدی صاحب کے لیے تھا۔ جب اس کے پاس ان کے گناہ کا ویڈیو ثبوت لگا تو اس نے زیدی صاحب سے رابطہ کر لیا۔۔
مزے کر رہے ہو استاد۔۔؟

یہ ثقلین کی آواز تھی۔۔زیدی صاحب حیران ہوئے.

کس کو کال کی ہے۔۔؟ میں انصر زیدی بات کر رہا ہوں۔۔”امید“ کے ہیڈ آفس سے۔

پیارا نام ہے۔۔۔شہرت بھی اچھی ہے۔۔۔لیکن کردار بہت گھناٶنا ہے۔۔۔تمھیں شرم نہیں آتی اپنی غریب سیکرٹری کی عزت سے کھیلتے ہوئے۔۔۔۔؟

زیدی صاحب سن ہو کر رہ گئے۔۔انھوں نے اپنے آفس شیشے کے پار سے اپنی کرسی پر بیٹھی کمپوٹر پر کام کرتی تانیہ کو دیکھا۔

کیا بکواس کر رہے ہو۔۔؟

تردید مت کرنا میرے پاس ویڈیو ثبوت ہے۔۔۔اگر میں نے اسے سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہو گے۔ ساری عمر کی کمائی عزت مٹی میں مل جائے گی۔۔۔ لوگ تھوکیں گے تم پر۔۔۔کون آیندہ اعتماد کرے گا تم پر اور تمھاری تنظیم پر۔۔۔؟ تمھارا تو سارا کام ہی ڈونیشنز پر چلتا ہے۔

ثقلین کا انداز پختہ اور دو ٹوک تھا۔۔۔زیدی صاحب نے دنیا دیکھی ہوئی تھی۔۔وہ سمجھ گئے تھے کہ وہ برا پھنس گئے ہیں۔۔۔انھوں نے ماتھے پر چمکتے پسینے کو رومال سے پونچھا۔۔
بکواس بند کرو گھٹیا انسان۔۔

زیدی صاحب نے فون تو بند کر دیا تھا لیکن اپنے ذہن میں بجتی خطرے کی گھنٹی کو بند کرنا ان کے اختیار میں نہیں تھا۔۔۔
کچھ دیر بعد ثقلین نے ایک سوشل میڈیا ایپ کے ذریعے ان کے گناہ کی گواہ ویڈیو سینڈ کر دی۔۔ویڈیو بہت کلیر اور واضح تھی۔۔جس کی تردید ممکن نہیں تھی۔۔زیدی صاحب حیران تھے کہ ان کے آفس میں یہ کیمرہ کس نے چھپا کر رکھا تھا۔ اصولی طور پر پہلا شک تانیہ پر جاتا تھا لیکن ان کا دل نہیں مانتا تھا کہ تانیہ ایسا کرسکتی ہے۔ ان کی محبت کو اتنا بھی گوارا نہیں تھا کہ وہ تانیہ کو بلا کر اس معاملے میں پوچھ گچھ کرتے۔۔بلیک میلر دوبارہ فون کر رہا تھا۔

تمھیں پیسے چاہیں۔۔۔؟
پیسے کس کو نہیں چاہیے بابو؟

تم شاید مجھے بہت امیر سمجھتے ہو گے لیکن میں شاید تمھاری محنت کی معمولی قیمت بھی نہ ادا کرسکوں۔۔۔

میرے پاس اپنا کچھ بھی نہیں ہے۔ جو کچھ تھا میں نے ”امید ٹرسٹ“ کو دے دیا ہے۔۔۔ مجھے خاندانی کاروبار سے بھائی کچھ رقم ہر مہینے منافع کی مد میں ادا کرتے ہیں جس سے میرے گھر کا خرچہ چلتا ہے۔۔ میرے پاس آٹھ سو سی سی کار کا پندرہ سال پرانا ماڈل ہے اور ایک چھوٹا سا گھر۔۔۔پھر بھی میرے پاس جو کچھ ہے میں تمھیں دے دوں گا تمھیں خدا کا واسطہ ہے لوگوں سے ان کی امید مت چھیننا۔

زیدی صاحب کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔۔۔
ٹرسٹ کے اکاونٹ میں جو اربوں پڑے ہیں ان کا کیا؟

وہ میرے نہیں ہیں۔۔۔ان میں سے ایک روپے پر بھی میرا حق نہیں ہے۔۔۔۔!

لیکن تم وہ نکلوا سکتے ہو۔۔۔یہ تو میں جانتا ہوں۔۔

ثقلین کے انداز سے لگتا تھا کہ وہ ٹرسٹ کے مالی معاملات کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہے۔
ایسا ممکن نہیں ہے۔
زیدی صاحب نے انکار میں سر ہلایا۔

جھوٹ مت بولو زیدی۔۔۔تمھاری عزت اور تمھارے ٹرسٹ کے مستقبل کا دارومدار میری دو انگلیوں کے بیچ میں ہے۔ ایک سے میں ایپ کھولوں گا اور دوسرے سے سینڈ کا بٹن دباٶں گا۔۔
کیا چاہتے ہو؟

روکڑہ۔۔۔!
کتنا؟
زیادہ نہیں۔۔۔۔صرف پانچ کروڑ۔۔۔
پانچ کروڑ۔۔۔۔؟

زیدی صاحب نے حیرت سے دہرایا۔۔۔کیا تم پاگل ہو؟

میں تمھیں پیسوں کا بندوبست کرنے کے لیے چھتیس گھنٹے کی مہلت دیتا ہوں۔۔۔اگر تم میں انسانیت کا اتنا ہی درد ہے تو پانچ کروڑ دے کر اپنی جان چھڑاٶ ورنہ سب برباد ہوجائے گا۔۔۔اور نقصان اربوں کا ہوگا۔

یہ کہہ کر ثقلین نے فون کاٹ دیا۔ اس کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ تھی، اس کا مقصد ٹرسٹ کو تباہ کرنا لیکن اگر مفت میں کچھ رقم بھی مل جاتی تو برا کیا تھا بلکہ غیرقانونی طور پر ٹرسٹ کے اکاؤنٹس سے پیسے نکال کر دینے سے ثقلین کے پاس زیدی صاحب کے خلاف ایک اور ثبوت آجاتا کہ وہ ٹرسٹ کے پیسوں کو بھی اپنے استعمال میں لا رہے تھے۔۔۔ ویڈیو وائرل ہونے سے تانیہ کی زندگی بھی برباد ہو جاتی لیکن اسے ذرہ پروا نہیں تھی۔

دوسری طرف زیدی صاحب اپنے آفس میں سر تھام کر بیٹھے تھے۔ اگلے چند دن ان کے لیے بہت اذیت ناک ہونے والے تھے۔۔۔ ان کی زندگی بھر کی کمائی، ان کے خواب کی تعبیر ایک بلیک میلر کے ہاتھ میں تھی۔۔۔ کبھی انھیں خیال آتا کہ بلیک میلر کی بات مان لیں اور چھوٹی چوری کر کے ٹرسٹ کی مکمل تباہی کے نقصان سے بچ جائیں، لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ بلیک میلرز کا لالچ کبھی ختم نہیں ہوتا۔۔۔وہ ہمیشہ پیسے مانگتا رہے گا۔

اگر ان کی زندگی ختم ہو جائے تو شاید بلیک میلر ان کی ویڈیو کو نہ پھیلائے۔۔اگر ان کی زندگی کے بدلے ٹرسٹ کو نئی حیات ملتی ہے تو یہ سودا مہنگا نہیں تھا۔ یہ سوچ اتنی طاقتور تھی کہ ان کے دماغ میں جم کر بیٹھ گئی۔۔۔وہ جتنا اس کے بارے میں سوچتے گئئے اتنا ہی انھیں یقین ہوتا گیا کہ اس کے علاوہ کوٸی چارہ نہیں ہے۔ انھوں نے وضو کر کے نماز پڑھی اور رو رو کر خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی۔

دعا مانگ کر وہ اپنی چھوٹی سی پرانی کار میں بیٹھے اور دریا کی جانب چل پڑے۔۔۔دریا میں گری کار سے کسی کو شک بھی نہیں ہو گا کہ یہ خودکشی کا کیس ہے۔
انھوں نے سوچا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فہیم صاحب درمیانے درجے کے ایک امپورٹر ایکسپورٹر تھے۔ بزنس اچھا چل رہا تھا، اس لیے ڈونیشنز لینے والے بھی آتے رہتے تھے۔ آج ایک یونیورسٹی کے چھ سات لڑکے لڑکیوں کا گروپ آیا ہوا تھا۔ جوانی کے رنگوں سے مزین چہرے۔۔۔عملی زندگی کی آلودگی سے پاک مسکراہٹیں۔

اوئے کہاں سے آ گئی ہے اتنی فوج۔۔۔کہاں گھسے آ رہے ہو یار۔
فہیم صاحب نے مصنوعی گھبراہٹ سے کہا۔۔
چندہ لینے آئی ہے فوج۔۔اور چندہ لے کر ہی لوٹے گی ان شاء اللہ۔۔
ایک نٹ کھٹ سی لڑکی نے اپنی آستین چڑھاتے ہوٸے کہا۔

یار اتنی صبح کون آتا ہے چندہ لینے۔۔۔؟ ابھی تو بوہنی بھی نہیں ہوئی۔۔
فہیم صاحب نے مذاق اڑایا۔

لیں سر یہ ہو گی آپ کی بوہنی۔۔۔اب دیں چندہ۔۔

ایک نوجوان نے سو روپے کا نوٹ نکال کر فہیم صاحب کے سامنے رکھا۔
بہت ظالم لوگ ہو یار تم تو۔۔۔کرتے کیا ہے ہو چندے کا؟

ہم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس ہیں سر۔۔۔ہماری باقاعدہ ایک تنظیم ہے۔ ہم ریپ کا شکار نوعمر بچیوں کی مدد کرتے ہیں اور اس بھیانک جرم کے بارے میں آگاہی اور شعور پھیلانے کے لیے کوشاں ہیں۔

ایک خوبصورت سنجیدہ صورت نوجوان نے مہذب انداز میں اپنا تعارف کرواتے ہوٸے اپنا وزٹنگ کارڈ پیش کیا ۔فہیم صاحب بھی سنجیدہ ہوگئے.

Keep it up guys. You are all my heroes ... how much donation is needed.

فہیم صاحب نے دراز سے چیک بک نکالی۔۔
six digits..

پہلے والی چنچل لڑکی مچلی۔۔اس کے پیچھے سب نے چھ ہندسوں کے لفظ کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔

خدا کا خوف کرو یار۔۔۔میری اس چھوٹی سی دکان کو دیکھو۔۔۔دوکان بھی کیا، کھوکا ہے۔۔کھوکا
سر اس شاندار آفس کو کھوکھا مت بولیں۔۔

چلیں آپ کی رہائش کے علاقے سے فیصلہ کرلیتے ہیں کہ کتنا ڈونیشن بنتا ہے۔۔
agree?
سنجیدہ نوجوان نے تصفیہ کی کوشش کی۔

done.
فہیم صاحب نے thumps up کیا۔ اور اپنے علاقے کا نام بتایا۔۔

سر وہ تو بہت مہنگا علاقہ ہے۔۔۔یار وہ بڈھا ریپسٹ بھی تو وہیں رہتا ہے۔۔
نوجوان نے اپنے ساتھی لڑکے کو کچھ یاد کروایا۔۔

وہ بڈھا خبیث۔۔۔خدا اسے غارت کرے۔۔
نوجوان نے نفرت سے جواب دیا۔۔۔

کون۔۔کس کی بات کر رہے ہو آپ لوگ۔۔؟
فہیم صاحب چونکے۔۔

سر آپ کی ہاوسنگ سکیم میں جو بڑا پارک ہے، اس کے سامنے ایک بڈھے کا گھر ہے۔۔وہ دو تین نوعمر بچیوں کو تشدد کرکے قتل کرچکا ہے۔۔کتنی ننھی ملازموں کو اس نے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس کی تو گنتی بھی مشکل ہے۔۔آخری درجے کا نفسیاتی مریض اور جنونی آدمی ہے لیکن ہر دفعہ اپنے پیسے کی طاقت پر بچ جاتا ہے۔۔۔ہم تو اس کے گھر کے باہر احتجاج کرنے کا بھی سوچ رہے ہیں۔

نام کیا ہے اس کا؟
فہیم صاحب نے بے چینی سے گھڑی دیکھی۔
بلال عزیز۔۔۔!

فہیم صاحب نے ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کر کے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی اور صائمہ کا نمبر ملایا۔۔بیل مسلسل بج رہی تھی لیکن صائمہ فون نہیں اٹھا رہی تھی۔۔۔فہیم صاحب نے پھر کوشش کی۔۔۔اور پھر ایک اور کوشش۔۔۔

sir...r u ok?

چنچل لڑکی نے ٹھنڈ کے باوجود فہیم صاحب کے ماتھے پر چمکتا پسینہ دیکھ کر کہا۔۔فہیم صاحب چونکے۔۔۔
نن نہیں۔۔۔ہاں خیریت ہی ہے۔۔۔دعا کرو خیریت ہی ہو۔۔

انھوں نے ایک دفعہ پھر گھڑی کی طرف دیکھا اور بے اختیار کھڑے ہوگئے۔

(جاری ہے)

Comments

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید فکشن اور طنز و مزاح لکھنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کم مگر اچھا اور معیاری لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */