سفر ہمارا ترکی کا! - شارق صدیقی

ہم رات کے وقت سب آرام سے بیٹھے ہوئے تھے۔ ہمارے بیٹے دانیال نے کہا میرے کام دن کی چھٹیاں ہیں، ہم لوگ کہیں گھومنے چلتے ہیں۔ مختلف ملکوں کی سیر کے بارے میں مشورہ ہوتا رہا۔ ہوتے ہوتے قرعہ ترکی کے نام نکلا۔

ہم چھ افراد تھے۔ میں اور بیگم، بیٹا دانیال، بیٹی فائزہ، اس کا شوہر سلمان اور ہماری بڑی بیٹی کی بیٹی مریم سب لوگوں کے لیے ہوائی جہاز کا ٹکٹ لینے اور پھر ترکی کا ویزہ لینے کا مرحلہ باقی تھا۔

ایسٹر کی چھٹیاں تھیں، اس وقت رات کے آٹھ بجے ہوں گے۔ سب سے پہلے انٹرنیٹ پر ٹکٹ تلاش کیے۔ جانے کے لیے ٹکٹ تو سب کے ایک ساتھ مل گئۓ۔ مگر واپسی کے لیے ہم لوگوں کو دو مختلف جہازوں سے آنے کے ٹکٹ ملے۔ اس کے بعد ویزے کے بارے میں معلومات کیں، معلوم ہوا کہ ویزہ بھی آن لائن انٹر نیٹ پر مل سکتا ہے۔

ہم سب نے ویزا کا فارم بھرا جس کا جواب پانچ منٹ بعد میں ہی آگیا۔ ویزہ فیس بھی آن لائن ہی جمع کرنی تھی۔ وہ بھی جمع ہوگئی۔ ہماری روانگی دوسرے دن تھی۔ ہمارے جہاز کی گیارہ بجے صبح روانگی تھی۔ اس دن سب صبح پانچ بجے ہی اٹھ گئے۔ ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد ہم سب کو ایرپورٹ کے لیے روانہ ہونا تھا۔

ایرپورٹ پہنچنے کے بعد بورڈنگ کارڈ وصول کیے ۔سیکورٹی چیک کے بعد ہمیں آگے جہاز پر بیٹھنے کے لیے جانا تھا۔ جب گھڑی کی طرف دیکھا تو بورڈنگ میں کچھ وقت باقی تھا۔ میں نے دانیال سے کہا کیا تم نے ترکی لیرے (ترکی کرنسی) لے لیےِ؟ اس نے جواب دیا نہیں۔ پھر ہم نے ایرپورٹ ہی سے کرنسی تبدیل کی۔اب جہاز میں بورڈنگ شروع ہوچکی تھی۔ ہم لوگ جلدی جلدی اپنے جہاز کے گیٹ پر پہنچے۔ اپنا بورڈنگ کارڈ دکھاکر جہاز میں سوار ہوگئے۔ جہاز میں سوار ہونے کے بعد اپنے بیٹھنے کی نشست تلاش کی، اپنا سامان نشست کے اوپر والے خانے میں رکھا۔

اللہ اللہ کر کے جہاز روانہ ہو نے کے لیے تیار تھا۔اس وقت ہماری بیگم نے دعائیں پڑھنی شروع کردیں۔ ساڑھے چار گھنٹے کا سفر تھا۔ جہاز کی روانگی کے ایک گھنٹے بعد ہم سب کو کھانا دیا گیا۔ ساڑھے چار گھنٹے بعد جہاز استنبول ایرپورٹ کے اوپر آچکا تھا۔ ترکش ایرلاین کا جہاز تھا۔جب ائرپورٹ آنے والا ہوتا ہے تو جہاز پورا شہر دکھانے کے لیے کافی نیچی پرواز کرتا ہے تاکہ لوگ شہر کو اوپر سے دیکھ سکیں۔

استنبول ایر پورٹ پر جب جہاز اترا تو پاسپورٹ اور ویزہ دکھا نے کے بعد ہم لوگ ایرپورٹ سے با ہر نکلے۔ جب باہر آئے تو بہت سارے لوگوں نے ہم سب کو گھیر نے کی کوشش کی۔ وہ سب ٹیکسی والے تھے اور سب ہی اپنی طرف ہم لوگوں کو مائل کر رہے تھے۔

ہم چھ افرد تھے اور ہمارا ہوٹل شہر میں تھا اور ہم سوچ رہے تھے کہ ایک ہی گاڑی میں ہوٹل جائیں۔ ان گاڑیوں میں صرف چار سواریوں کی گنجائش تھی۔ سلمان نے ایک گاڑی والے سے بات چیت کی کہ ہم چھ افراد ہیں اور سب کو ایک ہی گاڑی میں جانا ہے۔ سلمان ہم سب لوگوں میں اندھوں میں کا نا راجہ کے مترادف ہمارے سفری انچارج بنے ہوئے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی پیدائش سے پہلے ان کے والد کو نوکری کی طرف سے ترکی بھیج دیا گیا تھا۔ ان کی پیدائش کے بعد ان کے والد اور والدہ ترکی سے پاکستان واپس آچکے تھے مگر وہ اپنے بچوں سے ترکی کے بارے میں اور وہاں کے مختلف علاقوں کے بارے میں بتاتے رہتے تھے۔ان کو مختلف علاقوں کے نام ازبر تھےے۔ وہ ایسے بتاتے تھے جیسے وہ پہلے یہاں آچُکے ہوں۔ انھوں نے ایک گاڑی والے سے بات کی کہ ہم سب کو ایک ساتھ ہی جانا ہے۔ وہ راضی ہوگیا۔

ہم سب دب دبا کراس گاڑی میں سوار ہوئے اور پون گھنٹے کی مسافت کے بعد اس گھر میں پہنچے۔ ہم لوگوں نے ایک ہی بلڈنگ میں دو مکان لیے ہوئے تھے۔ ان کی چابیاں وصول کیں اور ہمارا گھر دوسری منزل پر تھا اور سلمان کو تیسری منزل پر رہنا تھا۔

جب ہم رہائش پر پہنچے وہاں انتظامیہ کا ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ اس سے انگریزی میں بات چیت ہوئی۔ وہ دیکھنے میں ترک نہیں لگ رہا تھا، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ مصری ہے۔ کیونکہ وہ ایک گھر تھا۔ اس لیے ہمیں یا تو اپنے کھانے کا بندوبست خود ہی کرنا تھا یا باہر سے کھانا کھانا تھا۔ اپنے رہنے کا انتظام ہم لوگوں نے اوسلو ہی سے اٹنرنیٹ پر بک کیا ہوا تھا اور ان دونوں کا کرایہ پہلے ہی ادا کر دیا تھا۔ اس لیے ہمیں رہنے کے لیے کوئی خرچ کی فکر نہیں تھی۔

میں اور دانیال دونوں باہر نکلے اور کھانے پینے کے سامان کی دکان تلاش کی۔ وہ بہت دور نہیں تھی۔ترک پاکستانی لوگوں کو بہت پسند کرتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس وقت ہوا جب ان لوگوں سے بات چیت ہوئی۔ وہ ہم لوگوں کو "کرد ش" یعنی بھائی کہتے ہیں۔

دکان کے اندر سبزیاں اور پھلوں کی شکلیں کچھ مختلف نظر آئیں، کیونکہ وہ الگ الگ کوئی چھوٹا، کوئی بڑا کوئی لمبا کوئی پتلا اور ہمارے یہاں عام طور پر جو پھل اور سبزیاں ملتی ہیں، وہ ایک ہر ایک ہی سائز کی ہوتی ہیں۔اس دکان سے ہم لوگوں نے کچھ انڈے تیل نمک جوس اور پینے کا پانی کچھ پھل وغیرہ خریدے۔ وہ لے کر ہم گھر آئے۔ کھا پی کر باہر نکلے۔

ترکی ایک ایسا ملک ہے جو ایشیا اور یورپ دونوں براعظم میں موجود ہے۔ ہمارا گھر ایشیا والے علاقے میں تھا۔ نیلی مسجد ہماری رہائش سے پانچ منٹ کے فاصلے پر تھی۔ سب سے پہلے ہم لوگ وہ مسجد دیکھنے گئے۔ وہ مسجد باہر سے دیکھنے میں نیلے رنگ کی تھی۔ہم لوگوں نے اس مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے سوچا ہوا تھا ۔ہم یہ سوچ ہی رہے تھے کہ نماز عصر کا وقت ہوگیا اور اذان ہوگئی۔

مسجد کے دروازے پر کچھ لوگ کھرے کچھ بانٹ رہے تھے۔ وہ تھیلی تھی جس میں جوتے یا چپل رکھنی تھی۔ ہم نے بھی تھیلی لی اور اپنے جوتے اس میں رکھ کر مسجد کے اندر داخل ہوئے۔ مسجد میں داخل ہونے کے بعد دیوار کے ساتھ جوتے رکھنے کے لیے بہت ساری جگہ بنی ہوئی تھی ۔ مگر جوتے رکھنے کے بعد اپنی وہ جگہ یاد رکھنی پڑتی ہے جس جگہ جوتے یا چپل رکھے تھے۔ بھولنے کی صورت میں آپ ڈھونڈتے ہی رہیں گے، کیونکہ وہاں ہزاروں کے حساب سے جوتے رکھے ہوتے ہیں۔ جوتے رکھنے کے بعد عصر کی نماز کا وقت ہوچکا تھا۔ ہم سب نے باجماعت نماز ادا کی۔ خواتین کے لیے بھی نماز کا انتظام تھا۔ بیگم اور بیٹی اور نواسی سب نے باجماعت نماز ادا کی۔ اس کے بعد شہر دیکھنے کے لیے سوچا بازار گھومتے رہے۔

ہم سب کی بھوک چمک اُٹھی تھی۔ سب نے سوچا کھانا کھایا جائے۔ بیٹے نے کہا بیچ شہر میں بہت مہنگا کھانا ہوگا اور اگر ذرا ہٹ کر کسی گلی میں دیکھیں، وہاں قیمت مناسب ہوگی۔ ہم تھوڑا گھوم کر پیچھے گلی میں آئے۔ وہاں قیمت آدھی کے قریب تھی۔ وہاں ہم سب نے بیٹھ کر کھانا کھایا جو بہت مزے دار تھا۔ کھانے کے بعد واپس نیلی مسجد کے باہر پارک تھا اور بیٹھنے کی جگہ تھی، وہاں بڑی چہل پہل تھی۔ وہاں بیٹھے رہے۔ وہیں مغرب اور عشا کی نماز ادا کی۔ جب واپس گھر کی طرف آرہے تھے تو راستے میں ایک ہوٹل پڑتا تھا۔ وہاں سفید کپڑے پہنے ہوئے کچھ لوگ رقص کررہے تھے۔ساتھ ہم لوگ چائے پینے کے لیے رک گئے اور ان کا رقص دیکھتے رہے۔ میں اور بیگم وہاں سے اکیلے ہی واپسی کے لیے نکلے مگر گھر کا راستہ بھول گئے۔ کافی تلاش کیا، مگر راستہ نہ ملا۔ آخر تنگ آکر دوبارہ اس ہوٹل پہنچ گئے ۔

وہاں کچھ دیر بیٹھنے کے بعد رات کے گیارہ بج چکے تھے ۔سفر کی تھکن بھی تھی۔ ہم سب واپس گھر کی طرف ایک ساتھ روانہ ہوئے اور بغیر بھٹکے واپس اپنے گھر پہنچے۔ ایسا سوئے کہ دوسرے دن
صبح اٹھے۔ ناشتے میں انڈے ڈبل روٹی کھانے کے بعد دس بجے ایک بار پھر نکل پڑے۔

آج ہمیں ٹوپکوپی میوزیم اور آیا صوفیا، جو اب دوبارہ مسجد میں تبدیل ہوچکا ہے، دیکھنے جانا تھا۔ اس کے علاوہ ان کا پانی کا سسٹم جو زمین کے اندر بنا ہوا ہے، اسے بھی دیکھا۔ میوزیم کے اندر جانے کے لیے اس کے اخراجات کافی زیادہ تھے۔
جب ہم میوزیم میں داخل ہوئے تو وہاں ایک آدمی قرآن کی تلاوت کررہا تھا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ تلاوت ہمیشہ ہوتی رہتی ہے۔ یہ کسی وقت بھی نہیں رکتی۔ وہاں سلطنت عثمانیہ کے دور کی مختلف چیزیں دیکھیں، جو ان لوگوں کے استعمال میں تھیں۔ اس کے علاوہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کچھ چیزیں، اپ کے کپڑے، آپ کے زیراستعمال تلوار، اسی طرح سلطنت عثمانیہ کے تمام خلفا کے استعمال کی اشیا۔ اس کے علاوہ مصطفے کمال پاشا ے متعلق سامان بھی موجود تھا۔

وہاں سے نکل کر ہم لوگ دوسرے اس میوزیم میں گئے جہاں سے پورے شہر میں پانی بھیجا جاتا ہے۔ پانی کی صفائی کا سسٹم لگا ہوا تھا جو زمین کے اندر بنا ہوا تھا اور بہت بڑا تھا۔
وہاں سے نکلنے کے بعد ہم لوگ کافی تھک چکے تھے اور نماز عصر کا وقت بھی ہوچکا تھا۔ نماز نیلی مسجد میں ادا کی۔ اس کے بعد کچھ وقت نیلی مسجد کے باہر باغ میں گزارا۔ مغرب کی نماز کا انتظار کیا۔ کچھ دیر بعد مغرب کی نماز کا وقت ہوگیا اور مغرب کی نماز ادا کی۔

نماز کے بعد بھوک لگ رہی تھی۔ ایک ہوٹل میں گئے اور رات کا کھانا کھایا۔ کھانے سے فارغ ہوتے ہوتے عشاء کا وقت قریب آرہا تھا۔ واپس نیلی مسجد آئے۔ نماز ادا کی، دن بھر کی تھکن تھی۔ کچھ دیر آرام کیا اور اگلے دن کا پروگرام بنایا۔ اس کے بعد سو گئے۔

دوسرے دن صبح ناشتے سے پہلے دوبارہ قریب جو کھانے کی دکان تھی، وہاں سے ڈبل روٹی اور کچھ مزید کھانے کے لوازمات لائے۔ گھر آکر ناشتہ کیا۔ اس کے بعد ہم سب کو آج گرینڈ بازار جانا تھا۔ گرینڈ ایک بہت بڑا بازار ہے اور اس میں بہت ساری گلیاں ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے اگر ایک دوکان کو دوبارہ تلاش کرنا پڑے تو شاید کئی گھنٹے تلاش کے بعد شاید مل جائے۔

اس بازار میں ہر طرح کی چیزیں بک رہی تھیں۔ وہاں جانے کے لیے آدمی کو پورا دن چاہیے۔ اس بازار میں کئی گھنٹے گھومے وہاں سے دوسری طرف جب نکلے،ایک مسجد نظر آئی جو کافی بڑی تھی۔ عصر کی نماز کا وقت ہوچکا تھا۔ وہ مسجد شاید سلطان محمد فاتح نے بنائی تھی۔

اس میں نماز عصر ادا کی، جب باہر نکلے اپنے جو تے تلاش کیے وہ وہاں موجود نہیں تھے۔ اس وقت ہمیں پاکستان یاد آگیا، وہاں سے بھی ہمیں ایک باربغیر چپل کے آنا پڑا تھا۔

میرے پاس صرف ایک ہی جوڑا جوتا وہاں موجود تھا۔ وہ جوتا مجھے پسند بھی بہت تھا۔ میں تو بہت پریشان تھا۔ بیٹے نے کہا کوئ مسئلہ نہیں، میں دوسرا جوتا خرید کے لے آتا ہوں۔

اس نے سوچا جوتے تو بغیر پاؤں میں پہنے نہیں لیے جاسکتے، اس لیے وہ چپل لے آیا۔ وہ پاؤں کے لحاظ سے کچھ بڑی ہی تھی مگر اس کے سوا اب کوئی چارہ نہ تھا ورنہ مسجد کے دروازے پر ہی بیٹھنا پڑتا۔

اب ہم اے وی نوو کے علاقے میں پہنچ چکے تھے۔ وہاں بہت رش تھا۔ اس وقت وہاں شاید الیکشن ہونے والے تھے۔ وہاں الیکشن میں حصہ لینے والے مختلف پارٹیوں کے افراد جھنڈ کی شکل میں الگ الگ کھڑے تقریر سننے میں مصروف تھے۔ ہماری سمجھ میں تو کچھ نہیں آرہا تھا۔ اس لیے ہم دور سے کھڑے ہوکر دیکھنے لگے۔ اس علاقے میں گھومتے رہے۔

ترک پاکستانیوں سے بہت محبت کرتے ہیں اور بہت اچھے اخلاق سے پیش آتے ہیں۔ہم نے دنیا کے بہت سے ملکوں کا سفر کیا ہے۔ہمیں جو عزت یہاں ملی، وہ کہیں اور نہیں ملی۔ امید ہے کہ یہ عزت ہمیشہ برقرار رہے گی۔

یہاں سے بوٹ کے ذریعے سے ترکی کے دوسرے حصہ جو یوروپین ترکی ہے، وہاں بھی جایا جاسکتا ہے۔ یہاں ایک پل بھی بنا ہوا ہے۔ ایشیا اور یورپ دونوں حصوں کو ملاتا ہے۔ یورپ والے حصہ میں تمام بزرگان دین کی قبریں موجود ہیں۔ وہاں حضرت ابو ایوب انصاری کا مزار بھی ہے۔

شام کافی ہو چکی تھی اب ہمارا خیال تھا کہ راستے میں کہیں کھانا کھانے کے بعد نماز پڑھ کر گھر چلنا چاہیے۔ دوسرے دن کا پروگرام یہ بنایا کہ ہم لوگ یورپ والے ترکی کے حصہ میں جائیں گے اور وہاں بزرگان دین کی قبروں کی زیارت بھی کریں گے۔

دوسرے دن ہم لوگ ناشتے کے بعد گھر سے روانہ ہوئے۔ہمارا گھر سمندر سے زیادہ فاصلے پر نہیں تھا۔ پہلے ہم لوگ سمندر کی طرف پیدل ہی نکل گئے اور سمندر کے ساتھ ساتھ چلنا شروع کر دیا۔ وہاں کافی لوگ سمندر کے کنارے بیٹھے ہوئے نظارہ کررہے تھے۔ سمندر میں پانی بوٹ رواں دواں تھی۔کچھ لوگ بوٹ سے اس طرف آرہے ہیں۔ کچھ دوسری طرف جارہے تھے۔ ہم بھی سمندر کے نظارے سے لطف اندوز ہونے لگے۔پھر ہم لوگوں نے سوچا کہ سمندر کے دوسری طرف پیدل ہی روانہ ہوتے ہیں۔ ہم سب نے جب چلنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ ہم نے راستے کا جو اندازہ لگایا تھا، راستہ اس سے کچھ زیادہ لمبا تھا۔ ہم سب کبھی بیٹھ جاتے اور کبھی پھر چلنا شروع کردیتے۔ پھر ہمیں ایک ٹیکسی نظر آئی وہ روک لی اس سے بات کی کہ ہمیں حضرت ابو ایوب انصاری کے مزار پر جانا ہے، وہ راضی ہوگیا۔

حضرت ابو ایوب انصاری کا مزار ترکی کے اس حصہ میں ہے جو یورپ والا حصہ ہے۔ وہاں بہت سارے صحابیوں کے مزارات ہیں۔

ہم لوگ ٹیکسی میں سوار ہوکر یورپ والے حصہ میں پہنچ گئے۔ وہاں جب ہم ایک سڑک پر سے گزر رہے تھے وہاں کی بازار اور دوکانیں وہ ساری دوکانیں وہاں موجود تھیں جن کو ہم یورپ کے دوسرے ملکوں دیکھ چکے تھے۔ ہم اس بازار سے گزر کر گلی کے آخر میں آئے۔ وہاں بہت سارے مزارات موجود تھے۔ یہاں ہم نے فاتحہ پڑھی۔ کچھ کھانے پینے کی چیزیں
خریدیں۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد واپسی کے لیے ٹیکسی لی جس نے ہمیں اےوی نو نو پر پہچانا تھا۔ جب وہاں پہنچے تو رش کی وجہ سے اس سے کچھ پہلے ہی ایک ٹریفک سگنل پر اتار دیا۔

جلد بازی میں اترنے کی وجہ سے ہماری کچھ چیزیں گاڑی میں ہی رہ گئی تھیں جو ہمیں بعد میں یاد آئیں۔ ہم گاڑی سے اتر چکے تھے اور گاڑی جاچکی تھی۔ ہم سوچ رہے تھے کہ اگر ہم گھر پر اترتے تو شاید گاڑی والا ہمارا سامان شاید گھر پر پہنچا دیتا ۔اس سامان میں ہماری بیگم صاحبہ کا کوٹ بھی تھا جس کو آج بھی کبھی کبھی یاد کرتی ہیں۔

واپسی پر راستے میں ایک جگہ ایک ہوٹل تھا جہاں کچھ عورتیں روٹیاں پکا رہی تھیں جو ہمیں شیشے کے اندر سے نظر آرہا تھا۔ ہم نے سوچا آج یہ کھایا جائے۔ ہم سب اندر گئے، وہاں ہم نے اس روٹی منگوانے کو کہا وہ گرم گرم پک رہی تھیں۔پون گھنٹے انتظار کے بعد وہ روٹی آئی تو معلوم ہوا کہ وہ آلو بھری روٹی تھی۔ کھانے کے بعد واپس گھر کی طرف آرہے تھے۔ نماز مغرب کا وقت ہونے والا تھا۔ نیلی مسجد میں مغرب کی نماز ادا کی اور وہیں مسجد کے قریب پارک میں بیٹھ کر نظارہ کرتے رہے۔ یوں عشاء کا وقت ہوگیا۔عشاء کے بعد گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ گھر پہنچنے کے بعد کچھ دیر کچھ بات چیت کی۔

ہماری دوسرے دن واپسی تھی۔ ہم لوگوں کو ایرپورٹ کے لیے ٹیکسی بک کرنی تھی۔ اب ہم لوگ دو حصوں میں بٹ گئے تھے۔ ہم تین لوگوں کو استنبول ائرپورٹ سے واپس آنا تھا اور باقی تین کو صبیحہ ائرپورٹ سے واپس آنا تھا۔ ہم نے رسپشن پر بات کی۔ اس نے بتایا کہ آپ وقت بتا دیں، ٹیکسی آپ کو مناسب قیمت میں یہاں سے دونوں جگہوں پر پہنچادے گی۔

دوسرے دن صبح اٹھنے کے بعد ناشتہ کیا۔ اپنا سامان پیک کرنا شروع کیا۔ شام کو چار بجے ٹیکسی آگئی۔ ہمارا جہاز سات بجے شام کا تھا۔ دوسرے گروپ کا جہاز رات نو بجے کا تھا۔ ہم لوگ رات ساڑھے دس بجے اوسلو پہنچ گئے جبکہ دوسرے گروپ کو ساڑھے بارہ بجے پہنچنا تھا۔ ہماری گاڑی ایرپورٹ پر ہی کھڑی تھی۔ گاڑی لی اور گیارہ بجے گھر پہنچ گئے۔
دوسرے گروپ کو ساڑھے بارہ بجے آنا تھا، ان کو دوبارہ ائرپورٹ لینے بارہ بجے روانہ ہوئے۔ ان کو ایرپورٹ سے واپس لاتے لاتے رات کا ایک بج چکا تھا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */