ياسمينا خضرا اور چرواہے کی بانسری - مستنصر حسین تارڑ

یہ دونوں ناول ’’ سائرنز آف بغداد ‘‘ اور ’’ کابل کی ابابیلیں‘‘ اپنی جگہ لیکن ياسمينا خضرا کا ناول جس نے مجھے مبہوت کر دیا جس نے مجھے مسخر کر لیا اور میں اُس کی تخلیقی قوت کے سحر میں آ کر اُس کا بے دام غلام یا مداح ہو گیا، وہ " واٹ دی ڈے اویس دی نائٹ تھا۔۔۔

مجھے نہیں معلوم کہ اس کا ترجمہ کیا ہوگا، شاید
’’ دن مقروض ہے ایک رات کا ‘‘۔۔۔

میں اس ناول کو پڑھتے ہوئے کبھی ہیجان میں آیا اور کبھی رومان کے گہرے سمندروں میں ایک بادبانی کشتی کی مانند تیرنے لگا۔۔۔ اور اکثر آبدیدہ ہوگیا کہ یہ کیسی محبت کی داستان ہے۔۔۔

اس ناول کا مرکزی کردار الجیریا کا یونس ہے، جس کا باپ غربت سے لاچار ہو کر اُسے اپنے چھوٹے بھائی کے سپرد کردیتا ہے جو ایک متمول کیمسٹ ہے اور جس کی بیوی یورپی ہے، وہ الجیریا کے خوبصورت شہر ’’اوران‘‘ سے کچھ فاصلے پر واقع انگور کے باغوں میں گھرے ایک پر سکون اور دیدہ زیب قصبے ’’ریوسلاڈو‘‘ میں رہتے ہیں جہاں فرانسیسی گورے آباد کار سینکڑوں برسوں سے مقیم ہیں، اُن کے دادے پڑدادے اسی دھرتی میں پیدا ہوئے، اس کے لیے محنت اور مشقت کی، اسے بنایا سنوارا، اسے اپنا گھر بنایا اور یونس اُن سب کا دوست ہو جاتا ہے۔۔۔ اپنی الجیرین شناخت اور عرب ہونے کے فخر کو بھول جاتا ہے۔۔۔ یہ ناول دراصل یونس اور ایک فرانسیسی لڑکی ایحلی کی محبت کی اثر انگیز داستان ہے اور میں پورے ناول کی کہانی نہیں بیان کرسکتا، اس ناول کے کچھ اقتباس درج کرتا ہوں۔۔۔
••••••

"اگر ایک مرد یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی منزل کو ایک عورت کے بغیر پالے گا تو وہ ایک احمق ہے۔۔۔ یقیناً عورت ہر شے نہیں ہے لیکن ہر شے کا انحصار اُس پر ہے۔۔۔ جب ایک عورت ایک مرد کا سب سے بڑا جذبہ نہیں ہے، جب وہ اُس کی آخری منزل نہیں ہے تو زندگی میں نہ کوئی غم ہے اور نہ کوئی خوشی۔۔۔ عورت کے بغیر تو جنت بھی ایک ساکت تصویر ہو گی۔۔۔ غروب آفتاب، موسم بہار، سمندروں کی نیلاہٹ اور سارے ستارے صرف اُس کے مدار کے گرد گھوم کر خوبصورت ہوتے ہیں۔۔۔ حسن صرف عورت ہے، کائنات میں جو کچھ ہے صرف اُس کی زیبائش ہے۔۔"

••••••

" بارش بہت آہستگی سے برستی تھی، کھڑکی کے شیشے آنسو بہا رہے تھے۔۔۔ جو کچھ ستاروں میں لکھا جا چکا ہے تم اُسے تبدیل نہیں کر سکتے۔۔۔ اور یہ ایک بہت بڑا جھوٹ تھا مجھے احساس ہوا کہ۔۔۔ لکھا کچھ بھی نہیں گیا۔۔۔ ہم اپنے ہاتھوں سے اپنی ناکامیاں تخلیق کرتے ہیں۔۔۔ ہم اپنی ناخوشی کی عمارت خود ہی تعمیر کرتے ہیں اور جہاں تک نصیب کا تعلق ہے، یہ صرف اپنی کمزوریوں کو قبول نہ کرنے کا بہانہ ہے۔۔۔"
••••

اس ناول میں ایک کردار " کریم " نام کا ہے، وہ الجیرین ہے لیکن فرانسیسیوں سے ہمدردی رکھتا ہے، تحریک آزادی کا ساتھ نہیں دیتا اور جب الجیریا کب کا آزاد ہوچکا ہے وہ یونس کو جو کہ اسی برس کا ہو چکا ہے ایک قبرستان کے باہر ملتا ہے اور کہتا ہے، تم مجھے غدار قرار دیتے تھے۔۔۔ اب جو آزاد الجیریا میں قتل عام ہو رہے ہیں، بم دھماکے ہو رہے ہیں تو کیوں ہو رہے ہیں۔۔۔۔ تم آزادی چاہتے تھے جو تمہیں مل گئی اور اس کے بدلے میں تمہیں کیا ملا؟خانہ جنگی، دہشت گردی، مسلح مذہبی گروپ۔۔۔ تم لوگ صرف بربادی اور ہلاکت کے ایکسپرٹ ہو۔۔۔"
••••

بہت مدت پہلے جب یونس جوان تھا تو ایک فرانسیسی آباد کار اُس سے کہتا ہے :

" یہ سب جب ہم آئے تو ایک ویرانہ تھا، اسے آباد ہم نے کیا، اب یہاں انگوروں کے باغ ہیں، لہلہاتی فصلیں اور خوبصورت قصبے ہیں، الجیریا کو آباد ہم نے کیا، میرے باپ دادا اور اُن کے دادا نے۔۔۔ ہم اس دھرتی کے وارث ہیں اور تم کہتے ہو اس پر ہمارا کوئی حق نہیں۔۔۔"

تو یونس اُسے کہتا ہے :

" بے شک تمہارے آنے سے پیشتر یہ ایک ویرانہ تھا، لیکن اس ویرانے میں ایک گڈریا تھا جس کی ایک بانسری تھی، اُسے دنیا کا کوئی غم نہ تھا، وہ اپنے حال پر قانع تھا، بانسری بجاتا تھا اور اپنی بھیڑوں کی رکھوالی کرتا تھا۔۔۔ اور وہ ہزاروں برسوں سے اس سرزمین پر آباد تھا۔۔۔ آپ لوگوں نے فرانسیسی آبادکاروں نے اُس کی بانسری چھین لی اور اُس کی بھیڑوں کو ہلاک کردیا۔۔۔ ایک دن آئے گا جب وہ گڈریا واپس آئے گا اور آپ سے اپنی بانسری چھین لے گا۔۔ "

••••••

" ایک ماں محض ایک وجود نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی منفرد شخصیت اور نہ ہی کوئی رزمیہ۔۔۔ ماں ایک ایسی موجودگی ہے جسے نہ تو وقت اور نہ ہی بھولتی ہوئی یادداشت تبدیل کرسکتی ہے، بھلا سکتی ہے۔۔۔ اور ہر شب جب میں بستر کی چادر اوڑھتا ہوں تو میں جانتا ہوں کہ وہ وہاں موجود ہو گی۔۔۔"
••••••

" میں مڑ کر دیکھتا ہوں تو وہاں میرے سب دوست جو مر چکے ہیں یا زندہ ہیں ایک کھڑکی میں سے جھانکتے مجھے الوداع کہتے ہیں۔۔"
••••••

ایک ناول نگار کی حیثیت سے یہ میں جانتا ہوں کہ فکشن، بے یقینی کو ایک یقین میں معلق کر دینے کا نام ہے۔۔۔ یہ سب قصے کہانیاں، وارداتیں اور محبتیں ہم خود تخلیق کرتے ہیں لیکن وہ سب تصور کے کرشمے تو نہیں ہوتے اُن میں ناول نگار کی حیات کے پر تو جھلکتے ہیں، اُس کا مشاہدہ اور تجربات اُس میں شامل ہوکر ایک بے یقینی کو یقین میں بدلتے ہیں۔۔۔۔
••••••

ياسمينا خضرا کے اس ناول نے مجھے کبھی آزردہ اور کبھی آبدیدہ کیا اور کبھی میں بے پایاں مسرتوں سے ہمکنار ہوا۔۔۔ وہ کسی مارکیز یا سراماگو سے کم نہیں لیکن اُسے کبھی نوبل انعام نہیں ملے گا کہ وہ مفاہمت نہیں کرسکتا۔۔۔ اُس نوعیت کے ناول نہیں لکھ سکتا جس نوعیت کے ناولوں پر نوبل انعام دیا جاتا ہے لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ نوبل نہ سہی اُس نے میرے دل کا انعام جیت لیا ہے۔۔۔

(مستنصر حسین تارڑ کی یہ تحریر اخباری کالم کے طور پر شائع ہوئی تھی. "دلیل" کو ایک مداح سید احتشام نے بھیجی ہے، شکریے کے ساتھ شائع کردیا ہے)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */