کیا مغرب میں ‌جنسی زیادتی کے کیس نہیں ہوتے؟ - جویریہ سعید

ظلم اور ناانصافی کے واقعے کی آڑ میں اپنی دکان چمکانا بھی مضحکہ خیز اور عبرت انگیز ہے۔

یہ کہنے والے کس کو بے وقوف بنارہے ہیں کہ مغرب میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی نہیں ہوتی یا عورت وہاں محفوظ ہے۔ کیا آپ کو اعداد و شمار درکار ہیں؟ اور پھر اس بات سے یہ نتیجہ نکالنا کہ اس کی وجہ جنسی آزادی ہے اور پاکستان میں ایسے واقعات کی وجہ مذہبی حدود کی وجہ سے پیدا ہونے والی جنسی گھٹن ہے، خود کسی گھٹن زدہ ذہنیت کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔

جہاں انسان ہے، جہاں نفس کا شر ہے، جہاں طاقت اور ہوس اپنا کھیل کھیلنے کو بے چین ہوتی ہے، جہاں شیطانی خواہشات کو کوئی کمزور اپنا آسان شکار معلوم ہوتا ہے وہاں ہر طرح کا ظلم ممکن ہے اور ظلم ہوتا ہے۔ اس لیے مغرب میں بھی جنسی آزادی کے باوجود یہ ظلم پوری شدت سے ہوتا ہے۔

مغرب میں بھی جتنے کیسز جنسی زیادتی کے رپورٹ ہوتے ہیں، اس سے کئی گنا زیادہ رپورٹ نہیں ہوتے۔ گھریلو تشدد بھی کمی نہیں۔ جنسی گھٹن کا وہاں بھی یہ عالم ہے کہ ہر طرح کی آزادی کے باوجود ہوس ہے کہ مٹنے کا نام نہیں لیتی اور شیطانی ہوس کا جہنم ہل من مزید کا نعرہ لگاتے نت نئے جہان ڈھونڈتا رہتا ہے۔ ہاں فرق اتنا ہے کہ انصاف کی فراہمی اور قانون کی بالادستی نے ان معاشروں کو سنبھال رکھا ہے۔

پاکستانی معاشرہ کو بھی درندوں کا معاشرہ کہنا اپنا بغض نکالنا ہے۔ پاکستانی تو آپ بھی ہیں اور میں بھی ہوں اور میرے اور آپ کے بھائی بند بھی ہیں۔ ہر معاشرے کی طرح یہاں بھی اکثریت اچھے انسانوں کی ہے۔

ہر روز لاکھوں لڑکیاں سفر کرتی ہیں، ملازمت اور تعلیمی اداروں کو جاتی ہیں، بازاروں میں ہوتی ہیں۔ خود میں نے اسکول، کالج، میڈیکل کالج، اسپتال بازار ملنے جلنے کے لیے ہر جگہ کا سفر کیا ہے۔ نائٹ ڈیوٹیز بھی کی ہیں اور اسپتال میں کبھی کبھی اکیلی ڈاکٹر کی حیثیت سے بھی کام کیا ہے۔ سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا ہے۔ برے لوگ بھی ملے مگر اکثریت عام سے بھلے انسانوں کی ہے۔

اور مغرب میں سارے فرشتے نہیں۔ کیا آپ کو ان کے جرائم کے اعداد و شمار اور تفصیلات درکار ہیں؟

بات صرف اتنی ہے کہ وطن عزیز میں لاقانونیت اور کرپشن کا عفریت لوگوں کو مایوس کرتا ہے، اور وہ بے بسی کے عالم میں شور کرتے ہیں۔۔۔ بااثر بچ جاتا ہے، غریب چاہے مرد ہو یا عورت اس کے لہو یا عزت کی کوئی قیمت نہیں اور حکمران بھنگ پی کر مگن رہتے ہیں۔

افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ مجرم کو سخت سزا دینے کے عوامی مطالبے پر کچھ روشن خیال دانشوروں کو فلسفہ سوجھنے لگتا ہے۔ وہ سمجھانے لگتے ہیں کہ مجرم کو سزائے موت، رجم، یا کوڑوں کی سزا تو بہیمانہ کام ہے، البتہ ہونا یہ چاہیے کہ ان ہوس کے ماروں کی جنسی گھٹن کے علاج کے لیے مذہب اپنی حدبندیاں اٹھا کر ان کو کھل کھیلنے کا موقع فراہم کردے۔ اور وہی خواتین جنہیں یہ زور زبردستی کرکے پامال کرتے ہیں، بخوشی ان کے چرنوں میں قربان ہونے کو تیار ہوجایا کریں۔ بے چاروں کی ہوس پوری ہو، گھٹن دور ہو۔۔۔

ذرا غور سے پڑھیے اسلام کو گھٹن زدہ کہنے والے خود کس قدر تاریک خیال ہیں۔

Comments

جویریہ سعید

جویریہ سعید

جویریہ سعید کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں. طب اور نفسیات کی تعلیم حاصل کی ہے. ادب، مذہب اور سماجیات دلچسپی کے موضوعات ہیں. لکھنا پڑھنا سیکھنا اور معاشرے کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے رہنا ان کے خصوصی مشاغل ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */