سلطنت عثمانیہ کے سقوط سے منسلک آخری ایجنڈا تکمیل کو پہنچ گیا - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

پہلے متحدہ عرب امارات اور اب، بحرین۔ اسرائیل کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانے والے ممالک میں ایک اور کا اضافہ۔ گویا، مصر اور اردن کے بعد مندرجہ بالا دو ممالک بھی اس فہرست میں شامل ہوچکے۔

بہت سے حلقوں کی توقعات کے برعکس سعودی عرب ابھی اس کلب کا ممبر نہیں بنا۔ اس کا کہنا ہے کہ مسئلہ فلسطین کے متعلق کسی ٹھوس پیشرفت کے بغیر وہ اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم نہیں کرے گا۔ حالیہ دنوں میں یہ بات کچھ تواتر سے دہرائی گئی ہے۔ اس سے کبھی کبھی ایسا گمان ہوتا ہے کہ فلسطین کے حوالے سے کوئی بات کہیں طے پا چکی ہے اور اب صرف اس پر عملدرآمد کی راہیں ہموار کی جارہی ہیں۔

متحدہ عرب امارات و بحرین کے بعد اومان کی باری نظر آ رہی ہے اور پھر سعودی عرب ایک قابل ذکر عرب ملک رہ جائے گا جس نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ اس امر کا فلسطینیوں پر بھی خاصا دباؤ ہوگا کہ وہ تیزی کیساتھ ان حلیفوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں جو ان کی خاطر اپنی خارجہ پالیسی کو اسرائیل گریز رخ پر رکھے ہوئے تھے۔

اس تناظر میں بظاہر یہ مسئلہ اب فیصلہ کن دور میں داخل ہوچکا۔ اگر تو فلسطین سے متعلق فیصلے لے لیے گئے ہیں تو پھر جلد ہی ہم کسی تصفیہ پلان کی بازگشت سنیں گے۔ تب سعودی عرب بھی اپنا کردار ادا کرے گا اور غالباً مسئلہ فلسطین باقاعدہ "حل" کرلیا جائے گا۔ پھر سعودی عرب پر بھی کچھ اخلاقی پابندی باقی نہ رہے گی۔ بالخصوص بحرین کے اس فیصلے کے بعد اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کچھ بڑا ہونے جا رہا ہے کیونکہ بحرین سعودی عرب کی مرضی کے بغیر ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا۔

امریکی صدر کے داماد اور قریبی مشیر، جیرڈ کوشنر صاحب کے عرب دارالحکومتوں، بشمول ریاض، کے پے درپے دورے رنگ لانے کو ہیں اور نومبر میں امریکی صدارتی انتخابات سے قبل فلسطین کی بیل منڈھے چڑھ جانے کے قوی امکانات ہیں۔

1917 میں جاری شدہ "بالفور اعلامیہ" ٹھیک ایک صدی اور تین برس بعد پوری طرح روبہ عمل ہو جائے گا۔ اور سلطنت عثمانیہ کے سقوط سے منسلک آخری ایجنڈا بھی پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔

رہے نام اللہ کا۔

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */