موٹروے واقعہ، اصل مسئلہ کیا ہے؟ - رضوان احمد غلزئی

یہ مرد و عورت کا مسلئہ نہیں، مسلئہ تربیت کا ہے۔ کیا سب مرد اکیلی عورت کو دیکھتے ہی ریپ کر دیتے ہیں؟ یقینا نہیں۔
اچھے برے لوگ تو ہرجگہ موجود ہوتے ہیں۔ ایسے ہی اچھے برے مرد اور اچھی بری خواتین بھی ہوسکتی ہیں۔ مسئلے کی جڑ کو پکڑیں اور آنے والی نسل کی ایسی تربیت کریں کہ مرد ہو یا عورت اپنی مقررکردہ حد میں رہے۔

‏اس واقعے میں ملوث درندوں کو سزا ہو بھی گئی، جتنی معاشرے میں frustration بڑھ گئی ہے، یہ سلسلہ اب رکے گا نہیں۔ یہ موبائل فون نہ جانے ابھی اور کیا گل کھلائے گا۔ آئے روز ہم کم علمی اور جہالت کی وجہ سے کتنے لوگوں کی عزتیں نیلام ہوتے دیکھتے ہیں۔ حالیہ کچھ عرصے میں واٹس ایپ اور سوشل میڈیا پر لڑکوں اور لڑکیوں کی leaked تصاویر اور ویڈیوز کی بڑھتی ہوئی تعداد یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ ہمارا معاشرہ کس حد تک frustrated اور تباہ حال ہے۔ حیا جیسے اس معاشرے سے کھینچ کر نکال لی ہو۔ اگلے روز اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک کیس آیا کہ ایک باپ نے جواں سال بیٹی کے ساتھ زیادتی کی اور وہ ثابت بھی ہوگئی۔ اب کون باپ ایسا سوچ بھی سکتا ہے، لیکن ایسا ہورہا ہے۔ کس کس کے لیے قوانین بنائیں اور کس کس کو نشان عبرت۔ تربیت کی خامیوں کو قوانین سے ٹھیک نہیں کیا جاسکتا۔

ہمیں اس بحث سے باہر نکل آنا چاہیے کہ کس کو نگاہیں نیچی رکھنی چاہییں۔ جب قرآن نے مرد و عورت دونوں کو ایک کی نصیحت کی ہے تو پھر ایک جنس دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنے حصہ کا فرض ادا کرے۔ ہمیں اپنے بچوں کی تربیت کو باقاعدہ subject سمجھ کر پڑھانا ہوگا۔ لڑکے کو بتانا ہوگا کہ اس نے معاشرے میں کیسے behave کرنا ہے۔ بچیوں کو بھی سمجھانا ہوگا کہ اس معاشرے میں خود کو کیسے محفوظ رکھنا ہے۔

بدقسمتی سے گزشتہ چند سالوں میں زندگی اتنی تیز ہوچکی ہے کہ اس مشینی زمانے میں والدین پیسہ کمانے میں اس قدر مصروف ہیں کہ ان کے پاس بچوں کے لیے وقت نہیں، جو تعلیمی ادارے ہیں وہ بزنس کے ادارے ہیں، بچوں کی تعلیم حاصل کرنے کا مقصد بھی پیسہ کمانا ہے۔ علماء کی توجہ معاشرے کی تعمیر سے زیادہ عمارتوں کی تعمیر اور قصہ کہانیاں سنانے پر مرکوز رہتی ہے ۔

موبائل فون اور سوشل میڈیا کا منفی استعمال اب مسلسل بڑھتے جارہا ہے اور اگر اس کو کسی سطح پر روکا نہ گیا تو اس کے منفی اثرات سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ جہاں حکومتی سطح پر سوشل میڈیا کی ریگولیشن وقت کی اہم ضرورت ہے، وہیں ہر گھر میں موبائل فون کے استعمال سے متعلق بھی ریگولیشن کی ضرورت ہے۔ والدین موبائل فون پر بچوں کی سرگرمیوں پر خصوصی نظر رکھیں ۔

معاشرت کو ٹھیک کرنا ہے تو سب سے پہلے والدین، پھر اساتذہ اور پھر علماء کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا ۔ ہمیں اپنی بنیاد کی طرف واپس جانا ہوگا، اخلاقیات کو مادیت پر ترجیح دینا ہوگی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */