وافر رزق حاصل کرنے کا آسان نسخہ - سید سرفراز شاہ

خدا کی نعمتیں حاصل کرنی ہیں تو یہ کام کریں!

اگر آپ رب تعالیٰ سے ہر چیز بڑی وافر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وافر مقدار میں رزق، وافر عزت، وافر آسانیاں، وافر سہولتیں تو میری ایک گزارش پر عمل کرکے دیکھ لیجیے۔ میرا ایمان یہ ہے کہ اس کا نتیجہ سو فیصد نکلے گا۔ کبھی Failure نہیں آتا اس میں۔

رب تعالیٰ سے کچھ لینے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اپنے لیے کبھی کچھ نہ مانگئے۔ اپنے رب تعالیٰ سے ہمیشہ اپنے دشمنوں کے لیے خیر مانگئے۔ اپنے دشمنوں کے لیے وسیع رزق مانگئے۔ ان کے لیے عزت مانگئے۔ اپنے دشمن کے لیے تندرستی مانگئے۔ اللہ کے حضور دشمنوں کے لیے بھلائی کی دُعائیں کریں۔

گڑگڑا کر سچے دل سے یہ کہیے کہ یا پروردگار! فلاں بندہ ہے تو اس پر مہربانی فرمادے۔ اگر اس سے کوئی غلطی، کوتاہی ہوگئی ہے تو اسے معاف فرمادے۔ اس پر مہربانی فرمادے۔ اس کا یہ کام کردے۔

یہ کرکے دیکھیے، پھر نتیجہ دیکھیے۔ اپنے آپ کو بھول جائیے، لیکن اپنے دشمنوں کے لیے سب سے بہترین چیز مانگیے۔ خود بھوکے رہ لیجیے، لیکن اپنے دشمن کو بہترین کھانا کھلادیجیے۔ خود پھٹا کپڑا پہن لیجیے، لیکن اپنے دشمن کو نیا کپڑا پہنادیجیے۔ اپنے بچوں کے اسکول کی فیس بھلے مت دیجیے، لیکن دشمن کے بچوں کی فیس جاکر خاموشی سے جمع کرادیں، پھر دیکھیے اللہ تعالیٰ آپ کو کیسے lookafterکرتا ہے؟ پھر دیکھیے کہ رب تعالیٰ کی رحمتیں کتنی بے پایاں ہیں اور کس طرح نازل ہوتی ہیں آپ سب پر!
****

ہمارے پاس جو کچھ ہے، کیا وہ ہمارا ہے؟

&ہمارا ایک رویہ بڑا عجیب ہے کہ ہم دوسروں کے ساتھ ہمدردی کرتے ہیں، مشکل میں ان کے کام آتے ہیں، لیکن جیب سے پیسے نکال کر دیتے ہوئے ضرورت مند کو لیکچر دینا نہیں بھولتے کہ شرم کرو، تم کام کیوں نہیں کرتے؟

یہ رویہ درست نہیں۔ رب نے مال ورزق دیتے وقت کبھی ہم سے یہ نہیں کہا کہ تم تو میرے سرکش بندے ہو، میری بات ہی نہیں مانتے۔ ہر وہ کام کرتے ہو جس سے میں نے منع کیا ہے۔ یہ کام کرنا چھوڑدو، پھر میں تمہیں رزق دوں گا۔ رب ایسا نہیں کرتا۔
خدا کا مزید فضل کیسے حاصل ہو؟ - سید سرفراز شاہ
رب تو دیتے وقت یہ تک نہیں دیکھتا کہ اس کے دیے ہوئے رزق کو ہم نے کہاں خرچ کیا؟ کسی casino میں جاکر جوا کھیلنے میں اُڑادیا یا شراب پی کر ضائع کردی۔

رب دیتا رہتا ہے۔ ضرورت سے زیادہ دل کھول کر عطا کرتا رہتا ہے۔ یہ اس کی شانِ ربوبیت ہے۔ ہماری سرکشی ناشکرگزاری کو دیکھیے بغیر رب جو کچھ ہمیں دیتا ہے، وہ سب رب کی ملکیت ہے۔ اس کی ذاتی چیز ہے۔ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے سب رب کا دیا ہوا ہے۔ ہمارا اپنا تو کچھ ہے ہی نہیں۔

ایک وزیر سے بادشاہ کسی بات پر سخت ناراض تھا۔ بادشاہ نے وزیر سے کہا کہ اگر تم تین سوالوں کے جواب دے دو تو تمہاری جان کو امان مل جائے گی۔ ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ کیا ہے؟ جس کا جواب ایک درویش نے بتایا کہ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ احساسِ ملکیت ہے کہ فلاں چیز میری ہے، یہ چیز میری ہے، وہ چیز میری ہے۔

ہم تو اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں سے اس کے دوسرے بندوں کی خدمت کرتے ہیں۔ جب ہم رب کے دیے رزق سے اس کے بندوں کی خدمت کررہے ہیں تو پھر انہیں کچھ دیتے وقت کسی بھی قسم کی نصیحت یا ڈانٹ کیسی؟ ہمیں تو بہت عاجزی کے ساتھ دوسروں کی خدمت میں چیز پیش کردینی چاہیے، حتیٰ کہ دیتے وقت ہم دوسری طرف منہ کرلیں تاکہ ہمیں دیتے ہوئے اور ضرورت مند کو لیتے ہوئے شرم نہ آئے۔ اور پھر اس دینے کو یوں بھلادیا جائے گویا کہ کبھی یہ واقعہ ہوا ہی نہیں تھا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */