لڑکی کا گھر نہ بسے تو ایک حل یہ بھی ہے - جویریہ ساجد

طلاق ہمارے معاشرے میں ایک بڑھتا ہوا المیہ بنتا جارہا ہے۔ اس کی وجوہات کچھ بھی ہوں، مضمرات اور نقصانات مرد اور عورت دونوں کو ہی جھیلنے پڑتے ہیں۔ خاص طور پہ جب اولاد بھی ہوجائے تو اولاد کا ماں یا باپ میں سے کسی ایک فریق کے پاس رہنا دوسرے فریق کو سٹریس میں رکھتا ہے۔ ماں ہی دکھ نہیں سہتی بلکہ باپ کے لیے بھی اولاد فیول کا کام کرتی ہے۔ اس کے جینے، جیتے رہنے کا سبب ہوتی ہے۔ شام کو جب باپ گھر میں داخل ہوتا ہے تو وہ اولاد ہی ہے جن کی شکلیں دیکھتے ہی باپ اپنی دن بھر کی تھکاوٹ بھول جاتا ہے۔ ایسے میں طلاق کے ساتھ اولاد کی علیحدگی باپ کے لیے بھی ذہنی اذیت کا باعث بنتی ہے۔

میرا آج کا موضوع طلاق، اس کی وجوہات، روک تھام کے لیے تجاویز دینا نہیں ہے بلکہ آج میں طلاق کے بعد عورت کو درپیش آنے والے مسائل اور ان کے حل کے لیے کچھ تجاویز دینا چاہتی ہوں۔

جب ایک عورت کو طلاق ہوجاتی ہے تو ہمارے معاشرے میں عموما وہ اپنے والدین کے گھر واپس آجاتی ہے۔ یہاں آکر اسے پتا چلتا ہے کہ طلاق مسائل کا حل نہیں تھی بلکہ صرف مسائل کا عنوان اور نوعیت بدل گئی ہے ۔ پہلے جو شکایات انہیں اپنی ساس نندوں سے تھیں، کچھ عرصہ بعد وہی سب کچھ بھائیوں بھاوجوں کے ساتھ شروع ہوجاتا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں عموما طلاق یافتہ خواتین کے ساتھ دو طرح کے انتہائی رویے روا رکھے جاتے ہیں۔
اول، سارا مدعا عورت پہ رکھ کے اسے مکمل قصور وار قرار دے دیا جاتا ہے۔ طرح طرح کے مشورے اور سوال جواب کر کے اس کی شخصیت کو دبا دیا جاتا ہے۔ بات بے بات طلاق یافتہ کا طعنہ دیا جاتا ہے اور اسے ذہنی مریض بنا دیا جاتا ہے۔ یہ ایک ابنارمل رویہ ہے۔

دوسرا، رویہ لوگوں کے اس سلوک کی تلافی کرنے کے لیے اکثر والدین اس طلاق یافتہ بیٹی کو ہتھیلی کا چھالا بنالیتے ہیں۔ اس کی ہر جائز نا جائز پہ چپ سادھ لینا اس کو مظلوم بنا کے ہر سیاہ سفید کا مالک بنا کے اتنا اوور کونفیڈنس کر دیتے ہیں کہ ایک وقت میں وہ اپنے بھائیوں بھابیوں اور باقی متعلقہ افراد کی زندگیوں میں مداخلت کر کر کے ان کا جینا حرام کر دیتی ہیں۔

ان سب حالات میں ایک لڑکی کی طلاق پورے خاندان کو نہ صرف متاثر کرتی ہے، بلکہ بعض مرتبہ تو بکھیر کے رکھ دیتی ہے۔ ایسے میں ایک بار پھر سب سے بڑا رول گھر کے بزرگوں کو ہی ادا کرنا ہوتا ہے۔ وہ اگر چاہیں تو اپنی سمجھداری اور غیر جانبداری سے اپنے گھروں کے شیرازے بکھرنے سے بچا سکتے ہیں۔ ان کے لیے کچھ تجاویز لکھ رہی ہوں۔

1. سب سے پہلے تو ایک بات سمجھیں کہ اگر کسی لڑکی کے گھر کے حالات اس حد تک خراب ہوجائیں کہ آپ کو لگے کہ اب مزید کی گنجائش نہیں تب بھی بات کو ایک دم طلاق تک لے جانے کے بجائے سیپریشن تک رکھیں۔ طلاق کے فیصلے کو م چھ ماہ تک ملتوی کر دیں۔ لڑکا لڑکی کو الگ رہ کے خود فیصلہ لینے کا موقع دیں۔ تاکہ کوئی جلد بازی کا پچھتاوا نہ رہ جائے۔

2. ماں باپ کا گھر کسی بھی لڑکی کے لیے شادی سے پہلے تک ماں باپ کا گھر ہوتا ہے، شادی کے بعد یہ اس کا میکہ ہوتا ہے اور میکہ ماں باپ کے ساتھ ساتھ بھائیوں بھابیوں اور ان کے بچوں سے آباد ہوتا ہے۔ اس میں دوبارہ سے جا کے رہنے میں ایک بات ذہن میں رکھیں کہ یہاں بھی اب آپ کو اپنی گنجائش خود بنانی پڑے گی اور یہ گنجائش بھابیوں کو گھروں سے نکال کے نہیں بلکہ دل بڑا کر کے اس حقیقت کو قبول کر کے بنے گی کہ اب بھابیاں بھی اس گھر کا فرد ہیں۔ اب یہ آپ کے باپ کا گھر تو ہے لیکن بھابیوں کا بھی گھر ہے۔ ان سے تصادم کی بجائے مصالحت کا راستہ اپنائیں۔

3. گھر کے بزرگوں کو چاہیے کہ جس حد تک ممکن ہو وہ اپنی بیٹیوں اور بہووں کے معاملات کو الگ الگ رکھیں۔ بیاہی یا غیر شادی شدہ بیٹیوں کو ہرگز بھائی بھاوج یا گھر کے معاملات یہاں تک کہ ساس بہو تک کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے دیں اور طلاق شدہ بیٹیوں کے معاملے میں خاص طور پہ احتیاط برتیں۔

4۔ اگر ممکن ہو اور آپ افورڈ کر سکتے ہوں تو پہلے دن سے طلاق شدہ بیٹی کو الگ گھر کا انتظام کر دیں۔ چاہے اس کے لیے اس کو پراپرٹی میں سے اس کا حصہ دے دیں تاکہ طلاق کے بعد بھی اس کی عزت نفس برقرار رہے۔ اس کے معاملات الگ رہیں اور ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کی گنجائش نہ رہے۔ اگر الگ سے گھر دینا ممکن نہ ہو تب بھی اپنے ہی گھر میں کوئی پورشن بھلے ایک کمرہ ہی ہو، لیکن کچن اور اینڈیپینڈنٹ اینٹرنس Independent entrance کے ساتھ مکمل طور پہ اس کو علیحدہ کردیں تاکہ گھروں میں تصادم کا ماحول نہ بنے۔

5. اگر یہ بھی ممکن نہ ہو اور ماں باپ بیٹی کو ساتھ رکھنا چاہتے ہوں تو پہلے دن سے بیٹے اور اس کی فیملی کو علیحدہ کر دیں۔

6. بھائیوں کو بہنوں کا محافظ، غمگسار اور مددگار ہونا چاہیے۔ بھلے برے وقت میں بھائی ساتھ ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ بھائی کی فیملی کو اس کے گھر میں insecureنہ کیا جائے۔ بھائیوں اور بہنوں کے معاملات کو مکمل طور پہ الگ رکھا جائے۔ ایک کو بسانے کے لیے دوسرے کا گھر اجاڑنا کہاں کی عقلمندی ہے۔ باپ کے گھر کے دعوؤں سے بھائی کا گھر اجڑے نہ اجڑے، بھائی کی سپورٹ بہنوں کے لیے ہمیشہ کے لیے ختم ضرور ہوجاتی ہے.

6. پیارے والدین آپ کی بیٹی کا گھر ایک جگہ نہیں، بسا کوئی بات نہیں لیکن اس کا گھر دوبارہ ضرور بسائیں۔ طلاق شدہ یا بیوہ بیٹی کے نکاح میں جلدی کریں اور اس کے لیے حقیقت پسندی سے بر ڈھونڈیں. اور بیٹیوں کی کونسلنگ کرتے رہیں۔ انہیں ان کے حال پر نہ چھوڑیں بلکہ ان کا مستقبل بہتر کرنے کے لیے تگ و دو کریں۔

طلاق شدہ یا بیوہ بیٹیوں کے معاملات کو مس ہینڈل کیا جائے تو ناصرف وہ گھر کے باقی افراد کے لیے سر کا درد بن جاتی ہیں، بلکہ خود ان کی اپنی زندگی میں بھی مسائل کا انبار لگ جاتا ہے جو انہیں ہمیشہ کے لیے مکمل تنہا کردیتا ہے۔ ماں باپ اپنی اولاد کو اکھٹے بیٹھنا نہ سکھائیں اور اس کے لیے موثر تدابیر اختیار نہ کریں تو آخر میں سب اولاد تنہا بیٹھی ہے، ایک ساتھ بیٹھ کے ماں باپ کو بخش بھی نہیں سکتے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */