نوحہ کناں ہے دل - ربیعہ فاطمہ بخاری

دریائے فرات کے کنارے کتّا بھی بھوکا مر جائے تو عمرؓ اس کے لیے بروزِ حشر جوابدہ ہوگا۔۔!

یا الٰہی میں سوچتی ہوں ہمارے حکمران بروزِ حشر کس منہ سے بارگاہِ ایزدی میں حاضر ہوں گے؟ کس کس بد عملی کا جواب دیں گے؟ کس کس غفلت کی وضاحت پیش کریں گے؟ کس کس جرم پہ پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کریں گے؟؟؟

حیات بلوچ کو روئیں یا ارشاد بی بی ایڈووکیٹ کے غم کا نوحہ پڑھیں۔ کراچی اور دیر، سوات کو ڈوبتے ہوئے دیکھ کے دل کو ڈوبتا محسوس کریں یا حکمرانوں کی بےحسی پہ ماتم کریں۔ کس کس دکھ کی فریاد بارگاہِ ایزدی میں پیش کریں۔ کون کون سے زخموں سے رستا لہو صاف کریں۔ ویسے تو وطنِ عزیز میں تقریباً ہر طبقے کے لوگ ہر لحاظ سے غیر یقینی صورتحال سے نبردآزما ہوتے ہیں۔ نہ مستقبل محفوظ ہیں، نہ ہی کوئی حال ہے۔ نہ جانیں محفوظ ہیں، نہ مال اور نہ ہی عزّت و آبرو۔ لیکن میرا خیال ہے کہ جو طبقہ سب سے زیادہ عدم تحفّظ اور غیر یقینی صورتحال کے ساتھ، خوفزدہ ترین زندگیاں گزار رہا ہے، وہ ہے عورت اور ساتھ ہی اگر مجھ ایسی چھوٹے چھوٹے بچّوں کی ماں ہو تو سارا دن سولی پہ گزرتا ہے۔

کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب اس طرح کی روح فرسا خبر نہیں ملتی کہ کسی نہ کسی پھول کو مسل دیا گیا، زیادتی کے بعد بچّوں کا قتل جیسے روز مرّہ کا معاملہ بن گیا ہے۔ اپنا بچّہ ساتھ والی گلی میں کسی کام سے چلا جائے تو اس کی واپسی تک ماں کی جان سولی پہ ٹنگی رہتی ہے۔ بچیوں کی تو بات ہی چھوڑ دیں۔

‌اب حالیہ واقعے کو ہی دیکھ لیں۔ موٹر وے کوئی دووور دراز گاؤں، دیہات نہیں، نہ ہی کوئی ایسا مقام جو ہماری فورسز کی پہنچ سے بہت دور ہو۔ موٹر وے پہ سیکیورٹی اور عوام کی مدد کی غرض سے جگہ جگہ چوکیاں قائم ہیں۔ پولیس پٹرولنگ پہ ہوتی ہے اور وہاں ایسا دلخراش واقعہ رونما ہوتا ہے۔ اور سی سی پی او صاحب یہ نہیں جانچ رہے کہ میری نفری وقت پہ کیوں نہیں پہنچی۔ ایک مسافر، چاہے وہ مرد ہے یا عورت وہ موٹر وے پہ دورانِ سفر کیوں محفوظ نہیں، بلکہ انہیں یہ فکر لاحق ہے کہ پتا نہیں وہ خاتون رات کے اس پہر بچوں کو لے کے کیوں نکلی!! یہ سی سی پی او ہیں۔

‌کچھ نابغے یہ بھی کہتے پائے گئے ہیں کہ عورت اکیلی کیوں نکلی۔ مانتی ہوں کہ رات کے آخری پہر، دو بچّوں کو لے کے اکیلے گھر سے نکلنا ایک درست فیصلہ نہیں تھا، وہ بھی ہمارے معاشرے میں، لیکن قانون کے رکھوالے کہاں ہیں، قانون کہاں ہے، اگر راہزنوں کے ڈر سے رستے ہی بدلنے ہیں تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کیا مقصد ہے؟ کب وہ وقت آئے گا جب ہم اپنے ملک میں قانون کی عملاً ، صحیح معنوں میں عملداری دیکھ پائیں گے؟

‌یہ تو طے ہے کہ جب تک قوانین کا صحیح معنوں میں اطلاق نہیں ہوتا۔ مجرموں کوقرار واقعی سزائیں نہیں دی جاتیں، ہر ایک گھٹیا انسان کو کیفرِ کردار تک نہیں پہنچا دیا جاتا، یہ اور اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔ اللّٰہ پاک ہمارے حال پہ رحم فرمائے اور ہمیں کوئی دردِ دل رکھنے والے حکمران عطا فرمائے، جو عوام کے درد کو درد تو سمجھیں۔ یہاں تو بے حسی اور بے حمیّتی کے گزشتہ ریکارڈ بھی توڑے جارہے ہیں۔

Comments

ربیعہ فاطمہ بخاری

ربیعہ فاطمہ بخاری

لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */