ماں کی نوکری - محمود فیاض

ایک ویڈیو کلپ بہت مشہور ہوا ہے۔ لوگوں نے اس کی کاپیاں بنا بنا کر دنیا میں پھیلا دی ہیں۔ ہے بھی بہت خوبصورت پیغام۔ ایک ماں کی قربانیوں کے بارے میں۔

کلپ کچھ یوں ہے کہ ایک انٹرویو والا ملازمت کے امیدواروں کو بتاتا ہے کہ ان کی کمپنی میں جو جاب ہے، اس میں چوبیس گھنٹے کام کرنا ہوگا، کوئی چھٹی نہیں ہوگی، ویک اینڈ پر ڈبل کام کرنا ہوگا، کرسی نہیں ہوگی، سارا دن کھڑے رہ کر کام کرنا ہوگا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کی کوئی تنخواہ نہیں ہوگی۔ ۔ ۔ اس پر فطری طور پر ہر امیدوار کہتا ہے کہ ایسی جاب بھلا کون قبول کرے گا۔۔۔ جس پر انٹرویو کرنے والا کہتا ہے، ایک بندہ ہے آپ ہی کے گھر میں ، جو یہ سارے کام کر رہا ہے، وہ ہے۔۔۔ ماں۔۔۔ ں۔۔۔ ں۔۔۔ ں۔۔۔

بہت جذباتی قسم کا کلپ ہے۔ اور اگر اچھے طریقے سے فلمایا گیا ہو تو دیکھنے والوں پر اثر بھی بہت کرتا ہے۔

مگر اکثر غلطیاں جذبات ہی میں ہوتی ہیں۔ اس کلپ، بیانیے یا دعوے میں کئی غلطیاں ہیں۔ ماں کے کردار کو ایک ملازمت سے تشبیہہ دینے والوں کی نیت خواہ کتنی اچھی ہو، انہوں نے لین دین کے مکروہ انسانی پیشوں سے ایک آفاقی جذبے کو تول کر ماں کی بھی توہین کی ہے، اور دیگر رشتوں کی بھی۔۔۔ مگر افسوس اس فلمی کلپ کے آخر تک پہنچنے والوں کی جذباتی کیفیت اس لائق نہیں ہوتی کہ وہ اس کا ایسا تجزیہ کرسکیں۔۔۔ شاید ماضی میں میں نے بھی کبھی اس کلپ کو شئیر کیا ہو، انہی جذبات میں آ کر۔۔۔ مگر جب غور کیا تو بات ہی الٹ نکلی۔

جاب، نوکری، ٹھیکہ، مزدوری۔۔۔ کوئی بھی نام دے لیں، غلامی کے مختصر یا طویل وقفہ ہی ہوتے ہیں۔ آپ کا باس، مینیجر، یا کلائینٹ جو کہے، آپ کو کرنا پڑتا ہے۔ اور اس کے باوجود معاوضے کے لیے چہرے پر مسکراہٹ، اور ہاتھ آگے کو پھیلانا ہوتا ہے۔ ایک کمرے کی کمپنی سے لے کر ملٹی نیشنل تک کام کے میرے تجربے میں یہ مشاہدہ سب سے اوپر ہے کہ معاوضہ دینے والا کسی نہ کسی شکل میں آپ کو غلام سمجھتا ہے۔

ایک ماں کا کردار جاب سے میچ ہی نہیں کرتا بلکہ اس کو جاب کہنا اس کی توہین ہے۔ رشتوں کو "اپنا کھانا میرا جسم" سے ناپنے والی سوچ ہی نے یہ راہ بھی دکھائی ہے کہ ہم ماں کے رشتے کو جاب سمجھ کر اس پر ترس کھائیں۔

پریگننسی ٹیسٹ کی دو لکیریں ایک کھلنڈری لڑکی کو کیسے ایک ماں کا روپ دیتی ہیں وہ سطحی نظر رکھنے والے جان ہی نہیں سکتے۔ کیسے دوسروں سے چھین کر کھا جانے والے لڑکی ماں بن کر اپنے حصے کا کھاجا بھی اپنے بچے کے لیے رکھ دیتی ہے۔ انسانی جبلت میں کہیں کہیں جانور بلکہ نجس جانور بھی پیدا ہو جاتے ہیں، مگر عام طور پر ہر عورت ویسی ہی ماں ہوتی ہے جیسی میری اور آپ کی ہیں۔ قربانی دینے والی، خیال رکھنے والی، اور آپ کی ہر ہر تکلیف پر بے چین ہو جانے والی۔

ایک ماں جب اپنے بچوں کے ڈائپر بدلتی ہے، ناشتہ تیار کرتی ہے، ان کو یونیفارم پہنا کر اسکول بھیجتی ہے، ان کے واپس آنے تک ان کے کمرے صاف کرتی ہے، کھلونے کتابیں سنبھالتی ہے، ان کے لیے کھانا تیار کرتی ہے، تو وہ جن کیفیتوں سے گذرتی ہے، ان میں مامتا سب سے اوپر ہوتی ہے۔ تھکن کے باوجود اپنے بچوں کے لیے کام کرنا اس دنیا میں نعمت ہے، جو تا حال بیشتر مردوں کے نصیب میں نہیں۔

گھر میں کام کرنے والی عورت پر کوئی نظر رکھنے والا نہیں ہوتا (ساس کا ذکر الگ کہانی ہے) آپ گھریلو عورتوں سے انٹرویو کریں یا ملازمت پیشہ سے، ایک ہی جواب آئے گا کہ گھر عورت کی راجدھانی ہوتا ہے، جس کی وہ بے تاج ملکہ ہوتی ہے۔ تو وہاں بریک نہ لینے، کھڑے رہ کر کام کرنے وغیرہ کا کیا سوال؟

حماقت کی بات الگ ہے، وہ مرد میں ہو یا عورت میں، اپنے کام بگاڑ لیتی ہے۔ احمق مرد جاب پر منٹوں کا کام گھنٹوں میں کرتا ہے اور پھوہڑ عورت گھر میں بگاڑ پیدا کرکے اپنی جان کو روتی رہتی ہے۔ ورنہ مغربی ممالک میں، جہاں گھر میں کام والی ماسی کا تصور تک نہیں ہے، دیکھا گیا ہے کہ گھریلو عورت اپنے سارے کام نمٹاکر دوستوں کے ساتھ چائے بھی پی لیتی ہے، اپنی ایکسر سائز یا مشغلے کے لیے بھی وقت نکال لیتی ہے اور نیند بھی لے سکتی ہے۔

رب تعالیٰ کا شکر ہے کہ زندگی میں مالی مشکلات کبھی نہیں آئیں، نہ بچپن میں نہ شادی کے بعد۔۔۔ مگر کبھی کبھی ایسا ہو جاتا ہے کہ آپ کی پسندیدہ پیسٹری، مٹھائی، یا پزا کا آخری ٹکڑا آپ منہ کی طرف لے جانے لگتے ہیں تو آپ کا بچہ مانگ لیتا ہے۔۔۔ اپنے منہ میں ڈالنے کی بجائے اپنے بچے کو کھلا دینے کے بعد آپ کو پیٹ میں جو ٹھنڈ محسوس ہوتی ہے، اس کو کون سا لکھاری بیان کرسکتا ہے؟۔۔۔ کم از کم میں تو نہیں؟

میری دادی اماں قمیض کی سائیڈ پاکٹ میں پیسے رکھا کرتی تھیں۔ ہم بچوں کو پتا ہوتا تھا، تو کبھی کبھی ہم ہلہ بول کر خود جیب میں ہاتھ ڈال کر پیسے نکال لیا کرتے تھے۔ ان کی ہنسی بھری ڈانٹ آج بھی کانوں میں آتی ہے۔۔۔ اگلے روز میرا بیٹا میری جیب میں اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے ٹافیاں تلاش کررہا تھا تو میرے دل میں جو جذبات امڈ رہے تھے، میں نے خیال خیال ہی میں اپنی مرحومہ دادی اماں سے کہا "واہ دادی، آپ تو مزے کرگیئں۔۔۔ اور ہم سمجھتے تھے ہم پیسے لے کر فائدے میں رہے۔"

ماں جب گھر میں بچوں کے لیے تھکتی ہے، باپ جب ریڑھی کھینچتے بازار میں پسینہ بہاتا ہے، وہ اپنے بچوں کی جاب نہیں کر رہے ہوتے، زندگی کا سب سے حسین کام کر رہے ہوتے ہیں۔۔۔ اس کو ملازمت کہہ کر توہین مت کیجیے۔

Comments

محمود فیاض

محمود فیاض

محمود فیاض نےانگلستان سے ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کیا اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے۔ آج کل وہ ایک عدد ناول اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */