کارروانِ زندگی، مختصر تاثرات - عاصم رسول

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے

تھامس کارلائیل (Thomas Carlyle) نے بالکل بجا فرمایا ہے کہ: ’’The history of world is but the biography of greatmen‘‘’’دنیا کی تاریخ بڑی شخصیتوں کی سوانح حیات ہی ہوتی ہے‘‘۔ عظیم دانش ور، مؤرخ و سوانح نگار، مرشد و رہنما ،مجدد و امام، عالم و داعی ، مفسر و ادیب ، مفکر اسلام مولانا سیدابو الحسن علی ندویؒکی علمی، فکری، ادبی ، تصنیفی، تحقیقی، ملی و سماجی ، دینی و روحانی خدمات کا احاطہ ایک مضمون میں کرنا ناممکنات میں سے ہے۔ اس عظیم المرتبت شخصیت پر عربی، اردو اور انگریزی زبانوں میں بلا مبالغہ سینکڑوں کتابیں اور ہزاروںمقالات لکھے جاچکے ہیں اور یہ سلسلہ تاہنوذ جاری ہے۔ اس مضمون میںراقم سطورصرف اپنے احساسات کو الفاظ کا جامہ پہنانا چاہتا ہے جوتاثرات و احساسات مفکر اسلام ؒکی خود نوشت سوانح حیات ’’کاروان زندگی ‘‘کے مطالعہ کے دوران دل پر مرتسم ہوئے۔زیر نظر کتاب پڑھتے ہوئے جو پہلا نقش میرے دل پر قائم ہواوہ یہ کہ ایک متحرک ، فعال اور بھر پور زندگی آپ کے آنکھوں کے سامنے گردش کرتی ہے۔

رسول کریمﷺ کی مبارک زندگی جہدِ مسلسل کی داستان ہے ۔ نبوت کے ۲۳ سال میں ہمارے لیے یہ اسوہ ہے کہ مومن کبھی کسل مندی، غفلت ، سستی اور اپنی ہی دنیا میں مگن ہونے والی زندگی نہیں گزار تا بل کہ ایک ایک لمحہ اللہ کی راہ میں جدوجہد کرتے ہوئے گزاردیتا ہے۔ اسی چیز کی عکاسی آپ کو مولانا علی میاںؒ کی سوانح میں ملتی ہے جہاں ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں والی چھاپ دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس تناظر میں علی میاں ؒکی پوری زندگی اسوہ رسول ﷺ کی تتبع میں گزری کہ ایک ایک سانس اللہ کی رضامندی کے کاموں میں گزاردی۔کبھی آپ دائرہ شاہ علم اللہ یا تکیہ کلاں میں مطالعہ ، تصنیف و تالیف میں مصروف دکھائی دیتے ہیں ، کبھی لکھنو کے مضافات میں دعوت و تبلیغ کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں ، کبھی آپ مسلم پرسنل لاء کے اجلاسوں اور میٹنگوں میں مسلمانِ ہند کے اسلامی تشخص کو قائم رکھنے کی جدوجہد کررہے ہیں تو کبھی’ پیام انسانیت‘ کے اسٹیج سے ابنائے وطن کو اسلام کے حیات بخش پیغام سے متعارف کروا رہے ہیں۔ کبھی رابطہ ادبِ اسلامی کے فورم پر یہ عجوبۂ روزگار شخصیت ادب کو اسلام کے رنگ میںرنگنے کی فہمائش کررہی ہے تو کبھی رابطہ عالم اسلامی کے پروقار اور مقتددکانفرنسوں میں مسلمان ممالک کو ایک لڑی میں پرونے کی سعی بلیغ کررہی ہے۔قاری کو اس جہاں دیدہ اور جہانِ دیدہ شخصیت کی متحرک زندگی کی لافانی سرگزشت ’کاروان ِزندگی‘ کے ورق ورق میں پڑھنے کو ملتی ہے۔ مثال کے طور پر مولانا علی میاں ندویؒ ایک جگہ رقم طراز ہیں:

’’۲ ستمبر کو ترکی، یورپ، امریکہ اور حجاز مقدس کے سفر سے جب واپسی ہوئی تو سفری تکان، جمع شدہ ڈاک اور لکھنؤ اور رائے بریلی کے قیام کی مصروفیتوں اور ضرورتوں نے اس ارادہ اور فیصلہ میں تردد پیدا کردیا، اس درمیان مدت میں ضلع اعظم گڑھ کا سفر پیش آیا جو کار کے ذریعہ ہوا، وہاں مظفر پور(ضلع اعظم گڑھ) میں واقع عزیزگرامی مولوی تقی الدین ندوی کے قائم کردہ مدرسہ کے جلسہ میں شرکت کی جو ایک چھوٹی کار کے ذریعہ ہوا، سڑکیں خراب اور بعض جگہ شکستہ تھیں، پھر بذریعہ کار مئو جانا ہوا، جہاں چار پانچ پروگرام پورے کرنے پڑے وہاں رفیق عزیز مولوی سعید الرحمن ندوی کی توجہ و تعلق سے ایک اچھی کار مل گئی، پھر خاص شہر اعظم گڑھ میں دارالمصنفین کی مجلس انتظامی میں شرکت کی اور وہاں سے بذریعہ کارہی رائے بریلی واپسی ہوئی، تقریباً دو سو(۲۰۰) کلو میٹر بذریعہ کار جانا اور دوسو( ۲۰۰) کلو میٹر بذریعہ کار آنا ہوا، رائے بریلی سے سلطانپور، وہاں سے جونپور اور وہاں سے اعظم گڑھ پہنچنا ہوا تھا، مظفر پور پہنچ کر ایسا تکان اور ضعف محسوس ہوا کہ ڈاکٹر کو بلانا پڑا، انہوں نے ٹسٹ کیا اور بتایا کہ بلڑ پریشر (low) ہے اور آرام کی ضرورت ہے، اس کے باوجود جس مقصد کے لئے یہ سفر ہوا تھا اس کی تکمیل نہ کرنے سے شرم آئی اور بعد مغرب جلسہ میں شرکت بھی کی اور طویل تقریر بھی‘‘(کاروان زندگی جلد ۵ صفحہ ۲۸۵۔۲۸۶)

علی میاں ندویؒ کی سرگزست حیات کو پڑھتے ہوئے جو دوسرا تاثر قلب و ذہن پر قائم ہوا وہ یہ کہ انہوں نے آپ بیتی کے ذریعہ ۲۰ ویں صدی کی تاریخ ہمارے سامنے رکھی ہے ( واضح رہے مولانا علی میاں کی تاریخ پیدائش ۵ دسمبر ۱۹۱۳ ء اور تاریخ وفات ۳۱ دسمبر ۱۹۹۹ء ہے) ۔ لیکن جہاں انہوں نے زبردست مؤرخانہ اسلوب اختیار کیا وہیں روایت سے ہٹ کر واقعات کو صرف مرتب نہیں کیابل کہ اس عہد کے لوگوں کے مزاج ، سوچ، فکر ، ذہنی خلشوں، دلوں کی دھڑکنوںاور خاص ماحول کو بے مثال ادیبانہ طرز پر الفاط کا قالب پہنایا ہے ۔ گویا جب آپ مشاہدات و واقعات کو پڑھتے ہیں تو خود کو اسی ماحول میں پاتے ہیں اور اس دور کے سرد و گرم حالات کو ذاتی طور محسوس کرتے ہیں ۔مولانا اس بارے میں لکھتے ہیں:

’’تاریخ کے ذخیرہ پر ناقدانہ اور حقیقت پسندانہ نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ قدیم زمانہ میں زیادہ تر تاریخ کی کتابیں ’’سرکار دربار‘‘ کے گرد گھومتی تھیں، ان میں زیادہ تر حکام و وزراء کے عزل و نصب یا بڑی جنگوں اور عظیم حوادث کی روئیداد ہوتی، اس کے بعد بھی زیادہ تر تاریخ کی کتابیں ایک لگے بندھے نظام کے ماتحت واقعات نویسی پر اکتفا کرتی ہیں، اور ان کو اس لحاظ سے ’’عرفی‘‘ و اصلاحی‘‘ تاریخ کہنا زیادہ مناسب ہوگا، ان کے مطالعہ سے اس عہد اور ماحول کے لوگوں کے دلوں کی دھڑکنیں، دماغوں کی خلشیں، اور روحوں کے اضطرابات معلوم نہیں کئے جاسکتے، ان مسائل اور مصائب اور محسوس کئے جانے والے خطرات سے بھی آگاہی نہیں ہوسکتی، جنہوں سے اس عہد اور ملک کے باشعور اور صاحبِ ضمیر طبقہ کی نیند حرام کررکھی تھی۔ ۔۔یہ ’’عرفی تاریخیں‘‘ (اپنی فنی اور موضوعی قدروقیمت کے باوجود) اس دور کی ذہنی و فکری، اخلاقی و نفسیاتی اور شعوری وجذباتی عکاسی سے قاصر ہیں، نہ ان کے مصنفین نے اس کا دعویٰ کیا ہے، اور نہ وہ اس کو اپنے فرائض میں سمجھتے تھے‘‘(کارووان زندگی جلد ۴ صفحہ ۱۰۔۱۱۔۱۲) آگے اس تصنیف کے بارے میں لکھتے ہیں:’’یہ کتاب جو کوئی بڑی علمی و ادبی یا تحقیقی و تصنیفی قدرو قیمت نہیں رکھتی، بیسویں صدی عیسوی کے کم سے کم نصف ثانی میں سانس لینے والے اہم ملک (ہندوستان) اور عظیم ملت(مسلمانوں) کے حالات، جذبات و احساسات، واقعات اور واقعات کے رد عمل اور جیسا کہ کہا گیا کہ ’’دلوں کی دھڑکنوں اور دماغوں کی خلشوں‘‘ کے سمجھنے میں مددے گی، اور آئندہ کے مسلمان مورخ، یا انصاف پسند ہندوستانی مورخ کو بہت سے وہ معلومات و مواد فراہم کرے گی‘‘ (ایضاً صفحہ نمبر ۱۵)

تیسرا نقش جو میرے دل و دماغ پر ثبت ہوا وہ یہ کہ مولانا علی میاں ندویؒ میں داعیانہ تڑپ رگوںمیں خون کی طرح گردش کرتی تھی موقع ومحل کوئی بھی ہو، کانفرنس ، اجلاس و اجتماع کسی نوعیت کا بھی ہو ، مولاناؒ نے دعوت و تبلیغ کاکوئی موقع ہاتھ سے کبھی نہیں جانے دیا۔ عوام کو زندگی کی حقیقت سے روشناس کراتے رہے، عقیدہ ٔ توحید، رسالت ، اخرت اور نیک اعمال کا جذبہ عوام میں پیدا کرنے میں کسی قسم کا دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ اس سرگزشت حیات میں جہاں علی میاں ؒ نے ذاتی زندگی کے احوال، میٹنگوں ، کانفرنسوں ، اجلاسوں اور اسفار کی روداد سنائی ہے وہیں اہم دینی، دعوتی، فکری ، اصلاحی ، سماجی ، سیاسی اور علمی تقاریر سے بھی کتاب کو زینت بخشی ہے اور کتاب کے ساتوں حصے ان اصلاحی اور دعوتی تقاریر سے بھرے پڑے ہیں۔مشتے نمونے از خروارے کے طورچند اقتباسات پیش خدمت ہیں۔ مولانا علی میاںؒ کا جب بحیثیت ناظم ندوۃ العلماء کا انتخاب ہوا تو ندوہ کی مالی حالت کافی خراب تھی تو اس سلسلہ میں۱۹۶۱ میں وہ کویت مالی امداد کے لیے گئے اور امدادی تعاون کی بات کو مختصر کرکے لوگوں کی اصلاح اور دعوت دین کی طرف یوں متوجہ ہوئے :’’اگر کفارِ قریش موجودہ مسلمانوں کی حالت کو دیکھ لیں، تو سخت احتجاج کریں کہ ہمیں اس کا ہرگز اندازہ نہ تھا کہ مسلمان طالبِ دنیا و ریاست بن جائیں گے، ہم سے جنگ تو صرف ایک مخصوص دعوت، عقیدۂ توحید اور ایک نئی سیرت اور طرزِ زندگی کی بنیاد پر تھی، اگر مسلمانوں کو یہی کرنا تھا تو ہم نے پہلے ہی اس کی پیش کش کردی تھی، مگر اس کو ٹھکرادیا گیا‘‘ (کاروان زندگی جلد ۱ صفحہ ۴۷۰)

۱۹۸۰ میں قیصر باغ لکھنو کی سفید بارہ دری میں ’پیام انسانیت ‘ کے ایک جلسہ میں مولانا نے تقریر میں فرمایا:’’اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا (اللہ ان پر عذاب بھیجنے والا نہیں اس حالت میں کہ آپ ان میں موجود ہیں) ہم اس رسول ؐ کی امت ہو کر جس کو رحمۃللعالمین کا خطاب دیا گیا ہے اور جس کا وجود عذاب الٰہی کے لئے مانع تھا، کسی ملک میں موجود ہوں اور ۸ کروڑ اور ۱۰ کروڑ کی تعداد میں ہوں، اور وہاں ایسے واقعات دن رات پیش آرہے ہوں جو خالق کائنات کو ناراض کرنے والے اور اس کے ہولناک نتائج کا پیش خیمہ ہوں، یہ بات مسلمانوں کی اس ذمہ داری کے ساتھ میل نہیں کھاتی جو ان کے دین، ان کے اسلاف اور ان کی تاریخ نے ان کے سپرد کی ہے، ہم اس نبی ؐکی امت ہیں جس نے عربوں کی دختر کُشی کی رسم اس طرح مٹائی کہ اگر سیر ت و تاریخ نہ ہوتی تو کوئی یہ بھی نہ جانتا کہ عربوں کے یہاں کس دور میں یہ ظالمانہ رسم تھی ‘‘(کاروان زندگی جلد ۲ صفحہ ۱۲۷)

۱۴ اکتوبر ۱۹۸۲ کوحیدآباد میں جمیل الدین خان ایڈوکیت کے دولت خانہ پر علمائے کرام، فضلائے مدارس اور دینی اداروں اور تنظیموں کے سربراہوں کے سامنے ایک پُر تاثیر تقریر میں مولانا نے فرمایا: ’’آپ اگر مسلمانوں کو سو فی صدی تہجد گزار بنادیں، سب کو متقی و پرہیزگار بنادیں لیکن ان کا ماحول سے کوئی تعلق نہ ہو، وہ یہ نہ جانتے ہوں کہ ملک کدھر جارہا ہے، ملک ڈوب رہا ہے، ملک میں بداخلاقی، وبا اور طوفان کی طرح پھیل رہی ہے ملک میں مسلمانوں سے نفرت پیدا ہورہی ہے تو تاریخ کی شہادت ہے کہ پھر تہجد تو تہجد پانچ وقتوں کی نمازوں کا پڑھنا بھی مشکل ہو جائے گا‘‘(ایضاً صفحہ نمبر ۳۷۳)

۱۹۹۲ میں مسلم پرسنل لاء بورڑ کے ایک اجلاس میں صدارتی خطاب کے دوران نکاح کی حکمت اور اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا علی میاں گویا ہوئے:’’عقد اور نکاح کیا ہے؟ یہ بھی ایک مہذب اور مبارک سوال ہے، ایک شریف خاندان نے ایک دوسرے شریف خاندان سے سوال کیا کہ ہمارے نورِ عین اور لختِ جگرکو رفیقہ حیات کی ضرورت ہے، اس کی زندگی نامکمل ہے، اس کی تکمیل کیجئے، دوسرے شریف خاندان نے اس سوال کو خوشی سے قبول کیا، پھر وہ دونوں اللہ کا نام بیچ میں لاکر ایک دوسرے سے مل گئے اور دو ہستیاں جو کل تک ایک دوسرے سے سب سے زیادہ بے گانہ، سب سے زیادہ اجنبی اور سب سے زیادہ دور تھیں، وہ ایسی قریب اور یگانہ بن گئیں کہ ان سے بڑھ کر یگانگت اور قرب کا تصور بھی نہیں ہوسکتا، ایک کی قسمت دوسرے سے وابستہ اور ایک کا لطف و انبساط دوسرے پر منحصر ہوگیا، یہ سب اللہ کے نام کا کرشمہ ہے، جس نے حرام کو حلال، ناجائز کو جائز، غفلت و معصیت کو طاعت و عبادت بنادیا اور زندگیوں میں انقلاب عظیم برپا کردیا، اللہ فرماتا ہے کہ اب اس نام کی لاج رکھنا، بڑی خود غرضی کی بات ہوگی کہ تم یہ نام درمیان میں لاکر اپنی غرض پوری کرلو اور کام نکال لو، پھر اس پُرعظمت نام کو صاف بھول جائو، اور زندگی میں اس کے مطالبات پورے نہ کرو، پھر فرمایا کہ ہاں رشتوں کا بھی خیال رکھنا، اس رشتہ سے قدیم رشتوں کا دور اور ان کے حقوق ختم نہیں ہوجاتے اور اگر کسی دل میں یہ خیال آئے کہ ایسی باتوں کی کون نگرانی کرے گا، اور کون ہمیشہ ساتھ رہے گا تو فرمایا’’اللہ تعالیٰ دائمی نگراں اور محاسب ہے‘‘(کاروان زندگی جلد ۵ صفحہ ۲۶۲۔۲۶۳)

مولانا علی میاں ندویؒ ایک ہشت پہل ہیرے کے مانند تھے ان کی زندگی کے مختلف الجہات پہلو ہیں۔ ان کا ایک نمایاں اور خاص وصف یہ تھا کہ وہ بلند پایہ ادیب اور انشاء پرداز تھے۔ یہی وجہ ہے کہ زیر نظر کتاب کی ادبی حیثیت بام ِ عروج کو پہنچی ہوئی ہے۔ اس کتاب کے ایک ایک لفظ اور ایک ایک فقرے پرباذوق قاری عش عش کرنے لگتا ہے ۔ دل چاہتا ہے کہ کتاب کے ایک ایک جملہ کو اپنے رگ و پے میںجاں گزیں کردے۔ مولانا علی میاں رابطہ ادب اسلامی کے موسس بھی تھے اور ادب ِ اسلامی کے حوالے سے ان کی خدمات آب ِزر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ اس کتاب کا کوئی بھی حصہ پڑھیے ادبی چاشنی محسوس کیے بنا نہیں رہ سکتے۔ پروفیسر وصی احمد صدیقی صاحب مولانا علی میاں ندویؒ پر مجلہ تعمیر حیات کے خصوصی شمارہ میں اپنے مضمون میں لکھتے ہیں ’’ حضرت مولاناؒ کی تحریر اتنی دلکش کیوں ہوتی ہے اور کیوں لوگوں کے احساسات کو چھوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کسی تحریر میں مجرد افکار ہوں یا خالص حقیقتوں کا بیاں ہو تو گو وہ ایک علمی تحریر ہوگی مگر اثر ڈالنے والی نہ ہوگی۔ مولاناؒ کا بیان ِ حقیقت جذبات کی شکل میں دل میں ورود کرتا ہے۔مولانا کی زبان کی ہم آہنگی اس درجہ کی ہے کہ اس سے اونچا درجہ تخیل میں نہیں آتا‘‘۔مولانا کی خود نوشت سرگزشت حیات ایک ادبی گلستان ہے جہاں آپ کو ادبی شگوفے کھلے ہوئے نظر آئیں گے۔ دار المصنفین کی طرف سے ۱۹۸۱ میں ایک سیمی نار میںمولانا نے ادب پر ایک لاجواب تقریرکی جس کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

’’ادب ادب ہے خواہ وہ کسی مذہبی انسان کی زبان سے نکلے، کسی پیغمبر کی زبان سے ادا ہو یا کسی آسمانی صحیفہ میں ہو، اس کی شرط یہ ہے کہ بات اس انداز سے کہی جائے کہ دل پر اثر ہو، کہنے والا مطمئن ہو کہ میں نے بات اچھی طرح کہہ دی، سننے والا اس سے لطف اٹھائے، اور اس کو قبول کرے، حُسن پسندی تو یہ ہے کہ حسن جس شکل میں ہو اسے پسند کیا جائے، بلبل کو آپ پابند نہیں کرسکتے کہ اِس پھول پر بیٹھے اْس پھول پر نہ بیٹھے، یہ کہا کا حسن مذاق اور کہاں کی حق پسندی ہے کہ اگر گلاب کا پھول کسی میخانہ کے صحن میں اس کے زیر سایہ کھلے تو وہ گلاب ہے، اور اس سے لطف اٹھایا جائے اور اگر کسی مسجد کے چمن میں کھل جائے تو پھر اس میں کوئی حسن نہیں؟کیا یہ جرم ہے کہ اس نے اپنے نمود اور اپنی جلوہ نمائی کے لئے مسجد کا سہارا لیا؟ بقول اقبال ؒ

حسن بے پروا کو اپنی بے نقابی کے لیے

بن اگر شہروں سے پیارے ہوں توشہر اچھے کہ بن؟

ہمیں حُسن بے پروا سے مطلب ہے کہ شہر و صحرا سے؟ لیکن ادب کے ساتھ یہی معاملہ کیا گیا۔‘‘(کاروان زندگی جلد ۲صفحہ ۳۳۱۔۳۳۲)ایک اور چیز جس نے مجھے متاثر کیا وہ یہ کہ یہ ایک ایسے شخص کی سرگزشت ِحیات ہے جو دینی حمیت و غیرت سے متصف ہے۔ یہ شخص اپنے دور کے طاقت ور حکم رانوں ، بادشاہوں اور امراء و وزراء کے ساتھ بالمشافہ ملاقات بھی کرتا ہے اور خطوط بھی لکھتا ہے، جن میں جرأت و نڈرتا سے ان کی غلط پالیسیوں پر ان کو ٹوکتا ہے اور حقیقی صورت حال کی طرف ان کی توجہ مبذول کرواتا ہے۔ پھرچاہے وہ عرب و امارات کے بادشاہ ہوں یا پھر اپنے ملک کے صدور و وزرائے اعظم یہ لومۃ لائم کی پروا کیے بغیر احقاق حق کا فریضہ انجام دیتا رہا۔ مولانا علی میاں ندوی ؒ استغنیٰ کے پیکر دکھائی دیتے ہیں کسی لمحہ بھی مرعوبیت سے کام نہیں لیا بل کہ اپنے مافی الضمیر کا اظہار ڈنکے کی چوٹ پر کیا ۔ اور یہی بے باقی تھی اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے دلوں پر اس شخصیت کا رعب بٹھایاتھا۔ بہ ہر حال مولاناعلی میاں ندویؒ کی ’آپ بیتی‘ سات ضخیم جلدوں اور ہزاروں صفحات پر پھیلی ہوئی ہے ۔ اس کا پہلا حصہ اٹھارہ ابواب پر مشتمل ہے۔ اس میں مصنف نے پیدائش(۱۹۱۳) سے لے کر۱۹۶۵ء تک کے حالات و واقعات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔

ابتدائی تعلیم اور شیخ خلیل عرب اور دوسرے اساتذہ سے استفادہ اور عربی زبان و ادب سے اپنی دل چسپی اور بعد میں اپنی بعض تصانیف اور شخصیات، تحریکات سے تعلق پر تفصیل سے لکھا ہے۔ کاروان زندگی کی پہلی جلد کمیت اور کیفیت دونوں اعتبار سے باقی چھ جلدوں پر فوقیت رکھتی ہے۔دوسری جلد ۱۹۶۶ ء سے لے ۱۹۸۳ تک کے حالات و وقعات اور ملکی و غیر ملکی اسفار پر مشتمل ہے۔تیسری جلد ۱۹۸۴ ء سے ۱۹۸۷ء کے حالات و واقعات پر مشتمل ہے۔ چوتھی، پانچوی، چھٹی اور ساتویں جلدیں بالترتیب ۱۹۸۸ سے لے کر ۱۹۹۰تک، ۱۹۹۱ء سے ۱۹۹۳ء ، ۱۹۹۴ء سے ۱۹۹۶ء تک اور ۱۹۹۷ء سے جولائی ۱۹۹۹ء کے حالات، حوادث اور واقعات ، احساسات و تاثرات پر مشتمل ہیں۔ اور بقول مصنف یہ کتاب ایک دلچسپ و سبق آموذ’’آپ بیتی ‘‘ اور ایک مؤرخانہ و حقیقت پسندانہ ’’جگ بیتی‘‘ بن گئی ہے ۔یہ سرگزشت حیات جہاں قاری کو مولانا کے عقیدہ، نظریہ، سوچ، فکر، مؤقف، منہج، اور طریقہ کار کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے وہاں پوری ایک صدی ملی، دینی، علمی اور تہذیبی تاریخ بھی نگاہ سے گزرتی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */