جنسی درندگی: واقعات کیوں بڑھتے جارہے ہیں؟ - عظیم الرحمن عثمانی

ملک پاکستان میں یہ بڑھتی جنسی درندگی کیوں ہے؟ کیوں بڑھتے جارہے ہیں ایسے ہوس پرست جو لڑکی، لڑکے، بچے، بلی، مردے کسی کو بھی نہیں چھوڑتے؟

کیا کہا؟ پورنوگرافی سبب ہے؟۔۔۔ پھر تو یہ جنسی وحشت ساری دنیا میں اتنی ہی شدت سے نظر آنی چاہیے۔ کیونکہ پورنوگرافی کی لپیٹ میں تو آج تمام مسلم و غیر مسلم ممالک ہیں۔

کیا کہا ؟ شادی کرنےمیں تاخیر سبب ہے؟۔۔۔ مگر یہاں تو کنواروں سے زیادہ شادی شدہ مجرموں کی بہتات ہے جو کسی بھی کمسن یا مجبور کی عزت روند ڈالتے ہیں۔

کیا کہا؟ دوسری تیسری شادی سے گریز اس کا سبب ہے؟۔۔۔ مگر پھر تو ترکی، ملائیشیا جیسے دیگر مسلم ممالک میں بھی یہی حال نظر آنا چاہیے۔ کیونکہ عرب دنیا چھوڑ کر دوسری، تیسری شادی تو دیگر مسلم ممالک میں بھی نہیں ہورہی۔

کیا کہا ؟ اسلامی سزائوں کا سرعام نفاذ نہ ہونا اس کا سبب ہے؟ ۔۔۔ مگر یہ نفاذ غیر مسلم تو چھوڑیئے اکثر مسلم ممالک میں موجود نہیں ہے۔ پھر وہاں یہ وحشت کا راج کیوں نہیں؟

کیا کہا ؟ عورت کی بے پردگی اس کا سبب ہے؟ پھر یہ ترکی، آزربائیجان جیسے ممالک جہاں کچھ عورتیں حجاب کرتی ہیں تو کچھ اسکرٹ پہنی برہنہ ٹانگوں میں ہوتی ہیں۔ وہاں ریپ کیوں نہیں بڑھتا؟

حقیقت یہ ہے کہ اوپر درج تمام باتیں اس بڑھتی درندگی کا ایک ضمنی حصہ تو کہلا سکتی ہیں، مگر اصل جڑ یہ نہیں ہے۔ اصل جڑ ہمارے نزدیک دو ہیں۔

پہلا تربیت یعنی اصلاح نفس کا بحیثیت مجموعی نہ ہونا۔
دوسرا ریاست و قانون کا غفلت کی نیند سوتے رہنا۔

جیسے ایک شیر سرکس میں اپنی تمام تر درندگی بھلاکر وہی کرتا ہے جو اسے اس کا مالک حکم دیتا ہے۔ ویسے ہی مرد کا نفس بالخصوص شہوت کے اعتبار سے ایک سویا ہوا درندہ ہے۔ اسے اگر سدھایا نہیں، اسے قابو میں نہ رکھا تو کسی بھی وقت یہ بدک سکتا ہے۔ اسے سدھانا لازمی ہے اور یہی تربیت نفس اسے بالآخر ایک وحشی درندے سے ایک گھر میں سدھائے جانور میں تبدیل کردیتی ہے۔

اسی طرح ریاست پر لازم ہے کہ وہ اس صورتحال پر تھنک ٹینک تشکیل دے، ایکشن کمیٹی بنائے جو اعداد و شمار سے پہلے یہ تعین کریں کہ کن علاقوں میں ایسی وارداتوں کا زیادہ زور ہے؟ کن مدارس، کالجز یا ھوسٹلز میں ایسے واقعات زیادہ رپورٹ ہوئے ہیں؟ پھر ان مقامات کا تحقیقی جائزہ لے کر ان وجوہات کو کھوجے جو ان کا اصل سبب ہے۔ آخر میں اس کو جڑ سے اکھاڑ کر تدارک کرے۔ پھر چاہے اس میں بھلے کچھ اداروں کو بند کرنا پڑے، کسی گینگ کی بیخ کنی کرنی پڑے . مجرمین سے انٹرویو کے ذریعے ان کی نفسیات کا جائزہ لینا پڑے یا پھر جہالت دور کرنے کے لیے خاص تعلیمی کورس کا اہتمام کرنا پڑے۔

یہ دو کام یعنی فرد کی تربیت اور قانون کا اطلاق جب تک نہیں ہوگا۔ تب تک وحشت کا یہ برہنہ رقص ہمارا مقدر بنا رہے گا۔

Comments

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمن عثمانی

کے خیال میں وہ عالم ہیں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ ان کا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ ’طالب علم‘. خود کو کتاب اللہ قرآن کا اور دین اللہ اسلام کا معمولی طالب علم سمجھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • برادر اوپر آپ نے اسلامی سزاؤں کا مسٔلے کا اصل حل ہونے کی نفی تو کر دی لیکن نچوڑ یہ نکالا کہ قانون کا اطلاق ہونا چاہیئے۔ قانون تو یہی کہتا ہے کہ سزا دی جائے۔تو اگر اسلامی سزائیں نہیں دیں گے تو پھر کس قوانین کے تحت سزائیں دیں گے؟ کیا اللہ تعالیٰ کے قوانین سے بہتر انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین ہو سکتے ہیں؟ پھرمغربی قوانین تو خود جرائم کو روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔اس لئے یہ کہنا بھی درست نہیں کہ اس وحشت کا راج غیر مسلم دنیا میں نہیں۔ سٹیٹس اٹھا کر دیکھیں تو سب سے زیادہ ریپ، قتل اور جنسی زیادتیاں غیر مسلم دنیا بالخصوص امریکا اور یورپ میں ہیں۔ مسلمان ممالک تو بہت پیچھے ہیں الحمدلللہ۔ میرے مطابق اصل حل اسلام کے عدالتی نظام بشمول سزاؤں، اسلام کے معاشرتی نظام اور اسلام کے تعلیمی نظام کے نفاز میں ہے۔ اسلام کے ہماگیر نفاذ سے ایک ایسا معاشرہ جنم لیتا ہے جو برائی سے پاک اور تقویٰٗ پر مبنی ہوتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */