سیاسی کشتیاں - عرفان کشمیری

طارق بن زیاد کی طرح ہم نے بھی آپریشن جبرالٹر کے نام پر کشتیاں جِلا دیں مگر دشمن کے جوابی حملے کا سب سے اہم نقطہ بھول گئے یا جان بوجھ کر نظر انداز کرگئے کیونکہ جب کسی جنگ کو قوم کی بجائے چند افراد کے سیاسی فائدے کے لیے لڑا جائے تو وہی حشر ہوتا ہے جو ستمبر 1965 میں ہمارا ہوا ۔

جدید دنیا میں کسی منصوبے کو بنانے کے لیے اس کے ہر پہلو کا جائزہ لے کر مکمل تیاری کی جاتی ہے مگر آپریشن جبرالٹر کی منصوبہ بندی کی گئی تو اس کے سب سے اہم دو فریقوں کشمیری لوگوں جن کے لیے جنگ شروع کی جا رہی تھی اور بھارت جس کے زیرِ قبضہ علاقے پر گوریلا لڑائی کا منصوبہ بنایا گیا، اس کے جوابی حملے کو نظر انداز کر دیا گیا۔

جنرل موسٰی نے کہا کہ کشمیر میں گوریلا لڑائی صرف اس صورت کامیاب ہوگی جب کشمیری مسلمان ساتھ دیں گے اور جب بھارت نے دیکھا کہ وہ ہار رہا ہے تو وہ پاکستان پر حملہ ضرور کرے گا ۔

بھارت کا حملہ روکنے کے لیے دو ڈویژن فوج بھرتی کرنا پڑے گی، انھوں ۡنے وزارت خزانہ کو خط لکھا مگر انکار کردیا گیا مگر جنگ ختم ہوتے ہی دو ڈویژن فوج بھرتی کرلی گئی۔

جولائی کے آخری ہفتے میں آپریشن جبرالٹر کے رضاکار درہ حاجی پیر سے بھارتی کشمیر میں داخل ہوگئے جن کو پانچ دستوں طارق، قاسم، خالد، صلاح الدین اور غزنوی میں تقسیم کیا گیا۔ ان کے سالاروں کا یہ حال تھا کہ ان کو کشمیری زبان تک بولنا نہیں آتی تھی، نا وہ علاقوں سے واقف تھے اور نا ہی رضاکاروں کی مکمل تربیت کی گئی۔ اس لیے سوائے غزنوی کے باقی کوئی دستہ خاطر خواہ کامیابی حاصل نا کر سکا۔

منصوبہ یہ تھا کہ بھارتی مواصلاتی نظام کو تباہ کر دیا جائے اور مرکزی مقامات پر حملہ کر کے بھارتی فوج کو باندھ کر رکھ دیا جائے۔

اس کے بعد آپریشن گرینڈ سلام شروع کرکے اکھنور کے مقام سے سپلائی لائن کاٹ کر بھارتی فوج کی کمر توڑدی جائے۔ مگر بھارتی فوج نے درہ حاجی پیر، ٹٹھوال اور بلند دروں پر قبضہ کرکے مظفرآباد کے لیے خطرہ پیدا کر دیا۔ جس دباؤ کو کم کرنے کے لیے آپریشن گرینڈ سلام شروع کرنا پڑا جس کی اجازت ایوب خان کے سوات میں چھٹیاں گزارنے کی وجہ سے دیر سے ملی دوسرا جب سب سے اہم حملہ گرینڈ سلام شروع ہوا عین اس وقت اہک بھیانک غلطی کی گئی۔ جنرل اختر حسین کو تبدیل کرکے آپریشن کی کمان جنرل یحیٰی خان کے سپرد کر دی گئی۔ کمان کی اس تبدیلی کے دوران تین قیمتی دن برباد ہوگئے۔ اس موقع پر بھارتی جنرل جوگندر نے کہا خدا ہماری مدد کو آیا اور اکھنور بچ گیا۔

یکم ستمبر کو پاکستان جموں میں داخل ہوا جس کے جواب میں بھارت نے بین الاقوامی سرحد پار کرتے ہوئے لاہور اور سیالکوٹ پر حملہ کردیا، جس کے لیے پاکستان بالکل تیار نا تھا۔ پاکستان نے چھٹی پر گئے فوجیوں کو بھی واپس نہیں بلایا تھا۔

اس جنگ میں پاکستان کی 38 سو شہادتوں کے خلاف بھارت کے تین ہزار فوجی مارے گئے۔ آزاد ذرائع کے مطابق بھارت کے 201 مربع میل کے مقابلے میں پاکستان کا 702 مربع میل علاقہ بھارت کے قبضے میں چلا گیا۔ اس جنگ میں ایوب خان اور اس کے حواریوں نے پاک فضائیہ اور بحریہ کو بھی اعتماد میں نہیں لیا۔

پاکستان صرف اپنے فوجیوں کی لازوال قربانیوں اور پاک فضائیہ اور بحریہ کی جارحانہ کارروائیوں کی وجہ سے ایک صاف شکست سے بچ گیا۔ ورنہ ایوب خان اور بھٹو کے اپنے اپنے سیاسی مقاصد پاکستان کو لے ڈوبتے۔ایک اپنی سیاسی ساکھ بچانا چاہتا تھا اور دوسرا ایوب خان کو کم زور کرکے اپنی سیاسی حیثیت میں اضافہ چاہتا تھا۔ایسے سیاسی مقاصد کے لیے لڑی گئی جنگیں جیتی نہیں جاتیں، ان میں بچ جانا بھی کسی مجزے سے کم نہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */