6 ستمبر یوم دفاع اور 7 ستمبر یوم ختم نبوتؐ - میر افسر امان

6ستمبر 1965ء کی صبح کو جب بھارت نے پاکستان پر زمینی حملہ کیا تو پاکستانی فوج نے اس حملے کو پسپا کردیا۔ لاہور کے لوگوں نے اپنی فضاؤں میں بھارتی جہازوں کو پتنگوں کی طرح کٹتے دیکھا۔سیالکوٹ محاذ پر ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی میں پاکستان نے کامیابی حاصل کی۔ بھارتی ٹینکوں کے سامنے پاکستانی فوج کے جوانوں نے لیٹ کر بھارتی ٹینکوں کو تباہ کیا۔بھارتی تباہی کو دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

بھارتی فوج کے سربراہ نے تکبر سے بیان دیا تھا کہ کل لاہور کے جمخانے میں شراب کی محفل سجائیں گے۔ ایوب خان نے اس تکبر کے جواب میں کلمہ لا الہ الااللہ پڑھ کر بھارت کو للکارا تھا کہ تم نے کس قوم سے پنگا لیا ہے۔ لاہور کے محاذ پر، سیالکوٹ کے محاذ پر، سمندری محاذ پر اور فضائی محاذ پر بھارت نے شکست کھائی تھی۔ کھیم کرن،جھم جوڑیاں پر بری فوج نے قبضہ کیا۔ بھارتی فضائوں میں ایم ایم عالم پاکستانی فضائی فوج کے جوان کا راج تھا۔ ایک منٹ میں پانچ بھارتی طیارے تباہ کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ سمندر ی محاذ پر پاکستان کی بحری فوج نے بھارت کے بحری اڈا’’ دوارکا‘‘ کو تباہ کیا۔ اسی فتح کی یاد میں پاکستانی قوم 6 ستمبر کو مناتی ہے۔ سترہ روزہ پاک بھارت جنگ کے بعد تاشقند جنگ بندی معاہدہ ہوا۔ لال بہادر شاستری بھارتی وزیر اعظم نے بھارت کی شکست کے غم میں وفات پائی۔اب بھارت نمک خوار پاکستانی سیکو لر صحافی اس فتح کو شکست لکھتے ہیں۔ شرم مگر ان کو نہیں آتی!

اب بھی بھارت میں نازی اور ہٹلر کی قومی برتری کی سوچ رکھنے والا، گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والا دہشت گرد، آر ایس ایس دہشت گرد تنظیم کا بنیادی رکن، بھارتی وزیر اعظم نریدرا مودی ہے۔ بھارتی قوم کو ہندتوا کے نام پر پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑنے پر تیار کیا ہوا ۔ پاکستان کے علاقہ بالا کوٹ پر فضائی حملہ بھی کیا۔ کہا کہ 350 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ مگر جب پاکستانی اوربین الاقومی میڈیا بالاکوٹ گیا اور دنیا کے سامنے رپورٹ پیش کی۔ کہابھارت سفید جھوٹ بول رہا ہے۔ بالا کوٹ میں کوئی دہشت گردی کا ٹرینیگ کیمپ نہیں تھا۔نہ ہی وہاں کوئی عمارتیں ہیں جو تباہ ہوئی ہوں۔ہاں! وہاں ایک گھڑے میں مرا ہوا کوّا دیکھا گیا۔ کچھ چھیڑ کے درخت تباہ شدہ تھے۔

بھارت کے پیسے پر پلنے والے قائد اعظمؒ کے دو قومی نظریہ کے مخالف، پاکستان کے کچھ سیکولر اور لبرل صحافی اور سیاست دان، ۱۹۶۵ء کی پاکستانی فتح کو بھی جھوٹ کے سہارے پاکستان کی شکست قرار دیتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے یہ قائد اعظمؒ کو سیکولر ثابت کرنے کی ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہتے ہیں۔مگر پاکستان میں قائد اعظمؒ کے دو قومی نظریہ کے سچے محافظ اور قائد اعظمؒ کے شیدائی موجود ہیں۔جنہوں نے پہلے پاکستان کی سیاست، تعلیم اور مزدور فلیڈ سے کیمونسٹوں کاصفایا کیا تھا۔ کیمونزم سے توبہ تائب ہوکر اب یہ سیکولر اور لبرل بن گئے ہیں۔ یہ قائد اعظمؒ کے دو قومی نظریہ کی مخالفت پر کمر بستہ ہیں۔ ان شاء اللہ! اب بھی دلیل کی بنیاد پر پاکستانی سیاست سے ان سیکولروں اور لبرلوں کا بھی صفایا کردیں گے.

اب آتے ہیں یوم ختم بنوت کی طرف۔ پوری دنیا میں 7 ستمبر کو مسلمان یوم ختم نبوتؐ مناتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم پاکستان کے دور میں قادیانیوں کو پارلیمنٹ نے غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔ مسلمانوں کے اندر ایک شخص کاذب، مرزاغلام احمد نے انگریزوں کی اشیر آباد پر جھوٹی نبوت کا دعوی کیا۔

دنیا کے پونے دو ارب مسلمانوں کو کافر قرار دیا۔ اپنے چند لاکھ پیروکاروں کو مسلمان کہا۔ جو اس کی بنوت نہ مانے، ان کے لیے انتہائی نامناسب الفاظ استعمال کیے۔ مسلمانوں کے سارے مقدس ناموں اور اسلامی شعار کو اپنے لیے مخصوص کرلیا۔ مسلمانوں نے اس پر احتجاج کیا۔ عجیب ٹھگی ہے کہ ایک کاذب شخص نبوت کا دعوی کرے۔ مسلمانوں کے شعار پر ڈھٹائی اور ٹھگی سے قبضہ کر لے۔جنرل ضیاء الحق کے دور میں انہیں مسلمانوں کے شعار استعمال کرنے سے قانونی طور پر روک دیا گیا۔ اس دن سے قادیانی بنیادی حقوق کی رٹ لگاتے ہیں۔ امریکا سمیت سارے ان کی حمایت میں اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ پاکستان کی ہرحکومت پر دبائو ڈال کر ان قوانین کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان بننے سے پہلے اپنے مخصوص عزاہم کے لیے انگریز نے ملک کے اہم عہدوں پر ان کو تعینات کیا تھا۔

ان حالات میں7 ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان کی پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔ قادیانی پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے۔ اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت بھی نہیں مانتے۔ بلکہ سارے مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں اور خودکو مسلمان مانتے ہیں، عجیب ٹھگی ہے ۔ کاذب مرز غلام احمد نے اپنی کتابوں میں انگریزوں کی تحریفوں کے پل باندھے ہیں۔ اللہ پاکستان کو سازشوں سے بچائے آمین۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */