اسلامی حکومت کی خارجہ پالیسی اور ابدی جنگ کے تصور پر مولانا مودودی کی اصولی رائے - مراد علوی

غیر مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات کے بارے مولانا کے ہاں ایک رائے وہ ہے جو ”الجہاد فی الاسلام“ میں ”مصلحانہ جنگ“ کے تصور میں بیان ہوئی ہے، جس کے مطابق جہاد فتنہ و فساد کے خاتمے کےلیے کیا جاتا ہے اور نا حق شناس اور نا خدا ترس اور بد اصل نظام حکومت فتنہ و فساد کی جڑہےاور ایسی تمام حکومتوں کا خاتمہ لازمی ہے۔ اس نقطہ نظر کی فقہی اور قانونی تکییف سے جو نتیجہ اخذ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ علت القتال شوکت کفر ہے۔ جمہور فقہا کے نزدیک علت القتال محاربہ ہے، کفر یا شوکت کفر نہیں۔

مولانا کے پورے ڈسکورس کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہماری یہ رائے بنی ہے کہ "الجہاد فی الاسلام" میں بیان کی گئی رائے دراصل جہاد کی اخلاقی توجیہ ہے، اس میں قانونی اور فقہی مباحث سے تعرض نہیں کیا گیا۔ فقہی بحث کےلیے مولانا کی بعد کی تحریروں کو پیش نظر رکھنا نہایت ضروری ہے، اس کے بغیر آپ کی رائے سمجھنے میں الجھنیں ہی پیش آئیں گی۔ تاہم ”مصلحانہ جنگ“ میں ظاہر کی گئی رائے سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ مولانا مودودی غیر مسلموں کو ان کے علاقوں پر قطعی طور پر حکومت کرنے کا حق نہیں دیتے۔ بہ الفاظ دیگر کفر انفرادی سطح پر قائم رہ سکتا ہے لیکن اسے حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں۔ جیسا کہ ذکر ہوا کہ اخلاقی طور پر تو یہ رائے بالکل درست ہے کہ دین کی غایت غلبہ ہی ہے اور دنیا پر صرف اسلام ہی کی بالادستی قائم ہونی چاہیے، لیکن عملاََ جہاد کےلیے سب سے اولین چیز علت ہے، کی موجودگی سے کسی کے خلاف تلوار اٹھانا جائز ہے اور عدم موجودگی میں ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔

جہاد پر قانونی زاویے سے مولانا مودودی فرماتے ہیں:
”اسلام کا قانون جنگ حقیقت میں ایک قانون ہے جس پر اسلامی ریاست میں لازماََ عمل کیا جائے گا۔“

مولانا کا یہ قول بہت اہمیت کا حامل ہے، کیوں کہ آگے عملی طور پر انھوں نے اسی کے مطابق اپنا ڈسکورس تشکیل دیا ہے۔ غیر مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات پر انھوں نے قانونی اور فقہی بحث ”سود“ کے ”تیسرے ضمیمے“ میں کی ہے، اس مضمون میں مولانا اسلامی قانون کو تین شعبون میں تقسیم کرتے ہیں: اعتقادی قانون، دستوری قانون اور تعلقات خارجیہ کا قانون۔ آخر الذکر حصے میں انھوں نے اسلام کے بین الاقوامی قانون پر تفصیلی گفتگو کرکے، ”دارالحرب“ اور ”دارالاسلام“ کی بحث میں غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات پر متعدد پہلوؤں سے کلام کیا ہے۔ اس بحث میں ان کی رائے علت القتال کے بارے میں شوکت کفر نہیں ہے۔ اعتقادی قانون کی رو سے تو مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ابدی جنگ ہے لیکن یہ جنگ نظری ہے، مولانا لکھتے ہیں:

” اس اختلاف (اسلام اور کفر) کی بنا پر اصلاََ ہمارے اور ان کے درمیان جنگ قائم ہے۔ الا یہ کہ اس پر صلح یا معاہدہ یا ذمہ کی کوئی حالت عارض ہو جائے۔ پس اسلام اور کفر اور مسلم اور کافر کے درمیان صلح نہیں بلکہ جنگ اصل ہے اور صلح اس پر عارض ہوتی ہے۔ مگر یہ جنگ بالفعل نہیں بلکہ بالقوہ ہے، عملی نہیں نظر ی اور اصولی ہے اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ جب تک ہماری اور ان کی قومیت الگ ہے اور ہمارے اور ان کے اصول ایک دوسرے سے متصادم ہیں، ہم میں اور ان میں حقیقی و دائمی صلح اور دوستی نہیں ہوسکتی۔“

اس سے واضح ہوا ہے کہ جنگ عملی نہیں نظری اور اصولی ہے۔ ”تعلقات خاررجیہ“ میں انھوں نے کفار کی جو اقسام ذکر کی ہیں، ان سے یہ بات مزید منقح ہوجاتی ہے کہ تمام کفار محاربین نہیں ہیں بلکہ جس کی جو حیثیت ہے ان سے اسی طرح کا معاملہ کیا جائے گا۔

باج گزار، معاہدین اور غیر معاہدین کی قسمیں بیان کرنے سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ جہاد کی علت محاربہ ہے۔ علاوہ ازیں اسلامی ریاست کی خارجہ پالیسی، غیر جانبداری کا تصور اور معاہدات کی پاسداری پر مولانا کے مجموعی فکر سے یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ وہ قانونی طور پر غیر مسلم دنیا کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں۔ اسلامی ریاست کے ”خارجہ سیاست کے اصول“ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

٭ عہد و پیمان کا احترام، اور اگر معاہدہ ختم کرنا ناگزیر ہو تو اس سے دوسرے فریق کو خبردار کردینا۔

٭ جب تک دوسرے فریق کے لوگ تمہارے ساتھ عہد پر قائم رہیں تم بھی قائم رہو یقینا اللہ پرہیز گاروں کو پسند کرتا ہے۔

٭مشرکین میں سے جن لوگوں کے ساتھ تم نے معاہدہ کیا پھر انھوں نے تمہارے ساتھ وفا کرنے میں کوئی کمی نہ کی اور نہ تمھارے خلاف کسی کی مدد کی تو ان کے عہد کو معاہدے کی مدت تک پورا کرو۔

٭ اور اگر (دشمن کے علاقے میں رہنے والے مسلمان) تم سے مدد مانگیں تو مدد کرنا تمہارا فرض ہے، مگر یہ مدد کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں دی جاسکتی جس سے تمہارا معاہدہ ہو۔

معاہدات کی بحث اس بات کی دلیل ہے کہ غیر مسلم دنیا کا وجود قانونی طور پر موجود ہوسکتا ہے۔ ان تمام امور کی تفصیل مولانا نے سورۃ انفال کی آیت 58 میں بیان کی ہے جس سے اسلام کی جو بین الاقوامی پالیسی سامنے آتی ہے اس میں غیر مسلموں کے ساتھ معاہدات کیے جاسکتے ہیں۔ اس میں انھوں نے معاہدات کی پاس داری کو مسلمانوں کی دینی اور اخلاقی ذمہ داری قرار دیا ہے، معاہدات کی پابندی کو اسلامی ریاست کے مستقل اصول کے طور پر بیان کرنے کا یہی مطلب ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ عملاََ جنگ ابدی نہیں ہے بلکہ اعتقادی قانون کی رو سے نظری اور بالقوۃ جنگ دائمی ہے۔

ابدی جنگ کے متعلق منیر رپورٹ میں چند سوالات اٹھائے گئے، اس کے جواب میں مولانا نےجو کچھ فرمایا اس سےاس بات کو مزید تقویت ملتی ہے۔ اس بحث سے متعلق منیر رپورٹ میں اسلامی ریاست وجود میں آنے سے یہ خدشات ظاہر کیے گئے:

٭اولاََ یہ ریاست بیرونی دنیا سے ایک ابدی جنگ میں الجھ جائے گی؛

٭ ثانیاََ اسلامی قوانین بین الاقوامی قوانین اور تصورات و نظریات سے سخت متصادم ہوں گے اور

٭ ثالثاََ تمام دنیا کے وہ مسلمان جو غیر اسلامی ریاستوں میں رہتے ہیں، اپنے اپنے ملک میں مشتبہ بلکہ قوم و وطن کے غدار قرار پاکر رہیں گے۔

نعیم صدیقی اس کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”منیر رپورٹ میں پہلے سوال کو مزید واضح کیا گیا کہ: "ایک اسلامی ریاست نظری حیثیت سے (In Theory) اپنے ہمسایہ غیر مسلم ملک کے ساتھ ابداََ بر سر جنگ ہوتی ہے جو ہر وقت دارالحرب بن سکتا ہے اور دارالحرب بن جانے کی صور ت میں اس ملک کے مسلمانوں کا فرض ہے کہ اسے چھوڑ کر اپنے مسلمان بھائیوں کے ملک میں آجائیں۔ (منیر رپورٹ، ص 221)۔ اس رائے کی بنیاد کیا ہے؟ صرف یہ کہ عدالت نے پوچھا تھا "کیا ایک ملک جو دارالاسلام کی سرحد پر ہو اسلامی ریاست کے بالمقابل دارالحرب کی حیثیت میں نہ ہوگا؟ " اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے جواب دیا تھا:" نہیں اگر کوئی معاہدہ نہ ہو تو اسلامی ریاست بالقوہ (Potentially) اس غیر مسلم ملک سے برسر جنگ ہوگی۔ ایک غیر ملک صرف اس صورت میں دارالحرب ہوتا ہے جس اسلامی ریاست اس کے خلاف باقاعدہ اعلان جنگ کردے"۔ ….بالقوہ برسرجنگ ہونے کا مطلب اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ جس ملک سے کسی ریاست کا کوئی معاہدہ نہ ہو اور کسی قسم کے سفارتی تعلقات نہ ہوں، اس سے ہر وقت جنگ ہونی ممکن ہے۔ مصلحت اگر مانع نہ ہو تو اور کوئی چیز ان کے درمیان جنگ میں مانع نہیں ہے۔ کیا یہ بات موجودہ بین الاقوامی قانون جنگ کے تصور سے کچھ بھی مختلف ہے؟ "

جدید ریاست کے تناظر میں بین الاقوامی قانون کے تصور "غیر جانب داری" اور جارجہ پالیسی بھی اسی موضوع سے متعلق ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر اسلامی حکومت غیر مسلم ریاستوں کے ساتھ کیا رویہ اپنائے گی۔ اس قسم کے کا ایک سوال مولانا سے پوچھا گیا:

”اگر حکومت کی باگ دوڑ آپ کے ہاتھوں میں آجائے تو آپ کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی؟"

مولانا جواب میں فرماتے ہیں:

”میں مفروضات پر کام نہیں کیا کرتا۔ آپ نے پہلے سے یہ مفروضہ قائم کرلیا ہے کہ حکومت میرے ہاتھ میں آئے گی تو پھر کیا پالیسی اختیار کروں گا۔ میں نہ حکومت اپنے ہاتھ میں لینے کا خواہش مند ہوں اور نہ اس کا امکان ہے۔ مجھ سے یہ پوچھیے کہ اسلامی حکومت کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ غیر مسلم حکومتوں کے ساتھ ہمارا رویہ مصالحانہ ہونا چاہیے۔ نہ ہم کسی کے دوست بنیں، نہ دشمن۔ ہاں مسلمان ملکوں کے ساتھ ہمیں ایک متحد امت کی صورت اختیار کرنی چاہیے۔ ان سے قریبی اور گہرے تعلقات قائم کریں اور اس بات کی کوشش کریں کہ تمام مسلمان حکومتوں کا "Federation of Muslim States" عمل میں آجائے۔“

امور مذکورہ صدر سے مولانا مودودی کا موقف یہی ثابت ہوتا ہے کہ "الجہاد فی الاسلام" میں علت القتال پر جو بحث کی گئی ہے وہ جہاد کی اخلاقی توجیہہ ہے۔ مولانا جہاد کو قانون قرار دیتے ہیں اور جہاں انھوں نے قانونی بحث کی ہے اس میں علت القتال شوکت کفر نہیں بلکہ محاربہ ہے۔ غیر مسلموں کے ساتھ معاہدات کرنے سے اس موقف کو مزید تقویت ملتی ہے۔ "مصلحانہ جنگ" کی رو سے تو تمام غیر مسلم حکومتوں کا خاتمہ ضروری ٹھہرتا ہے لیکن جب بھی کوئی عملی صورت پیش آئی ہے وہاں مولانا مودودی نے قانونی زاویے پر زور دیا ، اس کی بڑی مثال 1948ء میں کشمیر کے حوالے سے ان کا موقف ہے۔ اس وقت انھوں نے عملاََ جنگ کی حالت میں قانون اور معاہدے کی پاس داری پر زور دیا۔ اس رائے کی مضبوط دلیل وہ بحث ہے جو انھوں نے اپنی کتاب "سود" کے تیسرے ضمیمے میں "اسلامی قانون کے تین شعبے" میں کی ہے۔ مولانا کی رائے کی درست تفہیم کےلیے اس کو پیش نظر رکھنا لازمی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */