انوکھی عبادت - ام محمد عبداللہ

عبداللہ ماشا۶اللہ دس سال کا ہو چکا تھا۔ وہ پابندی سے نماز پڑھتا اور صبح فجر کی نماز کے بعد تلاوت قرآن پاک بھی اس کے معمول کا حصہ تھی۔ لیکن ہر روز کی طرح اس نے اس وقت بھی تلاوت کرنے کے بعد جلدی سے قرآن پاک غلاف میں لپیٹا اور اسے الماری میں رکھنے چل دیا۔

”عبداللہ بیٹے! تلاوت کے بعد ذرا ٹھہر کر دعا بھی مانگا کرو۔“ روز کی طرح اس کی امی نے اسے آج بھی سمجھایا جسے نظر انداز کرتا وہ اپنے چوزوں کے ساتھ کھیلنے لگا۔”عبداللہ بیٹے! میں دیکھتا ہوں مسجد میں جیسے نماز ختم ہوتی ہے آپ دوڑ کر گھر آ جاتے ہیں اور تلاوت کے بعد بھی امی کے سمجھانے کے باوجود دعا نہیں مانگتے۔ ایسا کیوں؟“ بابا جانی اپنا کام چھوڑ کر عبداللہ کے قریب آن بیٹھے تھے۔

” ہمیں تو عبادت کے لیے بنایا گیا ہے نماز پڑھ کر اور تلاوت کر کے میں نے عبادت تو کر لی۔ اب دعا مانگنے کا کیا فاٸدہ؟“ عبداللہ بدستور اپنے چوزوں کو دانہ کھلا رہا تھا۔ اس کی بات سن کر بابا جانی مسکراٸے اور کہنے لگے۔ ” میرے پیارے عبداللہ! ہمارے پیارے رسول خاتم النبیینﷺ نے فرمایا ہے دعا بھی عبادت ہے۔”دعا بھی عبادت ہے؟“ عبداللہ کو حیرت ہوٸی۔ ”بابا جانی میں نے نٸی ساٸیکل کے لیے بہت دعا کی تھی لیکن مجھے نٸی ساٸیکل نہیں ملی۔ میری دعا قبول نہیں ہوٸی۔“ اس نے افسردگی سے کہا۔”نہیں بیٹے اللہ تعالی فرماتے ہیں۔ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاوں کو قبول کروں گا۔ لیکن دعا کی قبولیت کی تین مختلف صورتیں ہیں اللہ تعالی اپنے بندے کی دعا قبول فرما لیتے ہیں یا اس کے لیے آخرت میں ذخیرہ کر دیتے ہیں اور یا اس جیسی کوئی برائی اس سے ٹال دیتے ہیں۔“

”بابا جانی! پھر تو میں دعا ضرور مانگوں گا۔“ عبداللہ نے خوش ہو کر کہا۔ ”جی اور یہ بھی آپ کی عبادت لکھی جاٸے گی اور آپ کو ثواب بھی ملے گا۔ ان شا۶ اللہ“ ” ان شا۶ اللہ۔“بابا جانی کے سمجھانے پر عبداللہ نے بھی جوش سے ان شا۶ اللہ کہا تھا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */