راج کپور کا باپ پرتھوی راج آستین کا سانپ کیوں نکلا؟ - سید ذوالفقار علی بخاری

پرتھوی راج سے میں بہت محبت کرتا تھا۔ میرے د ل میں اس نے یہ مقام اس لیے حاصل نہیں کیا تھا کہ وہ مشہور ایکٹر ہے۔ ایکٹر تو اس سے کہیں بڑے ہندوستان و پاکستان میں جب بھی موجود تھے اور اب بھی موجود ہیں۔

پرتھوی راج کے والد پشاور پولیس میں ملازم تھے اور وہیں انہوں نے اپنی جوانی گزاری۔ بہت پر خلوص انسان تھے۔ ہنس مکھ۔ دوسروں کے دکھ درد میں ہمیشہ کام آنے والے۔

پرتھوی راج کی والدہ حیات ہیں۔ خدا انہیں زندہ رکھے ان کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ’’مادرِ مہربان‘‘ کا لفظ انہیں کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ بھائیوں اور بیٹیوں کی خدمت میں رات دن مصروف اور اسی مصروفیت میں مسرور، شکل و صورت ایسی جیسی کسی دیس کی رانی ہو، حلم و انکسار ایسا جیسے کوئی درویش ہو۔

میں اکثر پرتھوی راج کے والد اور والدہ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا اور گھنٹوں ان کے خلوص سے فیضیاب ہوا کرتا تھا۔ پرتھوی راج کی یہ بات مجھے پسند تھی کہ ورزش کرتا تھا اور نیک چلن تھا۔

پرتھوی راج کا بیٹا راج کپور ان دنوں بہت چھوٹا سا تھا اور بچوں کے پروگرام میں شریک ہوا کرتا تھا۔ میں اس کے باپ اور ماں کی رفاقت کے سبب اس کا خاص خیال رکھتا تھا اور اس ہونہار بچے کو اکثر مائیکرو فون پر لاتا اور جو کچھ الٹا سیدھا سکھا سکتا تھا، سکھاتا تھا۔

اس تمہید سے میری مراد یہ ہے کہ اس دور کا کچھ ذکر ہو جائے جس دور میں کچھ اگلے زمانے والے ایسے لوگ بھی رہتے تھے جن میں مروت تھی، آنکھوں کا لحاظ تھا، فن کی قدر تھی۔

دفعتاً ایسے واقعات پیش آئے کہ میرے دل کو ٹھیس پہنچی اور پرتھوی راج کا جو قلعہ میں نے اپنے دل و دماغ میں بنا رکھا تھا، مسمار ہو گیا۔

پرتھوی راج ورزش کرتے کرتے پورا پہلوان ہوگیا تھا اور فلموں میں اس کی مانگ کم ہونے لگی تھی۔ اب اگر اس کو کوئی پارٹ ملتا تو کسی بھاری بھرکم آدمی کا۔ مختصر یہ کہ اب وہ ہیرو کے زمرے سے نکل کر ، ہیرو کے باپ یا بوڑھے وفادار ملازم کے زمرے میں آ گیا تھا۔

پرتھوی راج نے جب اپنی کسادبازاری دیکھی تو ایسی چال چل گیا کہ ہندوؤں نے اسے دیش بھگت سمجھا مگر مسلمانوں نے بگلا بھگت۔

یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان کی تحریک زوروں پر تھی اور قائداعظم زمین کا گز بنے ہوئے ہندوستان کے طول و عرض میں تحریک پاکستان چلا رہے تھے اور ملت بیضا کی شیرازہ بندی میں ہمہ تن مصروف تھے۔ ہندو بھارت ماتا کے حصے بخرے کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اس لیے وہ ہر ممکن کوشش کر رہے تھے کہ قائداعظم کی تحریک پنپنے نہ پائے۔

ہندوؤں کے ان جذبات کو دیکھ کر پرتھوی راج نے اسٹیج کے لیے ایک ڈرامہ ’’دیوار‘‘ نامی لکھا۔ یہ ڈرامہ کھلے بندوں تحریک پاکستان کے خلاف تھا۔ کہانی اس ڈرامہ کی یہ تھی کہ ایک زمیندار کے دو بھائی ہیں۔ پیار محبت سے رہتے ہیں مگر باپ کے مرنے کے بعد انگریزوں کی شہ پر چھوٹے بھائی نے بٹوارے کا مطالبہ کیا۔ کھیت ہو کہ مکان، ہر جگہ بیچ کی دیوار کھنچے لگی۔ مکان کے آنگن میں دیوار، بڑا بھائی ایک طرف رہتا تھا اور چھوٹا بھائی دیوار کی دوسری طرف۔ بڑا بھائی دھوتی اور کرتے میں ملبوس اور چھوٹا بھائی انگریزوں کی وضع قطع اختیار کیے ہوئے۔

بڑے بھائی کا پارٹ خود پرتھوی راج نے کیا اور چھوٹے کا سجن نے۔ سجن نے قائداعظم کی وضع قطع کا چربہ اتارنے کی کوشش کی۔ یہاں تک کہ اس نے گفتگو کا لہجہ بھی قائداعظم جیسا اختیار کیا۔

کہانی کا اختتام یہ تھا کہ آخر چھوٹا بھائی اپنے کیے پر نادم ہوتا ہے اور بڑے بھائی کے پاؤں پر گر کر معافی مانگتا ہے۔ دیوار ڈھا دی جاتی ہے اور سب ایک ہو کر مل بیٹھتے ہیں۔

اس کھیل میں پرتھوی راج کے تقریباً ہر فقرے پر ہر ہر مہادیو، مہاتما گندھی کی جے، بھارت ماتا کی جے کے نعرے لگتے تھے۔ بڑے بڑے ہندو وزیر اور مہامنتری اس کھیل کو دیکھنے آئے اور پرتھوی راج کے کارنامے کی داد دی، یہاں تک کہ تقسیم کے بعد شری پرتھوی راج کو نہرو کے دربار سے پدم وغیرہ کا خطاب ملا اور پرتھوی راج اسمبلی کا ممبر بھی ہوگی ۔

پرتھوی راج کو کانگریسی دربار سے سب کچھ ملا لیکن پرتھوی راج نے وہ عزت کھودی جو مجھ جیسے لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے موجود تھی۔

مجھے اس بات سے صدمہ ہوا کہ پرتھوی راج کے یہ زہریلے خیالات کیوں ہیں؟ مجھے اس بات سے دکھ پہنچا کہ پرتھوی راج نے برسوں سے یہ زہر اپنے دل میں چھپا کر کیوں رکھا تھا؟ پرتھوی راج آستین کا سانپ کیوں نکلا؟
پرتھوی راج کا پھیلایا ہوا زہر پاکستان کی تحریک کے جسم میں تو گھر نہ کر سکا لیکن یہ ضرور ہوا کہ فن کے معاملے میں بھی دو فرقہ ہو گئے۔ ایک ہندو اور ایک مسلمان۔ یہاں تک کہ فن بھی دو طرح کا ہو گیا۔ ایک مسلمان کا اور ایک ہندوؤں کا!
( ممتاز براڈ کاسٹر کی کتاب ’’ سرگزشت ‘‘ سے مقتبس)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */