احمد فراز دکانوں کے بند تالے کھینچتا اور پھر آگے بڑھ جاتا- اسلم فرخی

یہ 1950ء کی بات ہے، لیکن کل کی بات معلوم ہوتی ہے۔ میں ریڈیو پاکستان کراچی کے شعبۂ موسیقی سے مسودہ نگار اور ماہر زبان کی حیثیت سے وابستہ ہوا۔ شعبۂ موسیقی ان دنوں دو خیموں پر مشتمل تھا۔ چھوٹے خیمے میں انتظامی عملہ بیٹھتا تھا۔ ارم لکھنوی اور وجد چغتائی بھی وہیں بیٹھتے تھے۔ بڑا خیمہ شاہد احمد دہلوی کے تصرف میں تھا جو نگرانِ موسیقی تھے۔ اس خیمے میں ایک میز، گرداگرد کچھ کرسیاں اور ایک بڑی سی دری بچھی ہوئی جس پر بیٹھ کر موسیقار ریہرسل کرتے تھے۔ اگرچہ یہ خیمہ شاہد صاحب کے تصرف میں تھا، لیکن یہاں قاری عباس حسین کی سربراہی تھی۔ شاہد صاحب ایک کرسی پر الگ بیٹھے رہتے تھے، قاری صاحب نگرانی کے فرائض انجام دیتے تھے۔

میں اس خیمے میں کام کا جائزہ لینے گیا اور ایک کرسی پر ٹک گیا۔ ذرا دیر میں ایک جوان، لمبا قد، گورا رنگ، آنکھوں میں جوانی کی سرشاری، چہرے پر کچھ غفلت، کچھ بیداری، مضبوط ہاتھ پاؤں، توانا جسم خیمے میں داخل ہوا۔ قاری صاحب کو درمیانی کرسی پر بیٹھے دیکھا تو اُن سے مخاطب ہوا۔ ’’مجھے یہاں مسودہ نگار کی حیثیت سے بھیجا گیا ہے۔ احمد فراز میرا نام ہے۔‘‘ قاری صاحب شاہد صاحب کی طرف دیکھ کر مسکرائے۔ کہنے لگے، ’’لیجیے، یک نشد، دو شد۔ ایک دم سے دو مسودہ نگار آ گئے۔‘‘ میں نے فراز کا تعارف کرایا۔ ’’یہ شاہد احمد دہلوی ہیں۔ نام سنا ہو گا۔‘‘ فراز نے کہا، ’’نام سنا بھی ہے اور پڑھا بھی ہے۔ قاری صاحب سے تعارف ہوا۔ پھر میں فراز کے ساتھ دوسرے خیمے میں گیا۔ وہاں ارم صاحب سے تعارف ہوا۔ میں ارم صاحب کو لکھنؤ سے جانتا تھا کیوں کہ وہ میرے نانا کے ہم محلہ تھے۔ ارم صاحب کو ہم دونوں سے مل کر بڑی خوشی ہوئی اور انہوں نے ہمیں فوراً اپنی سرپرستی میں لے لیا۔ وجد چغتائی جو اُس وقت پروگرام سیکریٹری سے کسی بات پر اُلجھ رہے تھے، دوڑے آئے اور فوراً ایک تعارفی مکالمہ شروع ہو گیا۔

فراز نے بتایا کہ وہ پشاور سے آیا ہے۔ شعر کہتا ہے۔ پھر ہماری فرمائش پر اُس نے ایک غزل سنائی جس کا ایک مصرع تھا ’’رات کے پچھلے پہر رونے کے عادی روئے‘‘ سنائی۔ وجد نے بھی اپنا کلام سنایا۔ میں نے اور ارم صاحب نے بھی غزلیں پڑھیں۔ غرض خاصہ مشاعرہ ہو گیا۔

دوپہر کو کھانے کا وقت ہوا تو قاری صاحب نے کہا، ’’آج آپ دونوں مہمان ہیں۔ کل سے اپنا کھانا لائیے۔ ساتھ بیٹھ کر کھا لیتے ہیں۔‘‘ کھانے میں شاہد بھائی فراز سے حالات پوچھتے رہے۔ کہنے لگے، ’’یہاں کام کرنے سے ’’مشقِ سخن‘‘ بڑھے گی۔ یہ آپ کے سیکھنے کا دور ہے۔ کوشش کیجیے کہ آپ کے علم اور آپ کے فن میں اضافہ ہوتا رہے۔‘‘ سارا دن قہقہوں اور چہچہوں میں گزرا۔ لیکن فراز اور میں چپ سادھے رہے۔ بزرگوں کی چہلوں میں دخل دینے کی کوشش نہیں کی۔ شمس زبیری بھی اسی خیمے کے باسی تھے۔ وہ بھی آئے اور ہم دونوں ’’نو واردان ہوئے دل‘‘ آپس ہی میں باتیں کرتے رہے۔

فراز صاف دل اور ہنسنے ہنسانے والا نوجوان تھا۔ چھٹی کے وقت کہنے لگا، ’’کراچی تو بہت بڑا شہر ہے۔ یہاں روز مشاعرے اور نشستیں ہوتی ہوں گی تو چلو کسی جگہ چلتے ہیں۔‘‘ میں نے کہا، ’’بھائی یہ سب کام رات کے نو بجے سے پہلے تھوڑی ہوتے ہیں۔‘‘ چناں چہ ہم دونوں بے مقصد اِدھر اُدھر گھومتے رہے۔ ایک چائے خانے میں بیٹھے رہے۔ طے یہ ہوا کہ میں کسی نشست یا مشاعرے کا پتا لگاؤں گا اور پھر ہم دونوں وہاں جائیں گے مگر اس کی نوبت نہیں آئی کیوں کہ ہم دونوں اکثر سنسان سڑکوں پر ٹہلتے رہتے تھے۔ فراز بند دکانوں کے تالے بڑے غور سے دیکھتا۔ تالہ کھینچتا، ہلاتا اور پھر آگے بڑھ جاتا۔ ایک رات ایک پولیس والے نے ٹوکا۔ ’’یہ تم تالہ کیوں کھینچ کر دیکھ رہے ہو۔‘‘ فراز نے فوراً جواب دیا، ’’یہ دیکھ رہا ہوں کہ صحیح بند ہوا یا نہیں…‘‘ پولیس والا چپ چاپ چلا گیا۔

ایک دن ارم صاحب نے چائے منگوائی۔ بالعموم وہ اس قسم کی زحمت بہت کم کرتے تھے۔ چائے نوشی کی اس تقریب میں فراز کے علاوہ وجد چغتائی اور میں شریک تھے۔ چائے کے دوران ارم صاحب نے فراز کو بڑی دل سوزی سے سمجھایا کہ لمبی ردیفوں والی غزلیں کہنا ترک کر دو۔ لمبی ردیف کی غزلوں سے شعر میں بے ساختہ پن اور برجستگی جاتی رہتی ہے۔ فراز نے کہا، ’’وہ جو میر کی غزل ہے ’’کچھ نہ دوانے کام کیا‘‘ اُس کے بارے میں کیا خیال ہے۔‘‘ ارم صاحب نے بھنا کر جواب دیا، ’’پہلے میر تو بن جاؤ۔ لمبی ردیف کی غزلوں میں سارا زور ردیف کی چولیں بٹھانے میںصرف ہو جاتا ہے۔ باقی صرف غپ شپ۔‘‘ ارم صاحب ہر بات میں غپ شپ کا پہلو ضرور تلاش کرتے تھے۔ بڑی بحثا بحثی رہی۔ آخر کار ہم لوگوں کو یہ ماننا پڑا کہ ارم صاحب کا خیال صحیح تھا۔ فراز نے کہا، ’’میں رونے کے عادی روئے جیسی ردیف کی غزلیں کم سے کم کہوں گا۔ (فراز نے اپنی اس غزل کو بالکل فراموش کر دیا تھا۔ ایک دفعہ میں نے پوچھا، یہ غزل تمہارے کس مجموعے میں ہے تو اُس نے کہا کسی میں نہیں۔ نہ مجھے یاد ہے۔ میری یہ غزل صرف تمہیں کو یاد ہے۔ اسے بھول جاؤ۔ یہ مجھ پر بڑا احسان ہو گا)۔ ارم صاحب نے لفظوں کے استعمال پر بھی ہمیں کچھ مشورے دیے تھے۔ جو ہم نے ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے اُڑا دیے تھے۔

موسیقی کے خیمے میں فراز اور میں پاس پاس بیٹھے تھے۔ دنیا بھر کی باتیں کرتے رہتے تھے۔ شاہد صاحب کی وجہ سے یہاں سارے ریڈیو والے دن میں ایک پھیرا ضرور کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ فراز سب سے واقف ہو گیا۔ فقرہ کسنے سے کبھی نہیں چوکتا تھا۔ ہم دونوں شام کو بھی اکثر ساتھ ہی گھومتے پھرتے تھے۔ میری دانست میں وہ کراچی کی زندگی سے خوش اور مطمئن تھا۔ ہر وقت مسکراتا رہتا تھا۔ چہرے پر طمانیت اور جوانی کی سرخوشی کی ایک لہر نظر آتی تھی۔

یہ صورتِ حال زیادہ دن قائم نہیں رہ سکی۔ ڈیڑھ دو مہینے کے بعد ایک صبح فراز نے مجھے بتایا کہ اُس نے نوکری سے استعفیٰ دے دیا ہے اور وہ کل پشاور واپس جا رہا ہے۔ میں نے اُس سے بار بار پوچھا، کیوں جا رہے ہو یہاں کیا پریشانی ہے۔ دل نہیں لگتا۔ ارم صاحب اور قاری صاحب نے سمجھایا۔ لگے بندھے روزگار پر لات مارنا کہاں کی عقل مندی ہے۔ شاہد بھائی نے پوچھا۔ کوئی ضرورت ہو تو بتاؤ مگر وہاں ایک خامشی۔ میرا یار بول ہی کر نہیں دیا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */