لاہور کی ٹھنڈی سڑک - فارینہ الماس

انسان کی اپنے گاﺅں، شہر یا قصبے سے انسیت ایک فطری امر ہے۔ آبائی شہر، گلیاں کوچے، مکان ان کو جاتے راستے،ان کی ڈیوڑھیوں سے اندرجھانکتے منظر یہ سب انسان کے اندر رچ بس جاتے ہیں۔گوکہ آس پڑوس کے شہر یا گاﺅں، کسی متفرق ثقافت یا روایت کے حامل تو نہیں ہوتے۔ لیکن اپنے جنم استھان کی تو بات ہی الگ ہے ۔جس کے دریچے، ممٹیاں، منڈیریں دور سے بھی دکھائی پڑجائیں تو اپنے گھر کا سا احساس ہونے لگتا ہے۔ایک ایسا احساس جس کی سکوں ریزی زندگی کی تمام ترخستگی و ماندگی کو پی جاتی ہے۔ اپنے گاﺅں یا شہر کے ڈھابوں کھابوں کی لذت سے ہماری بھوک، بڑھنا اور مٹنا سیکھتی ہے۔ اس کی رونقوں اور سناٹوں کا لمس ہم اپنی روح میں محسوس کرتے ہیں۔ وہ لمس جس کا احساس ہمیں زندہ رکھے ہوئے ہے، ورنہ زندگی کی مشغولیت و استغراق، خود فراموشی کا گھن بن کر ہماری روح کو چاٹنے لگے۔اس احساس کی اہمیت جانچنے کا فارمولا یہ ہے کہ کبھی کسی ایسے انسان سے جسے اپنے آبائی استھان سے بچھڑے ہوئے مدت ہوچکی ہو، محض اس کے گلی کوچے کا ہلکا سا ذکر ہی کر کے دیکھیں بس پھریہ ممکن ہی نہیں کہ آپ اس احساس کو سمجھ نہ سکیں۔

گو کہ شہر لاہور اپنی جدت و روشن خیالی میں بہت آگے بڑھ چکا ہے، لیکن مجھے اپنے شہر کی سماجی و ثقافتی تاریخ سے جنونیت کی حد تک انسیت ہے۔ اس کے بارہ دروازوں کی ثقافت یا معاشرت سے تعلق نہ ہونے کے باوجود اسے دور سے دیکھنے اور محسوس کرنے کے لئے ان علاقوں تک جانے کا شغف اکثر نبھایا کرتی ہوں ۔اکثر رات کی تاریکی میں چھپتے چھپاتے لاہور کے بازار حسن کے چھجوں اور چوباروں کے درشن بھی کیے ہیں لیکن ان چوباروں میں رہ جانے والے بے روح جسموں سے کبھی ملاقات نہ ہو سکی۔

لاہور کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں سے کبھی تاریخ مکمل طور پر اپنا بوریا بستر لپیٹ نہ سکی۔ یا یوں کہہ لیں کہ اس شہر نے قدیم لاہور کی روح کو خود سے کبھی جدا ہونے نہیں دیا۔ اگر آپ لاہور کے کبھی باسی نہ رہے ہوں ۔آپ نے محض اس کی تاریخ پڑھ رکھی ہو۔یا اس کی سو دو سو سال قدیمی ثقافت و اطوار کے کچھ ابواب ہی آپ کی نظر سے گزرے ہوں تو آپ آج کے لاہور کے تاریخی دروازوں کو اک نظر جھانک کر دیکھ لیں۔ دہلی، لوہاری یا بھاٹی کسی بھی آہنی دروازے کی اوٹ سے اندر جھانکتا نظارہ آپ کو یوں محسوس ہوگا جیسے وہ تاریخ اپنے کچھ نہ کچھ نقوش یہیں چھوڑ گئی ہے۔ وہی ٹھیلوں پر عطر،کنگھیاں،سرمے بیچتے لوگ،وہی سنیاسیوں،تقدیر شناسوں اور دیسی علاج کے نسخے بتانے والوں کے جا بجا لگے اشتہار ۔

اندرون موچی دروازے میں بابا عمر کی 1920میں بنائی گئی خلیفہ بیکری اور اس کی خطائیوں کا وہی ذائقہ جس کے انگریز بھی معترف ہیں۔ کسیرا بازار میں تانبے، پیتل، سٹین لیس سٹیل کے چمکتے دمکتے، سجے سجائے تھال، ڈول، دیگچے، پراتیں جن سے بازار کی رونقیں آج بھی جوں کی توں بحال ہیں۔ آج بھی اندرون شہر کی گلیوں میں شکست ذات سے دوچار، مجذوب دکھائی دیتے ہیں۔ ان گلیوں میں آباد لوگوں کے" ڑ"کو "ر" میں اور "ر" کو "ڑ" میں بدلنا آج بھی محال ہے۔

گو کہ یہ دروازے لاہور کے فراموش کردہ گوشے ہیں جن کی تنگ و تاریک گلیوں میں بہت سے عظیم لوگوں نے اپنے بچپن کے سنہری دن بِتائے۔ لیکن پھر بڑے ہونے پر انہی گلیوں میں ان کا دم گھٹنے لگا تو وہ کھلے علاقوں میں جاآباد ہوئے۔

لاہور سے عشق نبھانے کی ایک اور اہم وجہ اس کی سابقہ ٹھنڈی سڑک یا آج کی مال روڈ ہے۔ جس کی بنیاد انگریزوں نے پرانے لاہور کے متوازی، ایک جدید شہر کی صورت رکھی۔ اس کا منصوبہ 1851میں لیفٹیننٹ کرنل نیپئیر نے بنایا۔اس سڑک کو 1876تک لارنس روڈ کا نام دیا جاتارہا۔یہاں مغل اور سامراجی طرز تعمیر کی بلند و بانگ عمارات آج بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔قیام پاکستان سے قبل قائم کردہ الحمرا آرٹ کونسل، گورنمنٹ کالج ،عجائب گھر،نیشنل کالج آف آرٹس کی دلکش عمارتیں نظر آتی ہیں۔آج اس سڑک پر دن بھر گاڑیوں کا ایک سیلاب رواں رہتا ہے، جبکہ پاکستان بننے سے پہلے اس سڑک سے شہر کے رﺅساء کی بیس یا پچیس گاڑیاں تین چار گھنٹوں کے وقفے سے گزرا کرتی تھیں۔ یا پھر ان امرا کے ہی سپوت اس ٹھنڈی سڑک پر اپنی ہرکولیس سائیکلوں کی شوقیہ سواری کرتے ہوئے دکھائی دیا کرتے تھے۔ جنہیں دیکھنے کے لیے عام لوگ سڑک کنارے کھڑے ہوکر اپنی تفریح کا سامان کیا کرتے تھے۔ لارنس گارڈن میں اس دور میں عام انسانوں کو داخلے کی اجازت نہ ہوا کرتی تھی۔ یہ تفریح گاہ انگریزوں کی چہل قدمی کے لیے وقف تھی۔

مال روڈ اس دور میں انگریزوں کا بنایا گیا شہر کا جدید حصہ تھا۔ لیکن انگریزوں کے چلے جانے کے بعد بھی اس کی سیاسی،سماجی،ثقافتی،اہمیت ختم نہ ہوئی۔یہاں اہل قلم،موسیقار،سیاستدان، کہانی کار، مصور سبھی شام کے سمے جمع ہوتے تو ان کا ٹھکانہ مال روڈ پر قائم کیے گئے کئی طرح کے کافی ہاﺅس اور ہوٹل ہوا کرتے، جن میں اہم نام گارڈینیا، لازڈر، پاک ٹی ہاﺅس وغیرہ کے تھے۔ یہاں اہل قلم کے اجتماع کا مرکز 1894 میں قائم ہونے والا کتابوں کا بڑا مرکز فیروز سنز اور 1885 میں قائم ہونے والی پنجاب پبلک لائبریری بھی تھے۔شاہ دین بلڈنگ اور واپڈا ہاﺅس کی جگہ انگریزوں کے زمانے میں رقص و سرود کی محافل جمانے کو بڑے بڑے ہوٹل ہوا کرتے تھے، اور ریگل و پلازہ سینما کی جگہ ٹھیٹر موجود تھے۔کبھی اس سڑک کے اطراف انگریزوں کے لگائے گئے بڑے بڑے درخت بھی سایہ افگن تھے جو بعد ازاں نہ رہے۔اسی سڑک پر واقع ناصر باغ ماضی میں سیاسی جلسوں اور تاریخی مشاعروں کی آماجگاہ ہوا کرتا۔اس سڑک سے ناصر کاظمی کا عشق ایسا تھا کہ وہ اکثر اپنی راتیں اسی پر گزارا کرتے۔ مال روڈ کے انارکلی ہی کے قرب کی کسی گلی میں عظیم شاعر احسان دانش کی کتابوں کی دکان ہوا کرتی تھی ۔جب امرتا لاہور میں رہا کرتیں تو اکثر رو مال روڈ پر چہل قدمی کیا کرتیں۔ اپنی بگھی میں سوار ہوکر لارنس گارڈن کی سیر کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ یہ جگہ، یہ شہر ان کے اندر اس قدر رچ بس چکا تھا کہ اسے چھوڑتے ہوئے وہ انتہائی دل گرفتہ ہوئیں۔اگر آپ نے غلام عباس کا افسانہ اوورکوٹ پڑھا ہے لیکن اسے مال روڈ کے فٹ پاتھ پر دھرے بینچ پر بیٹھ کر محسوس نہیں کیا تو پھر کیا پڑھا۔

بھارت کے علمی و ادبی شخصیات کے لیے بھی قیام پاکستان کے بعد یہ جگہ ایک طلسمی حیثیت رکھا کرتی۔اور قیام پاکستان سے قبل بھی لوگ اپنی شوقینی میں امرتسر سے سائیکل کی طویل مسافت کے بعد یہاں سینما ہالوں میں فلمیں دیکھنے آیا کرتے۔انہیں یہاں آکر اس روڈ پر اپنا وقت بیتانے کا جنون ہوا کرتا تھا۔ کمال حیرت کی بات یہ ہے کہ لاہور کی بے تحاشا ترقی وجدت آمیزی کے باوجود محسوس کرنے والوں کے لیے آج بھی یہ جگہ طلسم آمیز ہے۔ صدیوں پرانی بلند و بالا عمارتیں آج بھی دودھیا رنگ کے غازے میں لتھڑی پرانے وقت کو پکارتی دکھائی دیتی ہیں۔ اس کے بام و در پر ہنگام زمانہ اور تخریب زمانہ کے کئی انمٹ نقوش بھی ہیں جنہیں محسوس کرنا مشکل نہیں۔ اسی، نوے سال کے وہ لوگ جن کا ماضی میں مال روڈ سے عشق رہا ،وہ آج کے مال روڈ کا موازنہ پرانے مال روڈ سے بڑے دکھی دل سے کرتے ہیں۔ان کے اس دکھ کی وجہ اس سڑک کے حسن کا گہنا جانا ہے۔ان کے بقول نا تو یہاں کے روایتی کھانوں کا وہ پہلے جیسا ذائقہ رہا اور نہ ہی چائے،کافی کی وہ لذت جو کئی سال پہلے ہوا کرتی تھی۔اس کی تاریخی و ثقافتی اہمیت بھی پہلے جیسی نہیں ۔ شہر کے رئیس بھی اب یہاں کا رخ کم ہی کیا کرتے ہیِں ۔یہاں سے اشیاء کی خریداری کا رحجان بہت گھٹ چکا ہے ۔ فیروز سنز میں 2012میں ہونے والی آتش زدگی نے لاکھوں کتابوں کو خاکستر کر دیا اور پھر 2017 میں اس علمی و ادبی کتابوں کے مرکز کو ہی بند کردیا گیا۔ کتابوں کی فروخت تو جاری ہے لیکن فیروز سنز کے بڑے بڑے ہالوں میں لٹکے قدیمی پنکھے، الگ الگ جگہوں پر شیلفوں میں سجی ضخیم کتابوں کا نظارہ اور وہ علمی ماحول جو اس کے بام و در سے چھلکتا تھا ،کتاب پڑھنے والے اس سے محروم ہو گئے۔

وہ مال روڈ جو کبھی رات کے دو تین بجے تک رونق کا مرکز رہا کرتا تھا، اب وہاں رات گئے افیونی و چرسیوں کے ڈیرے نظر آتے ہیں۔ماضی کے کواڑ کھولتی کسی لکھی گئی کتاب کا مطالعہ کر لیں تو یہ پتا چلتا ہے کہ پرانے لاہور کے ہر گلی محلے مٰیں نشہ کرنے والے موجود تھے ۔جو شام ڈھلے اپنے نشے میں دھت ہو کر چھوٹے بچوں کی تفریح کا سامان بنا کرتے۔ان گلیوں ،محلوں سے گزرتے ہوئے کسی کو بھنگ اور افیون کے نشے میں اوندھے منہ گرا پڑا کوئی انسان نہ ملے یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔یعنی اس دور میں بھی لاہور کی زندگی نشے میں ڈوبی ہوئی نظر آتی ہے۔بقول یونس ادیب ہر گلی میں اودھم مچاتا، بھڑکیں لگاتا، اور لڑکھڑا کر گر جاتا لالو، جبرو اور لاوا ضرور ہوا کرتا تھا۔ لیکن کیسا دکھ ہے اس حقیقت میں کہ آج پھر لاہوریے اپنی ذات اور عزت نفس کو دھتکار کر ایسی ہی بیگانگیءذات اور تذلیل ذات والی زندگی کو اپنی روح پر اوڑھنے لگے ہیں۔اب تو دن کے اجالے میں بھی نشے کے عادی جا بجا دکھائی پڑتے ہیں۔ تقریباً ہر روز پولیس والے چالیس پچاس نشئیوں کی لاشیں اٹھاتے ہیں۔

لیکن مال روڈ کے دائیں بائیں طرف نشے میں دھت پڑے یا اپنی نسوں میں نشہ بھری سرنج اتارتے کٹے پھٹے لوگ بولتے ہیں تو یوں سنائی دیتا ہے جیسے ساغر صدیقی کی کوئی صدا گونج رہی ہو۔

میں تلخیءحالات سے گھبرا کے پی گیا
غم کی سیاہ رات سے گھبرا کے پی گیا
دنیائے حادثات ہے اک دردناک گیت
دنیائے حادثات سے گھبرا کے پی گیا

Comments

فارینہ الماس

فارینہ الماس

فارینہ الماس کو لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن سے ہی روح میں گھلا ہوا ہے۔ ساتویں جماعت میں خواتین پر ہونے والے ظلم کے خلاف افسانہ لکھا جو نوائے وقت میں شائع ہوا۔ پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم۔اے کیا، دوران تعلیم افسانوں کا مجموعہ اور ایک ناول کتابی شکل میں منظر عام پر آئے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */