عہد حاضر کا تعلیمی نظام اور اساتذہ کی ذمہ داریاں - اعجاز رسول

استاد دنیا کی وہ واحد شخصیت ہے جس کو والد کا درجہ دیا گیا ہے۔ استاد کی شان کے متعلق مشہور ہے کہ "ماں باپ اولاد کو عرش سے زمین پر لاتے ہیں لیکن استاد اسے فرش سے اٹھاکر عرش کی اونچائیوں کی طرف پرواز کرواتاہے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ ’’جس شخص سے میں نے ایک لفظ بھی پڑھا سمجھو میں اس کا غلام ہوگیا, اب اٌس کی مرضی ہے کہ وہ مجھے بیچ دے یا آزاد کرے"۔

استاد کو یہ رتبہ صرف تعلیم و تریبت کے تناظر میں ہی نہیں ملا ہے بلکہ اس میں بنیادی سبب وہ بھروسہ ہے جس کی بنا پر والدین اپنی امانت کو اٌس کے حوالے کرتے ہیں۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام نے استاد کو کیا مقام دیا لیکن تصویر کا حقیقی رخ یہ ہے کہ استاد کو حقیقت میں اب یہ مقام حاصل نہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں اسلام ایک نظام کی حثیت سے مفقود ہے۔ اس کے برعکس تمام مسلم ممالک میں رائج الوقت تعلیمی نظام غیر اسلامی ہے۔ پوری عالم انسانیت مغرب کے جابرانہ سیکولر سرمایادارنہ عالمی نظام میں جکڑی ہوئی ہے جس میں سیاسی، معاشی اور معاشرتی استحصال کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور انسانی قدروں کو پیروں تلے روندا جارہا ہے۔ یہ وہ ابتر اور دلخرااش حقیقت ہے جو ہمارے نظام تعلیم پر بری طرح اثر انداز ہے، جس کی وجہ ایک مسلمان استاد کو پیچدہ چلینجز درپیش ہیں اور ان چلینجز سے نمٹنا اس کی پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ مذہبی، اخلاقی اور انسانی فرض بھی بنتا ہے۔ چونکہ ایک استاد اس نظام تعلیم کو بدل تو نہیں سکتا لیکن جو زہر اس تعلیم کے نام پر لادین افکار اور مفاہیم کے ذریعے امت کے نو نہالوں کو پلایا جارہا ہے اسے ہماری آنے والی نسلوں کی سوچ اور ذہن استعمار کے اسی قالب میں ڈھلتی رہیں گی۔

ہندوستان میں حال ہی میں نئی تعلیمی پالیسی کے تحت اس کے ڈھانچے میں تو ظاہری تبدیلی لائی گئی لیکن اس کا جز اور مادہ وہی لارڈ میکالے والا ہے جس نے اس استعماری تعلیمی نظام کو برصغیر میں غلامانہ ذہنیت کی نسل تیار کرنے کے لیے لاگو کیا تھا۔ جب ایک قوم ذہنی طور غلام بن جاتی ہے تو تنیجتا پھر اس کے افراد کو قید کرنے کے لیے زنجیروں یا سلاخوں کی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ استعماری نظام تعلیم ان کوذہنی طور اس طرح بالغ کرتا ہے کہ نسل در نسل پھر ان کا زاویہ نگاہ، پیمانہ اور اصول وہی بنتا ہے جس طرح استعماری طاقتیں چاہتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہماری درس گارہوں میں نصاب کے طور بچوں کو جو تعلیم و تربیت دی جاتی ہے، وہ utilitarian thought پرمبنی عقلیہ (intellect) اور نفسیہ ( disposition) بچوں میں پروان چڑھاتی ہے۔ گو کہ جس تعلیم کا مقصد بچے کی شخصیت کو ایک عظیم قالب میں ڈالنا تھا، وہ اٌلٹا اسے مفاد پرستی کی بھٹی میں جھونک دیتی ہے۔ ایسی شخصیت ہر آن خود غرضی اور اپنے فائدے کی تاک میں رہتی ہے۔ کیونکہ علم کے نام پر جو تاریکی اس کے دل و ذہن میں اتاری جاتی ہے اس میں اس کا فطری نور بھی دفن ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے وہ خدمت خلق تو دور کی بات اپنے ماں باپ اور اساتذہ کی خدمت کرنا بھی گوارا نہیں کرتا۔

مزید برآں مغرب کی سیکولر ثقافتی اور فکری غلامی نے تعلیمی نظام کو ہی نہیں بلکہ اس عظیم منصب کو بھی نشانہ بنایا۔ چناچہ دوران تعلیم بچے کے ذہن، نفسیات اور فطرت پر کتابوں سے زیادہ معلم کے برتاؤ کا اثر رہتا ہے تو اسی امر کو مد نظر رکھ کر اس شخصیت کی ذمہ داریوں پر توجہ دی گئی. مثلاً اگر کوئی استاد آج کسی شاگرد پر ہاتھ اٹھاتا ہے تو اس پر استاد کے خلاف کیس درج کیا جاتا ہے۔ اکثر ماں باپ یہ نہیں سوچتے کہ بچے کی شخصیت سے کسافت اور لچر پن دور کرنے کے لیے نرمی کے ساتھ ساتھ سختی فطرتاً لازمی ہے۔ سکے کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ بہت سے استاد اپنی ذمہ داریوں سے اخلاقی طور پیش نہیں آتے۔ استاد کے لیے شاگرد ایک ریوڑ کی طرح ہوتے ہیں جس میں نابرابری کا تصور ناقابل برداشت ہے۔ لیکن ایسا بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ بہت سے استاد اثر و رسوخ والی شخصیات کے بچوں کی غلطیوں کو نظر انداز کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے مخصوص برتاؤ سے پیش آتے ہیں اور جو حق دوسرے بچوں کا ہوتا ہے وہ بھی غیر منصفانہ طور پر انہیں ہی دیاجاتا ہے۔ یہ ناانصافی اور نابرابری کا وہ پہلا نقش ہے جو ایک نااہل اور کرپٹ استاد کی شخصیت سے کمسن بچوں کے ذہنوں پر بٹھاتا ہے۔

امت کی موجودہ فکر پستی کے دوران ان اساتذہ کا بھی فقدان ہے جو پڑھانے کے والے اسباق کو اسلامی فکر، زاویہ اور اصول کے مطابق حالات اور مسائل کے ساتھ جوڑکر شاگردوں میں اسلامی نقطہ نظر سے تجزیاتی اور تنقیدی شعور پروان چڑھائیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا مسلمان سکالر جب کالج اور یونورسیٹی سے فارغ ہوتا ہے تو وہ اپنے سبجیکٹ کو پریکٹیکل لائف میں استعمال نہیں کرپاتا کیونکہ اس کا حاصل شدہ علم محض معلومات کا ایک زخیرہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس یہ ایک مخصوص فکر ہی ہے جس کے ذریعے معلومات کے اس ذخیرے کو حالات کے مطابق قابل عمل بنایا جائے۔

پس اس وقت کے استاد کے افکار اور مفاہیم وہی میکالے والے ہیں جو کہ اسلامی معاشرے کے جذبات اور احساسات سے یکسر متضاد ہیں۔ اسی امر کو مد نظر رکھ کر نوے کی دہائی میں اس تضاد کو ختم کرنے کے لیے امریکا نے سوشل انجینیرنگ کے نام پر الٹا مسلمانوں کے معاشرتی ڈھانچے کو ہی نشانہ بنانا شروع کیا۔بنابریں اس پر کوئی تعجب نہیں کہ استعمار کے موجودہ تعلیمی نظام سے اساتذہ اسلامی شخصیات پیدا نہیں کرسکتے۔ بلکہ اس کا مقصد تو مسلمانوں کومغربی سوچ کا علمبردار بنانا ہے۔ اور آج سیکولرائزیشن کو ریاستی سطح پر مزید فروغ دیا جارہا ہے تاکہ مسلمان اسلام سے اور دور ہوں۔ کثیر تعداد میں ایسی اسلامی شخصیات پیدا کرنا جو آنے والے اسلامی نظام کو بہترین اور دائمی طور پر چلا اور اسے دنیا کے سامنے پیش کرسکیں، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کا اہتمام ریاست کی طرف سے ہو۔

اسی لیے اسلام سے مخلص اساتذہ کے لیے اسلام کی تعلیمی پالیسی کو جاننا ازحد ضروری ہے، تاکہ وہ مقصد پورا ہوسکے۔ انہی اصولوں پر آنے والی ریاست خلافت کا تعلیمی نصاب بھی تشکیل دیا جائے گا اور اسلام کے دوبارہ نفاذ تک اسلام سے محبت کرنے والے استاد کے لیے یہ لازمی بنتا ہے کہ وہ خود کو اسلام کی اس گہری فکر اور اس فکر سے پھوٹنے والے افکار اور مفاہیم سے خود کو لیس کرکے امت کے آنے والے مستقبل کو اس اندھیرے سے روشنی کی طرف گائیڈ کرنے کی سعی و جدوجہد جاری رکھیں. بالکل اسی طرح جس طرح مکہ کے محمدﷺ نے عرب کے جاہل معاشرے کو اندھیرے سے نور کی طرف مسلسل گائیڈ کیا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */