سٹریس مینجمنٹ - جویریہ ساجد

زندگی میں بہت بار ہم سٹریس محسوس کرتے ہیں. سٹریس محسوس کرنا فطری ہے، لیکن اس کا شکار ہونا یا نہ ہونا ہمارے اپنے پہ منحصر ہے.

عارف انیس صاحب اس پہ ایک شاندار سیریز لکھ رہے ہیں، میری خواہش ہے آپ سب اس کا فائدہ ضرور اٹھائیں.
میں ان کی ایک ادنی طالب علم کی حیثیت سے ان کے علم کی روشنی میں اپنی کچھ ذاتی لرننگز شئیر کررہی ہوں.

سٹریس فیز میں جو باتیں سب سے زیادہ پریشان کرتی ھیں وہ یہ ھیں کہ

اس نے مجھے یہ کہہ دیا وہ کہہ دیا.

غلط سمجھا، اگنور کیا، کمرے سے نکال دیا، جھوٹے الزام لگائے، مذاق اڑایا ، بے عزتی کر دی. وغیرہ

کیونکہ ہم اس رویے کے عادی نہیں ہوتے، ھم نے زندگی میں عزت کمائی ہوتی ہے، اپنے کام میں نام کمایا ہوتا ہے اور تعریف سنی واہ واہ سنی ھوتی ہے تو یہ الٹ صورتحال ہمارے لیے بہت تکلیف کا باعث بن جاتی ہے. ھم رج کے ٹینشن اور سٹریس کا شکار ہوجاتے ہیں.

پہلی بات جو سمجھنی ہے یہ ہے کہ سٹریس ہونا برا نہیں، اس کا شکار ہوجانا برا ہے. ہم انسان ہیں. ہمارے جذبات ہیں. محسوسات ہیں. وہ اپنی جگہ بلکل درست اور اہم ہیں، لیکن ان کو خود پہ حاوی کر کے اپنے اپ کو نقصان نہیں پہنچانا۔
مجھ پہ بھی جب سٹریس کا فیز آیا تو میں نے اس کا شکار نہ ہونے کا فیصلہ کیا، اس کے لیے ایک دن بیٹھ کے اپنا اور حالات کا جائزہ لینا شروع کیا، کچھ باتیں اپنے آپ سے پوچھیں، کچھ سیکھیں، کچھ سمجھیں اور عمل شروع کیا جو باتیں سیکھیں وہ شئیر کررہی ہوں۔

1۔ سب سے پہلے اپنے آپ سے پوچھا، ان حالات میں بھی کون سی ایسی مثبت چیزیں ہیں جو مجھے ابھی بھی میسر ہیں، اپنے میاں کا ساتھ اور اعتماد، بچے، ماں باپ کا ساتھ ، بہترین دوست اور اپنی روز مرہ زندگی کی بے شمار آسائشیں، آرام بہت کچھ تو تھا میرے پاس۔

2. پھر یہ سوچا کہ یہ تو اللہ کا فیصلہ ہے کہ اس نے زندگی میں ہمارے لیے کیا رکھا ہے تو پہلی بات اللہ کا فیصلہ پرفیکٹ ہے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ اللہ مجھ سے کیا چاہتا ہے. اللہ نے آخر مجھے یہاں کیوں بھیجا ہے؟ کوئی مقصد تو ہوگا وہ کون سا گیپ ہے جسے فل کرنے کے لیے مجھے چنا گیا؟

اب یہ سمجھنا اہم ہے کہ ہمیں "اللہ" نے چنا ہے۔ مقصد سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس کے مطابق لائحہ عمل بنانے اور پرفارم کرنے کی ضرورت ہے۔

مقصد بڑا ہے تو چھوٹی موٹی باتوں سے دھیان ہٹالیں، مقصد پہ فوکس کریں، بڑے کینوس پہ سوچنا شروع کریں۔

3. جب یہ سوچ لیا تو حیرانی ہوئی کہ یہ کیسے ہوگیا کہ ہمارے ایموشنز کوئی دوسرا کنٹرول کر رہا ہے.

ہماری زندگی اور شخصیت کی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پہ کس طرح اور کب کوئی دوسرا آ کے بیٹھ گیا؟ ناصرف بیٹھ گیا بلکہ کنٹرول بھی سنبھال لیا. وہ جب چاہے ہمارے فیوز اڑا دیتا ہے. جب چاہے ہمیں افسردہ کر دے، پریشان کر دے. یہ تو سراسر میری غلطی ہے۔

4. اگلی بات ہمارے بارے میں کوئی کیا سوچتا ہے، یہ ھمارا مسئلہ بالکل نہیں ہے. ہر ایک کی سوچ اس کے اپنے حالات، واقعات اور ماحول کا آئینہ ہوتی ہے، جس کا جو جی چاہے، سوچے. ہم کسی کی سوچ نہیں بدل سکتے نہ ہی اس کے ذمہ دار ہیں تو اس پہ ری ایکشن دینا یا سر پہ سوار کر کے ٹینشن لینا سراسر ھماری نا سمجھی ہے۔

5. اگلی بات اگر کوئی ہماری تحقیر کرتا ہے، کچھ برا بھلا کہتا ہے. طنز طعنے دیتا ہے تو پہلی بات وہ احساس کمتری یا عدم تحفظ کا شکار ہے. اس بیچارے کو تو خود علاج کی ضرورت ہے. اس کی باتوں کا اثر لینا ہماری کتنی بڑی بے وقوفی ہے. ہم نے صرف یہ کرنا ہے کہ اپنے ذہنی سکون کے لیے ایسے لوگوں سے خود کو دور رکھنا ہے، دوری میں سب سے بڑی دوری ذہنی دوری ہے. ایسے لوگوں کو اٹھا کے اپنی زندگی سے باہر پھینک دیں، فزیکلی نہیں ذہنی طور پہ. اب وہ ایگزسٹ ہی نہیں کرتے. سامنے بھی بیٹھے ھوں تو بھی نظر نہیں آتے نا ہی سنائی دیتے ہیں. کانوں کے ڈھکن نہیں ہوتے کہ بند کرلیں تو آواز نہ آئے لیکن یہ ممکن ہے کہ اواز تو آرہی ہے لیکن سنائی نہیں دے. یہ ایک فن ہے، پریکٹس سے آئے گا۔

یاد رکھیں جس کے پاس جو ہوتا ہے وہی وہ دوسرے کو دیتا ہے. عزت دار ہی عزت دے سکتا ہے. جس کے پاس خود عزت کا بحران ہے وہ دوسرے کو کیا دے گا؟

اس میں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ عزت دار وہ ہوتا ہے جس کی خود اپنی نظر اور اپنے دل میں اپنی عزت ہوتی ہے یعنی اس پیرامیٹر میں بھی لوگ نہیں آتے کہ لوگ ہماری کتنی عزت کرتے ہں‌ یا نہیں کرتے سوال یہ ہے کہ ہم خود اپنی کتنی عزت کرتے ہیں؟

اپنی عزت کرنے والے ہی دوسرے کی عزت کرسکتے ہیں، کیونکہ ہم خود اپنے بارے میں بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ ہم میں کون سی اور کتنی خوبیاں ہیں جو عزت کے قابل ہیں۔

اسی طرح اپنا خیال رکھنے والے دوسرے کا خیال رکھ سکتے ہیں جو اپنے سر درد میں دوا نہیں لیتا وہ دوسرے کو دوا کیونکر دے گا؟ اسے بھی یہی کہے گا برداشت کرو بھائی۔

خود سے محبت کرنے والے دوسرے کو محبت دے سکتے ہیں لیکن اس کا مطلب ہرگز بھی سیلف سینٹرڈ ہونا نہیں ہے، اپنے لیے کافی ہوجانا سیکھنا چاہیے.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */