معرکہ - ریحان اصغر سید کی شاہکار کہانی

اماوس کی رات تھی۔ اندھیرا اتنا تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھاٸی نہیں دیتا تھا۔ وہ پانی کے اوپر تیرتے ہوٸے ایک تختے پر، کپڑوں سے بے نیاز، بے حس و حرکت پڑا تھا۔ زیرلب کسی کو پکارتے ہوٸے ہونٹ اور آنکھوں کی پتلیوں کی حرکت کے علاوہ اس میں زندگی کی اور کوٸی رمق نظر نہیں آتی تھی۔ ایک ہفتے کی بھوک پیاس نے اس کے چہرے کی گندمی رنگت کو زرد کر دیا تھا اور اس کے ہونٹ کسی لکڑی کی طرح خشک اور اکڑے ہوٸے تھے لیکن وہ بڑی استقامت سے اپنا جاپ مکمل کرنے میں لگا ہوا تھا۔اس کی منزل قریب تھی۔ اگر اماوس کی اس کالی رات میں ابلیس کا خاص چیلا عفرش اس سے ملاقات کو نہ آتا تو پھر غالب گمان تھا کہ پانی پر تیرتے اس تختے پر بھوک پیاس سے مر جانا اس کے مقدر میں لکھا ہے۔

اس کا نام ثقلین منیر تھا۔ وہ بیالیس سال کا درمیانی قامت کا ایک مکار صورت آدمی تھا۔ ثقلین بظاہر مسلمان تھا لیکن اس کے عقاٸد گمراہ کن تھے۔ وہ شیطان کا پیروکار بن چکا تھا۔

الو کی کریہہ چیخ پرسکون فضا کو چیرتی ہوٸی ثقلین کے کانوں تک پہنچی تو وہ بے اختیار مسکرانے لگا۔۔۔ کنویں کی منڈیر پر گدھ، الو، چیل اور کوٸے آکر بیٹھنا شروع ہو گٸے تھے۔ ان کی پروں کی پھڑپھڑہٹ اور منہ سے نکلتی تیز آوازوں نے رات کے سکون کو تہہ بالا کر دیا تھا۔اندھیرے میں سے کہیں، کالے اور لمبے چوغوں میں ملبوس دو طویل قامت شیطان برامد ہوٸے۔ ان کے ہاتھوں میں سٶر کی چربی سے جلاٸی گٸی مشعلیں تھیں۔ وہ اڑتے ہوٸے آٸے اور کنواں کی دیوار کے ساتھ لٹک گئے۔ مشعلوں میں جلتی آگ کی وجہ سے پانی کی تہہ تک زرد روشنی پھیل گئی اور پورا کنواں ایک ناگوار بو سے بھر گیا۔ پس منظر میں کہیں دور سے بگل بجنے کی آواز اور ڈھول پیٹنے کا شور اب بڑھتا جا رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کوئی فاتح لشکر جشن مناتا کنویں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پھر یکایک مکمل خاموشی چھاگئی۔ ایسا محسوس ہونے لگا جیسے یہاں سے کبھی کوئی ذی نفس گزرا ہی نہیں۔ ہاتھوں میں مشعلیں تھامے کنویں کی دیوار کے ساتھ لٹکے شیطانوں نے مودب ہو کر اپنے سر جھکا لیے۔

ہڈیوں سے بنی ہوٸی ایک تخت نما کرسی فضا میں نمودار ہوٸی جسے چار ٹھگنے شیطانوں نے کاندھوں پر اٹھا رکھا تھا۔ کرسی پر ایک جسیم اور دراز قد شیطان بڑے غرور سے براجمان تھا۔ یہی عفرش تھا۔۔ جھریاں اور مکاری کی تہوں میں چھپے چہرے والا عفرش کافی کریہہ صورت تھا۔ عفرش کے خدمتگار شیطانوں نے کرسی کو ثقیلن کے لکڑی کے تختے پر رکھا۔۔ بے لباس ثقلین بے اختیار عفرش کے سامنے سجدے میں گر گیا۔۔۔کافی دیر سجدے میں پڑے رہنے کے بعد اس نے سر اٹھایا اور عفرش کا بوڑھا جھریوں بھرا ہاتھ عقیدت سے چوم کر آنکھوں سے لگانے لگا۔

شہنشاہ عفرش کو اس کا ادنیٰ غلام خوش آمدید کہتا ہے۔۔۔

ثقلین نے سر جھکا کر کہا۔۔۔عفرش اسے اپنی نیم باز عیار آنکھوں سے تکتے ہوئے مسکرایا۔

”مجھے یقین ہے کہ میں نے پچھلی ملاقات میں جو کام تمھیں سونپے تھے تم نے انھیں بہ احسن و خوبی مکمل کیا ہوگا۔

عفرش کی آواز اس کے چہرے کی طرح ڈراٶنی اور عجیب سی تھی۔

”جی میرے آقا۔۔۔آپ کے آشیرباد سے ثقلین کبھی ناکام نہیں لوٹا“

ثقلین نے عفرش کے قدموں میں دو زانو بیٹھتے ہوٸے کہا۔

عفرش نے اپنے چوغے میں سے شیشے کی ایک چھوٹی سے بوتل برآمد کی اور اس میں موجود رطوبت کو حلق میں اتارنے کے بعد گویا ہوا۔۔

”بہت خوب۔۔۔یعنی تم اب اپنے اگلی ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار ہو؟"

ہر وقت میرے آقا۔۔۔۔!

”ثقلین میرے بیٹے، ہم ایک مقصد کے لیے زندہ ہیں۔ ہمارا جینا ہمارا مرنا اسی مقدس فرض کی تکمیل کے لیے ہے۔ اور یہ مقدس فریضہ یہ ہے کہ روٸے زمین پر کوٸی بھی انسان، خدا کا نام لیوا نہ ہو۔۔۔کوٸی اس کی شکرگزاری نہ کرے۔۔۔ نہ کوٸی گردن عبادت کی غرض سے اس کے سامنے جھکے۔۔نہ کسی جبین پر اس کے نام کا مچلے اور نہ ہی کسی دل میں اس کی یاد کی شمع جلے۔۔کوٸی ہونٹ اسے محبت سے نہ پکاریں۔۔۔یہی میرے آقا میرے مبعود استاد گرامی حضرت ابلیس کی منزل ہے۔ میں اسی عظیم راستے اور اسی عالی شان قافلے کا ایک ادنی سا مسافر ہوں۔۔۔کیا تم بھی اس راستے پر ہمارے ساتھ چلنا قبول کرو گے؟؟؟

میں نے اپنی جان اور روح آپ کو سونپ دی ہے میرے آقا۔۔۔آپ کی منزل ہی میری منزل ہے اور آپ کے راستے کی دھول میرے لیے سونے کے ذرات سے بڑھ کر ہے۔۔

چاپلوس ثقلین نے عفرش کے چوغے کو بوسہ دیا۔۔

بہت خوب۔۔ بہت خوب۔۔۔

عفرش نے قدرے بلند آواز سے دہرایا۔۔۔اس کے اشارے پر اس کے پیچھے کھڑے خدمتگار شیطان نے لکڑی کا ایک چھوٹا سا صندوق اس کے حوالے کیا جس پر سونے کی تار سے خوبصورت نقش و نگاری کی گٸی تھی۔ عفرش نے صندوق کھول کر ثقلین کو دکھایا۔ صندوق سونے کے دمکتے سکوں سے بھرا ہوا تھا۔۔لالچ سے ثقلین کی آنکھیں چمکنے لگیں۔۔اس نے بے تابی سے عفرش کے ہاتھوں سے صندوق کو لیکر یوں سینے سے لگایا جیسے ماں اپنے اکلوتے بچے کو گلے سے لگاتی ہے۔

”استاد اعظم کی انتھک محنت اور کوششوں سے آج کا انسان عملی طور پر خدا کو بھول چکا ہے۔ بس کچھ پس ماندہ خطے اور ممالک ہیں تمھارے وطن جیسے۔۔۔۔جہاں کچھ جاہل آج بھی اس کا نام لیتے ہیں۔۔ ابلیس اعظم چاہتے ہیں کہ ان مٹھی بھر لوگوں کو بھی راہ سے ہٹا دیا جاٸے۔۔۔اپنے ملک کی حد تک یہ کام تمھیں کرنا ہے ثقلین، میرے بچے۔۔۔۔کیا تم جانتے ہو تم یہ کیسے کرو گے؟
ابلیس اعظم اور آقا عفرش بہتر جانتے ہیں۔۔۔۔۔!

تمھیں ان کی ایمان اور امید کو توڑنا ہو گا۔۔ تمھیں ان میں پھوٹ ڈالنا ہوگی۔۔تم انھیں فرقے کے نام پر تقسیم در تقسیم کرو گے۔۔ان کی امید بننے والی فلاحی تنظیموں کا قلع قمع کرو گے۔۔۔جب ہم بڑی محنت سے ایک انسان کو توڑتے ہیں تو اسے قرض حسنہ دینے والی ان کا علاج کروانے والی اور ان کو مدد فراہم کرنے والی یہ تنظیمیں سارا کھیل بگاڑ دیتی ہیں۔۔ان کے کام کا سارا انحصار چندے پر ہے۔۔تم انھیں اور ان کے سرپرستوں کا اتنا بدنام کر دو کہ کوٸی ان پر اعتماد نہ کرے نہ کوٸی انھیں چندہ دے۔۔۔یہ اپنی موت خود ہی مر جائیں گی۔۔۔

میں ایسا ہی کروں گا آقا عفرش۔۔
ثقلین کی آنکھوں میں شیطانی چمک تھی۔۔

”وسائل کی فکر مت کرنا۔۔۔تمھیں تمھاری توقع سے بھی زیادہ مہیا کیے جاٸیں گے۔۔اپنے ساتھ ذہین اور قابل لوگوں کو شامل کرو۔۔۔ اپنے اردگرد بیماریاں اور مایوسیاں پھیلا دو۔۔لوٹ مار کا بازار گرم کردو۔۔ بے حیائی اور فحاشی کو بڑھاوا دو۔۔۔ ابلیس اعظم تمھارا مددگار ہوگا۔۔۔ابلیس اعظم کی فوج کا ہر سپاہی تمھارا مددگار ہو گا۔۔

اس کے ساتھ ہی بہت زور سے بادل گرجے۔۔۔جس کے ساتھ ہی سٶر کی چربی سے جلتی مشعلیں بجھ گٸیں۔۔۔ پرندوں کی پروں کی پھڑپھڑہٹ کے ساتھ الو کی دور جاتی ایک تیز چیخ کے ساتھ خاموشی چھا گٸی۔۔۔ اب اس ویران کنویں کے بدبو دار پانی پر تیرتے تختے پر سونے کے صندوق کو سہلاتا ثقلین باقی رہ گیا تھا۔۔جس کے ہونٹوں پر بڑی عجیب سے مسکراہٹ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کے تین بجے تھے۔ حسب معمول علی اکبر خودبخود بیدار ہو چکا تھا۔ وہ پرسکون اور ہشاش بشاش تھا۔اس نے سب سے پہلے زندگی کا ایک اور دن عطا کرنے پر اللہ تعالیﷻ کا شکر ادا کیا اور حضرت محمدﷺ پر محبت سے درود پڑھا۔ وضو کر کے وہ تہجد کے لیے کھڑا ہو گیا۔ وہ تیس سالہ، پانچ فٹ نو انچ قامت کا گوری رنگت والا دبلا پتلا آدمی تھا۔جس کے چہرے پر خوشنما دکھاٸی دیتی چھوٹی چھوٹی داڑھی تھی۔ تہجد کے نوافل ادا کر کے وہ تسبیح لیکر بیٹھ گیا۔۔اس نے اس وقت مختلف قرآنی آیات اور درود کو پڑھنے کی مخصوص تعداد مقرر کر رکھی تھی۔ فجر کی نماز کے لیے مسجد جانے سے پہلے اسے اس تعداد کو مکمل کرنا ہوتا تھا۔ اپنی تسبیحات پڑھتے ہوٸے کبھی کبھی اسے اونگھ آ جاتی تھی۔۔۔آج بھی ایسا ہو رہا تھا۔آنکھیں بند ہوتے ہی روح جسم کی قید سے آزاد ہو چکی تھی۔ وہ اس سوٸی جاگی کفیت سے پہلے بھی گزر چکا تھا۔۔اس نے ایک دلفریب باغ دیکھا جس میں طرح طرح کے ان دیکھے خوبصورت درخت تھے جن پر رنگ برنگ بڑے بڑے خوشنما پرندے سریلی آوازوں میں اللہ کی حمد و ثنإ بیان کر رہے تھے۔

اکبر نے خود کو برف پوش پہاڑوں، سرسبز وادیوں اور ٹھنڈی آبشاروں کے اوپر سے گزرتا پایا۔ اگلا منظر ایک پرانی عمارت کا تھا۔ اپنے نقشے اور ساخت سے وہ کوٸی مدرسہ معلوم ہوتا تھا۔ برآمدے میں ایک سفید داڑھی والے بزرگ بچوں کو قرآن پڑھا رہے تھے۔ اکبر چپ چاپ بارعب چہرے اور گہری آنکھوں والے بزرگ کو دیکھنے لگا۔ کچھ دیر بعد وہ اس کی طرف متوجہ ہوٸے۔

شرک ظلم عظیم ہے۔ ایمان ایک ایسی دولت ہے جس کے قدردان تھوڑے ہیں۔رشتے داروں میں سے، تم پر سب سے زیادہ حق تمھارے والدین کا ہے۔ والدین کی رضا کے ذریعے رب کی تلاش کرو۔ مخلوق رب کا کنبہ ہے۔ بلا امتیاز رنگ و نسل ان کی خدمت کو اپنا فرض جانو۔ جب تک سانس باقی ہے نماز کی پابندی کرو۔۔فراٸض کے بعد نفلی عبادات کی پابندی خدا کے قرب کا آسان ذریعہ ہے۔۔

علی اکبر ادب سے ان کے قریب بیٹھ گیا۔

”مرشد، بعض دفعہ کوشش کے باوجود عبادت میں دل نہیں لگتا۔۔خشوع و حضوع کی کفیت مستقل نہیں رہتی۔۔دل روکنے کے باوجود دنیا کی رنگینی کی طرف ماٸل ہو جاتا ہے۔ اس کا کوئی علاج عنایت فرمادیں۔۔۔۔؟؟؟

علی اکبر نے درخواست کی۔

بزرگ مسکراٸے۔ سفید بے داغ لباس اور سفید عمامے میں وہ بہت پاکیزہ اور بھلے لگ رہے تھے۔
”اصحاب رسول، آپﷺ کے بعد اس امت کے سب سے افضل انسان ہیں۔۔حتی کہ انھوں نے بھی آپﷺ کی محفل سے اٹھنے کے بعد دل کی کفیت پھرنے کی شکایت کی ہے۔ انسان کا نفس ہر گھڑی اسے اپنی اتباع کی طرف ماٸل کرتا ہے۔ ایک مومن ساری زندگی اپنے نفس اور شیطان کے ساتھ برسر پیکار رہتا ہے۔ میرے بچے، ایمان کی کمی اور زیادتی کا تعلق تمھارے اعمال سے ہے۔ اپنی تنہاٸیوں کو پاک کرو۔ زبان کو اللہ کے ذکر سے تر رکھو اور یاد رکھنا کہ فضول گوٸی سے دل غافل ہو جاتا ہے۔ اپنی نظر کی حفاظت کرو ایسا نہ ہو کے تمھاری نظر تمھارے نفس کی آلہ کار بن جاٸے اور تم راہ کھو دو۔

جناب، کیا ترک دنیا کیے بغیر ایسا ممکن ہے؟

”جب تک مجبوری نہ ہو، ہم ترک دنیا کو معیوب سمجھتے ہیں۔ اصل امتحان ہی دنیا میں رہ کر دنیا سے گریز برتنا ہے۔ نیک لوگوں کا معاشرے سے اجتناب شیطان کی کامیابی ہے۔ خیر کا داٸرہ اپنی اصل میں چاہے جتنا بھی چھوٹا ہو شر کی تاریکی میں روشنی کے ایک دیے کی طرح ہے۔۔تمھیں خیر کی شمع جلانی ہے بیٹا۔۔ باطل کا ناصرف خود مقابلہ کرنا ہے بلکہ اپنے گھر والوں کو اپنے رشتے داروں اور اردگرد کے لوگوں کو بھی اس سے بچانا ہے۔۔

بزرگ کا لحجہ نرم اور چہرے پر مسکراہٹ تھی۔۔

اچانک علی اکبر کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے تعجب سے داٸیں باٸیں دیکھا اور خود کو اپنے کمرے میں پا کر وہ مسکرانے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شہر میں شام اتر رہی تھی۔۔
وہ حسب سابق چپ چاپ بالکونی میں بیٹھا ہوا تھا۔

اس کے گھر کے داٸیں جانب عقبی لان میں جانے میں والی بغلی گلی میں دیوار کے ساتھ سنبل کا ایک طویل قامت اور گھنا درخت لگا ہوا تھا۔۔۔جس کا ایک حصہ بالکونی پر جھکا رہتا تھا۔۔۔وہ اس کے پتوں کے پیچھے چھپ کر بیٹھ جاتا اور گھر کے سامنے پارک میں آٸے لوگوں کو دیکھتا رہتا۔
اس کی آرام دہ کرسی کے پہلو میں ایک لکڑی کی چھوٹی سے میز دھری رہتی تھی۔۔۔۔جس پر پینے والے پانی کی ایک بوتل، ایک لانگ رینج دوربین، امپورٹڈ چیونگم کی ڈبی، ڈراٸی فروٹس کا پیالہ،چاٸے کا تھرماس اور ایک کپ پڑا ہوا تھا۔

وہ عموماً سہ پہر سے لیکر غروب آفتاب تک یہاں بیٹھتا لیکن کبھی کبھی رات گٸے تک بالکونی میں پڑی اس کی آرام کرسی جھولتی رہتی۔۔۔

اس کا نام بلال عزیز تھا۔۔وہ ساٹھ کے پیٹے میں ڈھلکے ہوٸے جسم والا اوسط قامت کا ایک شخص تھا۔۔رنگت گندمی آنکھیں کے نیچے کالے حلقے۔۔منہ بھاری کم اور سخت کھردرے بال، جنھیں کالے حضاب سے رنگا گیا تھا۔۔۔

شام ہونے کو تھی وہ ابھی تک نہیں آٸی ۔۔۔۔بلال نے دوربین کو آنکھوں سے لگاتے ہوٸے سوچا۔۔۔پارک میں تیرہ سے سولہ سترہ برس کی کٸی لڑکیاں موجود تھیں۔۔ بلال نے دوربین سے ان کے جسموں کا معاٸنہ کیا۔۔نشونما پاتے ہوٸے اپنی ساخت بدلتے ہوٸے جسم۔۔۔بلال کی ساری دلچسپی اسی میں تھی۔۔۔یہ اس کی ذہنی کج روی تھی کہ اسے نو عمر جوان ہوتیں لڑکیوں میں بلا کی کشش محسوس ہوتی تھی۔۔اس کی شادی کی ناکامی کی وجہ بھی یہی تھی۔۔۔اس نے دوبارہ کبھی شادی نہیں کی لیکن اس کے گھر میں ہر وقت کوٸی نا کوٸی نوخیز لڑکی ملازمہ موجود رہتی۔۔۔وہ ایسی لڑکیاں بہت ڈھونڈ کر صوبے کے پسماندہ اور غربت کی دلدل میں دھنسے ہوٸے ضلعوں سے لیکر آتا۔۔۔حالات کی چکی میں پسے ہوٸے کثیر العیال خاندان مجبوری کے ہاتھوں انجان بن کر اپنی لڑکی اس کے حوالے کر دیتے جسے وہ اپنا کھلونا بنالیتا تھا۔۔اپنے گھر سے سینکڑوں کلومیٹر دور ایک انجان گھر میں اکیلے مرد کے سامنے ایک نو عمر بچی کب تک، اور کتنی مزاحمت کر سکتی ہے۔۔۔ایسی لڑکیوں کے والدین ان کی مہینوں خبر گیری کو نہیں آتے تھے ۔۔بلال ان کو ہر مہینے موٹی رقم بھیجتا رہتا اور وہ بھی آنکھیں موندھ کر مست رہتے۔۔۔اگر کسی کی اپنی بچی کے تشدد زدہ جسم کو دیکھ کر غیرت جاگتی تو بلال اسے ڈرا دھمکا کر اور پیسوں کا لالچ دے کر خاموش کروا دیتا۔۔۔ جو زیادہ ضدی ہوتے وہ پولیس کی مار کھا کے ہی سمجھتے۔۔

یوں یہ گھناؤنا سلسلہ چلتا رہتا۔۔۔

شام ہو چکی تھی۔ بلال نے اٹھنے سے پہلے آخری کوشش کے طور پر اپنی دوربین کو آنکھوں سے لگاکر قندیل کو تلاش کیا۔۔وہ پارک میں کہیں بھی نہیں تھی۔ بلال مایوس ہوا۔

قندیل چودہ پندرہ سالہ ایک خوبصورت بچی تھی جس کا گھر پارک کی بغلی گلی میں واقع تھا۔ وہ اکثر سہ پہر کو اپنی ماں یا بہن بھاٸی کے ساتھ پارک میں آتی تھی۔۔ بلال پچھلے کئی مہینے سے ٹپکتی رال کے ساتھ اس کے ساخت بدلتے وجود کو باریک بینی سے دیکھ رہا تھا۔ قندیل کی شہابی رنگت گہرے سیاہ لمبے بال اور بڑی بڑی کالی آنکھوں نے بوڑھے بلال کو دیوانہ بنا رکھا تھا۔۔وہ گھنٹوں اسے دوربین سے دیکھتا رہتا۔

بلال نے مایوسی سے دوربین کو لکڑی کی میز پر رکھا اور کھڑا ہو گیا۔۔

بلال عزیز نے اپنے گھر کا نقشہ خود ڈیزاین کیا تھا جس میں خوبصورتی سے زیادہ پراسراریت کا پہلو نمایاں تھے۔۔مکان میں تہہ در تہہ تاریک کمرے، اور لکڑی کی سیڑھیاں تھیں۔ بالکونیاں گول تھیں جن کے آگے لکڑی کی سوراخ والی ڈاٸزین کی ریلنگ لگائی تھی۔ کھڑکیوں، محرابوں اور روشن دانوں پر شوخ رنگوں کے شیشے اور ایک وسیع و عریض تہہ خانہ(بیسمنٹ) اس دو منزلہ مکان کی کچھ خصوصیات تھیں۔

نومبر کی آمد آمد تھی۔ فضا میں خنکی بڑھ رہی تھیں۔ بلال عزیز نے کرسی کی پشت سے لٹکا ہلکا پھلکا سا سویٹر اٹھا کر پہنا اور بالکونی کا جالی والا اور لکڑی کا دروازہ بند کر کے گھر کے اندر آ گیا۔ گھر میں ہر طرف نیم تاریکی کا راج تھا کہیں کہیں گہرے سرخ رنگ کے انتہاٸی کم روشنی کے بلب پراسرار سی روشنی پھیلا رہے تھے۔ وہ سیڑھیاں اتر کر ایک لاٸیبری نما کمرے میں آیا جس کی تین دیواروں پر الماریوں میں کتابیں بھری ہوٸی تھیں۔ ان میں جادو ٹونے سے متعلق بہت سے نایاب کتابیں بھی شامل تھیں۔ بلال نے اپنا سگار تلاش کر کے سلگایا اور لاٸبری کے اندر سے ایک بغلی خفیہ کمرے میں داخل ہو گیا۔

اس لمبوترے کمرے کی ہیت عجیب تھی۔ اس کی فرش پر شطرنج کی بساط کی طرح ٹاٸلیں لگی ہوٸی تھیں۔ ہر مہرے کی جگہ پر لکڑی کے بنے ہوٸے مختلف مجسمے رکھے ہوٸے تھے۔ مجسمے مختلف جانوروں اور دیوی دیوتاٶں کے تھے۔ ان میں کئی عجیب الخلقت بھی تھے۔ جیسے کسی انسان کے چہرے پر کسی جانور کا جسم لگا ہوا تھا اور کئی جانوروں کے چہرے والے مجسموں کے جسم انسانی تھے۔ کمرے کے ایک جانب دیوار کے ساتھ قد آدم گڑیاں بیٹھی ہوئی تھیں۔۔۔ انھیں اتنی مہارت سے بنایا گیا تھا کہ پہلی نظر میں دیکھنے سے وہ بلکل اصل لڑکیاں دکھاٸی دیتی تھیں۔ یہ سب پاکستانی نین نقش والی نوخیز لڑکیوں کی شباہت والی گڑیاں تھیں۔ جنھوں نے انتہاٸی خوبصورت لباس پہن رکھے تھے۔ کمرے کی ایک نکر پر پرانی طرز کا ایک آتشدان تھا جس کے اوپر گہرے سرخ رنگوں کی ایک قیمتی لیکن ڈراٶنی پینٹگ لگی تھی۔ جس کے نیچے ایک پنجرہ لٹکا ہوا تھا جس میں ایک الو اپنی سرد آنکھوں سے بلال عزیز کو گھور رہا تھا۔ کمرے میں ایک دیوار گیر الماری بھی تھی جس میں مختلف رنگ کی موم بتیاں، سفید دھاگے کے گولے، انسانی بالوں کے گچھے، مختلف جانوروں نیز انسانوں کی کھوپڑیاں، اور کپڑے سے بناٸے گئے پتلے وغیرہ پڑے تھے۔

بلال نے اپنا لباس اتار کر ایک کالے رنگ کا چوغہ پہنا اور اور اس کے ہڈ سے اپنے سر کو ڈھانپ لیا۔ پھر اس نے الماری سے کالے،پیلے نیلے اور سرخ رنگ کی موم بتیوں کو نکال کر شطرنج کی بساط کی طرح لگاٸی گٸی ٹاٸلوں کے اوپر پڑے مجسموں کے سر پر لگانا شروع کر دیں۔ وہ پہلے مجسمے کی صورت دیکھتا، پھر ایک رنگ کی موم بتی منتخب کر کے اس کے سر پر لگا کر روشن کر دیتا۔ جلد ہی 64 کے 64 خانوں میں موم بتیاں روشن ہوگئیں۔ کمرے میں پہلے نیم تاریکی تھی۔ لیکن موم بتیوں کی روشنی سے کمرہ کچھ روشن لیکن پراسرار دکھاٸی دینے لگا تھا۔ بلال نے ایک دیوار سے لگا واٸلن اتارا اور اس پر ایک انتہاٸی رنجیدہ دھن بجاٸے لگا۔۔۔ واٸلن کی آواز آہستہ آہستہ بلند ہو رہی تھی اور اس کے ساتھ ہی الماریوں کے شیشے بجنے لگے تھے۔ موم بتیاں کی لو پھڑپھڑنے لگ گئی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا کمرے میں اچانک سے کہیں سے تیز ہوا آنے لگی ہے۔ دروازے پر لگا پتلا سا سیاہ پردہ رقص کرتا نظر آ رہا تھا۔ میز پر پڑی کتابوں کے ورق الٹ پلٹ ہو رہے تھے۔۔ واٸلن کی دھن کی آواز ایک آندھی کے شور میں ڈوبتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ موم بتیاں ایک ایک کر بجھنا شروع ہوچکی تھیں۔۔جیسے ہی آخری موم بتی بجھی کمرے میں مکمل اندھیرا چھا گیا۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی ایک تیز غیر انسانی چیخ گونجی۔

جاری ہے۔

Comments

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید فکشن اور طنز و مزاح لکھنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کم مگر اچھا اور معیاری لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */