اچھا ؟ تو تم بھی خون تھوکتے ہو؟ وسعت اللہ خان

ارے رے رے رے ، یہ کیا ہو گیا۔ بارشوں میں دیواریں ڈھینا ، گھروں کا آدھا پونا ڈوب جانا ، ہفتوں گلی کوچوں میں پانی کھڑے رہنا، اس پانی کے سبب سیوریج لائنوں کا دم گھٹ جانا، کھڑے پانی میں مچھروں کی افزائش ہونا ، کئی کئی روز بجلی کی سپلائی منقطع رہنا ، نام نہاد ایمرجنسی فون نمبروں پر مسلسل ٹوں ٹوں ٹوں ہوتے رہنا یا ریکارڈنگ بجتے رہنا، اور اس سب کے بعد جب احتجاج کے لیے سڑک پر نکلنا تو مسلح پولیس کو سیسہ پلائی دیوار کے روپ میں دیکھنا اور جب متعلقہ دفاتر کے باہر دھرنا دینا تو فرعونی افسروں کا دیکھتے ہی دیکھتے بہ اندازِ جنات ہوا میں تحلیل ہو جانا اور جب میڈیائی رپورٹرز کا انھیں فون کرنا تو فون انگیج کر دینا اور پھر مظاہرین کے خلاف کارِ سرکار میں مداخلت کا پرچہ درج کروا دینا اور پھر کچھ این جی اوز کی جانب سے عوامی مفادِ عامہ کے نام پر عدالتِ عالیہ کی زنجیرِ عدل کھڑکا دینا۔

یہ سب تماشے ، حرکتیں ، مسائل ، خرابات تو کچی بستیوں، ادنیٰ کالونیوں، نیم متوسط طبقے کی آبادیوں یا حد سے حد متوسط طبقات کے علاقوں کا تعارف تھے۔ مگر محض ذلتوں کے ماروں کو ہی ذلیل کرتے رہنے سے بے مہر آسمان کو بھلا کہاں سکون ملتا ہے۔ اسے تو ہر آن نیا ہدف چاہیے۔

چنانچہ ان گنہگار آنکھوں کو یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ اپنے تئیں جدید الذہن ، پڑھے لکھے ، اشرافی پاکستان کی کھلکھلاتی شاد باد بستیوں کو بھی ان ساری صعوبتوں میں چرخِ نیلی فام نے ڈال دیا کہ جو صعوبتیں محض ان آبادیوں کا مقدر سمجھی جاتی ہیں جنھیں شاد باد بستیوں کے مکین صرف اس لیے جانتے ہیں کہ وہیں سے روزانہ ان کے شوفر ، خانساماں ، چوکیدار ، گارڈ ، سبزی و پھل فروش پیدل، بسوں اور ویگنوں میں لٹک کر پگار کی تلاش میں آتے ہیں۔
جن اشرافی بستیوں کے بزعمِ خود بااختیار مکین ایک ہی شہر میں ہوتے ہوئے بھی اب سے صرف دو ہفتے پہلے تک ذہنی اعتبار سے مریخ پر آباد تھے اور ان کے لیے پل کے دوسری جانب بسنے والے کروڑہا انسان ’’اوہ مائی پور بے بی بی ’’ تک نہیں تھے۔

وہ کہ جن کے لیے دبئی پونے دو گھنٹے کے فاصلے پر اور ڈیفنس کی دیوار کے دوسری جانب لگا قیوم آباد پونے دو سو سال پرے ہے۔وہ کہ جن کے بارے میں ہم جیسے کنگلے پچھلے ہفتے تک یہی سمجھتے آئے تھے کہ

امیر زادوں سے دلی کہ مت ملا کر میر
کہ ہم غریب ہوئے ہیں انھی کی دولت سے

مگر جب ان ’’ غریب و مظلوم اشرافی بستیوں‘‘ کا احوال بے مروت بارشوں نے کھولنا شروع کیا تو جانِ حیا غریب کی آبرو کی طرح ایسا کھلا ایسا کھلا کہ جب بارش تھمی تو ،

مصحفی ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم
تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا

پچھلے ایک ہفتے سے میرا دل ہچکیوں کی مشین بنا پڑاہے۔یہ بالادست تو ہم سے بھی زیادہ بیچارے نکلے ، پاکستان کے سب سے مہنگے علاقے میں رہنے والے یہ نادار کہ جن کے پاس گاڑی ہے ، بنگلہ ہے ، بینک بیلنس ہے اور مال بھی۔پھر بھی یہ لوگ کنگلی بستیوں کے مقابلے میں کیسی تکلیف دہ حالت میں ہیں کہ جنہوں نے یہ بے چارگی تک پیسے دے کر خریدی ہے۔

ستم ظریفی نہیں تو کیا ہے کہ کراچی کی غریب بستیوں میں پانی بھلے نہ ہو مگر پائپ لائن ضرور ہے۔ مہنگے ترین ڈی ایچ اے کے بیشتر فیزز اور کلفٹن کے کئی محلوں میں تو پائپ لائن کا ہی وجود نہیں۔ان بے چاروں نے تو واٹر ٹینکر کے علاوہ زندگی میں کچھ دیکھا ہی نہیں۔

متعدد غریب بستیاں نکاسی کے گندے نالوں کے کنارے پر آباد ہیں اور ان کے سینوں سے اٹھنے والے نالے تو آسمان تک رسائی سے پہلے ہی کہیں خلا میں کھو جاتے ہیں۔مگر مہنگے ترین علاقوں کے قدرتی نالے پہلے تو مصنوعی کیے گئے اور پھر عین وقت پر مکینوں پر کھلا کہ نالے پابندِ نے نہیں ہیں۔

کنگلے کراچی میں تو اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور بارش کا پہلا چھینٹا پڑتے ہی بجلی کا ایک دو دن کے لیے غائب ہو جانا معمولاتِ زندگی میں شمار ہے۔ چنانچہ بجلی مہنگی ہونے کے سبب آدھے کراچی میں کنڈا گردی ہو رہی ہے۔مگر کنڈے سے پاک اشرافی بستیوں میں چار چار دن بجلی کا نہ ہونا ؟ شیکسپیری ہیملٹ کے بقول ’’ریاست ڈنمارک میں کچھ نہ کچھ تو گل سڑ رہا ہے ‘‘۔

ہم میلے تلنگے سمجھتے تھے کہ ہمارا چیخنا چلانا اور احتجاجی جلوس نکالنا اشرافیہ کے بس کا روگ نہیں اور نہ ہی اسے اس روگ کی ضرورت ہے مگر پہلی بار احساس ہوا کہ کئی برسوں سے سب اچھا ہے ، سب عظیم ہے ، سب قابو میں ہے سننے کے عادی حالات سازوں کا مزاج اس قدر آسمانی ہو چکا ہے کہ مکوڑے نما نیم انسان تو رہے ایک طرف۔اب تو اشرافیہ کا اشرافیہ کے خلاف احتجاج بھی جرم ہوتا جا رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے تک تو ہم یہی سمجھتے تھے کہ ’’ چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے ’’کا دستور صرف کنگلے پاکستان پر ہی لاگو ہے مگر پچھلے ہفتے پتہ چلا کہ یہ قانون تو بلاامتیاز لاگو ہے۔

شکریہ اے بارش کہ تو نے پہلی بار محمود و ایاز کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا۔شکریہ کہ ہر جانب بندے ہی بندے ہیںپربندہ نواز غائب۔البتہ مجھے خدشہ نہیں یقین ہے کہ جیسے ہی ’’ اشراف پورہ’’ کی بجلی بحال ہوئی ، سڑکیں اور گلیاں آب چوس ٹینکروں کی مدد سے خشک ہوئیں ، ڈوبنے والی گاڑیوں اور برقی آلات کی انشورنس کلئیر ہوئی۔ شوفر ، خانساماں ، چوکیدار ، جمعدار ، کنجڑے ، قصائی اپنی اپنی کیچڑ بستیوں سے چل چل کر دوبارہ اشراف پورہ میں نمودار ہوئے، زندگی پھر سے بیس اگست سے پہلے جیسی گل و گلزار ہو جائے گی۔

کہنے کو یہ ملک آٹھ لاکھ بیاسی ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا بتایا جاتا ہے۔مگر ایسا نہیں ہے۔اصل ملک زیادہ سے زیادہ بیاسی ہزار مربع کلو میٹر پر مشتمل ہے۔ باقی آٹھ لاکھ مربع کلو میٹر تو اس بیاسی ہزار کلومیٹر کے مکینوں کی زندگی ’’ سسٹین ’’ کرنے کے لیے ہے۔

البتہ جب کبھی لگتا ہے کہ بیاسی ہزار کلومیٹر کے رداس میں رہنے والے بھی آزمائش کی کسی بھولی بھٹکی گھڑی میں آٹھ لاکھ مربع کلو میٹر میں آباد کروڑوں کی طرح بے بس ہیں بھلے چار دن کے لیے ہی سہی ، تو دل اپنا دکھ بھول بھال کر چند لمحے کے لیے ہی سہی، عجب طرح کے سفاکانہ اطمینان سے لبریز ہو جاتا ہے۔

اچھا ؟ تو تم بھی خون تھوکتے ہو ؟ سن کر خوشی ہوئی۔

ارے یاد آیا، ڈیفنس کلفٹن کے مکینوں کے حالیہ احتجاجی مظاہرے میں ایک خاتون نے پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا ’’ ڈیفنس کراچی کو موہن جو دڑو بنانے والو کچھ شرم کچھ حیا ‘‘۔ جس ارسطو نے بھی یہ پلے کارڈ لکھا اسے نہ تو موہن جو دڑو کے نکاسی آب کے نظام کے بارے میں کچھ پتہ ہے اور نہ ہی ڈیفنس کے بارے میں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */