نواز شریف اور فوج کے تعلقات، شیخ رشید کی نئی کتاب میں سنسنی خیز انکشافات

شیخ رشید ہمارے ان سیاستدانوں میں سے ہیں جو حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، خبر ان تک اڑ کر پہنچتی ہے، وہ ہر دور میں پاور کاریڈورز میں اہم اور موثر سمجھے جاتے رہے ہیں۔ کئی وزرائے اعظم اور حکمرانوں کے ساتھ کام کیا۔ نواز شریف کے قریبی ساتھی رہے، پھر دور ہوئے، مشرف کا ناک کا بال بنے، پیپلز پارٹی دور میں فاصلہ رہا، مگر عمران خان کو انہوں نے جدوجہد کے دنوں میں جوائن کرلیا اور آج تحریک انصاف حکومت کے اہم وزیر ہیں۔ شیخ رشید کی ایک بڑی خصوصیت بے لاگ اور چٹپٹی گفتگو ہے۔ انہیں خبروں میں رہنے کا ہنر آتا ہے ، باتوں باتوں میں وہ اہم خبریں بھی دے جاتے ہیں اور پھر اکثر اوقات ان سے مکرتے نہیں۔ شیخ رشید نوے کے عشرے میں جیل میں اسیر رہے تو اپنی خود نوشت فرزند پاکستان لکھی، اب پچیس برسوں کے بعد ان کی نئی کتاب ’’لال حویلی سے اقوام متحدہ تک ۔ شیخ رشید کی سیاست کے پچاس برس‘‘شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب میں شیخ رشید نے ایوان اقتدار میں ہونے والی بہت سی سازشوں کو بے نقاب کیا اور کئی اہم درون خانہ رازوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ ہم ان کی کتاب سے چند دلچسپ اورہوش ربا انکشافات پر مبنی اقتباسات پیش کر رہے ہیں. یہ دوسری قسط ہے، پہلی قسط نیچے دیے گئے لنک پر ملاحظہ کرسکتے ہیں
شیخ رشید کی نئی کتاب، 14 سنسنی خیز انکشافات


نواز شریف اور غلام اسحاق خان، دونوں‌ میں فرق کیا تھا؟

نواز شریف اور اسحاق خان دونوں کا مزاج مختلف تھا۔ نواز شریف جمہوریت کی کارفرمائی، قومی خودانحصاری اور عامۃ الناس کی فلاح وبہبود کے علمبردار تھے۔ ادھر اسحاق خان ایک سپر بیوروکریٹ تھا۔ اس کے مزاج میں افسر شاہی کی رعونت نے آمریت کی صورت اختیار کرلی تھی۔ اسے ہر دم اپنے اختیار واقتدار کا دھیان رہتا تھا۔

وہ شروع دن سے ہی اس خوف میں مبتلا تھا کہ کہیں نواز شریف اپنی دو تہائی اکثریت کی بنا پر آئین کی آٹھویں ترمیم میں تبدیلی کرکے صدر مملکت کو اسمبلی توڑنے کے اختیار سے محروم نہ کردے۔ چنانچہ نواز شریف کو زمام اقتدار سنبھالتے ہی ایوانِ صدر سے خط ملنے شروع ہوگئے۔

نواز شریف بھی شروع سے ہی اسحاق خان کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے کے موڈ میں تھے، لیکن ہم قریبی ساتھی انہیں روکتے رہے۔ آٹھویں ترمیم پر غلام اسحاق خان سے جنگ سے ذرا پہلے ایک روز جب لاہور سے واپس آئے تو بدلے بدلے سے تھے۔

نواز شریف کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ اپنے والد محترم سے مشورہ کیے بنا کوئی قدم نہیں اٹھاتے۔ ہماری بعد کی معلومات کے مطابق میاں شریف نے بھی نواز شریف کو صدر سے ٹکر لینے سے روکا تھا۔ لیکن نجانے وہ کون سی ایسی قوتیں تھیں جو نواز شریف اور غلام اسحاق خان دونوں کو تصادم ومحاذ آرائی کی راہ پر ڈال رہی تھیں۔

اب آثار وشواہد سے اندازہ ہوا یہ دراصل ایک بین الاقوامی منصوبہ تھا جس کے تحت پاکستان میں سیاسی تبدیلی کو ناگزیر بنایا جارہا تھا اور وطن عزیز میں نہ صرف ایک عوامی مینڈیٹ کی مالک بلکہ دو تہائی اکثریت، پارلیمانی اکثریت کی حامل مضبوط حکومت کو اقتدار سے محروم کرنے کی سازش کی جارہی تھی۔ اس سازش میں بے نظیر بھٹو کا کردار بھی تھا جس نے ایک غیرملکی طاقت کی زیرسرپرستی ایک تیر سے دو شکار کیے۔

نواز شریف اور صدر اسحاق خان کو محروم اقتدار کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ اگر تنہا نواز شریف کو نکالا گیا تو فوج میں بیزاری اور برہمی کی لہر دوڑجائے گی، اس طرح سارا کھیل بگڑسکتا تھا۔ فوجی قیادت کو بھی صدر اسحاق خان کے ساتھ سودے بازی کرنے میں کافی دشواری محسوس ہورہی تھی۔

جب نوازشریف نے مجھے میر شکیل الرحمن کے پاس بھیجا:

نواز شریف ایک بہت ہی شریف انسان ہیں جو منہ بھر کر کسی کو بھی انکار نہیں کرسکتے۔ اس نے میرٹ پر ہی غلام اسحاق خان سے مل کر آصف جنجوعہ کی تعیناتی کی لیکن نئے چیف آف آرمی اسٹاف کی تعیناتی پر وہ کنفیوژن کا شکار تھا، جبکہ غلام اسحاق خان بہت کایاں، چالاک اور دل میں بات رکھنے والا انسان تھا۔ نواز شریف کی طاقت اسمبلی کے ممبران تھے، جبکہ غلام اسحاق خان فوج کے سہاروں کے ساتھ ساتھ اسمبلی ممبران پر بھی ہاتھ پھیر رہا تھا۔

انور سیف اللہ اس کا داماد تھا، لیکن حامد ناصر چٹھہ نے بھی اسے پہلے دن سے ہی تسلیم نہیں کیا تھا۔ الٰہی بخش سومرو بھی غلام اسحاق خان کی جیب میں تھے، بلکہ بہت پہلے غلام اسحاق خان کو اپنا استعفیٰ لکھ کر دے چکے تھے۔ چوہدری نثار بھی دو طرف ہاتھ رکھتے تھے، لیکن آخری لڑائی کے وقت چوہدری نثار نے نوازشریف کا ساتھ دیا۔

میرے دل میں کھٹکا لگارہا کہ اعجاز اور نثار نجانے کیا فیصلہ کریں گے؟ مجھے ایک دن اعتماد میں لے کر نوازشریف نے میر خلیل الرحمن کے پاس بھیجا کہ وہ کچھ عرصے آٹھویں ترمیم پر غلام اسحاق خان سے دو دو ہاتھ کرنے والے ہیں اور آیندہ ہونے والی آٹھویں ترمیم کی جنگ میں ان کے اخبار کی حمایت حاصل کروں۔

میر شکیل الرحمن بہت سمجھدار انسان تھے۔ ایک دم کہنے لگے کہ آپ بھی اس جنگ کے حامی ہیں؟ میں نے کہا سرکار میں حامی نہیں، پر سرکاری ڈیوٹی پر آیا ہوں۔ پھر کہنے لگے کیا نواز شریف اتنا بڑا کام کرگزرے گا؟ میں کچھ جواب نہ دے سکا۔ پھر انہوں نے پوچھا اس جنگ میں نواز شریف کو کس کس کی حمایت حاصل ہے؟ میں خاموش رہا۔ پھر انہوں نے کہا کہ ایسا نا ہو کہ آپ ٹریپ ہوجائیں اور کھیل کسی اور کا بن جائے۔ میں ان کی رائے کا سو فیصد حامی تھا، لیکن میرے خیال میں آصف نواز کے دور میں ملک نعیم، چوہدری نثار، راجہ شاہد سعید اور نواز کھوکھر سے جنرل آصف نواز کی بلاوجہ خاصی غلط فہمیاں پیدا کی گئیں اور آئی ایس آئی کور میں انجینئر کور کے جنرل جاوید ناصر کو بطورِ سربراہ مقرر کرکے نواز شریف نے جو حاکمیت کا تصور دیا، اس سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ تبلیغی جماعت کا مذہبی آدمی تھا۔ میں خود رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماع میں وقت لگاتا رہا ہوں، لیکن کوئی شخص چاہے کتنا ہی پانچ وقت کا نمازی یا تہجد گزار ہو، اسے کار ڈرائیونگ کے لیے اس وقت تک نہیں دی جاسکتی جب تک وہ ڈرائیونگ نہ جانتا ہو۔ اب سارے کام آئی ایس آئی کے بجائے ایم آئی سے لیے جاتے تھے اور بریگیڈیر امتیاز کی نگرانی میں آئی بی کا کردار بھی افسوسناک تھا۔

منتخب حکومت کے ساتھ جنرل اسلم بیگ کا رویہ:

خلیج کی جنگ جاری تھی، ایک دن ڈیفنس کی ایک میٹنگ میں میں نے اسلم بیگ کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک دیکھی اور ان کی گفتگو سن کر سکتے میں آ گیا۔ ان کے نزدیک اگر سعودی عرب میں فوج کو صیحح ہتھیاروں سے منظم کرکے نہ بھیجا گیا اور اگر وہاں کچھ ہوگیا تو کیا ہوگا؟ حالانکہ فوج سعودی عرب میں ان کے مشورے سے ہی بھیجی جارہی تھی، اب وہ کھلے انکاری اور تنقید سے بھرے تھے۔ نواز شریف تمام باتیں خاموشی سے اور توجہ سے سن رہے تھے اور مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ مجھے ساتھ کیوں وہاں لے گئے تھے۔ مجھے میٹنگ میں خلافِ توقع لے جانا سمجھ سے بالاتر تھا۔ میں اس وقت وزیر اطلاعات تھا اور اخبارات کے مدیران کو چائے پر مدعو کیا ہوا تھا۔ میں نے انہیں اپنی مجبوری بتائی، لیکن انہوں نے کہا تھوڑی دیر بیٹھ کر چلے جانا، مگر ڈیفنس کی میٹنگ میں تو معاملہ ہی الٹا تھا۔

اسلم بیگ نے ایسی تقریر کی جو کہ ملکی سلامتی کے لیے تحریر کرنا مناسب نہیں۔ لیکن انہوں نے تقریر کے آخر میں دفاع سے ہٹ کر بات کی کہ نواز شریف آپ عوام میں جائیں اور دیکھیں کہ آپ کی پالیسیوں سے عوام کو شدید اختلاف ہے۔

میں عجیب مصیبت میں گرفتار تھا۔ ایک طرف ڈیفنس کی میٹنگ بڑھتی جارہی تھی اور دوسری طرف مجھے اخبار کےمدیران کی چٹ موصول ہوچکی تھی۔میں چونچ لڑانے سے باز نہ آیا۔ کشمیر اور گلف وار پر ٹھوک کر اپنی بات کہی۔ اس گستاخی پر تمام ذمہ دار آرمی افسران میری طرف عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے، سوائے آصف نواز جنجوعہ کے، جن کی آنکھوں اور چہرے پر وہ تلخی نہ تھی جو دوسرے جرنیلوں کی تھی۔

میں یہ باتیں کہہ کر اپنی میٹنگ سے نکل گیا، مگر پھر مدیران سے معذرت کرکے دوبارہ واپس آگیا۔

عوام کی منتخب حکومت کے ساتھ جس طرح سے اسلم بیگ اپنے ساتھیوں کے سامنے مخاطب تھے، وہ میری برداشت سے باہر تھا۔ سیڑھیاں واپس چڑھتے ہوئے میں میٹنگ میں دوبارہ آرہا تھا تو میری نظر چیف آف آرمی اسٹاف کی گاڑی کے اندر پڑی، میں ایک منٹ کے لیے رُکا کہ اسلم بیگ نے اپنی سیٹ کے آگے ایک خودکار رائفل فٹ کررکھی تھی، جو ان کے اے ڈی سی اور ان کی اپنی جگہ کے درمیان فٹ تھی اور آگے پیچھے ہوسکتی تھی۔

اس میٹنگ کا میرے لیے یہ ایک عجیب تجربہ تھا کہ حکومتی وزرا فوجی امرا کے ساتھ بھیگی بلی بنے ہوئے تھے۔ میں اتنا کچھ بول چکا تھا کہ مزید میرے کچھ کہنے کی گنجائش نہیں تھی، اور جب میٹنگ ختم ہوئی تو مجھے اندازہ ہوا کہ مجھے میٹنگ میں کیوں شامل کیا گیا تھا؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */