لکھے جو خط تجھے - زارا مظہر

لکھے جو خط تجھے ۔۔۔۔

خط لکھنا ایک خوبصورت روایت تھی، جو رفتہ رفتہ مکمل طور پر دم توڑگئی۔۔۔ آج کسی کام سے برسوں سے بند ایک دراز کھولنا پڑ گیا۔۔۔ دراز میں بہت سی دستاویزات کے ساتھ ایک کالے رنگ کی فائل مل گئی۔۔۔ بغیر کسی عنوان کے۔ سمجھ نہیں آ یا کیا ہے اس میں۔ جو تلاش رہے تھے، اسے ادھورا چھوڑ کر فائل کھول لی۔۔۔ فائل کیا تھی، ایک پورا زمانہ بند تھا۔۔۔ یادوں کا ایک ہجوم تھا۔۔۔ حال سے ماضی کے درمیان ایک سنہری راہگزر تھی۔۔۔ قوسِ قزح بن گئی، جہاں سےایک کہکشاں کی سیڑھی کھل گئی جو دور۔۔۔ زمین و آ سمان کے باہم ہوتے کِنار سے جالگی۔۔۔ ہم سہج سہج قدم دھرتے ایک خط سے دوسرے تک کا سفر کرنے لگے۔

علینا دو ڈھائی ماہ کی تھی اور ہم پوری دنیا سے کٹے دور دراز کے ایک کونے میں بس رہے تھے۔ صاحب کا پراجیکٹ انڈر پراسس تھا۔ سہولیات کا جال بچھایا جارہا تھا، لائینیں ابھی گھروں تک نہیں پہنچی تھیں ۔ سو فون کی سہولت استعمال کرنے کے لیے صرف ایک پی سی او تھا۔۔۔ جو کافی دور بھی تھا اور انتظار گاہ میں لمبی لائن۔۔۔ خط لکھنا آ سان تھا۔ ہم خط ہی لکھنے لگے۔۔۔ بہن کے وہ سارے سنہرے۔۔۔ خوشبودار جوابی خطوط جو تاریخ وار کبھی ہم نے فائل میں لگادیئے تھے، تاکہ محفوظ رہیں ۔۔۔ ان میں ایک جہان آ باد تھا۔۔۔

علینا نے آ ج سب کھایا پیا الٹ دیا۔۔۔ آ ج دو قدم لیے۔۔۔ آ ج سری لیک کھلاتے چمچ بج اٹھا ایک دانت نکل رہا ہے۔۔۔ ہاں چھوٹے بھائی کا ایڈمیشن ایک نمبر کی کمی سے رہ گیا کنگ ایڈورڈ میں۔۔۔ وہ صرف وہیں پڑھنا چاہتا ہے، اب ری پیٹ کرے گا۔۔۔ گرمی بہت پڑ رہی ہے۔۔۔ امی کا بلڈ پریشر ہائی رہنے لگا ہے۔۔۔ بڑے بھیا کی گڑیا آ ئی ہے۔۔۔ سب بہنوں کو جوڑے دلوا رہے ہیں، آ پ کا کونسے رنگ میں لیا جائے۔۔۔ بھائی کا ایڈمیشن ہوگیا ہے۔ ای میں روز لاہور آ نا جانا پڑتا ہے پاس بنوالیا ہے ۔۔۔

کیسا سنہرا زمانہ تھا۔ ہم غوطے کھانے لگے۔

ماسی جئینا آ ئی تھیں۔۔۔ وہ آپ کو اور آپ کی چائے کو بہت یاد کر رہی تھیں۔ فلاں چچی فلاں خالہ آ پ کو یاد کرکے آ بدیدہ ہوگئیں۔۔۔ بی بی سکینہ کی دونوں پوتیاں آپ کو پوچھتی ہوئی آئی تھیں، جنہیں آپ نے ان کی پانچویں چھٹی میں پڑھایا تھا۔ ایڈریس لے گئی ہیں، خط لکھیں گی۔۔۔ ہم غوطے کھاتے کھاتے سنہری جل پری بن گئے۔۔۔ نیون سائین کی طرح جلنے بجھنے لگے ۔ وہ سارے خطوط اس میں کلپ ہوئے ہوئے تھے، جو کسی زمانے میں ہمیں ہماری چھوٹی۔۔۔ ہماری ہمزاد بہن نے لکھے تھے۔۔۔

ایک الگ بائینڈنگ میں ہمارے اور ہمارے ڈھول سپاہی کے وہ سارے خط بندھے تھے جو ہم نے ایک دوسرے کو لکھے تھے۔۔۔ ( ہمارے میکے میں قیام کے دوران)۔۔۔ آ ج نہیں کھولے۔۔۔ کسی اور دن ان کی خوشبو اڑائیں گے۔۔۔

بیٹھے بٹھائے ہم تو کسی اور ہی جہان میں پہنچ گئے۔۔۔ ہمارے بچپن میں ہر کم پڑھے لکھے یا سرے سے غیر تعلیم یافتہ ویلے نوجوانوں کا واحد خواب "بارلے ملک" کمائی کے لیے جانا ہوتا تھا۔۔۔ کچھ ماں کے زیور کنٹھے بیچ کر۔۔۔ کچھ چھوٹا موٹا پلاٹ بیچ کر اور کئی تو بہنوں کے لیے جمع کیے جہیز کی واٹ لگاکر وقتاً فوقتاً دبئی، سعودیہ، مسقط، کویت جاتے ہی رہتے تھے۔۔۔ اور اچھی بھلی معاشرتی و عائلی زندگی قربان کرکے کولہو کا بیل بن جاتے۔۔۔ ان میں سے بیشتر کی نامہ نگاری (لکھت و پڑھت) ہمارے کندھوں پر ڈال دی جاتی۔۔۔

ہم گھر میں دو بڑی بہنوں کی چھوٹی بہن تھے اور دنیا جہان کے فالتو کام۔۔۔ والدہ کی سہیلیوں کی ونگاریں اور محلہ داری کے دید لحاظ کے کاموں کے علاوہ گھر کے بیکار سے کسی گنتی میں نہ آ نے والے کام بھی ہمارے ذمہ لگا دیئے جاتے۔۔۔ بڑی آپاؤں کا خیال تھا چھوٹی تو ہر وقت کتابوں میں گھسی رہتی ہے، ایسے فضول کام وہ ہی کیا کرے۔۔۔ جن میں محلے بھر کے لونڈوں کو جو اب کماؤ پوت ہونے کی وجہ سے بردبار ہوچکے تھے۔۔۔ جن کے لیے کبھی سالن نہیں بچتا تھا، اب ہزاروں میل کی دوری درمیان میں حائل ہونے کے باوجود گھر کا ہر کام ان کے مشوروں سے تکمیل پاتا تھا۔۔۔ ان کی ماؤں کی طرف سے خط لکھنا اور ان بچوں کو اسکول کا ہوم ورک کروانا، سیپارہ پڑھانا ہمارے ذمہ تھا، جن کو کوئی بھی ان کی نالائقی کی بنا پر نہیں رکھتا تھا۔۔۔ وہ والدہ کی وضع داری کیش کروانے آ جاتیں۔۔۔ اور والدہ وہ سارا "بَھان کَٹ" ہمارے حوالے کر دیتیں۔۔۔
شام کے چار بجتے ہی جب بھی اطلاعی گھنٹی بجتی، ہم جل تو جلال تو کا ورد کرنے لگتے۔۔۔ ضرور کوئی مصیبت ہمارے گلے پڑنے آ رہی ہے۔۔۔ اور اکثر ہماری امید بر ہی آ تی۔۔۔

ماسی جئینا ہماری خاندانی دھوبن تھیں۔ ہماری دادی نے انہیں سہیلی کا درجہ دے رکھا تھا۔۔۔ دادی تو ہماری پیدائش سے قبل ہی وفات پاچکی تھیں۔ گھر میں ابّا نے انہیں ہم سب کی دادی کا عہدہ تفویض کر رکھا تھا۔۔۔ سو بے وقت کسی بھائی کو باہر دیکھ کر جھاڑ جھپاڑ کر۔۔۔ گھر کی راہ دکھا دیتیں۔۔۔ چوبارے کی چھت پر پتنگ لوٹنے والے بھائی کو اپنے گھر کے صحن ہی سے لتاڑ دیتیں۔۔۔ بھائیوں کے جھگڑے باہر ہی نمٹا آتیں۔ وہ واحد خاتون تھیں جو کسی بھی وقت ہمارے گھر تشریف لا سکتی تھیں اور ہم سے پردہ بھی نہیں کروایا جاتا تھا۔۔۔ اب والدہ کی سہیلی بھی تھیں اور بہت سے اندر باہر کے کام ان کے ذمہ تھے۔۔۔ والدہ نے محلے میں کہیں عیادت یا تعزیت کو جانا ہوتا تو صبح کالج کے لیے نکلتے بھائی کے ہاتھ پیغام بھیج دیتیں۔۔۔ وہ اپنے دھندوں سے فرصت پاتے ہی صاف ستھرا جوڑا اور بڑا سا سفید دوپٹہ اوڑھے گھنٹی بجا دیتیں۔۔۔ ہان جی کی آڈر اے۔۔۔ بھائی انہیں محبت بھری شرارت سے ڈالراں آلیو کہتے تھے۔ پچھلی گلی میں رہتی تھیں۔ ان کے چار بیٹے باہر تھے، سو سب سے زیادہ خطوط وہی لکھواتیں۔۔۔ پہلے پلو میں دبی چٹھی دو تین بار پڑھواتیں۔۔۔ پھر پنجابی میں ہمیں سمجھاتیں کہ یہ جواب لکھنا ہے۔۔۔ تاکید کرتیں کہ "سوہنا وڑا بنا کے لِخیں۔۔۔ بارلے ملک جانا اے" اب ہم سارے جہان کے ویلے پہلے تین کپ چائے بناتے، والدہ کو اور ماسی کو پیش کرتے۔۔ تیسرا اپنے آ گے رکھتے اور ان کی مُنشی بنے باہر سے آ یا خط آ گے رکھتے اور ماسی کے پنجابی کے جملوں کو اردو میں ترجمہ کرتے ہوئے۔۔۔ ایک کے بعد ایک جملہ ترتیب سے ادب کی تہہ دیتے ہوئے تحریر کیے جاتے۔۔۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر ادبی جملے گھڑتے۔۔۔۔ ماسی جو چائے پیتے ہوئے خط کے متن کو سوچ رہی ہوتیں۔۔۔ کوئی درمیانی جملہ یاد کروا کر کہتیں "اوتھوں خط اک واری فیر پڑھ" پھر مناسب رد و بدل فرماتیں۔۔۔ پھر ہم خط کو اختتامیہ دیتے۔۔۔ سب کا درجہ بدرجہ سلام پہنچاتے اور خط بند کر کے سرنامہ لکھ دیتے۔۔۔ ماسی چٹھی کو پلو کے نیچے کرتے ہوئے ہم سے رازداری کا وعدہ لیتں کہ ان کی کسی بہو کو متن بارے ہوا نہیں لگنے دینی۔۔۔ اور اپنے گھر میں بھی کسی کو نہیں بتانا ورنہ ہوا بات کو اڑالیتی ہے۔۔۔
اور خوبئ قسمت دیکھیے وہ زمانے ہی ہوا اڑا لے گئی۔۔۔

Comments

زارا مظہر

زارا مظہر

زارا مظہر نے اردو میں ماسٹرز کیا ہے، شاعری سے شغف ہے۔ دل میں چھوٹے چھوٹے محسوسات کا اژدھام ہے جو سینے جو بوجھل پن کا شکار رکھتا ہے، بڑے لوگوں کی طرح اظہاریہ ممکن نہیں، مگر اپنی کوشش کرتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */