کورونا سے نجات پانے کی ایک بڑی وجہ؛ جو مجھے سمجھ آئی - شاذیہ ظفر

کورونا پھیلا تو اس سے بچاؤ کے لیے جہاں دیگر احتیاطی تدابیر بتائی گئیں۔ ان میں سرفہرست یہ بھی تھی کہ اپنے مدافعتی نظام یعنی immune system کو مضبوط بنانا ہے۔ اچھی خوراک کھائیں، پرسکون نیند لیں، ورزش کریں۔ گھر میں رہیں محفوظ رہیں۔ مطلب ہر طرح سے صحت مندانہ ماحول میں رہنا بہت ضروری ہے۔

اس وبا سے بچنے کے لیے ہم سب نے اپنے طور پر یہ ساری احتیاطی تدابیر اختیار کیں۔۔۔ اور الحمدللہ اس وبا کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہے۔۔۔ لیکن اس دوران بھی یہی سوچتے کہ ہمارے گھروں میں کام کرنے والے ہیلپرز، اور محنت کش طبقے کا اب کیا بنے گا۔۔۔ کیونکہ اسی دوران لاک ڈوان کی وجہ سے تمام کاروبار زندگی معطل ہوگیا۔ سماجی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ معاشی اور تجارتی سرگرمیاں بھی رک گئیں۔ پوری معیشت کا پہیہ ہی تھم گیا۔ پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند ہوگئی۔۔۔ یوں ان کی روزی ہی اچانک ختم ہوگئی۔ روز کمانے والوں کے لیے دیہاڑی لگانے کا آسرا ہی جاتا رہا۔۔

بدقسمتی سے وبا کی ابتداء سے ہی یہ طبقہ سب سے پہلے اور براہ راست متاثر ہوا۔۔ اور اس طرح شدید احتیاط کے ان ابتدائی ایام کٹھن ثابت ہوئے کہ گھروں میں کھانے کے لالے پڑگئے۔ کام ختم ہونے سے ان بیچاروں کی تو نیندیں ہی اڑ گئیں اور یوں ان کے لیے مدافعتی نظام کے دو اہم جزو صحت بخش غذا اور پرسکون نیند داؤ پہ لگ گئے۔۔۔ اپنے پرسکون اور آرام دہ گھروں میں محفوظ اور شکم سیر بیٹھے ہوئے اور چھٹیاں مناتے ہوئے اکثر ان کی طرف دھیان جاتا تو یہی فکر ہوتی کہ کچی آبادیوں کے یہ مکین جن کے چھوٹے سے نا پختہ گھروں میں سہولیات زندگی کا فقدان ہے۔ بجلی نہیں، صاف پانی نہیں۔ جن کے محلوں میں تنگ گلیاں بھی کوڑے کرکٹ کے ڈھیر ہی ہوتی ہیں اور ان کی بدولت انہیں تو صحت بخش فضا میں سانس لینا ہی محال ہوتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ چھوٹے سے گھر میں بہت سے افراد خانہ بھی ہوں۔۔تو پھر اس طرح کے طرز زندگی کے بیچ ان سب کو صحت مند ماحول کیسے میسر آتا ہوگا۔۔۔؟ وہاں بوڑھے اور بچے کیسے محفوظ ہوں گے؟ وہ سب کیسے اس وبا کا مقابلہ کر پائیں گے؟ ان کے پاس تو روزمرہ زندگی میں بھی نہ حل ہونے والے مسائل کا انبار رہتا ہے۔۔۔ اور اب تو انہیں وبا کے عفریت سے بھی جوجنا تھا۔۔۔ یعنی

اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

دل ہی دل میں ان کے لیے کڑھتے ہوئے اور خیر کی دعائیں مانگتے ہوئے ان کے بارے میں ہمیشہ ہی بہت فکر مندی سے سوچا کرتے اور مزید تشویش اس بات پر ہوتی کہ ہمارے ملک کی یہ اکثریتی عوام جو ان دنوں شدید مالی تنگی سے دوچار ہے، اس کے پاس پیٹ بھرنے کو کچھ نہیں ہے۔ وہ لوگ اپنی حفاظت کے لیے ماسک خریدنے اور سینٹایزرز استعمال کرنے جیسی عیاشی کے متحمل کیسے ہوں گے۔ جن کی قیمتیں بھی ان دنوں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں۔

آپ سبھی کو یاد ہوگا کہ اسی دوران میڈیا پہ آگاہی کے لیے بہت شور مچایا جاتا رہا کہ اگر آپ موت کے شکنجے سے بچنا چاہتے ہیں تو سخت ترین حفاظتی اقدامات کرنا بہت ضروری ہیں۔ اگر کچی آبادیوں اور نچلے طبقے میں یہ وبا پھیل گئی تو کنٹرول کرنا مشکل ہوجائے گا۔۔۔ سڑکوں پر لوگ مر رہے ہوں گے اور ان کو اٹھانے والا کوئی نہیں ہوگا۔۔ اسپتال بھر جائیں گے۔۔ وینٹی لیٹرز کم پڑ جائیں گے۔

غرض بہت ہی ہولناک نقشہ کھینچا جاتا رہا۔ اور اسی بنا پر بار بار لاک ڈاؤن بڑھایا جاتا رہا۔۔۔ چائنا اور ایران جیسی خطرناک وبائی صورتحال سے تشبیہات دی جاتی رہیں۔۔۔ صورتحال تشویشناک تھی گو کہ ہم میں سے اکثر ہی انفرادی اور اجتماعی طور پر فلاح عامہ کی کوششوں میں اور کارِخیر میں سرگرم رہے لیکن تباہ کن صورتحال کے مقابلے میں وہ سب ناکافی ہی تھا۔۔ بہرحال اللہ سے خیر طلب کرتے ہوئے رفتہ رفتہ وہ مشکل وقت بھی کٹ ہی گیا۔

اب جب کہ وبائی کا زور کافی حد تک کم ہوگیا ہے، تجزیہ کار اس بات پر حیران ہیں کہ کورونا نے پاکستان میں توقعات سے بہت کم نقصان پہنچایا ہے۔ اور جو شہری کورونا سے متاثر ہوئے ان میں بھی صحتیاب لوگوں کی شرح جاں بحق ہونے والوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، الحمدللہ۔

سب سے بڑھ کر خوش آیند اور حیران کن بات ہے کہ مدافعتی نظام مضبوط بنانے کے رہنما اصولوں پر عمل نہ کرنے کے باوجود ہمارا مزدور اور غریب طبقہ جو ان تمام سہولیات سے محروم تھا، وہ محفوظ رہا۔۔۔ یہ سب آخر کیسے اور کیونکر ہوا۔۔۔؟ وہ کیا وجوہات تھیں ہماری طرح آپ نے بھی یقیناً کئی بار یہ بات سوچی ہوگی۔۔ آج صبح کے واقعے نے بہت وضاحت سے اس معاملے کو سمجھا دیا۔

آج دن میں شدید گرمی تھی۔۔۔ بہت تیز دھوپ میں پسینے سے شرابور جب مالی بابا اپنے ایک اور ساتھی کے ساتھ کھاد مٹی کے کر آئے تو ہم نے تازہ دم ہونے کے لیے ان دونوں کو شربت دیا۔ جھلستی دھوپ میں ٹھنڈے ٹھار شربت کے گلاس دیکھ کر ان کے چہروں پر تشکر آمیز مسکراہٹ دوڑ گئی۔۔ جلدی سے دونوں نے ٹرے میں سے شربت کے گلاس اٹھائے۔۔ ذرا سی دیر بعد ان سے کچھ پوچھنے کے لیے وہاں گئے تو دیکھا کہ شربت کا گلاس مالی بابا کے بجائے ایک راہگیر کچرا چننے والے افغان بچے کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنے سرخ تمتماتے چہرے کے ساتھ اسے بڑی بیتابی سے غٹاغٹ ختم کر رہا ہے۔۔۔ ہمیں وہاں موجود پا کر مالی بابا جلدی سے ہنستے ہوئے ہلکی آواز میں بولے: ارے باجی! میں یہ شربت پینے ہی لگا تھا کہ یہ بچہ آگیا۔۔۔ بڑے شوق سے مجھے دیکھ رہا تھا تو میں نے اپنا شربت اسے پلا دیا ہے۔۔۔

کیسی ہنستی مسکراتی وضاحت تھی۔۔۔جس میں کوئی گلا شکوہ نہیں تھا نہ بچے کو ندیدے پن کا طعنہ دیا۔۔۔ نہ اپنے گلاس پر نیت لگانے پر جھڑکی سنائی نہ ہی سخی اور دیالو بن کے اپنی اس نیکی کا اشتہار بنا کر مزید کی طلب ظاہر کی۔۔۔ ہم نے خود ہی ان کی اس وضاحت پر فورا کہا ٹھیک ہے۔ کوئی بات نہیں ابھی آپ کو دوسرا گلاس لا دیتے ہیں۔ تو اگلے جواب نے مزید حیران کر دیا۔۔۔ وہ جلدی سے بولے۔۔ نئیں نئیں جی۔۔۔ بس خیر ائے۔۔۔ شکر اے رب سوھنے دا۔۔۔

باجی میں نے اس میں سے تھوڑا پی لیا تھا۔۔۔ نہ تو الگ گلاس کا تردد نہ جھوٹا پینے اور پلانے میں کو ہچکچاہٹ اور نہ ہی اپنی پیاس ادھوری چھوڑنے پر کوئی جھنجھلاہٹ۔۔۔ بلکہ ان کے چہرے پر تو دوسرے کی تشنگی مٹانے پر بہت سیری اور اطمینان کی کیفیت دکھائی دی۔۔۔ کیسا خوبصورت اور بے نیاز انداز تھا نہ ہی حسرت نہ کوئی پروا نہ۔۔۔ بڑی ہی بے فکری اور اطمینان بھری مسکراہٹ سے انھوں نے ہماری پیشکش کو ٹال دیا۔۔
تب ہم نے سوچا ہمارے محنت کشوں کا یہ جذبہ۔۔۔ یہ اللہ توکل۔۔۔ یہ قناعت۔۔۔ یہ ایثار۔۔۔ یہ مل بانٹ کے کھانے کی عادت۔۔۔ یہ شکرگذاری، یہ دعاؤں کے حصار اور ان سب کے ساتھ اپنی روزی حلال کر کے حاصل ہونے والی پرسکون نیند۔۔۔ یہی تو ہے ان کا اصل ہتھیار۔۔۔ مضبوط مدافعتی نظام جس کے بل پر وہ ہر بیماری اور وبا کا مقابلہ کر لیتے ہیں۔۔۔الحمدللہ!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */