"آلہ شیطان" سے "آلہ رحمان" تک کا سفر - امیرجان حقانی

میں نے 2007 میں موبائل خریدا تھا، تب جامعہ فاروقیہ کراچی میں موبائل پر شدید پابندی تھی. اساتذہ کرام اچانک کلاسوں میں چھاپے مارلیتے اور موبائل ضبط کرلیتے. میرے اساتذہ کرام سے اچھے تعلقات تھے اس لیے سب کو معلوم تھا کہ میرے پاس موبائل ہے. اساتذہ کرام فون بھی کرتے اور میں ان کے پاس پہنچ جاتا.

درجہ سادسہ معہد کی بات ہے. اچانک اساتذہ کا گروپ ناظم تعلیمات صاحب کی معیت میں ہماری کلاس میں آ دھمکا. ہمارے دوست اور استاد مفتی عبدالواحد صاحب چلاسی بھی گروپ میں تھے. وہ جامعہ کے نائب ناظم بھی تھے. ان کو پتہ تھا کہ میرے پاس موبائل ہے. انہوں نے میری خوب تلاشی لی، پھر جاکر میری ڈیکس کو خوب ٹٹولا مگر کچھ ندارد. استاد افشانی صاحب نے ان سے پوچھاکہ:
کیا مسئلہ ہے؟

مفتی عبدالواحد صاب نے کہا استاد جی! ان کے پاس موبائل ہے. استاد جی میرے طرف دیکھنے لگے تو عرض کیا.

استاد جی مجھے پتہ تھا چھاپہ لگنے والا ہے اس لیے جامعہ سے باہر چھوڑ کر آیا ہوں.حالانکہ موبائل ایک مخصوص جگہ میں چھپا رکھا تھا یعنی نوگوایریا میں کہیں. اساتذہ وہی سے چلے گئے.

دورہ حدیث کے سال(2010) پھر اچانک اساتذہ نے کلاس کو گھیر لیا. مجھے بیس منٹ پہلے کسی استاد نے مسیج کیا تھا. اپنی خیر مناؤ، اب چھاپہ لگنے والا ہے. فوری طور پر موبائل کی سم نکالی. بیٹری الگ کردی اور بخاری میں دبا دی.اور موبائل رومال میں باندھا، ہاتھ میں پکڑا اور لائن میں لگ کر باہر نکل آیا. اساتذہ دروازے پر کھڑے تھے.طلبہ کی تلاشی لے رہے تھے. مفتی عبدالواحد صاحب نے خوب تلاشی لی بلکہ زبردست تلاشی یعنی ہرجگہ دیکھ کر اطمینان کرلیا، مگر موبائل کہیں ہاتھ نہ آیا . نہ ملنے پر پوچھ گچھ شروع کیا. استاد محمد عظیم صاحب نے پوچھا کیا مسئلہ ہے.؟

مفتی صاحب کہنے لگے کہ ان کے پاس موبائل ہر وقت ہوتا ہے. اب نہیں مل رہا.استاد عبدالعظیم نے خفگی کا اظہار کیا اور یوں میری جان بخشی ہوئی. میں اپنا موبائل ہاتھ میں لیے کینٹین میں چائے پینے چلا گیا. چونکہ مفتی عبدالواحد صاحب کو کئی بار فون کرچکا تھا. اور جن اساتذہ سے طالبعلمی کے دوران فون پر اکثر بات ہوتی ان میں استاد محترم ابن الحسن عباسی، استاد ولی خان المظفر، استاد عبداللطیف المعتصم، استاد حبیب زکریا،استاد عزیز الرحمان العظیمی، استاد منظور یوسف ، استاد نورالمتین ، اور مفتی سمیع الرحمان، مولانا خادم الرحمان وغیرہ تھے. استاد محترم نورالبشر صاحب کو تو کلاس میں موبائل نکال کر کسی کا نمبر بھی دیا تھا. ایک دفعہ درجہ سادسہ معہد میں ان کے کلاس فیلوو، اپنے چچا مولانا موسی ولی خان کا نمبر بھی دیا تھا. استاد جی ہنس کر کہنے لگے: کلاس میں موبائل لانا منع ہے.

پھر جب خود استاد بنا تو موبائل چھیننے سے گریز کیا. مجھے اپنا وقت اچھی طرح یاد تھا. ہاں استعمال میں احتیاط کی تلقین ضرور کرتا . سات سال جامعہ نصرۃ السلام گلگت میں رہا. کھبی موبائل نہیں چھینا کسی طالب علم سے. اور ڈگری کالج میں بھی نہیں چھینا.

وقت نے بری طرح پلٹا کھایا اور آج حالت یہاں پہنچی کہ
تعلیم کا سارا نظام موبائل میں فٹ ہونے جارہے ہے..
کالج یونیورسٹی کے ایڈمیشن فارم میں باقاعدہ پوچھا جارہا کہ موبائل فون ہے؟ واٹس ایپ استعمال کرتےہیں؟

ہمارے پرنسپل پروفیسر محمد عالم صاحب کالج میں طلبہ پر سخت پابندی لگاتے کہ وہ موبائل ساتھ نہ لائے.. خود کلاسوں میں چکر لگاتے،نگرانی کرتے، جو طلبہ موبائل کیساتھ کھیل رہے ہوتے ان کو اٹھا کر دفتر لے آتے اور تنبیہ کرتے. ہمیں بھی تلقین کرتے کہ موبائل پر بچے لگے رہتے ہیں نظر کریں.میں طلبہ سے یہی کہتا کہ کسی بھی وقت پرنسپل صاحب آ سکتے ہیں. اپنے موبائل کا خود خیال رکھو.

مگر اب کالج خود ترغیب دے رہا ہے کہ بچوں کے پاس موبائل ہو تاکہ ویڈیو لیکچر سن سکیں. پچھلے سال محکمہ ایجوکیشن گلگت بلتستان نے اساتذہ کو حکم دیا کہ طلبہ کے واٹس ایپ گروپ بناکر باقاعدہ رہنمائی اور تدریس کا سلسلہ جاری رکھو. میرے طلبہ کے دو گروپس ہیں.اور اسی طرح پاکستان کی یونیورسٹیاں باقاعدہ ان لائن سلسلے شروع کر چکی ہیں. وہ تمام سلسلے موبائل کے بغیر ممکن نہیں.

دینی مدارس و جامعات بھی آہستہ آہستہ اس طرف آرہے ہیں. اور تعلیمی سسٹم کو ان لائن کرنا چاہ رہے ہیں. آج دینی مسائل و تعلیمات کے ہزاروں واٹس ایپ گروپ ہیں جہاں بروقت مسائل، کتب اور علماء و اساتذہ کے دروس شیئر کیے جاتے ہیں اور بہترین کتب و مضامین بھی.وفاق المدارس کے تمام اعلانات، فیصلے اور بیانات فورا موبائل میں شیئر ہوکر کروڈوں لوگوں تک پہنچ جاتے.

بہر صورت کل تک جو چیز شجرممنوع سمجھی جاتی تھی، شیطان کا آلہ سمجھا جاتا، آج شدت کیساتھ اس کی ضرورت محسوس کی گئی ہے.

شاید کل یہ موبائل عیش پرستی میں آتا آج شدید ترین ضرورت بن گیا ہے. اب کوئی طالب علم، کوئی استاد، کوئی پروفیسر، کوئی ریسرچر، کوئی صحافی، کوئی لکھاری، غرض تعلیم و تعلم، تحقیق و تدریس، پڑھت لکھت اور دفتری کام کرنے والا کوئی ملازم کوئی تاجر، انڈورائڈ موبائل سے خالی نظر نہیں آتا، اور اس کے سارے کام موبائل پر ہوتے ہیں. آج لاکھوں پروفیشنل گروپ بنے ہوئے ہیں جہاں ہر وقت کام چلتا رہتا ہے. امور نمٹائے جاتے ہیں. بینک سے لے کر ایزی پیسہ کی دکان تک، فیکٹری اور کمپنی سے لے کر جنرل اسٹور تک، ہر کام موبائل پر ہوتا ہے. آج تو گھر کا سودا سلف اور ٹیکسی بھی موبائل کے ذریعے منگوائی جاتی ہے..

ہر قسم کی لاکھوں ایپس تیار کی گئی ہیں جو ضرورت کے وقت انسٹال کی جاسکتی ہے..زندگی کی ساری سہولتیں موبائل میں شفٹ ہوچکی ہیں.

بہر صورت آلہ شیطان اب آلہ رحمان بنتا جارہا ہے جو لوگوں کی سینکڑوں مشکلات کو آسان کرتا جارہا ہے.

Comments

امیر جان حقانی

امیر جان حقانی

امیرجان حقانیؔ نے درس نظامی کے علاوہ کراچی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور جامعہ اردو سے ماس کمیونیکشن میں ماسٹر کیا ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی فکر، تاریخ و ثقافت کے ایم فل اسکالر ہیں۔ پولیٹیکل سائنس کے لیکچرار ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے لیےپانچ سال سے مقالے اور تحریریں لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • کیا موبائل آلہ شیطان سے آلہ رحمان بن چکا ؟

    چند روز قبل امیر جان حقانی صاحب کی تحریر بنام ’’موبائل آلہ شیطان سے الہ رحمان تک کا سفر‘‘ نظر سے گزری(تحریر کا لنک آخر میں موجود ہے)۔مضمون نگار نے درس نظامی کے علاوہ کراچی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور جامعہ اردو سے ماس کمیونیکشن میں ماسٹر کر رکھا ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی فکر، تاریخ و ثقافت کے ایم فل اسکالر اور پولیٹیکل سائنس کے لیکچرار ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے لیےپانچ سال سے مقالے اور تحریریں بھی لکھ رہےہیں۔ امیر جان صاحب موبائل کی تعریف و ستائش میں اس قدر مبالغہ آرائی کرگئے ہیں کہ اسے آلہ ضروریہ یا مروجہ کہنے کے بجائے ’آلہ رحمانی‘ قرار دے رہے ہیں۔جو ایک قابلِ اعتراض و قابلِ گرفت بات ہے۔ تحریر ھذا میں موبائل ، مدرسہ اور مسلم سماج میں اسکے مقام و مرتبہ کے حوالہ سے چند نکات کو زیرِ بحث لانا مقصود ہے۔ وما توفیقی الا بااللہ

    امیر جان صاحب نے زیرِ بحث تحریر بلکہ آپ بیتی میں مسیحی اعترافات confessions کی طرز پر مدرسہ اور علماء کی کمزوریوں کو بیان کرکے گویا اپنے میلے کپڑے بیچ چوراہے میں دھوئے ہیں۔یاد رہے! عیسائی تصورِ اعترافات کے مطابق کوئی بھی شخص مسیحی پیشوا (priestقسیس) کے سامنے ایک کیبنٹ Confessional میں اپنے گناہوں کا اعتراف کرلے تو مسیحی عالم بذریعہ خدائی اتھارٹی اسکے گناہ معاف کردیتا ہے۔ کیا امیر جان صاحب نہیں جانتے کہ عیسائیت کے برعکس پوشیدہ خرابی کے مقابلے میں علی الاعلان کی جانے والی برائی اور غلطی کرکے اسکا ڈھنڈورا پیٹنے کو اسلام ناپسند کرتا ہے اور دوہرا جرم و گناہ قرار دیتا ہے۔ انھوں نے مذہب بیزار طبقہ کو مدرسہ (جامعہ فاروقیہ اور اسکے اساتذہ ) پر مزید تنقید کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ موصوف درس نظامی کے فارغ التحصیل ہونے کے ساتھ ساتھ باریش ہیں اور ٹوپی بھی زیبِ سر کرتے ہیں مگر خود کو مولوی یا مولانا نہیں کہلواتے۔ لیکن قوی امید ہے کہ ڈاکٹریٹ کرلینے کے بعد نام کے ساتھ ڈاکٹر ضرور ہوگا۔ واللہ اعلم

    امیر جان حقانی صاحب نے روایتی اور جدید تعلیمی نظام میں موبائل کے جس تغیر و ارتقأ کا ذکر کیا ہے وہ تو قابلِ فہم ہے تاہم اسے آلہ شیطانی سے آلہ رحمانی قرار دینا اسکی صریحاً غلط اور ناقابلِ قبول ترجمانی ہے ۔ ٹی وی جس نے عام مسلم گھرانوں میں سینما کی جگہ لے لی ہے،اسے آلہ لہو و لعب و آلہ شیطانی کہا گیا۔ اسکے قبول کر لئے جانے،اسپر مذہبی پروگراموں کے عام ہوجانے بلکہ بے شمار مذہبی و تبلیغی چینلز ( تلاوتِ قرآن الکریم و حرمین کی لائیو نشریات، ختمِ نبوت ٹی وی، کیو ٹی وی ، پیس ٹی وی وغیرہ) کے شروع ہوجانے کے باوجود کسی نے اسے آلہ رحمانی قرار دینے کی جسارت محسوس نہ کی۔
    موبائل محض رابطہ کامیڈیم یا ذریعہ ابلاغیات و مواصلات وترسیلات means of communication ہی نہیں بلکہ بے مقصد و طویل بات چیت اور گپ شپ میں تضیع اوقات کو فروغ دینے والا آلہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ایک ٹی وی اورmini cinema ہے، جس پر کوئی سنسر شپ بھی نہیں۔ گویا سینما جیسا معیوب مقام نوجوانوں، مردو عورتوں یہاں تک کہ بچوں کے بلکہ ہر ایک ہاتھ میں سمٹ آیا ہے۔ کیا ٹیلی ویژن اور اسمارٹ فون میں بہت کچھ مماثلتیں نہیں بلکہ اسمیں ٹی وی سے بڑھ کر قباحتیں نہیں؟ کیا ٹی وی کے حرام و مکروہ ہونے کے حوالے سے جید علمائے کرام کے فتاویٰ و کتب وغیرہ موجود نہیں؟کتنے لوگ ہیں جو موبائل کے اس جام جم (انٹرنیٹ )کی لاحاصل ویب سرفنگ و سرچنگ اور تفریح و تفنن یعنی ناچ، گانے، فحش فلمیں وتصاویر اور ناجائز کھیل تماشوں کو ترک کرکے اسپر کتب بینی کرتے ہوں گےیا اسے دیگر تعلیمی و تعمیری مقاصد میں استعمال کرتےہوں گے؟ حقیقت یہی ہے کہ تیسری دنیا کے غیر تعلیم یافتہ و ناخواندہ ممالک میں اس ٹچ ڈیوائس کی اصل ،دعویٰ کے برعکس حصول علم و تحقیق نہیں بلکہ انٹرٹینمنٹ اور انجوائےمنٹ ہے۔ مدرسہ جاتی نظام میں اگر موبائل کے استعمال پر سختی روا رکھی جاتی ہے اور رکھنے پر پابندی عائد کی جاتی رہی ہے تو اسکی وجہ یہی ہے کہ اس ماڈرن ڈیوائس کے استعمال میں ضرر رسانی کا پہلو اسکی افادیت و فوائد پر کہیں حاوی ہے۔ کووڈ-19 کی وبائی صورتحال سےمدارس کی تعطل و بندش کے باعث گو موبائل کی ضرورت وطلب میں اضافہ ہوا تاہم ادارۂ مدرسہ کی بقا و موثریت کو برقرار رکھنے کے لئے موبائل کا یہ استعمال وقتی و عبوری ہی ہونا چاہیئے ناکہ مستقل و دوامی۔

    موبائل کے اگر انفرادی و معاشرتی پہلو پر نظر ڈالی جائے تو کچھ ذمینی حقائق یوں نظر آتے ہیں۔ موبائل فون کے استعمال سےسماجی رابطے بہت کمزور ہوگئے ہیں۔ فرد اپنے ہی ہم جنسوں سے لاتعلق و جدا ہورہا ہے۔یہ استعمال کنندہ (یوزر )کو ماحول و مقام سے لاتعلق و بے پرواہ کررہا ہے۔ اسے تنہائی و اکیلے پن کا شکار کرکے ذہنی مریض بنا سکتا ہے جیسا کہ اسکی حالیہ مثال پب جی گیم اور ٹِک ٹاک ایپس وغیرہ کی دی جاسکتی ہے۔ان ماڈرن ڈیواسز کے استعمال سے لوگوں کی ترجیحات اور کرنے کے کاموں کی ترتیب بدل رہی ہے۔ لوگوں کی زندگیوں میں تخریبی و مخربِ اخلاق سرگرمیوں میں کئی گنا اضافہ اور تعمیری پہلو مفقود ہوا جارہا ہے۔ ہر شخص فوری خبروں ،پیغامات اور اَپ ڈیٹس اور کیا نیا ہورہا ہے کے لامحدود چکر میں ضروری کام، تعمیری صلاحیتوں اور دوررس اقدامات تعطل و ترک کرنے کی روش پر گامزن نظر آرہا ہے۔ نہ صرف وقت سے پہلے بچپن ختم ہو رہا ہے بلکہ جوانی کی نادانیاں و گمراہیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ شرم و حیأ کا جنازہ نکل چکا ہے۔بے غرض و پرخلوص پیار محبت کے بجائے جنس پرستی عروج پر ہے۔ رشتوں کا تقدس ، بڑے بزرگوں کا ادب احترام اور رشتے ناتے و تعلق داریاں تلخیوں و ناچاکیوں کی نظر ہورہے ہیں۔مواد کی بلاتحقیق شئیرنگ کے باعث غلط فہمیوں اور دیگر سماجی مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ فوری و بے تکے تبصرے اور کمنٹس کی تو کوئی حد ہی نہیں، ہر شخص سیاسی و مذہبی رہنماؤں کے خلاف دل کی بھڑاس نکالنے میں مصروف ہے۔ خود رائی و خود پسندی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ ہرشخص ارسطو سقراط بنا بیٹھا ہے۔ الوہی مقاصد میں کہ جہاں جمعیت واجتماعیت کی اہمیت مسلمہ ہے ۔دین اسلام اجتماعیت و معاشرتی میل جول اور ذمہ داریوں کو نبھانے اور انمیں شریک و شامل ہونے کا مطالبہ کرتا ہے۔وہاں موبائل ،فرد کو خود مرکز و خود محور بنا کر امت و ملت کےتصور سے بے گانہ کر رہا ہے۔

    *یاد رہے!* رسمی نظامِ تعلیم یا ریگولر تعلیم Regular Educationکے مقابلے میں غیر رسمی یا فاصلاتی تعلیم Distance Education or Learning(DE) کی کئی شکلیں رائج ہیں۔ جنمیں مراسلتی تعلیم یا بذریعہ خط و کتابت دی جانے والی ایجوکیشن، اوپن یونیورسٹیز، ای ۔لرننگ ، ورچوئل یورنیورسٹیزوغیرہ وغیرہ۔لیکن ماڈرن ایجوکیشن و انسٹی ٹیوشنز کے برعکس ،روایتی اداروں یعنی مدرسہ وغیرہ میں فاصلاتی تعلیم کے طریقے اختیار کر لینےسے اسکی افادیت و موثریت کتنی رہ جاتی ہے اسپر غور و خوض کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ سوال بہت اہم ہے کیونکہ مدارسِ دینیہ میں معلم و مدرس منصب نبوت کا وارث و علمبردار ہوتا ہے اور اسکے لئے لازم ہونا چاہئے کہ وہ طریقہ انبیاء ہی کو اپنائے تاکہ اسکی فعالیت و موثریت برقرار رہے اور باعث رحمت و برکت بھی ہو۔اس نظامِ تعلیم میں استاد کا فیضان و صحبت ضروری ہے۔ تزکیہ و تہذیبِ نفس کی ایک لازمی شرط میں صحبتِ مربی و مرشد بھی ہے۔مدرس و طالب علم کاباہمی رشتہ اور انہماک و توجہ علومِ دینیہ کی منتقلی کا سب سے جاندار اور موثر ذریعہ ہے۔

    موصوف تحریر نگار کا موبائل کے کریز یا شوق کا یہ عالم ہے کہ وہ مدرسہ میں موبائل نہ رکھنے کی پابندیوں کو بھی خاطر میں نہ لائے۔ مدرسہ کے قواعد و ضوابط کی مسلسل خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ غلط بیانی بھی کرتے رہے۔ اخلاقی جرات کے فقدان کے ساتھ ساتھ غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل بھی اختیار کئےرکھا۔ نیز اپنی اس قابلِ ملامت و گرفت اور قابلِ سرزنش روش کا تذکرہ بھی بذریعہ تحریرکرنا ضروری سمجھا ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جدید تعلیم و تربیت اور ماڈرن ماحول کے اثرات نے مدرسہ کے روایتی مذہبی و مقدس ،پاکیزہ اور روحانی و اخلاقی ماحول پر غلبہ وتسلط پانا شروع کر دیا ہے۔ طلبأ کے ساتھ ساتھ اساتذہ و منتظمینِ مدرسہ بھی جدیدیت کے بڑھتے نفوذ کو مدرسہ میں روکنے میں ناکام ہورہے ہیں۔یہاں تک کہ ماڈرنزم کے ان اخلاق باختہ آلات کےغیر اصولی و غیر قانونی استعمال کے آگے بند باندھنے کے بجائے اسکے آگے سر نگوں ہورہے ہیں،سرنڈر کررہے ہیں۔
    باعثِ افسوس وتشویش بات یہ بھی ہے کہ موبائل کو ’آلہ رحمانی‘ قرار دینے کی اصطلاح کسی لبرل و سیکولر شخص کی جانب سے نہیں بلکہ مذہبی روایت کے پاسدار ایک مشہور مدرسہ کے فارغ التحصیل عالم دین کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔ اس اعتبار سے یہ معاملہ محض کسی تحریر کے عنوان کا نہیں رہ جاتا بلکہ یہ سماجی و مدرسہ جاتی نظام کی بدلتی اقدارو رجحانات کو بھی ظاہر کر رہا ہے۔ جیسا کہ مضمون نگار نے بھی جامعہ میں اسپر پابندی کے باوجود کئی اساتذہ کی جانب سے اسکی خاموش قبولیت کی نشاندہی کی ہے۔ دوسری جانب یہ اصطلاح جو موبائل کی تعریف و تحسین و عمومی قبولیت کے لئے استعمال کی گئی،مضمون نگار کی شہرت طلبی کا حربہ معلوم ہوتی ہے۔ کیا کسی شے کو جسے اسکے غالب منفی کردار کی وجہ سے شیطانی قرار دیا گیا تھا اسے محض قبولیت و پزیرائی حاصل ہوجانے یا عرف و عادت ہو جانے کی وجہ سے رحمانی قرار دیا جاسکتا ہے جبکہ آج بھی اسمارٹ فون کا غلط استعمال ہی غالب و مسلط ہے۔ اسے اگر آج بھی کسی مذہبی ذات سے جوڑا یا نتھی کیا جاسکتا ہے تو وہ شیطان ہے رحمان ہر گز نہیں ۔ یہ بات قرآن ِ حکیم کا ایک عام قاری بھی جانتا ہے کہ شراب و جوئے کو حرام قرار دیا گیا تھا کہ اشیائے خبیثہ کے گناہ انکے فوائد سے زیادہ ہیں(البقرۃ2: 219)۔ (یاد رہے! قرآنِ حکیم میں ’نفع ‘ کے بالمقابل ’نقصان‘ کے الفاظ کی بجائے ’گناہ ‘کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے)۔مولانا ،سدِ ذریعہ کی شرعی و فقہی اصطلاح کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے اسے ’آلہ رحمانی‘ کسطرح قرار دے سکتے ہیں؟ کیا ٹی وی اور موبائل اس دور میں بےحیائی، جنسیت و لچر پن ، بدچلنی اور فواحش، گویا بداخلاقی پھیلانے اور عام کرنے کے سب سے بڑے ذرائع نہیں ہیں؟ کیا ٹی وی کو بھی اسی طرح قبولیت و کثرتِ استعمال کے باعث علما ہی کی جانب سے آلہ رحمانی قرار دینا درست و صائب رائے قرار دیا جاسکتا ہے جبکہ علمأ کرام کی ایک بڑی تعداد تاحال اسے حرام و مکروہ قرار دیتی ہے، اسکی خرید و فروخت تک کو ناجائز مانتی ہے؟

    موبائل کے لئے اس قسم کی نامعقول اصطلاحات دراصل اس تصور سے منصہ شہود پر آئیں ہیں کہ "شے کا استعمال ہی اسے جائز و ناجائز اور صحیح یا غلط بناتا ہے" چھری کو قتل کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اور آلو پیاز کاٹنے کے لئے بھی۔ گویا موبائل سے اگر صحیح کام لیا جائے تو وہ جائز وصائب ، مباح اورحلال و طیب ہو جاتا ہے بلکہ موصوف کی اصطلاح میں اسکی کی کایا ہی پلٹ جاتی ہے اور وہ ’آلہ شیطانی سے آلہ رحمانی‘ بن جاتا ہے۔ اس ذریعہ یا میڈیم means کا جہاں ایک فقہی پہلو ہے وہاں اسکی مابعد الطبعیاتی جہت کو بھی ضرور مدنظر رکھاجانا چاہئے۔طریقہ، ذریعہ یا وسیلے کی اپنی اہمیت و افادیت ہے۔ نیکی بذریعہ بدی صائب نہیں ہے بلکہ اچھائی کرنے کا ذریعہ و وسیلہ بھی درست و جائز ہونا چاہئے۔ حرام ذرائع کی کمائی کو حلال جگہ خرچ کرنا شرعاًجائز نہیں ہے۔ صدقے اور لوگوں کی فلاح وبہبود کی نیت سےحرام مال کمانے کی اجازت نہیں ہے۔جیساکہ توبہ کی نیت سے گناہ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اسی طرح کسی کایہ رویہ بھی معقول قرار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ بد پرہیزی کر سکتا ہے کیونکہ اسکی دوا موجود ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺنے فرمایا: إِنَّ اللهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ، فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا، إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ} [المؤمنون: 51] وَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ} [البقرة: 172] ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ، يَا رَبِّ، يَا رَبِّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ؟(صحیح مسلم)۔ ترجمہ: اللہ تعالیٰ پاک ہے اور وہ پاک چیز کے سوا اور کسی چیز کو قبول نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو حکم دیا تھا اور فرمایا: {اے رسولوں کی جماعت! تم پاکیزہ چیزوں میں سے کھایا کرو اور نیک عمل کرتے رہو، بے شک میں جو عمل بھی تم کرتے ہو اس سے خوب واقف ہوں}، اور فرمایا:{اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں} پھر آپ ﷺنے ایسے شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے، اس کے بال غبار آلود ہیں وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہتا ہے یا رب! یا رب! اور اس کا کھانا پینا حرام ہو، اس کا لباس حرام ہو اور اس کی غذا حرام ہو تو اس کی دعا کہاں قبول ہو گی؟

    *یاد رہے!* مسیحی روایات میں ذریعہ یا وسیلہ کی اہمیت ثانوی یا اسلامی تصورسے جدا ہے۔ اگر کوئی مذہبی پیشوا غلط ذریعہ یا طریقہ سے مال حاصل کر کے اسے عیسائی عبادتگاہ چرچ وغیرہ میں ہدیہ و تحفہ دے دے تو وہ صائب و قابلِ قبول ٹھہرتی ہے۔اور یہی فکر ہے جو سماجی سطح پر مغربی فوک ٹیل رابن ہڈ میں دیکھی جاسکتی ہے کہ یہ انگریز ہیرو امیروں کا مال چھین کر، چوری و لوٹ مار کر کے غریبوں میں تقسیم کردیا کرتا تھا ۔ چاہے اسکا طریقہ و ذریعہ ناجائز و غیر درست ہے لیکن چونکہ وہ اس لوٹ کے مال کو غریبوں کی فلاح و بہبود میں خرچ کردیتا ہے لہذامغربی ادب و لٹریچر میں اسکا کردار ہیرو کا سا اور قابلِ مثال و نمونہ ٹھہرایا جاتا ہے۔

    درحقیقت ہر شے اور آلہ object or instrumentکی اپنی ساخت ، ایک تاریخی و سماجی پس منظر، مقاصد و اہداف، فرد کی اس سے تعلق کی نوعیت و افادیت اور ریکوائرمنٹ ہوتی ہے۔ اسے اسی خاص طریقہ و اصول کے مطابق استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کسی تہذیب کے زوال پزیر ہونے کا براہ راست تعلق جہاں اسکے روایتی اداروں میں در انداز تہذیب کے افکارو خیالات ، نظام و انصرام سے ہے وہاں انمیں جدید آلات و اوزار اور انکے استعمالات وغیرہ کی حدود و قیود سے بھی اسکا سمبندھ ہے۔ جب کسی جدید ساخت یا شے کو کسی روایتی نظام میں داخل کیا جاتا ہے تو وہ ایک خاص تاریخی و سماجی پس منظر میں وجود میں آنے کی وجہ سے اپنے خاص اثرات و نتائج ظاہر کرتی ہے مثلا موبائل کو جب روایتی تعلیمی نظام میں داخل کیا گیا تو اس نے معلم و متعلم کے روایتی تعلق و بندھن میں دراڑ یا رکاوٹ ڈالی، جسکے نتیجہ میں قربت و معیت اور صحبت کے جو روحانی و نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے تھے وہ معدوم و محو یا تقریباًختم ہوکر رہ گئے۔ جدید معاشروں ہی کی طرح روایتی معاشروں میں بھی سماجی کڑیاں ٹوٹنا اورافراد کے مابین موجود قدیم فطری و روحانی تانا بانا بکھر نا شروع ہوگیا ۔اشیأ و آلات ہی کی طرح ہر ظرف یا مقام place کے بھی اپنے روحانی و جسمانی اورنفسیاتی اثرات ہوتے ہیں جو غیر شعوری اور بناء کسی قابو کنٹرول کے ازخود وقوع پزیر ہونے لگتے ہیں۔ کوئی شخص جب اس مخصوص ماحول و مقام میں داخل ہوجاتا ہے تو اسکے اصول و ضوابط اور لوازمات و پابندیاں بھی آٹو میٹیکلی اسپر عائد یا نافذ ہوجاتی ہیں۔مثلا مقدس جائے عبادت’مسجد ‘کے اپنے آداب و قواعد و ضوابط اور روحانی و جسمانی اور معاشرتی اثرات ہیں اور جائے خریدو فروخت ’بازار و مارکیٹ ‘ اور جائے تفریح یعنی تماش گاہ جیسے کھیل کے میدان، سینماگھر ، میوزیم اور پارک وغیرہ کے اپنے لوازمات ہیں۔ جائے مقام (گھر ) میں پڑھی جانے والی نماز اور جائے نماز (مسجد )کے مقدس و مطہر اور تجلی ربانی کے حامل ماحول کی نماز میں فرق ہوتا ہے ۔ اسی طرح گھر کی انفرادی نماز اور مسجد کی باجماعت نماز کی تاثیر مختلف ہوتی ہے۔اداروں خصوصاً روایتی اداروں کی موثریت و اثر انگیزی میں انکی مخصوص ہیئت و ڈھانچےاور اسٹرکچر کا بھی خاص حصہ و کردار ہوا کرتا ہے۔مغرب کا اونچے میناروں سے خوف ہو یا ڈاڑھی و حجاب کا ڈر یہ اسلامی جاو حشمت و درخشاں روایت کی خاص ساخت و علامات ہیں۔ گویا ہر ساخت یا اسٹرکچر چاہے وہ شے objectہو یا مقام place، خاص اہداف و مقاصد کے حصول میں معاون و مددگار ہوتی ہے اور کچھ اہداف و مقاصد کی راہ میں رکاوٹ و تعطل و التوأ کاباعث بنتی ہے۔تناظر perspectiveکے ساتھ ساتھ فکری و عملی ذاویہ کو بدل دینے والی اور ترجیحات کا تعین کرنے والی ہوتی ہے۔ ذریعہ یا میڈیم کے بدل جانے سے فرد اور سماج کے کردار و رویوں اور انکے اہداف و مقاصد میں بھی بتدریج سست رو ہی سہی مگر تبدیلیاں اور شفٹنگز رونما ہوتی ہیں۔ روایتی تہذیبوں کا ہتھیاریعنی تلوار ، ایک ذریعہ جنگ یا عمومی medium of battlefield تھا اسے استعمال کرنے کی اپنی جسمانی و نفسیاتی ریکوائرمنٹس تھیں جبکہ دور حاضر کے ماڈرن ویپنز جیسے ریوالور اور ڈرون طیاروں کے استعمال کے لئے اُس روایتی قابلیت کی ضرورت باقی نہیں رہی جو تلوار باز کے لئے لازمی تھی۔ روایتی جنگوں میں فرد، میدان کار زار میں بذاتِ خود جسمانی و حسی طور پر کرفرما ہوا کرتا تھا جبکہ آج ڈرون طیارے سے بستیوں کی بستیاں اجاڑ دینے والا ڈرون آپریٹر اس قتل و غارتگری اور خونریزی کے واقعہ کے حقیقی تاثرات یعنی انسانی جذبات میں تلاطم سے محروم ہی رہتا ہے۔ وہ زخمیوں اور قتل ہوجانےوالوں کے درد یا اذیت اور موت کے احساسات کو محسوس نہیں کرسکتا۔ بھارتی سورما اور موریہ سلطنت کا تیسرا نامور بادشاہ اشوکا (اشوک اعظم268 تا 232ق م) کِلنگ کی جنگ کے خون خرابے سے اس قدر متاثر ہوا تھا کہ اس نے ہندومت ترک کرکے بدھ مت اختیار کر لیا تھا۔
    مدرس و معلم اور طلباءِعلم کے مابین ایک مادی و مصنوعی ساخت اوروجود (مثلاً موبائل ) حائل ہوا تو علم کے ابلاغ و ترسیل، تبادلہ خیال اور باہمی ربط ضبط میں اٹکاؤکے باعث دین کی اثر انگیزی بھی ماند پڑنا شروع ہوجائے گی۔ اسی طرح ان اداروں میں چونکہ تحدیدی و تعبدانہ ،مودبانہ اور احترام و تقدس کا ماحول روا رکھاجاتا ہے لہذا معلم و مربی و استاذ کا لمس و موجودگی طلباء کے لئے ضروری ہے۔موبائل پر تعلیم کسی عملاً اصول و پابندی پر مبنی نہیں ہوتی۔ تعلقات کا جبر یا محاسبہ کا فوری ڈر نہیں رہتا۔یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ جدید سائنسی علوم کے عمومی سماجی اطلاقات کے برعکس روایتی علوم کی یہ درسگاہیں ہی انکی تجربہ گاہیں practical labsبھی ہیں جہاں یہ دین کو اچھی طرح پریکٹس کر سکتے ہیں۔ موبائل روایتی اداروں میں درس و تدریس کا کوئی آئیڈیل ذریعہ نہیں ہوسکتا بلکہ یہ محض اضطراری کیفیت ہی کی صورت ہونی چاہئے۔موبائل ابلاغ و ترسیل کا محض وقتی و عبوری آلہ ہی ہونا چاہئے جس سے جہاں تک ممکن ہو سکے احتراز ہی کیا جانا چاہئے۔تعلیم و درس و تدریس و تربیت کا روایتی طریقہ procedure و ذریعہ medium ہی افضل و اولی ہونےکے ساتھ ساتھ موثر و پسندیدہ ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */