معرکہ (3) - ریحان اصغر سید کی شاہکار کہانی

پہلی قسط
دوسری قسط

فری لانسنگ کی وجہ سے علی اکبر لیپ ٹاپ پر اپنا کام، گھر بیٹھ کر ہی انجام دیتا رہتا تھا۔ اس طرح اسے ماں کو اکیلا چھوڑنے کی فکر بھی نہیں ہوتی تھی اور اس کی حکمت کے مریض بھی گاہے بگاہے اس کے گھر سے ہی دوائی لے کر مستفید ہوتے رہتے تھے۔

بیل بجی تو علی نے باہر جاکر دیکھا۔

ایک سرکاری نمبر پلیٹ والی کار کا ادھیڑ عمر ڈرائیور دروازے پر کھڑا تھا۔

”مجھے توقیر صاحب نے بھیجا ہے میں آپ کو لینے آیا ہوں۔۔۔۔
باجوہ صاحب کے ریفرنس سے۔۔۔“

ڈرائیور نے علی کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے اضافہ کیا۔ باجوہ صاحب محکمہ زراعت میں اٹھارویں گریڈ کے افسر تھے۔ جو طویل عرصے سے جگر کی سوجن کے عارضے میں مبتلا تھے۔ علی اکبر سے علاج کروانے کے بعد وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے تھے۔ علی کے علم میں تھا کہ انھوں نے ہی اپنے محکمے کے سیکرٹری توقیر بیگ کو علی اکبر کے بارے میں بتایا تھا۔ توقیر صاحب کا اکلوتا بیٹا اعصابی نظام کی کسی پیچیدہ بیماری کا شکار ہو گیا تھا جس کی وجہ سے اسے وقتاً فوقتاً دورے پڑتے تھے اور وہ ہوش و حواس کھو دیتا تھا۔

علی نے گھر میں جاکر اپنا میڈیکل بیگ اٹھایا اور ماں کو بتا کر ڈراٸیور کے ساتھ بیٹھ گیا۔ کار توقیر صاحب کے سرکاری بنگلے کی طرف روانہ ہوگئی۔

توقیر بیگ کے بیٹے کا نام احتشام اور عمر بیس بائیس سال کے درمیان رہی ہو گی۔ جب علی، توقیر صاحب کی سرکاری رہائش گاہ پر پہنچا تو تب بھی اس کی طبیعت سخت خراب تھی۔ وہ نڈھال سا بستر پر پڑا گہرے گہرے سانس لے رہا تھا۔ اس کا رنگ زرد، ہونٹ اور مٹھیاں سختی سے بھینچی ہوئی تھیں۔ احتشام کی شولڈر کٹ والی فیشن ایبل والدہ اور محکمہ زراعت کے صوبائی سیکرٹری توقیر بیگ بھی پریشان سے اس کے بیڈ کے پاس ہی کھڑے تھے۔

دونوں نے قدرے حیران نظروں سے داڑھی اور ٹوپی والے نوجوان کو دیکھا۔
السلام علیکم، علی اکبر۔۔۔!
علی نے خوشدلی سے بیگ صاحب سے ہاتھ ملاتے ہوٸے اپنا تعارف کروایا۔
آپ تو بلکل نوجوان ہیں۔۔
بیگ صاحب مسکراٸے۔

آپ کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے زحمت دی۔۔۔اس کے لیے معذرت۔۔۔لیکن کیا کروں باپ ہوں نا۔۔۔گھبرا گیا تھا۔
انھوں نے احتشام کی حالت کی طرف اشارہ کیا۔

پہلے دورے کی حالت میں سکون آور ادویات اور انجیکشنز فوری مثبت اثر دکھاتے تھے لیکن آہستہ آہستہ وہ بھی کام کرنا چھوڑ گئے ہیں۔۔۔ڈاکٹرز کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا مسئلہ ہے۔

بیگ صاحب نے بے بسی سے بتایا۔
اپنے مریض اور اس کے لواحقین کا اعتماد حاصل ہونا ایک معالج کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس کے بغیر شفا کا عمل سست یا بے اثر ہوجاتا ہے۔

علی نے بیگم صاحبہ کے چہرے کی بے یقینی دیکھتے ہوٸے کہا۔

باجوہ صاحب نے آپ کی بہت تعریف کی ہے۔ مجھے یقین ہے آپ ایک ذہین اور تجربہ کار معالج ہیں، اسی لیے میں نے اپنے بیٹے کے علاج کے لیے آپ کا انتخاب کیا ہے۔

بیگ صاحب نے سنجیدگی سے کہا۔

حکمت ایک مستند طریقہ علاج ہے۔ شفا منجانب اللہ ہے۔ میں احتشام صاحب کا مکمل طبی معاینہ کروں گا۔ اگر میں ان کی بیماری کی تشخیص نہ کرپایا تو آپ کا اور اپنا وقت ضائع کرنے کی بجاٸے میں معذرت کرنے کو ترجیح دوں گا۔

براٸے مہربانی مجھے احتشام اور اسکی ٹیسٹ رپورٹس کے ساتھ اکیلا چھوڑ دیں۔
علی نے مریض کی کلائی تھام کر نبض ٹٹولتے ہوٸے کہا۔ بیگ صاحب خاموشی سے اپنی بیگم کو لے کر کمرے سے چلے گئے۔ علی نے احتشام کو بازو سے پکڑ کر سیدھا لٹانے کی کوشش کی، جو اس نے سختی سے علی کا ہاتھ جھٹک کر ناکام بنادی اور بڑبڑاتے ہوٸے اسے کوئی گالی بھی دی۔

تم ٹھیک ہوجاٶگے دوست۔۔۔ خدا پر بھروسہ رکھو۔ جب ہم بیمار ہوتے ہیں وہی ہمیں شفا دیتا ہے۔

علی نے اسے زبردستی سیدھا لٹایا اور اس کے جسم کا تفصیلی معاینہ کرنے لگا۔ اس کے بعد اسے نے اس کی ایم آر آئی، الٹرا ساونڈ، خون اور پیشاب کی رپورٹس دیکھیں۔ علی نے اپنے بیگ سے ایک سنہری سفوف کی شیشی برآمد کی اور اسے گلاس میں تھوڑا سا پانی لے کر اس میں گھولا۔احتشام کو پانی پلانے سے پہلے علی چند منٹ زیر لب کچھ پڑھتا رہا، پھر اس نے احتشام کے سر کے نیچے بازو ڈال کر اس کا سر ذرا سا بلند کیا اور پانی کا ایک گھونٹ اسے پلایا۔۔۔ احتشام نے پانی پی کر اپنی آنکھیں کھول کر اسے پہچاننے کی کوشش کی۔

اس سے تمھارا سردرد ٹھیک ہو جائے گا ان شاء اللہ۔

علی نے اسے نرمی سے لٹا کر بیگ سے ایک سیاہ رنگ کے محلول کی بوتل نکال کر اس میں سے کچھ اپنی ہتھیلی میں ڈال کر احتشام کے پیروں کی مالش کی۔ اگلے چند منٹ میں احتشام کی طبیعت میں معجزاتی تبدیلی نمودار ہوئی اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اچانک سے اس کا چہرہ ہشاش بشاش اور پرسکون دکھائی دینے لگا تھا۔ اپنے بیٹے کو اس طرح بیٹھا دیکھ کر بیگ صاحب خوشی سے ِکھل اٹھے۔

آپ نے تو کمال کردیا ہے علی صاحب۔۔۔
وہ خوشی سے چہکے۔

ھذا من فضل ربی۔ اس کی عطا کے بغیر کوئی خیر ممکن نہیں ہے۔

علی نے انکساری سے کہا اور احتشام کے لیے ایک ہفتے کی دوائی کی پڑیاں بناکر بیگ صاحب کو ان کا طریقہ استعمال سمجھایا۔۔۔کچھ دیر بعد وہ گاڑی میں اپنے گھر کی طرف جارہا تھا۔۔۔ بیگ صاحب اسے خود چھوڑنے جارہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کے بارہ بجے تھے۔ مناہل کب کی سوچکی تھی، لیکن قندیل ابھی ٹیبل لیمپ کی روشنی میں اپنے نصاب کی کتاب پڑھ رہی تھی۔ اچانک کمرے میں گپ اندھیرا چھا گیا۔ شاید لائٹ چلی گئی تھی۔ قندیل نے کچھ لمحے بجلی کے آنے کا انتظار کیا، پھر احتیاط سے ایمرجنسی لائٹ کی تلاش میں سٹڈی ٹیبل پر ہاتھ ادھر ادھر مارنے لگی۔ مناہل اور قندیل کے کمرے کی کھڑکی عقبی لان میں کھلتی تھی، وہاں سے روشنی کی کچھ کرنیں چھن کر کمرے میں آرہی تھیں۔ ایمرجنسی لائٹ کی تلاش میں ناکامی کے بعد قندیل ایلومنیم کی کھڑکی کی طرف آئی اور اسے سلائیڈ کر کے کھولا۔ کھڑکی کھلتے ہی ٹھنڈی ہوا اور پھولوں کی خوشبو کا جھونکا قندیل کی ناک سے ٹکرایا۔ باہر ہر طرف چاندنی پھیلی ہوئی تھی۔ لان کا جھولا ہل رہا تھا، جس پر کوٸی لمبے سیاہ بالوں والی عورت قندیل کی طرف پشت کیے بیٹھی تھی۔ قندیل نے اپنی گرم شال کندھوں پر ڈالی اور سلیپر پہن کر کھڑکی سے لان میں اتر گئی۔ جھولے کی طرف سے لوہے کی زنجیر اور بیرنگ کی چیں چیں کی کرخت آوازیں ساری منظر اور رومانیت کو تہس نہس کررہی تھیں۔ صبح اس کو آئل اور گریس لگوا کے سیٹ کرواتے ہیں“ قندیل نے جھولے کی طرف بڑھتے ہوٸے سوچا۔

ووٶٶ۔۔۔
قندیل جھولے کے بالکل پیچھے جا کر اپنی ماما کو ڈرانے کے لیے ان کا کندھا ہلا کر موٹی آواز میں بولی۔۔لیکن وہ عورت بالکل ساکت بیٹھی سامنے دیکھتی رہی۔

اٹس ناٹ فیئر ماما۔۔۔آپ ڈری ہی نہیں۔۔۔

قندیل گھوم کر اپنی ماما کے پہلو میں بیٹھتے ہوئی ٹھنکی۔۔۔۔لیکن جسے وہ اپنی ماں سمجھ رہی تھی وہ عورت اس کی ماں نہیں تھی بلکہ وہ کوئی عورت ہی نہیں تھی۔۔۔وہ تو کسی بانس کی طرح دبلی سی چیز تھی جس کے لمبوترے سر کے نیچے بے ہنگم سی ایک چیز تھی جو منہ جیسی تو تھی لیکن انتہائی خوفناک اور ڈراٶنی ۔قندیل کے منہ سے بے اختیار ایک تیز چیخ نکلی۔۔پھر ایک کے بعد ایک۔۔

قندیل کے ہاتھ پیر اتنے پھول گئے تھے کہ وہ بھاگنے کے چکر میں بار بار زمین پر گر رہی تھی۔

فہیم صاحب اور صائمہ اپنے بیڈروم میں تھے۔ بجلی بند ہونے کی وجہ سے کمرے میں ایمرجنسی لائٹ جل رہی تھی۔ جب انھیں قندیل کی مسلسل چیخوں کی آواز سنائی دی۔
”یہ تو قندیل کی آواز ہے۔۔۔
فہیم صاحب گھبرا کر بولے۔

آواز عقبی لان سے آ رہی ہے۔
انھوں نے لائٹ اٹھا کر باہر کی طرف بھاگتے ہوئے کہا۔

قندیل جھولے کے پاس گھاس پر گری ہوئی مسلسل چیخیں مارتی جارہی تھی۔ بظاہر آس پاس کوئی بھی نہیں تھا۔

قندیل۔۔۔قندیل بیٹا اٹھو۔۔۔ کیا ہوا ہے۔۔۔؟ کس سے ڈر رہی ہو؟

فہیم صاحب نے قندیل کو گود میں اٹھا لیا۔ اس کا چہرہ زرد اور آنکھیں خوف سے پھٹی جا رہیں تھیں۔ وہ مڑ کر ڈری ڈری نظر سے جھولے کو دیکھ رہی تھی۔ فہیم صاحب اسے اٹھا کر اپنے بیڈ روم میں لے آئے تھے۔ گھبرائی ہوئی صائمہ بھی ان کے ساتھ تھی۔

بجلی آچکی تھی۔

یہ کسی چیز سے ڈر گئی ہے۔ فہیم صاحب نے صائمہ کو تسلی دی۔

تم۔۔۔تم کیوں‌گئی تھی اس وقت اکیلی لان میں۔۔۔؟ پاگل لڑکی۔۔۔!

صائمہ نے غصے اور پیار کی ملی جلی کفیت میں قندیل کے چہرے سے بال ہٹائے۔

تفتیش بعد میں کرلینا۔۔اسے پانی پلاٶ۔
فہیم صاحب نے قندیل کا ہاتھ تھامتے ہوٸے کہا۔
قندیل اٹھ کر بیٹھ گئی۔

بابا۔۔۔لان کے جھولے میں ایک چڑیل بیٹھی ہوٸی تھی۔

وہ مجموعی طور پرکافی دلیر لڑکی تھی، لیکن جو کچھ اس نے دیکھا تھا وہ بڑے بڑے بہادروں کو ڈرانے کے لیے کافی تھا۔

چڑیل۔۔۔۔؟
صائمہ نے حیران ہوکر اپنے خاوند کو دیکھا۔ فہیم نے آنکھوں آنکھوں میں اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔

واٶہ۔۔۔ویری انڑسٹنگ۔۔۔تو کیسی ہوتی ہیں یہ چڑیلیں دیکھنے میں۔۔۔میری کبھی ملاقات نہیں ہوئی نا۔۔

فہیم صاحب نے ہنستے ہوئے قندیل کو کندھے سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگایا۔
آپ میرا مذاق اڑا رہے ہیں۔۔۔do u think i am fool
قندیل نے ناراضگی سے منہ پھیلا لیا۔

نو۔۔نیور۔۔۔ فہیم صاحب سنجیدہ ہوگئے۔ مجھے تفصیل سے ساری بات بتاٶ۔
آپ کو پتا ہے بجلی چلی گٸی تھی؟

میں نے ونڈو کھولی تو چاندنی چٹکی ہوٸی تھی۔ مجھے لگا کہ ماما جھولے پر بیٹھی ہیں۔۔پر وہ تو پتا نہیں کیا بلا تھی۔
مشعل نے خوف سے جھرجھری لی۔
کیا بلا تھی وہ؟

پتا نہیں بابا۔۔۔بانس کی طرح پتلی اور لمبی۔ سر کی ساخت ایسی تھی جیسے کسی نے صراحی کی گردن پر چہرہ بنا دیا ہو۔ آگ کے شعلے جیسی آنکھیں۔۔۔ ناک کی جگہ ایک گڑھا تھا اور منہ سے نکلے ہوٸے نوکیلے دانت۔۔۔اف خدایا۔۔۔

قندیل نے آنکھیں موند کر منہ اپنے باپ کے سینے میں چھپالیا۔۔ فہیم صاحب پریشان ہوگئے۔ قندیل ایسی بچی نہیں تھی جو کسی معمولی سی بات پر اتنی خوفزدہ ہوجاتی۔ وہ بہت ذہین اور پر اعتماد لڑکی تھی۔

چلیں۔۔اب صبح اس چڑیل کا سراغ لگائیں گے۔۔۔رات کافی ہوگئی ہے ابھی آپ سو جائیں۔۔۔ چلیں محترمہ میں آپ کو آپ کے کمرے تک چھوڑ آٶں۔

فہیم صاحب نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔

قندیل کے چہرے پر تذبذب کے تاثرات تھے۔۔

آج میں ادھر ہی نہ سو جاٶں۔۔۔آپ لوگوں کے پاس..if u do'nt mind
قندیل نے قدرے شرمندہ انداز میں باری باری اپنے والدین کا چہرہ دیکھا۔۔۔
no not at all…

کیسی باتیں کر رہی ہو؟

صائمہ نے قندیل کو اپنے ساتھ لگا کر محبت سے اس کی کمر سہلائی۔۔۔

پلیز ماما بابا، اس بات کا ذکر مناہل اور بلاول سے مت کیجیے گا ورنہ وہ two idiots میرا مذاق اُڑائیں گے۔۔۔!
قندیل کی اس بات پر فہیم اور صاٸمہ بے اختیار ہنس پڑے۔

فہیم صاحب اور صائمہ، قندیل کی کفیت پر حیران و پریشان تو تھے۔۔پھر بھی وہ اس بات کو بھول جاتے اگر اگلے دن قندیل انھیں گھر کی بیسمنٹ میں بے ہوش نہ ملتی۔۔۔ اس نے ایک دفعہ پھر اس مافوق الفطرت چیز کو دیکھا تھا۔ اس نےقندیل کا گلا دبانے کی کوشش کی تھی۔۔۔ قندیل چیخیں مارتے مارتے بے ہوش ہو گئی تھی۔۔۔ بظاہر قندیل کی گردن اور جسم پر کسی قسم کی خراش یا زخم کا کوئی نشان نہیں تھا لیکن اس کا پر یقین انداز فہیم صاحب کو پریشان کر رہا تھا۔

بیٹا، میں نے شام کو ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ لی ہے۔۔آپ تیار رہنا۔۔۔
ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ ۔۔؟
قندیل حیران ہوئی۔۔ وہ کیوں بابا؟
مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ ڈاکٹر سے کنسلٹ کرنا ضروری ہوگیا۔
u mean psychiatrist?
قندیل نے حیرت اور افسوس سے پوچھا۔

دیکھو بیٹا۔۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم نے جو دیکھا وہ سب جھوٹ تھا۔ ہوسکتا ہے وہ نظر کا واہمہ ہو۔۔۔نہ ہی اس کا یہ مطلب لینا کہ ہم آپ کی بات کا یقین نہیں کررہے۔۔۔ اب ہمیں اب آگے بڑھنا ہے۔۔آگے دیکھنا ہے اس کا سلوشن کیا ہے۔
فہیم صاحب نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھپکا۔ وہ ناشتے کی ٹیبل پر کھانے کے بعد چاٸے پی رہے تھے۔

and what the hell a psychiatrist can do in these circumstance?
قندیل بیزار ہو کر اٹھی۔

He will find the reasons and try to fix it……
I can't see you suffering in this hell.

فہیم صاحب نے قدرے بلند آواز میں اپنے کمرے میں جاتی قندیل سے کہا۔۔۔لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔۔
سمجھاٶ اسے۔۔۔۔!

وہ کرسی کھسکا کر کھڑے ہوئے۔ صائمہ بے بسی سے سر ہلا کر رہ گئی۔۔۔

ہر آنے والا دن پہلے سے بدتر تھا۔ قندیل کی حالت بگڑتی جا رہی تھی۔ کبھی کبھار دکھائی دینے والی چڑیل اب اسے ہر وقت نظر آنے لگی تھی۔ قندیل ہر وقت خوفزدہ رہتی، اس کا کھانا پینا، پڑھنا لکھنا سب چھوٹ گیا تھا۔ فہیم صاحب اسے اچھے سے اچھے نفسیاتی معالج کے پاس بھی لے کر گئے، لیکن سب بے اثر ثابت ہورہا تھا۔ کچھ چیزیں ایسی تھیں جس نے فہیم صاحب کو دوسرے انداز میں سوچنے پر مجبور کردیا تھا۔ قندیل کے الماری میں رکھے کپڑے میں جلنے کے سوراخ نظر آتے۔۔۔ اس کے کمرے میں خودبخود آگ بھڑک اٹھتی۔ کمرے کے فرش اور دیواروں پر خون کے چھینٹے دکھائی دیتے۔

پھر ان کی راہنمائی ایک پڑوسی نے کی۔

یہ خلائی چیزوں کا معاملہ ہے بھائی صاحب۔۔۔ڈاکٹروں کے چکر میں بچی ہی نہ جان سے چلی جائے۔۔۔

کیا مطلب؟
وہ سامنے گھر دیکھ رہے ہو؟

اس نے پارک کے دوسرے طرف والے ایک پراسرار دکھائی دیتے گھر کی طرف اشارہ کیا۔ جس کے بیرونی دیواروں پر بالکل سیاہ پینٹ کیا گیا تھا۔
ہاں۔۔۔تو۔۔۔؟

وہ بلال صاحب کا گھر ہے۔۔جدی پشتی رئیس ہیں لیکن انھوں نے اپنی عمر گزار دی ہے انہی چیزوں کی تحقیق میں۔۔۔بڑی پہنچی ہوئی ہستی ہیں۔۔۔میرا مشورہ مانو وقت ضائع نہ کرو۔۔۔ان سے ایک دفعہ مل لو۔۔شاید کوئی فائدہ ہوجاٸے۔۔۔
فہیم صاحب سوچ میں پڑگئے۔۔

بھاٸی سچی بات ہے ہم سے تو گڑیا کی حالت دیکھی نہیں گئی، کل میں نے بالکونی میں دیکھا تو پہچانا ہی نہیں۔۔۔بالکل ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئی ہے۔۔۔اللہ ہی رحم کرے۔

پڑوسی نے ہمدردی سے کہا۔
فہیم صاحب سر ہلا کر رہ گئے۔۔۔ان کی نظریں کچھ دور دوسروں سے بلکل الگ دکھائی دیتے دو منزلہ مکان پر ٹکی ہوئی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہاڑی علاقے کی دبلی پتلی بل کھاتی سڑک پر ایک سیاہ رنگ کا بڑا سے ٹرک جارہا تھا۔ ٹرک کے اگلے حصے میں پانچ سیٹوں کا کیبن تھا۔۔۔ دو آگے اور تین ان کی پشت پر۔۔۔۔اور پچھلا حصہ کسی بکتر بند کی طرح چوڑا اور محفوظ دکھائی دیتا تھا۔ وہ پانچوں اسی پنجرے نما حصے میں آمنے سامنے بیٹھے ہوٸے تھے۔ تین ایک طرف اور دو دوسری طرف۔ ان کے جسموں پر ایرفورس کی یونیفارمز تھیں جو میلی اور شکن آلود ہو رہی تھیں۔ ان کے کالر اور شولڈر کی پٹیاں اور بیج اکھیڑ لیے گئے تھے جس کی وجہ سے ان کے عہدوں کی پہچان نہیں ہو پا رہی تھی۔ لیکن جیب پر سلائی سے لکھے ہوئے لفظوں سے اندازہ ہورہا تھا کہ ان کا تعلق میڈیکل کور سے ہے۔ پانچوں کے رنگ زرد، آنکھیں ویران اور چہرے ستے ہوئے تھے۔ ان کی کلائیوں‌پر سٹین لیس سٹیل کی ڈیجٹل ہتھکڑیاں تھیں جو مخصوص چپ کارڈ سے ہی کھولی جاسکتی تھیں۔ گاڑی کے اگلے کیبن میں بھی پانچ ہی لوگ تھے۔ انھیں نے پیراشوٹ کے کپڑے کے کالے چوغے سے پہن رکھے تھے۔ جن کے ہڈ ان کے ادھے چہروں کو چھپائے ہوئے تھے۔۔۔ لیکن جتنے چہرے کھلے ہوے تھے وہ کافی خوفناک تھے۔ اتنی دیر میں ڈیش بورڈ میں نیویگیشن سسٹم کی سکرین کی دونوں جانب سے کچھ سرخ نقطے نمودار ہوئے۔۔وہ تیزی سے گاڑی کی طرف بڑھ رہے تھے۔۔اب نیوگیشن سسٹم کی سکرین پر خطرے کا نشان بھی بلنک کرنا شروع ہو چکا تھا۔

ابے یار، یہ منحوس کہاں سے ٹپک پڑے۔۔۔
ڈرائیور کراہا۔
ان کمبختوں کو کیسے اطلاع ہوگئی۔۔۔؟
پسینجر سیٹ والا بھی حیران تھا۔

اسلحہ سنبھال لو دوستو۔۔اس کے استعمال کا وقت آ پہنچا ہے۔

پسنجر سیٹ والے نے ڈیش بورڈ پر پڑی عجیب سی شکل کی گن اٹھائی۔۔وہ انداز و اطوار سے ان سب کا سربراہ معلوم ہوتا تھا۔

نمبر 1۔۔۔ٹرک کی چھت پر چلے جاٶ۔

پچھلی سیٹ پر بیٹھا ہوا ایک چوغہ پوش بغیر کوئی بات کیے اپنی گن پکڑ کر گاڑی کے سن روف کے راستے سے ٹرک کی چھت پر چلا گیا۔

1.2.3.4.5.6.7.8
باس نے سکرین پر نقطے گنے۔۔

تین پانچ کا مقابلہ ہے یارو۔ مجھے شرمندہ نہ کرنا۔۔

باس نے اپنے چہرے سے ہڈ ہٹا کر پیچھے پھینکا۔۔ اس کے چہرے پر جلد کی جگہ پر بوسیدہ سے ورق لٹک رہے تھے۔۔۔آنکھیں اپنے حلقوں سے بہہ کر گال پر لٹک رہیں تھیں۔ ناک کی جگہ پر ایک لمبا سا گڑھا تھا اور ہونٹ سرے سے غائب تھے۔ اس نے دروازے کا لاک کھولا اور اسے ٹانگ رسید کی جس سے مضبوط دروازہ ٹوٹ کر ہوا میں اڑتا ہوا کہیں غائب ہو گیا۔ جس کے ساتھ ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا گاڑی میں داخل ہوا۔

اگر مجھے زکام ہو گیا تو میری ماں تمھیں اس کے لیے کبھی معاف نہیں کرے گی۔

باس نے چٹان پر نمودار ہوتے ایک سفید پوش پر برسٹ فائر کرنے سے پہلے کہا۔ سفید چوغے اور نیلی مخروطی ٹوپی میں ملبوس سفید پوش تو گویا چھلاوہ تھا۔ ایک بھی گولی اس کو چھو نہ سکی۔ البتہ اس کے کندھے پر رکھے راکٹ لانچر سے فائر کیے گئے میزاٸل نے سڑک کو اڑا کر رکھا دیا تھا۔ ڈرائیور نے بڑی مشکل سے بریک لگا کر گاڑی کو سڑک کی جگہ پر نمودار ہوئی کھائی میں گرنے سے بچایا۔

ایسے لگاتے ہیں بریک۔۔۔؟ ابھی میرے چہرے کا پراٹھا بن جاتا۔۔۔
باس نے نیچے چھلانگ لگانے سے پہلے ڈراٸیور کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔

باہر اب گھمسان کی جنگ جاری تھی۔۔بلاشبہ سفید پوشوں کا پلا بھاری تھا۔ انھوں نے پہلا شکار سیاہ ٹرک کے ڈرائیور کا کیا۔ اس پر اتنی آگ اور گولیاں ماری گئیں‌کہ اس کا اوپر والے دھڑ پر صرف جلا ہوا قیمہ ہی بچا تھا جس میں سے بدبو اور دھواں نکل رہا تھا۔ لیکن سفید پوشوں کی فوج ٹرک کی چھت پر موجود نمبر 1 کی موجودگی سے بے خبر تھی۔ جس کی انھیں بھاری قیمت چکانی پڑی۔ اس کے فائر کیے ہوئے ایک میزائل نے ایک جانب سے گاڑی کی طرف بھاگ کر آتے تین سفید پوشوں کو دھواں اور آگ میں بدل دیا تھا۔۔۔ کچھ دور ایک چٹان پر کھڑے سفید پوشوں کے امیر نے یہ منظر حیرت اور افسوس سے دیکھا۔اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے گلے سے لٹکی رائفل اُتارکر کر ٹرک کی چھت پر ایک برسٹ فائر کیا۔۔۔ اگلے ہی لمحے چھت پر نمبر 1 کی راکھ سے دھواں نکلتا دکھائی دیا۔

قیدی ڈاکٹروں کو ان کے خدا کے پاس بھیجنے کا وقت ہوگیا ہے میرے دوست۔۔۔جاٶ ان کی مشکل آسان کرو۔

چٹان کی اوٹ سے فاٸرنگ کرتے ہوئے باس نے نمبر تھری سے کہا۔
نمبر تھری کے ڈراٶنے چہرے پر ایک کریہ مسکراہٹ ابھری اور وہ خاموشی سے ٹرک کے پچھلے حصے کی جانب رینگ گیا۔

(جاری ہے)

Comments

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید فکشن اور طنز و مزاح لکھنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کم مگر اچھا اور معیاری لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */