فضائلِ اہلِ بیت ِ اَطہار رضی اللہ عنہم…مفتی منیب الرحمن

اسلام میں تمام دینی عظمتوں، رفعتوں، عنداللہ قربتوں اور محبوبیت و مقبولیت کا مرکز و محور سید نا محمد رسول اللہﷺ کی ذاتِ گرامی ہے، جس کو جتنی زیادہ آپؐ سے قربت ہے، نسبت ہے، محبت ہے اور اطاعت و اتباع کا تعلق ہے، وہ اسلام میں اتنا ہی عظیم المرتبت قرار پاتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''میرے سبب اور نسب کے سوا ہر نسب اور سبب قیامت کے دن منقطع ہو جائے گا (یعنی کچھ کام نہیں آئے گا)، (مصنف عبدالرزاق:10354)‘‘۔ نسب کے معنی تو واضح ہیں اور سبب سے مراد آپﷺ کے ساتھ مصاہرت کا رشتہ ہے، اس کی مزید تشریح اس حدیثِ مبارک سے ہوتی ہے؛ ''رسول اللہﷺ نے فرمایا: ہر نسب اور مصاہرت (In laws) کا رشتہ قیامت کے دن منقطع ہو جائے گا (یعنی کوئی کام نہیں آئے گا) سوائے میرے نسب اور سسرالی رشتے کے، (المعجم الاوسط :4132)‘‘۔

گزشتہ دنوںہم نے ''مقامِ صحابہؓ‘‘ پر قرآن وسنت کی روشنی میں گفتگو کی تھی، اہلبیت میں سے جنہیں شرفِ صحابیت حاصل ہے، وہ اُن تمام فضیلتوں کے حق دار ہیں اور اہلِ بیتِ نبوت ہونے کا شرف اس سے سِوا ہے۔ قرآنِ مجید میں ''اہل‘‘ اور ''آل‘‘ کے کلمات آئے ہیں، بالعموم یہ دونوں کلمات ہم معنی استعمال ہوتے ہیں۔ مفسرینِ کرام نے یہ بھی کہا ہے کہ ''آل‘‘ شرفِ نسبت کے لیے بولا جاتا ہے، خواہ یہ شرف محض دُنیاوی اعتبار سے ہو یا دینی اور اُخروی اعتبار سے، آج کل بھی سعودی عرب کے حکمرانوں کے لیے ''آلِ سعود‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ قرآن میں ''آل‘‘ محض پیروکاروں کے لیے بھی استعمال ہوا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ''اور (یاد کرو) جب ہم نے تمہارے لیے سمندر کو چیر دیا، پھر ہم نے تم کو نجات دی اور ہم نے ''آلِ فرعون‘‘ کو غرق کر دیا اور تم دیکھ رہے تھے، (البقرہ: 50)‘‘۔ سب کو معلوم ہے کہ فرعون کی اولاد نہیں تھی اور یہاں آلِ فرعون سے مراد فرعون اور اس کے پیروکار ہیں۔ حضرت سلمانؓ فارسی اسلام لائے، تو وہ سرزمین عرب میں اجنبی تھے، فارس کے رہنے والے تھے، مہاجرین نے کہا: سلمان ہم سے ہیں، انصار نے کہا: سلمان ہم سے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''سلمان ہمارے اہل بیت میں سے ہیں‘‘، (تاریخ طبری:91-92/2)۔
اللہ تعالیٰ نے اہل بیتِ رسولﷺ کی فضیلت کو قرآن مجید کے ان کلماتِ طیبات میں بیان فرمایا: ''اے اہل بیتِ رسولؐ! اللہ یہی ارادہ فرماتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی ناپاکی کو دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب پاکیزہ بنا دے، (الاحزاب:33)‘‘۔ اس کا مصداق حضرت علی و سیدہ فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہما اور ان کی اولادِ اَمجاد بدرجۂ اَتَمّ ہیں، لیکن اہل بیت کے اس اطلاق میں رسول اللہﷺ کی ازواجِ مُطَہَّرات اُمَّہات المومنین رضی اﷲ عنہن بھی شامل ہیں۔ قرآن مجید میں صرف بیوی پر بھی اہلبیت کا اطلاق کیا گیا ہے: (جب فرشتوں نے بڑھاپے میں حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کو حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت کی بشارت سنائی، تو وہ اس پر سراپا حیرت بن گئیں اور کہا:) ''ہائے افسوس! کیا میں بچہ جنوں گی، حالانکہ میں بوڑھی ہوں اور یہ میرے شوہر (بھی) بوڑھے ہیں، بے شک یہ عجیب بات ہے، فرشتوں نے کہا: کیا آپ اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہیں، اے اہلبیتِ (ابراہیم!) آپ پر اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، (ہود: 73)‘‘۔ اس وقت تک حضرت سارہ سے کوئی اولاد نہ تھی، تو قرآن نے صرف بیوی پر اہلبیت کا اطلاق فرمایا۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی بیوی کو لے کر کنعان سے مصر کی طرف جا رہے ہیں، انہیں دور سے آگ نظر آئی، اللہ تعالیٰ فرماتاہے: ''جب انہوں نے آگ کو دیکھا تو اپنے اہل سے کہا: (یہاں ) ٹھہرو، بیشک میں نے آگ دیکھی ہے، شاید میں اس سے تمہارے پاس کوئی انگارہ لے آؤں یا میں آگ سے راستے کی کوئی نشانی پاؤں، (طٰہٰ:10)‘‘۔

(1) حضرت ابوبکرہؓ بیان کرتے ہیں: میں نے سنا: نبی کریمﷺ منبر پر ارشاد فرما رہے تھے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ آپ کے پہلو میں تھے، آپ ایک بار لوگوں کی طرف دیکھتے اور دوسری بار حضرت حسن کی طرف دیکھتے اور فرماتے: میرا یہ بیٹا سیّد ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے مسلمانوں کی دو جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا، (بخاری: 3764)۔

(2) حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ انہیں اور حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو پکڑ کر یہ دعا کرتے تھے: اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت فرما، (بخاری: 3747)۔

(3)حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (لعین) عبیداللہ بن زیاد کے پاس (واقعۂ کربلا کے بعد) حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا سرِ مبارک ایک طشت میں لایا گیا، وہ اس کو لکڑی سے کریدنے لگا، اس (بدبخت) نے آپؓ کے حُسن کے متعلق کوئی بات کہی، حضرت اَنس نے کہا: وہ سب سے زیادہ رسول اللہﷺ کے مشابہ تھے اور آپ کے بالوں میں سیاہی مائل خضاب لگا ہوا تھا، (بخاری: 3748)۔

(4) حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں: میں نے نبیﷺ کو دیکھا جبکہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما آپؐ کے کندھے پر سوار تھے اور آپؐ دعا کر رہے تھے: اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، سو تو بھی اس سے محبت فرما، (بخاری:3749)۔

(5) عقبہ بن حارث بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو اٹھائے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے: ان پر میرے والد فدا ہوں، یہ نبیﷺ کے مشابہ ہیں، علی کے مشابہ نہیں ہیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ تبسم فرما رہے تھے، (بخاری:3750)۔

(6) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا محمدﷺ کی رضا آپ کے اہلِ بیت (کے ساتھ محبت) میں تلاش کرو، (بخاری: 3751)۔

(7) حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے زیادہ کوئی شخص نبی کریمﷺ سے مشابہ نہیں تھا، (بخاری:3752)۔

(8) ابن ابی نُعم نے حضرت عبداللہؓ بن عمر سے پوچھا: اگر مُحرم (حالتِ احرام میں شخص) مکھی مار لے تو اس کا کفارہ کیا ہے؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اہلِ عراق مکھی کو مارنے کا حکم تو پوچھ رہے ہیں، حالانکہ یہ لوگ رسول اللہﷺ کے نواسے کو قتل کر چکے ہیں اور نبیﷺ نے ان دو نواسوں کے متعلق فرمایا تھا: یہ دونوں دنیا میں میرے دو خوشبودار پھول ہیں، (بخاری:3753)۔

(9) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہﷺ نے فرمایا: حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں، (ترمذی: 3768)۔

(10) حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں ایک رات کسی کام سے نبیﷺ کے پاس گیا، نبی کریمﷺ تشریف لائے، اس وقت آپ نے کچھ اٹھایا ہوا تھا جس کا مجھے پتا نہیں چلا، جب میں اپنے کام سے فارغ ہوگیا تو میں نے پوچھا: یہ کیا تھا جس کو آپﷺ نے اٹھایا ہوا تھا، تو آپ نے کھول کر دکھایا، پس وہ آپ کی گود میں سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما تھے، آپ نے فرمایا: یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں، (ترمذی: 3769)۔

(11) حضرت سلمیٰ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں ام المومنین حضرت سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، وہ رو رہی تھیں، میں نے پوچھا: آپ کو کیا چیز رلا رہی ہے، تو انہوں نے بتایا کہ میں نے ابھی خواب میں دیکھا ہے کہ رسول اللہﷺ کے سر اور ڈاڑھی پر گرد و غبار تھا، میں نے پوچھا: یا رسول اللہﷺ! کیا ہوا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: میں ابھی حسین کے قتل کی جگہ پر موجود تھا، (ترمذی:3771)۔

(12) حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہﷺ سے پوچھا گیا: آپ کو اپنے اہلِ بیت میں کون زیادہ محبوب ہے؟ آپؐ نے فرمایا: حسن اور حسین اور آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرماتے تھے: میرے دونوں بیٹوں کو بلائو، پھر آپ ان کو سونگھتے تھے اور ان کو اپنے ساتھ لپٹاتے تھے، (ترمذی: 3772)۔

(13) حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہﷺ ہمیں خطبہ دے رہے تھے، اچانک حضراتِ حسن اور حسین رضی اللہ عنہما آئے، وہ سرخ قمیصیں پہنے ہوئے تھے اور لڑکھڑاتے ہوئے چل رہے تھے، رسول اللہ ﷺ نے اپنا خطبہ موقوف فرمایا، منبر سے اتر کر ان کو اٹھایا، اپنے سامنے بٹھایا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے: ''تمہارے مال اور تمہاری اولاد محض آزمائش ہیں‘‘، (التغابن: 15)، میں نے ان بچوں کو لڑکھڑا کر چلتے ہوئے دیکھا تو میں صبر نہ کر سکا حتیٰ کہ میں نے خطبہ منقطع کیا اور ان کو اٹھایا، (ترمذی:3774)۔

(14) حضرت یَعلیٰ بن مُرَّہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہﷺ نے فرمایا: حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت رکھے جو حسین سے محبت رکھے، حسین میرے نواسوں میں سے ایک نواسہ ہے، (ترمذی: 3775)۔

(15) حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حسن سینے سے لے کر سر تک سب سے زیادہ رسول اللہﷺ سے مشابہ تھے اور حسین رسول اللہﷺ کے نچلے حصے کے مشابہ تھے، (ترمذی: 3779)۔

(16) حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھ سے میری والدہ نے پوچھا: تم کب رسول اللہﷺ سے ملے تھے؟ میں نے کہا: میں فلاں فلاں وقت سے رسول اللہﷺ سے نہیں ملا، تو انہوں نے مجھے بُرا کہا، میں نے کہا: مجھے اجازت دیں کہ میں رسول اللہﷺ کے پاس جائوں اور آپ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھوں اور آپ سے یہ سوال کروں کہ آپ میرے لیے اور آپ کے لیے مغفرت کی دعا کریں، سو میں نبی ﷺ کے پاس گیا اور آپﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، آپ نے نماز پڑھائی حتیٰ کہ عشا کی نماز پڑھائی، پھر آپ واپس گئے، میں آپ کے پیچھے پیچھے گیا، آپ نے میری آواز سنی تو پوچھا: یہ کون ہے، حذیفہ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: تمہیں کیا کام ہے، اللہ تعالیٰ تمہاری اور تمہاری ماں کی مغفرت فرمائے، پھر آپﷺنے فرمایا: یہ ایک فرشتہ ہے‘ جو آج رات سے پہلے زمین پر نازل نہیں ہوا، اس نے اپنے رب سے مجھے سلام کرنے کی اجازت لی اور مجھے یہ بشارت دی ہے کہ فاطمہ اہلِ جنت کی عورتوں کی سردار ہیںاور حسن و حسین اہلِ جنت کے جوانوں کے سردار ہیں، (ترمذی:3781)۔

(17) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہﷺ نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو اپنے کندھے پر اٹھایا ہوا تھا، ایک شخص نے دیکھ کر کہا: اے لڑکے! تم کتنی عمدہ سواری پر سوار ہو، تو نبی کریمﷺ نے فرمایا: اور یہ سوار بھی تو بہت عمدہ ہے، (ترمذی:3784)۔

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */