خودکشی نہ کریں - خنساء سعید

زندگی کیا ہے؟ یہ سوال ہر انسان کے ذہن کو جھنجھوڑتا ہے۔ کچھ لوگ اس سوال کا تسلی بخش جواب پالیتے ہیں، مگر کچھ اس سوال کا جواب پانے کے لیے ہمیشہ سرگرداں رہتے ہیں، مگر کوئی بھی تسلی بخش جواب حاصل نہیں کرپاتے۔ سوچوں کا یہ مسلسل سفر انسان کو تھکا دیتا ہے اور انسان اپنی زندگی سے مایوس ہوجاتا ہے۔ حالاں کہ زندگی توایک کہانی ہے۔ زندگی ایک پہیلی ہے، زندگی ایک فسانہ ہے، زندگی عرفان ِ ذات ہے، زندگی تسخیر ِ کائنات ہے، زندگی آبرو ہے، روانی ہے، چہک ہے، مہک ہے، بقاء ہے، ضیا ہے، زندگی تو ایک نعمت ہے۔

زندگی ایک داستان ہے، ایک راز ہے، ایک چمکتی دمکتی روشنی ہے، ایک معجزہ ہے،زندگی پھولوں کی سیج ہے زندگی بہار ہے۔ مگر یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔

تصویر ِ زندگی کے دوسرے رُخ میں کانٹوں کی راہ گزر سے گزر کر پھولوں کی سیج تک پہنچا جاتا ہے۔ ہزاروں خزائیں دیکھ کر بہار کا منہ دیکھنا نصیب ہوتا ہے۔ زندگی گلزار بھی ہے اور ایک تماشا بھی، زندگی دھوپ اور چھاؤں کو ساتھ ساتھ لے کر چلنے کا نام ہے۔ زندگی اپنی تمام تر خوبصورتیوں اور بیش بہا صفات کے باوجود دکھوں، آزمائشوں، تکلیفوں، اور غموں کا بھی مجموعہ ہے۔

اس رقص گاہ حیات میں ہر شخص اپنی زندگی مستعار کے ماہ و سال کواپنے اپنے احوال و ظروف، افتا د ِ طبع اور زمانے کے سماجی اور معاشرتی مد و جزر کے مطابق گزار دیتا ہے۔ ان گر د ش ِ ایام میں انسان زمانے کی رو میں چلتا، پھرتا، دوڑتا، رُکتا، جھومتا اور گاتا نظر آتا ہے۔ انسان اس دنیا میں آتا ہے تو لوگوں سے رو شناس ہوتا ہے۔ زندگی کی پٹڑی پر رواں اس ریل گاڑی میں بھانت بھانت کے مسافروں سے اس کا پالا پڑتا ہے۔ پھر افتا دِ زیست کے یہ گر دش ِ دوران راستے میں کسی جگہ دم توڑ دیتے ہیں اور یہ دوڑ کسی ایک نکتہ متعین پر جا کر رُک جاتی ہے۔

صوفیاکرام اس مقام کو فنا و آخرت اور اطبا اسے مرگ ِ طبعی قرار دیتے ہیں۔ مگر کچھ لوگ ز ندگی کی چیرہ دستیوں سے گھبرا کر اپنے آپ کو غیر طبعی طریقے سے ہلاک کرلیتے ہیں۔ خود کشی کا مطلب ہے کہ اپنے آپ کو باقاعدہ ارادہ کر کے غیر قدرتی طور پر مار ڈالنا، یعنی اپنے آپ کو ہلاک کرنے کا عمل، پھر چاہے وہ عمل زہر سے انجام پائے، اسلحے سے یا پھندے سے لٹک کر، ہر صورت میں مرنے والا اپنے آپ کو انتہائی ایذا میں مبتلا کر تا ہے۔

زیادہ تر لوگ دماغی خرابی کی وجہ سے خو دکشی کر تے ہیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی بیماری کی وجہ سے خود کشی کر لیتے ہیں۔ بیماریاں بھی در اصل انسان کے دماغی توازن کو درہم برہم کرتیں اور انسان ایک ہی دفعہ اپنے آپ کو تکلیف دے کرمارنے کا سوچ لیتا ہے اور خودکشی جیسے بُرے فعل کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے۔ خود کشی نا اُمیدی، مایوسی، اور زندگی کی دوڑ میں ہار جانے والے لوگوں کی بزدلی کو ظاہر کرتی ہے۔ خود کشی کا سلسلہ ترقی یا فتہ اور ترقی پذیر ملکوں میں، بڑے اور چھوٹے گھرانوں میں، معاشرے کے با وقار اور معاشرے کی مشہور ترین شخصیات میں ایک عر صے سے چل رہا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر ہر چالیس سکینڈ ز میں ایک شخص خود کشی کرتا ہے۔ مجموعی طور پر سالانہ آٹھ لاکھ خود کشی کرکے اپنی جان لیتے ہیں۔ دنیا میں خودکشی کی سب سے زیادہ شر ح سویڈن میں ہے۔ جاپان میں خود کشی کو ایک مقدس اور بہادرانہ فعل سمجھا جاتا ہے اور لوگ ذرا ذرا سی بات پراپنے آپ کو ہلاک کرلیتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق پندرہ سے اُنتیس سال کی عمر کے لوگوں میں موت کی دوسری اہم بڑی وجہ خود کشی ہے۔ خود کشی کے واقعات دنیا بھر میں رونما ہو تے ہیں۔ خود کشی کر نے والوں کی زیادہ تعداد کم آمدن طبقے سے ہوتی ہے۔ امیر ممالک میں خواتین کی نسبت مردوں میں خود کشی کی تعداد تین گنا زیادہ ہے۔ رواں سال پاکستان میں خود کشی کی شرح ایک لاکھ کی آبادی میں ایک اشاریہ چار فیصد رہی ہے۔ جس میں غربت، ڈپریشن، اور کرونا کا ڈر سر فہرست ہے۔

دنیا بھر میں کرونا کی وجہ سے ایک بہت بڑی تعداد میں خود کشیاں ہوئیں جن میں نوجوان، بوڑھے مرد اور عورتیں شامل تھیں۔ خودکشی کی وجوہات میں مہنگائی، غربت، ذہنی بیماریاں، تشدد، محبت میں ناکامی، والدین کا بچوں کو بلاوجہ ڈانٹنا،امتحانات میں ناکامی، گھریلو نا چا کیاں، اور ہر طرح کی سماجی برائیاں شامل ہیں۔ خود کشی کی وجوہات چاہے کو ئی بھی ہوں خود کشی کرنا سماجی اور معاشرتی اعتبار سے ایک بُرا فعل ہے، اور مذہب نے تو اس موت کو حرام قرار دیا ہے اور خود کشی کرنے والوں کے لیے وعید بھی سنائی ہے۔
اسلام اور دیگر الہامی مذاہب میں خود کشی کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ اسلام میں خود کشی کے بارے میں بہت سی تعلیمات موجود ہیں۔ اسلام میں خودکشی کو حرام اور نا قابل ِ معافی گناہ قرار دیا گیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے وہ اپنے بندوں پر اُن کی ہمت اور طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا مگر جب انسان اللہ کے اس تمام تر رحم اور فضل کو دُھتکار کر اپنی زندگی کو اپنے ہاتھوں سے ختم کر لیتا ہے تو وہ اللہ کے غضب کو دعوت دیتا ہے اللہ تعالی نے سورۃ البقرۃمیں فرمایا "اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو "ایک اور جگہ اللہ تعالی سورۃالنساء میں فرماتے ہیں "اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بے شک اللہ تم پر مہربان ہے اور جو کوئی تعدی اور ظلم سے ایسا کرے گا تو ہم عنقریب اُسے دوزخ کی آگ میں ڈال دیں گے، اور یہ اللہ پر بالکل آسان ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”جس شخص نے خود کو پہاڑ سے گرا کر ہلاک کیا تو وہ دوزخ میں جائے گا، ہمیشہ اس میں گرتا رہے گا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا۔ اور جس شخص نے زہر کھا کر اپنے آپ کو ختم کیا تو وہ زہر دوزخ میں بھی اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ دوزخ میں کھاتا ہوگا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا۔ اور جس شخص نے اپنے آپ کو لوہے کے ہتھیار سے قتل کیا تو وہ ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ دوزخ کی آگ میں ہمیشہ اپنے پیٹ میں مارتا رہے گا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا۔"(بخاری، الصحیح، کتاب الجنائز )

جو مذہب اتنے واضح الفاظ میں خود کشی کی ممانعت کرتا ہو اُس مذہب کے پیروکا ر کس طر ح اس فعل کو سر انجام دے سکتے ہیں ؟

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم دین سے بہت دور ہیں۔ ہم یہ نہیں جانتے کہ ہر مشکل کہ ساتھ آسانی ہے۔ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ مومن کے لیے مایوسی اور نا امید ی گناہ ہے، ہم زندگی کی چھو ٹی چھوٹی آزمائشوں سے دل بر داشتہ ہو جاتے ہیں۔ زندگی کی تلخیوں، آلام و مصائب سے بہت جلد گھبرا جاتے ہیں اور اپنی زندگی کو ختم کر نے کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔ ایک پانچ، چھ فٹ کا انسان جو اپنی مر ضی سے کچھ بھی نہیں کر سکتا سانس تک نہیں لے سکتا وہ اپنی زندگی کو خود ختم کرنے کا فیصلہ کیسے کرلیتا ہے ؟ وجہ یہ ہے کہ ہم میں سے کچھ لوگ بہت بزدل اور ڈرپوک ہوتے ہیں جو زندگی میں آنے والی مشکلات کا بہادرانہ مقابلہ نہیں کرسکتے اور فرار کی راہ ڈھونڈتے پھرتے ہیں اور آخر کار ایسے لوگوں کا خاتمہ زہر کھا کر یا پھندے سے لٹک کر ہوتا جاتا ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خود بھی اور دوسروں کو بھی جینا سکھائیں، مایوسی نہ پھیلائیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو بتا نا ہو گا کہ زندگی بہت خوبصورت ہے مگر کبھی کبھی یہ انسان سے بہت سخت کڑے امتحان بھی لیتی ہے تو ایسے میں تم لوگوں کو ہمت اور حوصلہ نہیں ہارنا بلکہ اُن تمام مشکلات کابہت دلیری سے مقابلہ کرنا ہے اور اللہ سے مدد طلب کرنی ہے تا کہ تم لوگ مزید مضبوط بن سکو، تم لوگوں کی صلاحیتیں مزید نکھر کر سامنے آ سکیں۔ آج ہم لوگ جس دور سے گزر رہے ہیں وہ پریشانیوں اور مصیبتوں کا دور ہے۔ ایسے میں ہمیں چاہیے کہ ہم لوگ ایک دوسرے کا سہارا بنیں ایک دوسرے کی ہمت بڑھائیں۔ خود بھی مثبت سوچیں اور معاشرے میں بھی مثبت رویوں کو رواج دیں۔

خدارا! اس حسین زندگی کو جو کہ ہمیں ایک ہی دفعہ ملی ہے اس کو اپنے ہاتھوں سے ختم مت کریں۔ زندگی کے نشیب و فراز کو ہمت اور حوصلے سے برداشت کریں کیوں کہ مشکلات سے مقابلہ کر کے جینا ہی اصل جینا ہے۔ خدارا زندگی کو زندہ دلی سے جینے کا فن سیکھیں خود بھی خوشحال زندگی بسر کریں اور دوسروں کو بھی خوشی سے جینا سیکھائیں کیوں کہ زندگی ہر دم رواں ہر دم جواں ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */