شوگر کنٹرول کرنے کا آزمودہ نسخہ، ایک ذاتی تجربہ - جویریہ ساجد

پچھلے دنوں ایک پوسٹ پہ کمنٹ کیا کہ علاج بالغذا سے ہم نے امی کی شوگر کنٹرول کی جو تمام دواؤں اور انسولین کے باوجود 350 سے 450 کے درمیان رہتی تھی. اب بغیر انسولین کے 150 سے اوپر نہیں جاتی بحکم اللہ. جس پہ کئی دوستوں نے اس ٹاپک پہ تفصیل سے لکھنے کا کہا تاکہ باقی لوگ بھی مستفیض ھو سکیں۔

سب سے پہلے تو میں آپ سب کو یہ بتا دوں کہ نہ تو میں ڈاکٹر ھوں نہ کوئی غذائی ماہر، جو کچھ لکھوں گی اپنے ذاتی مشاہدے سمجھ بوجھ اور تجربے کی بنا پہ لکھوں گی. آپ کا متفق ھونا یا آپ کو یہ سب ٹپس سوٹ کر جانا ضروری نہیں۔

میری امی کو 2005 سے شوگر اور ھائی بلڈ پریشر کی شکایت ایک ساتھ شروع ھوئی۔ شروع میں تو واک کے ذریعے اور دواؤں سے کافی حد تک معاملات کنٹرول میں رہے لیکن پھر عمر کے ساتھ گھٹنوں میں درد کی وجہ سے واک ختم ھوگئی اور شوگر بے قابو۔ پچھلے 2 سال سے تو شوگر اپنی آئی پہ آگئی اور مستقل بسیرا 350 سے اوپر رکھ لیا۔ اکثر و بیشتر 450.

ڈاکٹر بدل لیے، دوائیاں بدل لیں، انسولین بدل لی، لیکن کوئی فرق نہیں پڑا۔ یہاں تک کہ امی کو ہارٹ کا مسئلہ ہونے لگا۔ بلڈ پریشر نارمل مگر شوگر ہائی. رات سوتے ہوئے اچانک سینے اور بازو میں شدید درد گلے میں کھنچاو وغیرہ اور ایسے میں جب بھی چیک کی شوگر انتہائی ہائی. زبان کے نیچے رکھنے والی ٹیبلٹ بعض مرتبہ 4 سے زیادہ بار بھی رکھنی پڑتیں۔ پھر یہ درد روزانہ کی بنیادوں پہ ہونے لگا تو ہارٹ کا مکمل چیک اپ کروایا جس میں فوری انجیو گرافی تجویز کی گئی۔
نومبر میں انجیوگرافی بھی کروا لی۔

اس سے پہلے کہ سرجری کی طرف جاتے، اللہ کی طرف سے علاج بالغذا پہ کافی مواد سامنے آتا گیا اور انڈیا کے ایک ڈاکٹر کی وڈیو نے تو سوچ ہی الٹ دی۔

جب اس نہج پہ یعنی علاج بالغذا پہ سوچنا شروع کیا، گوگل کھنگالا اور اللہ کا نام لے کےعمل کیا تو بہت تھوڑے عرصے میں اب امی کی شوگر 150 سے اوپر نہیں جاتی۔ زیادہ تر شوگر کم ہونے کی شکایت ہونے لگی ہے تو اب بتدریج انسولین چھوڑی ہے اور ڈاکٹر سے دوائیاں بھی ایڈجسٹ کروائی ہیں، الحمدللہ.

علاج بالغذا میں جو باتیں ہمیں سمجھ آئیں اور جن پہ ہم نے عمل کیا وہ شئیر کررہی ہوں۔

1. سب سے پہلے تو اپنے معدے پہ توجہ دینے کی ضرورت ہےجن کا معدہ صحیح کام کرتا ہے، وہ ہی غذا سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ امی کو معدے میں تیزابیت کا اچھا خاصا مسئلہ تھا۔ اس کے لیے الگ سے دوا لے رہ تھیں پر مسئلہ جوں کا توں. ہم نے علاج کو معدے کے علاج سے شروع کیا.

معدے کا پہلا علاج یہ ہے کہ اس پہ استطاعت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے.

دوسرا علاج یہ ہے کہ اسے ٹھنڈا رکھا جائے.

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنی روزمرہ کی غذا کا جائزہ لیا جائے اور جانا جائے کہ ہماری ورکنگ کے حساب سے ہمارے معدے کے لیے کون سی غذائیں ثقیل ہیں، کون سی مناسب؟ کچھ غذائیں چھوڑنی پڑیں، کچھ کے ان ٹیک ٹائم میں ردوبدل کیا، کچھ کی فارم میں۔ مثلا امی عرصہ دراز سے رات کو دودھ کا ایک گلاس لینے کی عادی تھیں۔ آدھا دودھ پی لیا، آدھا ساتھ رکھ لیا کہ رات کو جب بھوک لگے گی تو پی لیں گی کیونکہ شوگر والوں کو بھوک زیادہ لگتی ہے۔ دودھ رات کے وقت ویسے بھی گیس کرتا ہے اور معدے کے لیے بھاری بھی ہے۔ اب سب سے پہلے دودھ کا وقت بدلا۔ دن میں 11,12 بجے دودھ پینا شروع کیا اور ہمارے علاقوں میں کیونکہ خالص دودھ آسانی سے دستیاب ہوتا ہے تو اسے پتلا کرکے استعمال کیا۔ یعنی کچی لسی بنالی۔ ایک گلاس دودھ میں دو گلاس پانی چاہیں تو ایک چٹکی نمک اور زیرہ شامل کرلیں اور اسے وقفے وقفے سے پی لیں، بھوک بھی بہل گئی اور کچی لسی معدے کے لیے بہت فائدہ مند ہے.

دوسری چیز ہمارے یہاں بہت بڑا مس کانسپٹ ہے کہ شوگر والوں کو شوگر فری براون بریڈ، براون رسک، براون روٹی، براون کیک رس یا ملٹی گرین آٹے کھانے چاہییں اس سے ان کے شوگر لیول پہ کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ یہ تھیوری بالکل غلط ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ میری پیاری امی جیسے لوگ دو براؤن بریڈ کے سلائس ناشتے میں، 11 بجے ایک سلائس دودھ ڈبل روٹی کہ بھوک لگ رہی ہے، 2 بجے دوپہر کا کھانا 1 روٹی، شام کو 6 بجے کینڈرل والی چائے کے ساتھ 2 براون رسک اور رات کو 9 بجے پھر روٹی یا دلیہ اور رات کو وہی 11 بجے دودھ۔

This is too much intake of carbohydrates that is itself a big source of sugar

اگلے قدم کے طور پر ڈائٹ میں سے آہستہ آہستہ کاربوھائیڈریٹس کم کیے۔ ہر طرح کے براون اور شوگر فری ڈرامے ختم کیے۔ کاربوہائیڈریٹس کی جگہ پروٹین کو غذا میں شامل کیا۔ مثلا ڈبل روٹی کے بجائے ناشتے میں دو انڈے، بلڈ پریشر کا مسئلہ ہو تو ضرورت کے مطابق انڈے کی سفیدی لی جاسکتی ہے۔ ساتھ میں چائے شوگر فری بغیر کسی ارٹیفیشل سویٹنر کے.

یہ بھی تجربہ کیا کہ انڈوں کو ایک چمچ دیسی گھی میں آملیٹ بنا لیا جائے یہ بھی امی کے لیے بہت اچھا ثابت ہوا۔

11 بجے کچی لسی جس میں تخ ملنگا شامل کیا جاسکتا ہے، دوپہر کو ایک روٹی خوب سارا ہرا سلاد، دو چمچ دہی، مکس کرکے اور لہسن کی چٹنی، جب سلاد زیادہ کھائیں گے تو روٹی کا تناسب (proportion) ایک سے کم ہوجائے گا.

شام کی چائے میں ہینڈ فل نٹس جیسے کچھ بادام، پستے، کاجو،اخروٹ کچھ بھی مقدار کم رکھیں.

رات کا کھانا زیادہ تر کوئی فروٹ، روٹی نہیں، لیٹ نائٹ سادہ پانی بس.

اس کے ساتھ امی نے مورنگا کا دو وقت ان ٹیک مستقل رکھا ہوا ہے۔ آدھا چمچ دو وقت پانی کے ساتھ. مورنگا معدے شوگر اور موٹاپے کے لیے یکساں بہت مفید ہے. صبح نہار منہ کلونجی اور میتھی دانہ 1/5 چائے والا چمچہ. اور ایک چورن ٹائپ بنایا ہوا ہے جو دوپہر کے کھانے کے بعد لیتی ہیں یا جب کچھ روٹین سے ہٹ کے اضافی کھالیں، ترکیب لکھ رہی ہوں۔

سونف
زیرہ
میتھی دانہ
اجوائن
یہ سب ایک چمچ
کالا نمک آدھا چمچ

یہ سب گرینڈ کرکے پاوڈر بنا کے رکھ لیں اور دو چٹکی کھالیں، پانی کے ساتھ.

کاربو ہائڈریٹس کم کر کے اور اس کی جگہ پروٹین، فائبر، نٹس اور صحت بخش fats جیسے دیسی گھی وغیرہ کو غذا میں شامل کر کے نہ صرف بھوک زیادہ لگنے جیسے مسائل پہ قابو پایا بلکہ معدے کی تیزابیت اور ناقابل کنٹرول شوگر کو بھی لگام ڈالی. ساتھ ساتھ وزن بھی کم ہوا اور جسم پہلے کی نسبت زیادہ ایکٹو.

جسم کو حرکت میں رکھنا ضروری ہے جو واک نہیں کرسکتے، بیٹھ کے یا لیٹ کے ٹانگوں سے سائیکل چلائیں چاہے دو چار بار ہی. جتنا آسانی سے کرسکیں. بازو گول گول ہلائیں. اوپر نیچے گھمائیں. سونے سے پہلے پاؤں کے تلوے تلوے اور ناف پہ سرسوں کے تیل کا مساج کرلیں.

اللہ اکبر 313 بار پڑھ کے پانی پہ دم کر کے رکھیں اور کچھ بھی تسبیحات پڑھیں پانی پہ دم کرتے جائیں. اسی پانی سے دوا کھائیں. یہی پانی سارا دن پئیں.

ٹنشن سے بچیں، ٹنشن کو کیسے بھگانا ہے؟ اس کا بھی مزے دار طریقہ ڈھونڈا، اس پر الگ سے لکھوں گی.

سب بیماریاں اور شفاء اللہ کی طرف سے ہیں. وہ جسے چاہتا ہے اس کو مٹی اور راکھ سے بھی شفا دے دیتا ہے اور بیماری ہمارے گناہ جھاڑتی ھے. مسلمان ہر صورت؛ بیماری اور شفاء میں اللہ کی رحمت وصول کرتے رہتے ہیں. بس دعا کا دامن کبھی نہ چھوڑیں.

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • یہ اجزاء جو لکھے ہیں سونف، اجوائن وغیرہ، یہ مورنگا کی ترکیب ہے یا مورنگا الگ سے کوئی چیز ہے؟

    • مورنگا کا اردو نام سوہانجنا ہے جو جنوبی پنجاب میں اس کے درخت بہت عام ہیں

  • السلام علیکم۔
    اکتوبر 2019 میں میرے گھٹنے سے نیچے خارش ھوئی میں نے کھجایا دوسرے دن میں ھسپتال گیا وھاں ٹسٹ کئے اور شریک حیات نے ڈاکٹر سے یونہی پوچا کی شوگر سے تو نہیں ھوگی بس جی ڈاکٹر نے کہا شوگر کا ٹسٹ بھی کرلو۔ میرا شوگر 184 تھا ۔ نہ پیاس نہ بھوک۔ نہ بار بار پیشاب اور جی شوگر 184 آگیا اول تو دوائیاں لیں لیکن مہنگی ھونے کی وجہ سے لینا چھوڑ دیں ایک دن باغ ناران پشاور میں بیٹھا تھا اور اپنے آپ کو کوس رھا تھا دور ایک شخص مجھے گھور رھا تھا۔ میں ملی جلی کیفیت میں تھا رونا بھی آ رھا تھا آنسو نکل رھے تھے۔ وہ آدمی نزدیک آیا اور مجھے سے اس کفیت کی وجہ پوچھیں میں نے سچ بتایا تو وہ ہنسا اور مجھے کہا آؤ میرے ساتھ مجھے اپنی گاڑی میں بٹھایا اور بازار لے گیا وھاں اس نے ایک کلو تخم ملنگاں لیا اور مجھے دیا اور کہا صبح شام نہار منہ ایک بڑا چمچ کھانا ھے۔ یہ تخم اس نے مجھے جولائی میں خرید کر دی جبکہ میں نے جنوری 2020 سے کچھ استعمال نہ کیا۔ میں س26 تمبر 2020 کو ٹسٹ کیا تو لیبارٹری والے نے کہا آپ کا شوگر نہیں ھے 100 تھا۔ اور اسکے بعد وہ شخص مجھے نہ ملا۔ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کیلئے لہسن کھاتا رھتا ھو اور اب وہ بھی 110/90 ھے چونکہ کمزوری زیادہ ھے لہذا میں واک نہیں کرتا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */