برگ و بار - عظمیٰ ظفر

وہ جامن کے درخت کی گوڈی کر رہے تھے. نوکری سے فارغ مرد حضرات کو عمر رسیدگی بھی ٹک کر کہاں بیٹھنے دیتی ہے۔
کبھی گھر کے پنکھے صاف کر دیے، تو کبھی پانی کی بوتلیں بھر دیں۔
کبھی بلاوجہ اس کمرے سے اس کمرے تک چلے گئے، اخبار پڑھ لیا، خبریں دیکھ لیں۔ لیکن باغبانی کا شوق کم نہیں ہوا تھا.

فاکہہ کو معلوم تھا ابا اس وقت کہاں ہوں گے. وہ وہیں چلی آئی۔
"ابا جامن کا درخت کتنا بڑا ہوگیا ہے، مگر پھل کیوں نہیں دیتا؟"

فاکہہ کو اس درخت سے یہی شکایت تھی جو اس نے ابا کے سامنے گوش گزار کر دی۔

ابا نے مسکرا کر اسے دیکھا اور کہنے لگے:
"یہ ابھی چھوٹا درخت ہے. دیکھنے میں بڑا لگ رہا ہے مگر ابھی اس کی عمر پھل دینے والی نہیں ہوئی ہے.

تم دیکھنا جب یہ پھل دے گا تب میں نہیں رہوں گا پھل کھانے کے لیے۔"

انہوں نے گوڈی مکمل کرکے درخت کے اطراف میں مٹی سے دائرہ بنانا شروع کر دیا۔

"یہ کیا بات ہوئی" اس نے منہ بنایا۔
"آپ نے درخت لگایا ہے تو کیا آپ پھل نہیں کھائیں گے؟ ویسے کیا ہم پھر گھر بدلیں گے؟ ہم کب تک کرائے کے گھر بدلتے رہیں گے ابا"؟
فاکہہ نے جھک کر ابا کی مدد شروع کردی۔

"تم دعا کرو بس."
ابا نے پر امید ہوکر کہا۔

"اچھا۔ وہ چونے کا تھیلا اٹھا کر دو"۔ انہوں نے اشارہ کیا۔
فاکہہ نے تھیلا ان کی طرف بڑھایا۔

ابا نے تھیلے سے چونا پاؤڈر نکال کر درخت کی جڑوں میں چھڑکاؤ کیا اور دوسرے پودوں کی طرف بھی۔

"ابا چونا کیوں ڈالتے ہیں پودوں میں؟ یہ تو بہت تیز ہوتا ہے. اماں کے پاندان سے چکھا تھا تو وہ ڈانٹنے لگیں کہ زبان کٹ جائے گی ہائے۔ چونا تیز ہوتا ہے"۔
فاکہہ کو یاد آیا تو منہ میں زبان پھیرنے لگی۔
ابا اس کے بھول پن پر ہنس پڑے۔

"مختلف طرح کے کیڑے مکوڑوں سے بچانے کے لیے اور پودے کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ کبھی کبھار کھاد کے علاوہ دوائیں اور چونا بھی ڈالا جاتا ہے۔
فاکہہ! درختوں کی حفاظت ہر طرح سے کرنی پڑتی ہے ورنہ یہ خراب ہوجائیں گے۔"

"لیکن ابا!! امرود میں سے تو یہ موٹے موٹے کیڑے نکلے تھے جبکہ آپ نے تو دوا بھی ڈالی تھی۔ (اس نے موٹے موٹے پر زیادہ ہی زور دیا) اور کل اماں کے ساتھ مٹر چھیل رہی تھی تو اس میں سے بھی سونڈی نکلی تھی. اس وقت آپ سو رہے تھے ورنہ میں آپ کو دکھاتی۔
وقاص نے ماچس کے ڈبے میں رکھ دیا ہے. کہہ رہا تھا اس میں سے تتلی نکلے گی ہیں۔۔۔۔ ابا!!! سچ میں ایسا ہوگا؟"

فاکہہ کی آنکھیں تجسس سے بھرپور تھیں۔
انہوں نے نفی میں سر ہلا دیا.
"جھوٹا وقاص" فاکہہ نے دل میں کہا۔

ابا نے موتیے کے جھاڑ کو تراشنا شروع کیا۔ اتنے میں فاکہہ ہاتھ دھو کر آگئی. بالوں کی لٹھ منہ پر آرہی تھی۔

"ابا! آپ تو کہتے ہیں پیڑ پودے درخت بھی اللہ کی تسبیح کرتے ہیں. جب وہ اتنی عبادت کرتے ہیں تو ان میں کیڑے کیوں لگ جاتے ہیں کیا ان کو بھی سزا ملتی ہے؟"
اس کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی۔

ابا نے سوکھے پھولوں کو الگ کیا اور موٹی موٹی بیلے کی کلیاں اتار لیں۔ فاکہہ نے جھٹ فراک کا دامن ان کے سامنے کردیا۔ابا نے کلیاں اس کے جھولے میں ڈال دیں۔

"ہاں میری بچی،، درخت پودے اور تمام مخلوق اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ صبح وشام تسبیح بیان کرتے ہیں لیکن سب کو اپنا رزق بھی تو چاہیے. ہوسکتا ہے اللہ اس درخت کو کیڑوں کے ذریعے آزما رہا ہو اور کیڑے اپنا پیٹ بھرتے ہوں۔ جیسے اللہ انسانوں کو آزماتا ہے. یہ دکھ، پریشانی آزمائش ہی تو ہوتی ہیں. اب اگر امرود میں کیڑا نہیں ہوتا تو تم ویسے ہی کچر کچر کھا لیتیں بغیر دیکھے۔ مگر تم نے دیکھ کر سنبھل کر کھایا نا، اسی طرح انسان کو بھی رک کر سنبھل کر حدود میں رہ کر کام کرنے کا حکم دیا ہے اللہ نے"۔

انہوں نے بھی ہاتھ دھو لیے اور ہلکے پانی کا نل کھول دیا. پانی پتلی کیاریوں میں بہنے لگا. پھر انہوں نے فاکہہ کے بکھرے بالوں کو گول مول سا لپیٹ کر جوڑے کی شکل دی اور امرود کی پتلی ٹہنی توڑ کر اس کے جوڑے میں گھسا دی۔

یوں ابا نے فاکہہ کی ایک گتھی سلجھا دی تھی۔

اتنے میں اماں نے آواز دی کہ جوس لے جاؤ. فاکہہ پلٹ کر گئی، بیلے کی کلیاں میز پر رکھیں. پتا تھا اماں نے چند کلیاں اپنے سونے کی بالیوں میں ڈال کر کانوں میں پہن لینی ہے پھر اماں بھی شام تک مہکتی رہیں گی۔

فاکہہ ان کے لیے تازہ ہرے رنگ کا کریلے کا جوس لے آئی. جب سے ابا ذیابیطس کے مریض بنے تھے کسی سے پتا چلا کہ کریلے کے جوس سے افاقہ ہوگا تو آزمانے لگے، چائے پھیکی کردی، میٹھا کم کردیا اور کڑوے کریلے کے رس کو غٹاغٹ پی جاتے تھے۔

ابا۔ افف کتنا کڑوا ہوتا ہوگا، کیسے پیتے ہیں آپ؟
اس نے بھی کڑوا سا منہ بنایا۔

"ہاں کڑوا تو ہوتا ہے مگر میٹھی زندگی جینے کے لیے کڑوے گھونٹ پینے پڑتے ہیں"۔

چلو اب اندر چلتے ہیں آج کا کام ختم۔

محنت ہی محنت، جدوجہد، بچوں کے بہتر مستقبل کی کوشش میں زندگی پہلے ہی پھیکی ہوجاتی ہے، اس پر کھانوں میں مٹھاس بھی کم ہوجائے تو بندہ ترس ترس کر ہی مرجاتا ہوگا۔

وقت گزرنے لگا، فاکہہ زندگی کی بھول بھلیوں میں گم ہوگئی۔

لیکن ہر مرتبہ جامن دیکھ کر ہونہی یاد آجاتا تھا۔
ابا نے کہا تھا کہ جب میں نہیں رہوں گا تب یہ درخت پھل دے گا اور ایسا ہی ہوا تھا۔ سب نے اس درخت کا پھل کھایا مگر ابا نہیں کھا سکے۔

جب اولادوں کے پھلنے پھولنے کا وقت آتا ہے تو والدین کیوں نہیں رہتے ان کی خوشیاں، ترقی کامیابیاں دیکھنے؟ مگر یہ گتھی فاکہہ کو کون سمجھاتا؟

اس کی آنکھوں کے کنارے بھیگنے لگے اور لبوں نے التجا کی!

*رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا*

Comments

Avatar

عظمیٰ ظفر

عظمیٰ ظفر روشنیوں کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اپلائیڈ زولوجی میں ماسٹرز ہیں ، گھر داری سے وابستہ ہیں اور ادب سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ لفظوں کی گہرائی پر تاثیر ہوتی ہے، جو زندگی بدل دیتی ہے، اسی لیے صفحۂ قرطاس پر اپنی مرضی کے رنگ بھرتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */