معرکہ (4) - ریحان اصغر سید کی شاہکار کہانی

پہلی قسط
دوسری قسط
تیسری قسط

مولانا ندیم احمد کا شمار اپنے مسلک کے جید لیکن شدت پسند نظریات رکھنے والے علما میں ہوتا تھا۔ وہ کچھ عرصے سے اچانک ہی بہت متحرک ہو گئے تھے۔ ان کی نئی کتاب ایک دیگر مکتبہ فکر کو قادیانوں کی طرح قومی اسمبلی سے کافر قرار دینے کے دلائل پر مبنی تھی۔ اس کتاب کے شائع ہوتے ہی ملک میں ہاہا کار مچ گئی تھی۔ متاثرہ مسلک کے علما کرام، بھی مولانا ندیم احمد اور ان کے فرقے کے خلاف خم ٹھونک کے میدان میں آ گئے تھے۔ دوسری طرف ندیم احمد کے فرقے کے دیگر نمایاں علمائے کرام نے ندیم احمد اور ان کی کتاب سے اعلان لاتعلقی کے بجائے ان کی حمایت میں کمر کس لی تھی۔ بالائے ستم یہ کہ دیگر دو بڑے مکتب فکر کے علما قادیانیوں پر چڑھ دوڑے تھے۔ جس کی وجہ قادیانی مذہب کے لوگوں کی سوشل میڈیا ٹیم کا انٹرنیٹ پر شرانگیزی پر مبنی مواد کا پھیلاٶ تھا۔ اسی کشمکش کے دوران کچھ قادیانی مذہب کے لوگوں پر حملہ کر کے انھیں قتل بھی کر دیا گیا تھا۔ انہی دو بڑے فرقوں کی ایک دوسرے کے عقائد پر کی گئی گولہ باری سے ان کے آپس کے تعلقات میں بھی خلیج وسیع ہوتی جا رہی تھی۔

انہی حالات میں مولانا ندیم احمد صوبے کے ایک دور دراز شہر کی، جامع مسجد میں جمعے کی تقریر کے لیے مدعو تھے۔ ان کی کتاب نے ان کے مسلک کے اندر موجود شدت پسند گروہ(جو ہر فرقے میں ہوتے ہیں) انھیں ایک ہیرو کا درجہ دے دیا تھا۔ دوسرے فرقے کی مخالفت میں انھیں مختلف شہروں میں مدعو کر کے ان سے اظہار یکجہتی اور خراج عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ جاری تھا۔ جمعے کی نماز کے بعد عقیدت مند نمازیوں سے ہاتھ ملاتے اور سیلفیاں بنواتے وہ اپنی نئی نکور ہنڈا سِوک کی طرف بڑھ رہے تھے۔ یہ مہنگی کار انہوں نے چند ہفتے پہلے ہی خریدی تھی۔ اس کے علاوہ شہر کے پوش علاقے میں انھیں نے ایک گھر بھی لیا تھا۔ ابھی وہ لوگوں کو یہی بتا رہے تھے کہ مکان کرایہ پر ہے لیکن درحقیت ثقلین سے حاصل ہو رہے مال کی بدولت مکان ان کی ملکیت بن چکا تھا۔ اس سے پہلے کے مولانا صاحب کار میں بیٹھتے ایک سلور رنگ کی پرانے ماڈل کی ٹویوٹا کرولا سڑک پر ان کے پاس رکی۔ جس میں دو لوگ بیٹھے ہوٸے تھے۔ پسینجر سیٹ پر موجود لڑکے نے بیٹھے بیٹھے ہی بڑی بے تکلفی سے اپنی پسٹل نکال کر مولانا صاحب کے سینے پر تین فاٸر کیے۔ مولانا صاحب الٹ کر اپنی کار پر گرے۔ ان کا سرخ خون نئی سفید ہونڈا پر نچھاور ہوا۔۔جب تک لوگ صورتحال کو سمجھتے۔۔ٹویوٹا کرولا کہیں غائب ہو چکی تھی۔
ٹویوٹا کے ڈرائیور نے تیزی سے کچھ سڑکیں بدلیں۔ پھر ایک محفوظ جگہ پر رک کر ان دونوں نے کار کی نقلی نمبر پلیٹس اتار کر اصلی لگا دیں۔۔ روانہ ہونے سے پہلے مولانا پر فائرنگ کرنے والے دبلے پتلے لڑکے نے فون پر کاشی نام کے باس کو کام ہو جانے کی خوشخبری سنائی.

ثقلین اپنے چار منزلہ کمرشل پلازے کی چھت پر بیٹھا شام سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ ایک سرخ گالوں والی خوبصورت عورت بھی گرم شال اوڑھے اس کے ساتھ موجود تھی۔ ان کے سامنے پڑی شیشے کی میز پر کچھ پینے پلانے کا سامان دھرا تھا۔ کچھ دور ایک ملازم انگیٹھی پر کوٸلے دہکاۓ ان کے لیے بار بی کیو تیار کر رہا تھا۔ عفرش، ثقلین سے بہت خوش تھا۔ وہ اس کو منہ مانگا مال فراہم کر رہا تھا۔ یہ کمرشل بلڈنگ ثقلین نے ابھی دو ہفتے پہلے ہی خریدی تھی۔ وہ ہر مکتب فکر کے شدت پسند علماء پر بھی دل کھول کر پیسہ لٹا رہا تھا۔ جس کے مثبت نتائج مل رہے تھے۔ اس نے تینوں لڑکیوں کو ایک ایک کر کے تین بڑی فلاحی تنظیموں کے مرکزی دفتروں میں نوکری دلوا دی تھی۔ اب ان کی طرف سے بھی اچھی خبروں کا سلسلہ جاری تھا۔ ثقلین کے لیے راوی فی الحال چین ہی چین لکھتا تھا۔

اسی وقت اس کے تعینات کردہ پیشہ ور قاتل کاشی نےفون پر اسے مولانا ندیم احمد کی موت کی اطلاع دی۔ ثقلین نے چچ چچ کی آواز نکال کر افسوس کا اظہار کیا۔

لوگوں میں برداشت ہی ختم ہو گئی ہے۔۔مولانا شہید تحریر و تقریر کے آدمی تھے، ان سے گولی کی زبان میں بات کرنا کون سی انسانیت ہے۔۔۔؟ کچھ عجب نہیں اب مولانا شہید کے فرقے کی طرف سے بھی بھرپور جواب آئے اور مخالف فرقے کے دو تین معزز علمإ کرام اس گھناونی مسلکی جنگ کا ایندھن بن جاٸیں۔۔۔ہاٸے افسوس۔

ثقلین نے ٹھنڈی سانس بھری۔ کاشی کو دوسرے فرقے کے دو نمایاں علما کو قتل کرنے کا گرین سگنل مل گیا تھا، اس نے خاموشی سے فون بند کر دیا۔ ثقلین کے چہرے پر ایک طمانیت طاری تھی۔ اسکا شیطانی دماغ مختلف فرقوں کے علما کو ایک دوسرے پر حملے کے لیے اکسانے کے منصوبوں پر غور کر رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بلال عزیز سنہری رنگ کے چوغے اور سلیم شاہی جوتی کے ساتھ کافی مضحکہ خیز دکھائی دے رہا تھا۔ وہ فہیم صاحب کے پیچھے ان کے مکان میں داخل ہوا۔ قندیل نے کہیں بھی جانے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ سخت غصیلی اور چڑچڑی ہو چکی تھی۔ مجبوراً فہیم صاحب نے بلال عزیز کو درخواست کی کہ وہ ان کے گھر آ کر قندیل کو ایک نظر دیکھ جائیں۔ فہیم صاحب کے پڑوسی نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ بلال سنکی، ضدی اور موڈی آدمی ہے۔۔۔ وہ شاید تمھارے گھر آنے پر آمادہ نہ ہو۔۔لیکن خلاف توقع بلال کا رویہ بڑا نرم اور مثبت رہا تھا۔ اس نے توجہ سے فہیم صاحب کی بات سنی، انھیں تسلی دی اور اسی وقت تیار ہو کر ان کے ساتھ چلنے پر آمادہ ہوگیا۔

پلیز اندر آ جائیں۔

فہیم نے پورچ میں سے گزر کر گھر کا اندرونی مرکزی دروازہ بلال کے لیے کھولا لیکن بلال نے ان سنی کر دی، وہ پورچ کے پہلو میں مخملی گھاس والے لان کی دیوار کے ساتھ لگی کیاری کی طرف چلا گیا۔ وہاں وہ کچھ دیر پودوں کے پتوں اور ان کی ٹہنیوں کو الٹ پلٹ کر دیکھتا اور سونگھتا رہا۔ کچھ دیر بعد وہ فہیم صاحب کی طرف لوٹ آیا۔

فہیم صاحب، بلال کو حیران نظروں سے دیکھ رہے تھے۔

کیا آپ نے کسی غیر معمولی چیز کا مشاہدہ کیا ہے حضرت؟

بلال نے فہیم کی بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا اور ہاتھ سے اندر چلنے کا اشارہ کیا۔

قندیل اپنے بیڈ پر سکڑ کر بیٹھی ہوئی تھی۔ چند ہفتوں میں ہی اس کا سنہرا روپ کچے رنگوں کی طرح دھل سا گیا تھا۔ سرسوں کے پھول جیسی رنگت، آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے، خوفزدہ چہرہ اور ہڈیوں کا ڈھانچہ جسم۔

قندیل کو دیکھ کر بلال کی آنکھوں میں ایک عجیب سی بھوک چمکی۔ اسے رنجیدہ، ڈرا سہما اور زرد حسن پسند تھا۔ اس لیے وہ نوعمر لڑکیوں پر بہیمانہ تشدد کرتا تھا۔

فہیم صاحب نے بلال کو قندیل کے جلے ہوئے کپڑے اور دیواروں پر خون کے چھینٹے دکھائے۔۔۔ بلال متانت سے سر ہلاتا رہا۔

ایک خطرناک چڑیل آپ کی بیٹی کے پیچھے پڑ گئی ہے۔ وجہ کچھ بھی ہو سکتی ہے وجہ اہم نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا میں اس نامراد سے نمٹ سکتا ہوں۔۔۔؟

تو اس کا جواب ہے ہاں۔۔۔آسانی سے۔۔۔ میں نے اس سے بھی بڑی مصیبتوں کا سامنا کر رکھا ہے۔

بلال کی بات سن کر فہیم صاحب نے سکون کا سانس لیا۔
یہ کیسے ہو گا بلال صاحب؟
یہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔۔۔میں سب سنبھال لوں گا۔ بس مجھے کچھ سامان چاہیے۔

بلال نے مسکراتے ہوئے کہا۔ فہیم صاحب کو لگا کہ کوئی بوڑھا بھیڑیا مسکرا رہا ہے۔

بلال نے ایک مٹی کی چھوٹی سی ہانڈی لیکر اس میں صندل کی لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ڈال کر انھیں آگ لگا دی۔۔اور اس میں سرخ مرچیں اور مسور کی دال کے دانے ڈال کے اس کے دھواں سے پورے گھر میں دھونی دی، پھر اس نے کچے سرخ پتھر سے کمروں کے فرش پر حصار کھینچا۔۔۔ اور آخر میں کچھ پڑھ کر قندیل پر پھونکا۔ قندیل یہ سارا عمل بیزاری اور لاتعلقی سے دیکھتی رہی۔

میں نے چڑیل کا انتظام کر دیا ہے۔۔۔اب وہ اس گھر کے پاس بھی نہیں پھٹک سکتی۔۔ لیکن یہ عارضی بندوبست ہے۔ قندیل کی طبیعت جب بحال ہو جائے گی تو اسے، اسکی والدہ کے ساتھ میرے گھر میں بھیج دیں۔۔میں ایسا عمل کروں گا کہ بچی ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاٸے گی۔۔

بلال نے روانہ ہونے سے پہلے فہیم صاحب سے کہا۔

فہیم صاحب اور صائمہ زیادہ پر امید تو نہیں تھے لیکن چار پانچ دن میں قندیل کے مزاج میں معجزاتی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اس کو وہ چڑیل نظر آنا بند ہو گئی تھی جس کی وجہ سے اس کا خوف کم ہو رہا تھا۔ اب اس نے آہستہ آہستہ دوبارہ زندگی کے معاملات میں دلچسپی لینا شروع کر دی تھی۔ سارے گھر والوں کے لیے یہ بہت خوشی کی خبر تھی۔

بلال صاحب تو کمال کے انسان ہیں۔۔سچ پوچھو، پہلے تو مجھے ان باتوں پر یقین ہی نہیں تھا۔ میں بلال صاحب کو بھی کوئی ایویں سا ہی شخص سمجھی تھی لیکن وہ تو ماہر عامل ہیں۔۔
صائمہ نے ِکھلے ہوئے چہرے کے ساتھ کہا۔
ہاں یہ تو ہے۔
فہیم نے اعتراف کیا۔

پھر میں کل لے جاٶں قندیل کو ان کے پاس۔۔۔؟
یہ نہ ہو زیادہ دن گزر جائیں اور معاملہ خراب ہو جائے۔۔۔آپ ہی نے تو بتایا تھا کہ بلال صاحب سنکی اور بدمزاج سے بندے ہیں ناراض ہی نہ ہو جائیں کہ ٹریٹمنٹ مکمل کیوں نہیں کروایا۔

دیکھ لو۔۔جیسا مناسب سمجھو۔۔پر جانے سے پہلے فون پر کال کر کے پوچھ لینا بلال صاحب سے۔۔۔ان کا نمبر لے لیا تھا میں نے۔۔میرے سیل فون میں بلال عزیز کے نام سے سیو ہے۔۔

آپ کچھ پریشان ہیں۔۔؟
صائمہ متوحش دکھائی دی۔
نہیں تو۔۔۔۔!
کچھ تو بات ہے۔

صائمہ نے اصرار کیا۔
یہ بلال مجھے کوٸی اچھا شخص نہیں لگا۔۔عجیب سا آدمی ہے۔۔۔
کیا مطلب؟ میں سمجھی نہیں؟

تم نے دیکھا نہیں وہ کیسی نظروں سے قندیل کو دیکھ رہا تھا۔۔
فہیم صاحب کو غصہ آ گیا۔

آپ تو کچھ زیادہ ہی کانشیس ہو رہے ہیں۔ پڑوسن بتا رہی تھی کہ ان کی شادی جلدی ٹوٹ گئی تھی۔ اتنی دیر انسان اکیلا رہ کر بعض دفعہ عجیب سا ہو جاتا ہے۔۔

جو بھی ہے۔۔جانا تو شاید پڑے۔ ہماری مجبوری ہے لیکن محتاط رہنا۔۔قندیل کو ایک لمحے کے لیے بھی اس بوڑھے بھیڑے کے پاس اکیلا مت چھوڑنا۔
فہیم صاحب نے بیزاری سے کہا۔

اگلے دن فہیم صاحب کے آفس جانے کے بعد صائمہ نے گیارہ بجے کے قریب بلال کو کال کی۔ بلال نے ایک گھنٹے بعد آنے کی ہدایت کی۔ خلاف توقع قندیل خوشدلی سے مان گئی۔ وہ بھی بلال عزیز کی صلاحیتوں کی معترف ہو گئی تھی۔

ایک گھنٹے بعد وہ دونوں بلال عزیز کے گھر کے لکڑی کے مین گیٹ پر کھڑی تھیں۔
کتنا عجیب سا گھر ہے نا ماما۔۔۔یہ کلر سکیم اور یہ دروازہ۔۔۔۔۔؟

قندیل نے دروازے پر لکڑی میں کھود کر بناٸی گئی تصویروں کی طرف ماں کو متوجہ کیا۔
دروازہ بھرے بھرے جسم کی مالک ایک نوعمر ملازمہ نے کھولا۔ وہ انھیں ڈراٸنگ روم میں لے آٸی۔ کچھ دیر بعد وہ تازہ جوس کے جگ اور گلاسوں کے ساتھ لوٹی۔
آپ جوس پیئں۔۔صاحب جی آ رہے ہیں۔

ملازمہ ان کے سامنے ٹرے رکھ کر چلی گئی۔ ابھی انھوں نے جوس پیا ہی تھا کہ بلال عزیز اپنے بھاری بھر کم جسم کے ساتھ ان کے سامنے آ بیٹھا۔۔قندیل کو دیکھ کر اس کی آنکھیں چمکنا شروع ہو گئی تھیں، وہ اسے بڑی محویت سے دیکھ رہا تھا۔۔اس کی نظریں دیکھ کر صائمہ کو فہیم کی تاکید یاد آئی۔

آپ نے تو کمال کر دیا بھائی جان۔۔ورنہ ہم تو قندیل کی طرف سے مایوس سے ہو گئے تھے۔
صائمہ نے حقیقی تشکر سے کہا۔

وہ تو شکر ہے آپ نے بروقت مجھ سے رابطہ کر لیا ورنہ وہ چڑیل بچی کی جان لے کر ہی ٹلتی۔۔۔بہرحال آج میں قندیل کے بالوں پر ایسا عمل کروں گا کہ وہ ڈائن کبھی اس پر دوبارہ حملہ نہیں کر سکے گی۔۔ورنہ یہ مخلوق ایک دفعہ جس کے پیچھے پڑ جائے ساری زندگی اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔۔
بلال نے صائمہ کے لیے جگ میں سے مزید اپیل جوس ڈالتے ہوئے کہا۔
نہیں نہیں۔۔پلیز اور نہ ڈالیں۔۔

یہ صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے آپ جوس پیئں، چاہیں تو ٹی وی دیکھیں۔۔میں بچی کو اپنے کمرہ خاص میں لے کر جا رہا ہوں۔۔ہو سکتا ہے دو تین گھنٹے لگ جائیں اس عمل میں۔
بلال نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
صائمہ پریشان ہو گئی۔۔

میں بھی ساتھ ہی چلتی ہوں۔۔میں یہاں اکیلی کیا کروں گی۔

ایسا ممکن نہیں ہے محترمہ۔۔۔یہ بہت خاص عمل ہوتا ہے۔۔۔وہاں میرے موکل بھی آئیں‌گے۔۔۔کیا آپ انھیں دیکھ پائیں گی؟

کوٸی بات نہیں میں کچھ دور بیٹھ جاٶں گی۔۔۔قندیل آنکھوں کے سامنے ہوگی تو مجھے تسلی رہے گی۔

صائمہ نے اپنی بند ہوتی آنکھیں بمشکل کھولتے ہوٸے کہا۔ اچانک ہی اسے شدید نیند کے جھونکے آنے لگے تھے۔۔نیند تو قندیل کو بھی آ رہی تھی لیکن اتنی نہیں کیوں کہ اس نے جوس کا ادھا گلاس ہی پیا تھا۔
آپ یوں کریں اپنی بیٹی کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے جائیں اور اپنے سامنے بیٹھا کر جی بھر کر دیکھتی رہیں۔۔۔معذرت چاہتا ہوں مجھے کچھ ضروری کام ہے۔

بلال نے گھڑی دیکھتے ہوئے بے نیازی سے کہا۔ اس کا چہرہ کسی چٹان کی طرح سخت اور بے مروت دکھائی دینے لگا تھا۔
آپ تو ناراض ہو گئے ہیں۔۔۔میرا یہ مقصد نہیں تھا۔

صائمہ سخت کنفیوز ہوگئی تھی۔ وہ اپنی بیٹی کو دوبارہ اس عذاب میں جاتا نہیں دیکھ سکتی تھی اور دوسری صورت میں اس کی عزت کو خطرہ تھا۔
معافی چاہتا ہوں۔

بلال نے روانہ ہونے کے لیے قدم آگے بڑھاٸے۔ صائمہ نے نیند سے تاریک ہوتے دماغ کے ساتھ اسے بمشکل روکا۔۔۔اس کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں اس کا دل کر رہا تھا یہی صوفے پر لیٹ کر سو جائے۔۔ اس نے لڑکھڑاتی زبان کے ساتھ قندیل کو بلال کے ساتھ جانے کی ہدایت کی۔ اور خود صوفے پر نیم دراز ہو گئی. اس کی بند ہوتی آنکھوں نے جو آخری منظر دیکھا وہ یہ تھا کہ بلال قندیل کا ہاتھ پکڑ کر اسے ایک اندرونی کمرے میں لیکر جا رہا ہے۔ اس کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایس ایس پی مظفر کمال اس تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ تھے جو بالعموم پورے ملک اور بالخصوص صوبے میں اچانک پھوٹ پڑنے والی فرقہ وارانہ کشیدگی اور قتل و غارت کی خاموشی سے تحقیقات کر رہی تھی۔ یہ جنگ اب تک تین درجن سے زائد لوگوں کی جان لے چکی تھی جس میں بیشتر علمائے کرام اور دینی تشخص رکھنے والے لوگ تھے۔ ہڑتالوں، جلاٶ گھیراٶ سے تباہ ہونے والی اربوں کی املاک اور سینکڑوں زخمیوں کا نقصان اس کے علاوہ تھا۔ کمیٹی کی اب تک کی تحقیقات کے مطابق یہ سب کچھ چند ہفتے پہلے ہر مکتب فکر کے ایک، ایک شدت پسند عالم کے اچانک متحرک اور بے قابو ہونے سے ہوا تھا۔ مولانا ندیم مکی کی کتاب اور قادیانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کی جارحیت نے جلتی پر تیل کا کام کر ڈالا تھا، اس لیے اب پورا ملک بارود کے ڈھیر کی شکل اختیار کر گیا تھا۔۔حکومت سنجیدگی سے کرفیو اور مسجدوں کی تالہ بندی کا سوچ رہی تھی جہاں سے مسلسل ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیز تقریریں جاری تھیں۔

مظفر کمال کی ٹیم نے ایک اور دلچسپ پوائنٹ بھی تلاش کیا تھا۔ مسلکی جنگ کی بنیاد بننے والے تقریباً تمام علما کرام کا اب تک قتل ہو چکا تھا۔زیادہ تر وارداتوں میں ایک ہی قسم کا اسلحہ اور لوگ استعمال ہو رہے تھے۔ ابتداٸی طور پر قتل ہونے والے تقریباً تمام علما کرام کو موت سے پہلے اچانک ہی کہیں سے بہت بڑی رقمیں ملی تھیں۔ تقریباً سب نے ہی نئی گاڑیاں اور مکانات لیے تھے۔۔۔اور سب سے اہم یہ کہ ایک دوسرے کا دشمن ہونے کے باوجود وہ سب ایک ہی شخص سے رابطے میں رہے تھے۔ تحقیقاتی ٹیم کو اب اسی حامد خان نامی شخص کی تلاش تھی جو گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہو چکا تھا۔
ہمیں یقین ہے کہ یہ اس کا اصلی نام نہیں ہے۔۔۔یقیناً حلیہ بھی نقلی ہو گا۔۔یہ سب ایک منظم سازش اور منصوبہ بندی سے کیا گیا ہے۔

مظفر صاحب نے اعلی حکام کو بھیجی جانے والی رپورٹ میں لکھا۔
ہم اسے تلاش کرنے کے علاوہ اس سارے معاملے میں دشمن ملک کی انوالمنٹ کے امکانات کے ساتھ ساتھ اسکے ثبوت تلاش کرنے میں لگے ہوٸے ہیں۔۔۔وہ دن دور نہیں جب اس بھیانک سازش کے مجرم جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔

اپنی سرکاری کار کی پچھلی نشست پر بیٹھے اس ذہین آفسر کی چمکتی آنکھیں گاڑی کے شیشے سے پار دور افق پر کچھ کھوج رہی تھیں۔۔ لیکن فی الحال وہ اپنے کیس کے سلسلے میں نہیں سوچ رہے تھے۔ ان کے دل پر ایک زخم تھا جو اب ایک ناسور بن کر ِرستا رہتا تھا۔

آہ۔۔۔خرم۔۔ تم کیسے گھبرو جوان تھے اور اب کیسی بے بسی کی زندگی جی رہے ہو۔۔
انھوں نے کرب سے آنکھیں میچ لیں۔

ایک حادثے نے مظفر صاحب کے اکلوتے بیٹے کی ریڑھ کی ہڈی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تھا۔۔اور اس کی زندگی بستر تک محدود ہو گئی تھی۔ آج ایک کولیگ کے ریفرنس سے ایک نوجوان حکیم نے خرم کے معاینے کے لیے آنا تھا۔ مظفر صاحب نے اس کی بہت تعریف سنی تھی لیکن ان کا دماغ یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ خرم کے جس مرض کا علاج بیرون ملک بھی دستیاب نہیں ایک جزوقتی حکیم اس سلسلے میں کیا مدد کر سکتا ہے۔۔۔لیکن ان کے سینے میں دھڑکتا ایک باپ کا دل ایسے ہر نئے معالج اور طریقہ علاج پر پرامید ہو جاتا تھا۔۔ وہ یہی سوچتے رہتے تھے کہ شاید کوٸی معجزہ ہو جائے۔

جب وہ گھر پہنچے تو بارش شروع ہو چکی تھی۔ دسمبر کی اس بارش نے سردی کی شدت میں بے پناہ اضافہ کر دیا تھا۔
علی اکبر نام کا ایک نوجوان ڈرائنگ روم میں آپ کا منتظر ہے۔۔۔؟
وہ پورچ میں رکی کار سے نیچے اترے تو ان کے خادم خاص نے خبر دی۔

مظفر کمال کے لیے یہ اطلاع خوش کن تھی ورنہ انھیں خدشہ تھا کہ علی شاید اس موسم میں نہ آٸے۔۔۔وہ گھر کے اندرونی حصے کی بجاٸے سیدھے ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گئے۔

جاری ہے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */