مردوں‌کے لیے تحفہِ خاص - زارا مظہر

دیکھا گیا ہے کہ مرد حضرات چالیس یا آ س پاس کے پھیر میں ہوں تو خود سے کافی حد تک لاپروا ہو جاتے ہیں ۔۔۔ بلکہ خود کو بوجھ ڈھونے والا گدھا تصور کرنے لگتے ہیں۔۔۔ بوجھ ضرور ڈھوئیے لیکن اپنی ذمہ داریوں کو زندگی کا ارتقا اور تسلسل سمجھ کر ۔۔۔

مرد عموماً نوجوانی میں یا جوانی میں پھر بھی اپنا خیال رکھ لیتے ہیں، لیکن بعد کی ذمہ داریوں میں پھنس کر سب کچھ ترک کردیتے ہیں۔۔۔ جسمانی مشقت کرنے والے اپنے لباس اور حلیے سے یکسر لاپروا ہوجاتے ہیں۔ رنگ اڑے بکھرے بال اور بغیر استری کے گندے کف کالر والے کپڑے، گندے جوتے ان کا ٹریڈ مارک بن جاتے ہیں۔ آ فس میں جاب کرنے والوں کا حلیہ بھی موٹی توند کی وجہ سے قابلِ اعتراض ہی لگتا ہے۔

جس طرح بننا سنورنا عورت کا پیدائشی حق ہے، اسی طرح صفائی اور کپڑوں کی درست ترتیب مردوں کا پیدائشی حق ہے۔۔۔ گھر ہو یا دفترخواتین بھی "مرتب" حضرات کو ہی پسند کرتی ہیں۔ لیبر ورک ہے، جاب یا کاروباری سلسلہ۔

آ ئیے ان چیزوں پر فوکس کرتے ہیں جو بالکل بے توجہی کا شکار ہیں۔ یہ وہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جنہیں adopt کرنے سے personality building اور personal grooming میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکتا ہے۔

1 ۔۔۔۔۔۔۔ ہفتے میں ایک بار ہیئر کٹ لازماً کروائیں۔۔۔ داڑھی ہے تو خط بھی بےحد ضروری ہے۔ گال پر آ ئے بے ترتیب موٹے بال تھریڈنگ سے نکلوالیجیے۔ اس طرح خط پورا ہفتہ کشیدہ ہی رہتا ہے۔۔

2 ۔۔۔۔۔۔۔ بڑھتی عمر کے ساتھ ہارمونل پرابلمز اور چینجز کی وجہ سے کان کی لوؤں پر گھنا رواں بلکہ موٹے بال ظاہر ہونے لگتے ہیں، انہیں دھاگے سے نکلوا دیجیے ورنہ شخصیت کا تاثر خراب بیٹھتا ہے۔

3 ۔۔۔۔۔۔ بھنوؤں میں اِکّا دُکّا بال لمبے ہوجاتے ہیں، قینچی سے برابر کروالیجیے۔ مونچھیں تو ترشواتے ہی ہیں، ناک کے بال بھی چھوٹی قینچی سے ترش لیجیے۔

4 ۔۔۔۔۔۔۔ ہاتھوں اور پیروں کے ناخن جمعہ کے جمعہ تراش کر سنت بھی پوری کیجیے۔ پیروں کی ایڑیوں اور ناخنوں کے گرد ڈیڈ اسکن (چنڈیاں اور مردہ کھال) کٹر سے کاٹ لیجیے۔۔۔ یہ عمل صحت و صفائی کے ساتھ شخصی تاثر میں اضافہ کا باعث ہے۔

5 ۔۔۔۔۔۔۔ عموماً دیکھا گیا ہے مرد زیادہ سے زیادہ دو منٹ میں نہاکر فارغ ہوجاتے ہیں۔۔۔ جناب اس میں ایک منٹ کا اضافہ اور کرلیجیے۔۔۔ بالوں کو شیمپو کرنے کے دوران کانوں کے پیچھے اور کان کی سلوٹوں کروٹوں اور ڈیزائن میں اسفنج یا انگلیاں اچھی طرح گھمالیجیے۔۔۔ ان تہوں میں اکثر میل رہ جاتی ہے۔۔۔ جو بہت بدنما معلوم ہوتی ہے۔۔۔ بازار میں لمبے ہینڈل والے باتھنگ برش عام ملتے ہیں، پشت پر صابن لگانے کے لیے استعمال کیجیے۔

6 ۔۔۔۔۔۔۔ کرسی پر زیادہ دیر بیٹھے رہنے سے توند لٹکنے لگتی ہے پیٹ اٹھاکر وہاں بھی صابن کا اسفنج پھرائیے اور پانی بہائیے۔۔۔ ناف کے گڑھے کو صفائی کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ شدیدبدبو دینے لگتی ہے اور کئی جلدی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔

7 ۔۔۔۔ نہانے کے فوراً بعد کاٹن بڈ سے کان کے دونوں سوراخ صاف کیجیے۔۔۔ ایک قطرہ سرسوں یا زیتون کا تیل ناف میں ڈالیے۔۔۔ بہت سے امراض سے حفاظت ملتی ہے۔

8 ۔۔۔۔۔ پیروں کے تلوؤں اور انگوٹھے کے ناخنوں پر بھی یہی تیل لگائیے۔ سر درد نہیں ہوتا اور نظر کی کمزوری بھی نہیں ہونے پاتی۔

9 ۔۔۔۔۔۔۔باہر کے جوتے ہمیشہ پالش شدہ اور صاف کر کے پہنیے۔ گھر کی چپلیں تو بیگم دھو ہی دیتی ہیں۔

10 ۔۔۔۔۔۔۔اور خدارا پاؤں گھسیٹ کر اور ڈھیلے ڈھالے تھکے ہوئے گدھے کے انداز میں کبھی مت چلیے۔۔۔ کسی بھی رشتے سے منسلک خاتون باپ بھائی یا شوہر کا یہ انداز پسند نہیں کرتی۔۔۔ کوشش کرکے ہمیشہ سیاہ مشکی گھوڑے کی طرح چست و چالاک نظر آ ئیے، بھلے گھر میں بیڈ پر آ رام کا وقت بڑھادیجیے۔۔۔

11 ۔۔۔۔۔۔ ہاف پینٹ اور شاٹس پہن کر باہر نہ نکل جایا کیجیے۔ کئی خواتین خفیف ہوتی ہیں اور مذہب نے بے شک آ پ کو دوپٹے کی پابندی سے آ زاد رکھا ہے، لیکن تھوڑی سا پابند بھی کیا ہے۔

12 ۔۔۔۔۔ پینٹ کو کولہے کی ہڈی تک پہننا بند کردیجیے۔ یہی گمان ہوتا ہے ابھی گر جائے گی۔ ناف کے عین نیچے پینٹ کی انتہائی حد ہونی چاہیے۔

13 ۔۔۔۔۔ ہمیشہ جوتے، موزے، ٹائی وغیرہ لباس سے میچ کر کے پہنیے۔۔۔ کیونکہ یہ ضروری نہیں آرائشی اشیاء ہیں اور انہیں پٹے کی طرح لٹکانا مقصود نہیں ہوتا، بلکہ یہ شخصیت ابھارنے کی اسیسریز ہیں۔

14 ۔۔۔۔ اگر سیگریٹ نوشی کرتے ہیں۔ سگار، پائپ یا حقہ پیتے ہیں تو اس میں اپنا ایک (کمفرٹ زون ) خاص اسٹائل بنائیے۔۔۔ جاہلوں کی طرح سُوٹے مت لگائیے۔ ( اگرچہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔)

15 ۔۔۔۔۔ آ فس یا ورکنگ پلیس پر جاتے وقت کسی عمدہ برانڈ کا ہلکا پرفیوم اسپرے کیجیے۔۔۔ اور کوشش کیجیے کہ آپ کی آمد کا سندیسہ یا پہچان آ پ کا برانڈ دے۔ ہم اپنے ابا اور بھائیوں کی کسی جگہ موجودگی ان کی خوشبو سے کرلیتے تھے۔۔۔ اور بنیان بھی اسی رچی خوشبو سے الگ الگ کرتے تھے۔

16 ۔۔۔۔ اپنے بولنے کے لہجے پر غور فرمائیے۔۔۔ جھٹکے مار مار کر یا بات کو لٹکاکر تو گفتگو نہیں کرتے؟ اگر ایسا ہے تو کوشش کرکے لہجہ قابو میں لے آئیے۔۔۔

17 ۔۔۔۔۔۔ مردانہ شخصیت کے وقار میں لہجے کی گھمبیرتا اور ٹھہراؤ سے کئی گنا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔۔۔ تیز تیز بول کر اسے تباہ مت کیجیے۔

18 ۔۔۔۔۔۔ پبلک میں یا گھر میں سرِ عام ناک سے رینٹ نہ نکالیے۔۔۔ نہ ہی تھوکتے چھینکتے پھریئے۔۔۔ بولنے کے دوران جوش میں تھوک نہ اڑائیے ۔

19 ۔۔۔۔ کھانا کھانے کے دوران چپ چپ پر قابو پائیے۔۔۔ اور کھانے کے بعد بے سُرا جاہلانہ ڈکار لینے سے پرہیز کیجیے۔۔۔ ڈکار تہذیب سے بھی لیا جاسکتا ہے۔

20 ۔۔۔ خواتین کو تاڑ کر ہراساں کرنے سے پرہیز کیجیے۔ آ پ کو حقارت کے سوا کچھ نہیں ملتا۔۔۔ اور خواتین آپ کی موجودگی میں انکمفرٹیبل محسوس کرتی ہیں۔

21۔۔۔۔۔۔۔ بہت زیادہ اور فضول بولنے سے پرہیز کیجیے۔ کئی طرح کے بھرم رہ جاتے ہیں۔

22 ۔۔۔۔۔۔۔ ذرا سوچ کر آ ئینہ دیکھیے اب ایک گریس فل شخصیت نظر آرہی ہے۔ ورنہ جہاں جہاں کمی ہے، دور کرلیجیے۔

Comments

زارا مظہر

زارا مظہر

زارا مظہر نے اردو میں ماسٹرز کیا ہے، شاعری سے شغف ہے۔ دل میں چھوٹے چھوٹے محسوسات کا اژدھام ہے جو سینے جو بوجھل پن کا شکار رکھتا ہے، بڑے لوگوں کی طرح اظہاریہ ممکن نہیں، مگر اپنی کوشش کرتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */